Al-Risala · February 2005

فطرت کا حصہ

Al-Risala, February 2005, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا اور آخرت کا معاملہ بظاہر غیر مشہور دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ہے کہ وہ فطرت انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کی فطرت خدا اور آخرت کے معاملہ کو ایک معلوم صداقت کے طور پر جان لیتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ خدا کی معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا فطری۔ خدا اور آخرت کے وجود کو عقلی سطح پر ماننا اس معرفت کا صرف ابتدائی درجہ ہے جب کہ خدا اور آخرت کے وجود پر فطری سطح پر یقین کرنا اس کا انتہائی درجہ۔ خدا اور آخرت کے معاملہ میں عقلی دلائل کے استعمال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر سے شک کے پردے کو ہٹا دیا جائے ۔ انسان کو اس مقام تک لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے معاملہ کو کم از کم امکانی صداقت کے طور پر قبول کر لے۔ خدا اور آخرت کے معاملہ میں دلیل اور منطق کے استعمال کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو اس فکری سطح پر لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے وجود کو بطور ایک نظریہ ماننے کے لیے تیار ہو جائے ۔ آدمی اس حالت تک پہنچ جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس نظریہ کو لینے کے لیے اس کی فطرت کے دروازے کھل جائیں ۔ وہ اس کو ایک فطری سچائی کے طور پر پہچان کر اپنا لے۔ ہر انسان کے پاس وہ آنکھ موجود ہے جو خدا اور آخرت کو دیکھ سکے مگر اس آنکھ کے اوپر کنڈیشننگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ منطقی دلیل یہ کام کرتی ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ یا اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کو توڑ کر اس مصنوعی پردہ کو فطرت کی آنکھ سے ہٹا دے۔ اس کے بعد انسان خدا اور آخرت کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔ اب انسان بظاہر نہ دکھائی دینے والے خدا کے وجود پر

اسی طرح کامل یقین کر لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے وجود پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اس نے بھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔

خدا اور آخرت کا معاملہ صرف اس وقت تک منطقی بحث کا موضوع رہتا ہے جب تک کہ آدمی کے ذہن کا مصنوعی پردہ بنا نہ ہو۔ غور وفکر یا منطقی استدلال کے ذریعہ جب یہ پردہ ہٹ جائے تو انسان اپنے خدا کو خود اپنی داخلی معرفت کے تحت پہچان لیتا ہے۔ اب خدا اس کے لیے تمام معلوم چیزوں سے زیادہ معلوم واقعہ بن جاتا ہے۔ منطقی دلیل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کو فطرت کے دروازے تک پہنچادے۔ فطرت کا دروازہ کھلتے ہی انسان خدا کو اس طرح پاللیتا ہے جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔

انسان کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو ضرورت ہوتی ہے کہ سورج کے وجود کو اس کے لیے دلائل سے ثابت کیا جائے۔ لیکن جب آنکھ کی پٹی ہٹادی جائے تو اس کے بعد سورج کو ماننے کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں آخری حد تک سمایا اصل ضرورت صرف فطرت کا پردہ ہٹانے کی ہے۔ دلیل کے ذریعہ جب فطرت کا پردہ ہٹادیا جائے تو انسان خدا کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے جتنا کہ ایک کھلی آنکھ والا انسان

مولفہ وحید الدین خاں یہ کتاب سیرتِ رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ اس کتاب میں پیغمبر اسلام کی زندگی کو تاریخ وار انداز میں کسی تشریح یا تعبیر کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔

یہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی پوری زندگی کی ایک تاریخی یہ معلوماتی اسلوب میں سیرتِ رسول کا ایک جامع تعارف ہے۔ پوری کتاب اسی بیانیہ اسلوب میں لکھی گئی ہے۔

Printed page