عاجلانہ اقدام
Al-Risala, February 2005, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
عاجلانہ اقدام ہر ایک کے لیے تباہ کن اقدام ہے۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا جماعت کا معاملہ، کسی کے لیے بھی عاجلانہ اقدام مفید نہیں ہو سکتا۔ عاجلانہ اقدام دراصل اندھیرے میں چھلانگ کے ہم معنی ہے، اور کوئی بھی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ اندھیرے میں چھلانگ لگائے اور پھر اُس کے نتائج وعواقب سے اپنے کو بچا لے۔
ایک صاحب تھے۔ وہ کریلے سے چڑتے تھے۔ اُن کے سامنے کوئی کریلے کا نام لے لے تو وہ بگڑ کر اُس کو برا بھلا کہنے لگتے تھے۔ اُن کو غصہ دلانے کے لیے اتنا کافی تھا کہ کوئی شخص اُن کے سامنے کریلے کا لفظ بول دے۔ چند لڑکوں کو خیال آیا کہ وہ مذکورہ صاحب کو چڑھائیں۔ وہ اُن کے پاس گئے۔ ہر لڑکے نے باری باری ایسا کیا کہ وہ ہاتھ سے اُن کی طرف اشارہ کرتا اور کہتا۔ مذکورہ صاحب اِس پر سخت غصہ ہوئے ۔ وہ اپنا ڈنڈا لے کر اُن لڑکوں کی طرف دوڑے کہ انہیں لڑکے تیزی سے بھاگنے لگے ۔ اب صورت یہ تھی کہ لڑکے آگے بھاگ رہے ہیں اور مذکورہ صاحب اُن کے پیچھے لاٹھی لیے ہوئے دوڑ رہے ہیں ۔ اِس عمل کے دوران مذکورہ صاحب کی توجہ مکمل طور پر لڑکوں کی طرف لگی ہوئی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نیچے زمین کی طرف نہ دیکھ سکے۔ ایک مین ہول تھا جس کا ڈھکن کھلا ہوا تھا۔ مذکورہ صاحب مین ہول کو نہ دیکھ سکے۔ وہ دوڑتے ہوئے اِس کے اندر گر گئے۔ اُن کا ایک پاؤں ٹوٹ گیا۔ اِس کے بعد اُن کا پاؤں کبھی ٹھیک نہ ہو سکا۔ ساری عمر لاٹھی لے کر چلتے رہے۔
یہ کہانی کسی ایک فرد کی کہانی نہیں۔ اکثر لوگ کسی نہ کسی طور پر اِس قسم کی غلطی کرتے ہیں اور پھر ساری زندگی افسوس کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غصہ ایک لمحہ میں ٹھنڈا ہو سکتا ہے، لیکن غصہ کا برا انجام ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے۔ وقتی طور پر ایک ناخوش گوار چیز کو برداشت کر لیجیے، اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ کو ساری عمر نا خوش گوار چیزوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔