اپنے کام سے کام
Al-Risala, February 2005, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
تقریبا پانچ سال پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ انہوں نے کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اُن کے دورشتہ داروں کے ساتھ میں اُن کے گھر پر ملا۔ اُس وقت وہ ایک سرکاری ملازمت کر رہے تھے۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ تک وہاں رہے۔ اس پورے وقت میں میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ نوجوان نہ صرف اپنے فن میں ایکسپرٹ ہے بلکہ اُس کے اندر ایک انوکھی اس صفت کو ایک لفظ میں کہہ سکتے ہیں، اپنے کام سے کام۔ اُسی وقت میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ یہ نوجوان ضرور اعلیٰ ترقی کرے گا۔
۱۶ اکتوبر ۲۰۰۴ کے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ مذکورہ نوجوان کو ایک بین الاقوامی ادارہ میں وائس چیرمین کی جگہ پر فائز کیا گیا ہے۔ اس وقت اُن کی عمر تقریباً ۳۷ سال ہے۔ اپنے کام سے کام کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنے کام سے کام کا مطلب اپنے وقت اور اپنی طاقت کو بچانا ہے۔ اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہے کہ صلاحیتیں مفید طور پر استعمال ہوسکیں ۔ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا کوئی جزئی حصہ بھی کسی غیر ضروری کام میں ضائع نہ ہونے پائے۔ جس آدمی کے اندر اپنے کام سے کام کا مزاج ہو وہ دوسروں کے لیے آخری حد تک قابلِ قبول انسان بن جائے گا۔ وہ دوسروں کے خلاف نہیں بولے گا۔ وہ دوسروں کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں وہ دوسروں کے ساتھ اسی حالت میں تعاون کرنے پر راضی ہو جائے گا جس حالت میں کہ وہ اسی طرح دوسرے بھی اُس کے ساتھ اسی حالت میں تعاون کرنے پر راضی ہو جائیں گے جس حالت میں کہ وہ خود ہے۔
لوگ اُس انسان کو پسند کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کئے بغیر اپنا کام کرے اور جو آدمی اپنے کام سے کام رکھے وہ دوسروں کے لیے اسی قسم کا ایک پسندیدہ انسان بن جائے گا۔ اپنے کام سے کام رکھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک کامیاب اصول ہے۔ جو آدمی اس
اصول کو پوری طرح اپنا لے وہ اس دنیا میں کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔
اسی مزاج کا ایک اظہار وہ ہے جس کو اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کہا جاتا ہے۔ مقصد میں کامیابی کے لیے اسٹیٹس کو ازم واحد کارگر تدبیر ہے۔ اسٹیٹس کو ازم کا مطلب ہے ۔ موجودہ سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا:
Doing one's Job without disturbing the existing state of affairs. کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی سوچ یہ ہو کہ پہلے موجودہ صورت حال کو اس کے بعد اپنا مطلوب کام شروع کرو۔ یہ راستہ منفی راستہ ہے۔ اس میں یہ نقصان ہے کہ آدمی اپنی قوت و طاقت کا بڑا حصہ غیر ضروری طور پر مفروضہ مشکلات کو دور کرنے میں لگا دیتا ہے۔ جب کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ اپنے کام سے کام کا مطلب اسی دوسرے طریقہ کو اختیار کرنا ہے۔
اسی دوسرے طریقہ کا نام اسٹیٹس کو ازم ہے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کبھی مشکلات یا ناموافق باتوں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ مشکلات کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ ایک مشکل کو ہٹاتے ہی دوسری مشکل سامنے آجاتی ہے اور دوبارہ وہی ناموافق صورت حال باقی رہتی ہے جو پہلے تھی۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ مشکلات و مسائل کو زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھا جائے اور اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ مشکلات اور مسائل سے لڑنے والے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں اور جو لوگ مشکلات و مسائل سے تعرض نہ کرتے ہوئے اپنا کام شروع کر دیں ، وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ کسی ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ سب کے لیے ہے۔ عقلمند آدمی وہ ہے جو یہ جانے کہ دنیا کی اس شاہراہ پر دوسروں کو راستہ دے کر ہی اپنا راستہ ملتا ہے۔ جو آدمی زندگی کی شاہراہ پر دوسروں کو راستہ دیے بغیر آگے بڑھنا چاہے اُس کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ قبرستان ہے ، نہ کہ مطلوب منزل۔ یہی فطرت کا قانون ہے اور یہی انسانی تاریخ کا فیصلہ بھی۔