Great, I want to go to India.
Al-Risala, January 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کہہ کر اس نے میرا بیگ مزید تفتیش کے بغیر میرے حوالہ کر دیا۔ انڈیا کی تصویر پہلے دنیا کی نظر میں یہ تھی کہ وہ ہاتھیوں اور سانپوں کا ملک ہے۔ یہاں جادو گر اور سپیرے رہتے ہیں۔ مگر پچھلے کچھ سالوں کے درمیان انڈیا کی امیج مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ہر ملک، بشمول مسلم ملک میں انڈیا کے لوگوں کی قدردانی بہت بڑھ گئی ہے۔ اس میں خاص طور پر دو باتوں کا دخل ہے۔ ایک یہ کہ امریکا اور برطانیہ کے بعد انڈیا انگریزی دانی میں نمبر تین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں جدید ترین شعبہ (انفارمیشن ٹکنالوجی) میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ دوسری بات وہ ہے جو سفر سے صرف ایک دن پہلے مجھے امریکا میں مقیم ایک
تعلیم یافتہ مسلمان نے بتائی۔ وہ دہلی سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل وہ نیوجرسی (امریکಾ) میں کمپیوٹر انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں چھ ملین سے زیادہ مسلمان ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں ہندو بھی وہاں رہتے ہیں۔ مگر یہاں کے ہندو ہر اعتبار سے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ وہ نہ صرف زیادہ دولت مند ہیں بلکہ ان کو یہاں زیادہ با عزت درجہ ملا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب کوئی تعصب یا یہودی پروپیگنڈہ نہیں ہے بلکہ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ہندو اپنے تمام کام پروفیشنل (professional) انداز میں کرتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ابھی تک ان کے یہاں پروفیشنلزم کا تصور بھی نہ آسکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں پروفیشنلزم بہت زیادہ ہے۔ یہاں کا کلچر ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوا کہ ہندو لوگ امریکیوں کو اپنے ورک کلچر کے مطابق نظر جب کہ مسلمانوں کے بارے میں ان کا عام خیال یہ ہوگیا کہ وہ کسی کام کو پروفیشنل انداز میں کرنا نہیں جانتے۔ ڈکشنری کے مطابق پروفیشنلزم یہ ہے:
Professionalism: doing a job in an organized way, with great skill and competence, meeting with the required standard. ۱۲ دسمبر ۲۰۰۳ کی شام کو اشبیلیہ ائرپورٹ سے شہر کی طرف روانگی ہوئی۔ سڑک کافی چوڑی اور ہموار تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے کھلے ہوئے مکان اور دکانیں نظر آئیں۔ شاداب اور پر رونق تھا۔ یہ وہی شہر ہے جو مسلم دور میں اشبیلیہ کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر قدیم اشبیلیہ اور جدید اشبیلیہ کو سامنے رکھ کر تقابل کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پہلے یہ ایک ٹاؤن تھا اور اب وہ ایک ماڈرن شہر ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اسپین کا حوالہ آتا ہے تو وہ صرف ”آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی‘ جیسی زبان بولنا جانتے ہیں۔
میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ جب کہ اسپین مسلم عہد کے مقابلہ میں آج زیادہ ترقی یافتہ
ملک بن چکا تو اس قسم کی منفی باتیں کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ موجودہ مسلمان اپنے مزاجی بگاڑ کی بنا پر خود اپنی عظمت پر فخر کرنا تو جانتے ہیں مگر وسیع تر معنی میں انسانی ترقی سے وہ اپنے آپ کو وابستہ نہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ایک مسلمان مغل دور اور عثمانی دور اور اندلسی دور سے سوگنا زیادہ بہتر حالت میں رہتا ہے۔ مگر اپنے اس بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ شکایت اور مایوسی کے سوا کوئی اور زبان بولنا نہیںجانتا۔ ورنہ اس کی زبان مثبت باتوں سے سرشار رہتی۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ خدا کے شکر میں جینے والے بن جائیں۔
ہمارے ہوٹل کے سامنے دور تک سنترے کے درختوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ دوسرے حصوں میں بھی کثرت سے سنترے کے ہرے بھرے درخت نظر آئے۔ یہ درخت لال سنترے سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے مقامی ساتھی سے پوچھا کہ کیا ان پیڑوں کے سنترے لوگ توڑتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایسے ہی کثرت سے اُگتے ہیں (They grow wild)۔ کے پھل یہاں نمائشی طورپر باقی رکھے جاتے ہیں۔ یہاں کوئی انہیں توڑتا نہیں، نہ مالک اور نہ کوئی دوسرا میں نے سوچا کہ اگر اس طرح پھلوں سے بھرے ہوئے درخت انڈیا میں کھلے راستوں پر ہوں تو شاید وہاں ایک پھل بھی درخت پر نہ بچے ۔
اشبیلیہ میں آنے جانے کے دوران بعض چیزیں ایسی دیکھیں جو غالباً قدیم عرب کے بقایا کے طور پر یہاں ابھی موجود ہیں۔ مثلاً دکان کے باہر بازار کا سائن بورڈ۔ بہت سے الفاظ سے پہلے ال کا استعمال مثلاً الکیز ر(Al Kazares) وغیرہ۔ یہ غالباً قدیم عرب دور کے اثرات ہیں جو اب بھی تک جیسا کہ معلوم ہے، اسپین میں مسلمانوں کی حکومت تقریباً ۸ سو سال تک قائم رہی۔ بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ مسلمانوں نے یہاں کی چیزوں پر زبان سے لے کر طرز تعمیر تک زبردست اس کے اثرات اب بھی یہاں دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے اشبیلیہ میں جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اس کا طرز تعمیر بھی قدیم عرب طرز سے ملتا جلتا تھا۔
اشبیلیہ (Seville) اسپین کا مشہور شہر ہے۔ قدیم زمانہ میں وہ مسلم اسپین کا کیپٹل تھا۔
711ء تک رومنوں کے وی زی گوتھ کا کیپٹل رہا۔ اس کے بعد یہاں مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہوا۔
اس سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس طرح کے الفاظ ہیں:
Seville was known as Hispalis under the Romans and was a visigothic capital until 711, when it was captured by the Moors. After the Muslims were driven out in 1248, the city rapidly rose to eminence. یعنی اشبیلیہ رومی ماتحتی کے دور میں ہسپالس کہا جاتا تھا اور وہ ۷۱۱ تک وی سی گوتھ کی راجدھانی تھا، جب کہ اس پر مسلمانوں نے قبضہ کیا۔ یہاں تک کہ ۱۲۴۸ میں مسلمان یہاں سے نکال دئے گئے۔ اس کے بعد شہر تیزی سے اہمیت اختیار کرگیا۔ ان الفاظ میں مسلم دور کا ذکر جس طرح تحقیری انداز میں کیا گیا ہے اس سے مسلم عہد کی مثبت تصویر سامنے نہیں آتی۔ تاہم دوسرے مغربی مورخین نے نہایت فیاضی کے ساتھ اسپین کے مسلم عہد کے کارناموں کا اعتراف کیا ہے۔ میں نے حال میں ایک معروف عالم کا ایک مضمون پڑھا۔ اس میں انہوں نے جوش کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم کو مسلمانوں کی ماضی کی تاریخ پر فخر ہے۔ اس مضمون میں اس قسم کی باتیں تو پرجوش انداز میں بیان کی گئی تھیں ۔ مگر اس میں انسانیت کی حالیہ ترقی کا کوئی حوالہ نہ تھا۔ اس مضمون کو پڑھنے والا صرف یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ شاندار ماضی کو کھو کر تباہ شدہ حال میں جی رہا ہے۔ مذکورہ عالم کی زبان سے اس قسم کی غیر علمی بات لمبی مدت سے چھاپ کر پھیلائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کا ذہن عام طور پر نفرت اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ کوئی مثبت پیغام یا کوئی تعمیری منصوبہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اپنے ماضی کی مفروضہ عظمت میں جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ انسان کو بیک وقت دو برائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا خاتمہ، اور مثبت انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہنا۔ آج دسمبر ۲۰۰۳ کی ۱۳ تاریخ ہے۔ اس وقت میں اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) کے
ہوٹل میکرينا (Tryp.Macarena) کے روم نمبر ۳۳۸ میں ہوں۔ یہاں آج رات کو میں نے ایک میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ ہے۔ اس کے سر پر ترکی ٹوپی ہے۔ اس خواب کے بعد مجھے وہ دور یاد آيا جو ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ زمانہ میں اعظم گڑھ (اور دوسرے مقامات) میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت مسلم شرفاء جھبو دار ترکی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ میں بھی اس زمانہ میں ترکی ٹوپی پہنتا تھا۔ وقت اگرچہ ترکوں کی عثمانی خلافت ختم ہو چکی تھی مگر ان کے زیر اثر جو مسلم تہذیب بنی تھی وہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کے درمیان موجود تھی۔
یہ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے درمیان کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ابھی انڈیا قدیم زرعی دور میں تھا۔ زرعی دور سے مراد وہ زمانہ ہے جب کہ مبنی بر زمین اکانومی (land-based economy) کا غلبہ تھا۔ زرعی دور میں معیشت کی بنیاد تمام تر زمین پر ہوتی تھی۔ زمین کے سوا کوئی اور اقتصادی ذریعہ اس زمانہ میں موجود ہی نہ تھا۔ چنانچہ سامان حیات زیادہ تر زمین داروں کے پاس ہوتا تھا۔ عام لوگ معمولی حیثیت میں زندگی گزارتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے گاؤں میں اور آس پاس کے پورے علاقے میں صرف دو فیملی تھی جس کے پاس گھوڑا ہوا کرتا تھا۔ ہماری فیملی اور خلیل خاں صاحب کی فیملی۔ اس زمانہ میں گھوڑا اسی طرح ثروت کا نشان تھا جس طرح آج موٹر کار کو ثروت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میرا دھیان اپنے گاؤں کی طرف گیا جہاں میں پیدا ہوا تھا۔ میں نے غور کیا کہ ۱۹۳۰ء اور ۲۰۰۳ء کے درمیان ہمارے گاؤں میں کیا فرق ہوا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ پچھلے زمانہ میں ہمارے گاؤں میں صرف دو خاندان تھے جن کے پاس زیادہ سامان حیات موجود تھا۔ آج گاؤں کے تقریباً ہر خاندان کے پاس ساری سہولتیں موجود ہیں۔ مثلاً سڑک، بجلی، ٹیلی فون، پختہ مکان، کوکنگ گیس، کار، بچوں کے لیے بہتر تعلیم، علاج کا انتظام، سفر کی سہولت وغیرہ۔ ٹوپی کا مذکورہ خواب بظاہر بہت با معنی ہوتا ہے۔ غالباً اس کی تعبیر یہ ہے کہ پچھلے زمانہ میں عام لوگوں کو صرف ایک رنگین ٹوپی ملی ہوئی تھی جو ان کو ایک قسم کا تہذیبی فخر دیتی تھی۔ اس کے سوا حقیقی
معنوں میں سہولیات زندگی انہیں حاصل نہ تھی۔ جب کہ آج یہ حالت ہے کہ زمانہ کی تبدیلی کے نتیجہ میں دولت اور سہولیات زندگی کا ایک سیلاب آچکا ہے جس میں ہر آدمی کو اپنا حصہ مل رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے مزید میری سمجھ میں آیا کہ مسلم رہنماؤں کے دئے ہوئے ذہن کی بنا پر آج بھی مسلمان ایک سنگین غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ عثمانی خلافت کے دور اور مغل سلطنت کے دور کو عظمت کا دور سمجھتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ معاملہ میں مسلم نفسیات کی ترجمانی دہلی کے ایک قدیم عالم نے ان الفاظ میں کی تھی: ”مسلمان کے سر سے عزت کی پگڑی اسی وقت اتر گئی جب کہ دہلی میں مغل سلطنت کا خاتمہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جو الفاظ لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی وہ لوگ اسی قدیم نفسیات میں جی رہے ہیں۔ حالاں کہ لکھنے اور بولنے والے سمیت تمام مسلمان آج جن سہولیات سے فائدہ اٹھارہے ہیں، وہ عثمانی دور اور مغل دور میں کسی کو حاصل نہ تھیں، حتیٰ کہ بادشاہوں اور نوابوں اور جاگیر داروں کو بھی نہیں۔
کچھ دن پہلے میرے پاس ایک مسلمان ملاقات کے لیے اپنی نئی کار پر بیٹھ کر آئے۔ ہاتھ پر ایک شاندار گھڑی بندھی ہوئی تھی اور جیب میں خوبصورت قلم لگا ہوا تھا۔ ان کے چہرے پر لگی ہوئی خوبصورت عینک دیکھی جو ان کے شخصی وقار میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ بیٹھتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان سنانے لگے۔ اتنے میں ان کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ کو کان پر رکھ کر وہ دور کے کسی صاحب سے بات کرنے لگے۔ جب وہ بات کر چکے تو میں نے ان سے پوچھا کہ جس عثمانی دور اور مغل دور کو آپ لوگ اپنے لیے بڑی چیز سمجھتے ہیں کیا اس زمانہ میں کوئی ایک بھی مسلمان ایسا تھا جس کے پاس موبائل ٹیلی فون ہو یا اس کے پاس موٹر کار ہو یا اس کے پاس ایسی گھڑی ہو جو آپ اس وقت پہنے ہوئے ہیں، یا وہ آپ جیسی عینک پہن سکتا ہو جو آپ کی شخصیت کو دو بالا کر رہی انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا ایک مسلمان قدیم زمانہ
کے نوابوں اور بادشاہوں سے بھی زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ پہلے سے بھی زیادہ آپ لوگ خدا کا شکر ادا کریں، نہ یہ کہ شکایت اور مایوسی کی بات کر کے اپنے سینہ کو ناشکری کا قبرستان بنالیں۔
۱۳ دسمبر کی شام کو میں نے دیکھا کہ ہوٹل کی لابی میں تین صاحبان بیٹھے ہوئے ہیں۔ ساتھی کے ہمراہ وہاں گیا اور خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ وہ تینوں مسلمان ہیں۔ ان میں ایک پیرس کے ڈنٹسٹ تھے۔ وہ یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ پھر انہوں نے اسلام قبول دوسرے ٹیونس کے ایک تاجر تھے۔ اور تیسرے اسپین کے ایک نومسلم تھے۔ اسپینی بزرگ نے بتایا کہ ان کے پورے خاندان نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسپین میں کثرت سے زیتون کے باغات وہ بھی زیتون کے ایک باغ کے مالک ہیں۔ قبول اسلام کا سبب پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ مغربی سماج میں انسان ایک قسم کی مشینی زندگی گزارتا ہے۔ وہ محبت اور انسانیت کے ماحول سے محروم رہتا اسی کمی کے احساس نے انہیں ایک صوفی ماسٹر تک پہنچایا۔ وہ نقشبندی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ تینوں صوفی مزاج کے تھے اور تینوں کے ہاتھ میں تسبیح دکھائی دیتی تھی۔ ان کے نام یہ ہیں:
Dr. Richard Abdul Hany Lejoyeuk — Paris Muhammad Farhat — Tunisia Omar Margarit — Granada, Spain میرے ساتھی نے میرے بارے میں بتایا کہ وہ الاسلام يتحدى کے مصنف ہیں۔ کر وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ الاسلام يتحدى میں نے پڑھی ہے اور اس کی ایک کاپی میرے پاس گھر پر موجود ہے۔ یہ کتاب ٹیونس کے کالجوں میں باقاعدہ طور پر داخل نصاب ہے۔ الاسلام يتحدى جو میری کتاب مذہب اور جدید چیلنج کا عربی ترجمہ ہے وہ عرب دنیا میں بہت زیادہ پھیلی ہے۔ بیرونی سفروں کے درمیان جب بھی میری ملاقات کسی عرب سے ہوتی ہے تو اکثر
وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدی پڑھی ہے۔ (لقد قرأت كتابك
ابھی تک مجھے اس کتاب پر تنقید کرنے والا کوئی عرب نہیں ملا۔ صرف ریاض کے ایک صاحب ڈاکٹر عبد الرحمن الجہنی نے اصل کتاب کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس کا نام زیادہ صحیح طور پر الاسلام یُتحدی ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ نام میرا رکھا ہوا نہیں ہے بلکہ وہ قاہرہ کے مشہور عالم اور وکیل الازہر شیخ محمد عبد اللطیف دراز (وفات ۱۹۷۶) کا رکھا ہوا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ نام درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید فکری چیلنج کے مقابلہ میں اسلام کا کیس اتنا زیادہ طاقتور ہے کہ وہ خود جدید الحادی افکار کو چیلنج دینے کی پوزیشن میں ہے۔ گویا کہ کتاب کے ٹائٹل کا مطلب ہے اسلام جوابی چیلنج کرتا ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اقدام کی پوزیشن میں ہے نہ کہ صرف دفاع کی پوزیشن میں۔
میرے ساتھی نے فرانس کے نومسلم ڈنٹسٹ سے پوچھا کہ آپ یہودیت کو چھوڑ کر اسلام میں انہوں نے جواب دیا کہ پہلے گویا کہ میں چاند پر تھا اور اب زمین پر آ گیا ہوں: Earlier I was living on the moon, now I am living on earth. مذکورہ نومسلم کا مطلب یہ تھا کہ پہلے میں اپنی فطرت کی مطلوب دنیا کے لیے گویا خلا میں سرگرداں تھا اب میں نے اپنی فطرت کی آواز کے مطابق یہ مطلوب دنیا پا لی ہے۔ ان کو اسلام کی یہ دریافت ایک صوفی بزرگ کے ذریعہ ہوئی۔ وہ مادی دنیا سے غیر مطمئن تھے۔ مادی ترقیوں میں انہیں اپنی فطرت کا جواب نہیں مل رہا تھا۔ پھر جب وہ صوفی بزرگ سے ملے تو انہیں روحانیت کی سطح پر اپنی فطرت کا جواب مل گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اب نہایت اطمینان کی حالت میں ہیں۔ ان کو کامل ذہنی سکون مل گیا ہے۔ وہ اپنا زیادہ وقت ذکر اور تسبیح میں گزارتے ہیں۔ تاہم ان کے اندر میں نے عمومی دعوت کا جذبہ زیادہ نہیں پایا۔
موجودہ زمانہ میں مسلم علماء اور دانشوروں کے مطالعہ کا ایک ہی مشترک انداز ہے۔ وہ یہ کہ
مسلمانوں کے تمام مسائل و مصائب کو اہل مغرب کی سازش کا نتیجہ قرار دے کر شکایت اور احتجاج میں مشغول ہو جانا۔ اس کی ایک مثال ایک معروف اسلامی میگزین میں نظر آئی جس میں ایک مشہور مسلم دانشور کا مقالہ چھپا ہوا تھا۔ اس مقالہ میں بتایا گیا تھا کہ مغربی تہذیب کے علم بردار کس طرح مسلم دنیا پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ حملہ آور بیس۔ اس مقالہ کا ایک حصہ یہ تھا:
۱۹۸۹ء میں جب روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں، تو اسی سال کے اکانومسٹ (لندن) نے ایک خصوصی مضمون شائع کیا اور اس میں پوری تاریخ انسانی کے ہیں اہم لمحات بیان کئے اور ان میں آخری لمحہ روس کی پسپائی کے بعد بننے والا سیاسی اور تہذیبی نقشہ تھا۔ میں ایک جملہ بڑا اہم تھا۔ اس نے کہا کہ روس کی فوجیں تو واپس چلی گئیں، دیوار برلن بھی ٹوٹ گئی، اشتراکیت بھی پسپا ہوگئی لیکن کیا ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی نیاحیات بخش نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکے۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتا اور پھر اپنے مخصوص انداز میں یہ بات کہی کہ البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا گویا کہ یہ تنبیہ (warning) تھی کہ اب کشمکش کا جو نیا آہنگ ہے وہ کیا ہو سکتا ہے۔ اسلامی دانشور مزید لکھتے ہیں ــ اس کے دس سال کے بعد ایک اور دلچسپ چیز اکانومسٹ میں آئی اور وہ یہ تھی کہ انہوں نے یہ بتایا کہ آج سے ایک ہزار سال بعد روس کا ایک مؤرخ گزرے ہوئے ہزار سال کا جائزہ لیتا ہے۔ دو ہزار یے ختم ہو گئے ہیں۔ تیسرا ہزار یہ شروع ہو رہا ہے۔ لیتا ہے اور وہ جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد اور روس کی اور اشتراکیت کی پسپائی کے بعد امریکا ایک عالمی کردار لے کر اٹھا لیکن اس کے بعد پھر چین اور مسلم دنیا یہ دوئی قوتیں ابھریں اور اس طرح ایک نئی خلافت قائم ہوئی ۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ تھا کہ ایسا نہ ہونے پائے ، ہمیں اس کے لیے پیش بندی کرنی چاہیے۔ یہی وہ خیالات ہیں جنہوں نے مغرب کی ذہنی اور فکری فضا بنائی ہے اور آج ان کے تھنک ٹینکس اور سیاسی قیادت سب اس پس منظر میں کام کرتے ہیں اور حکمت عملی بناتے ہیں۔
ہمیں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کا واقعہ اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ کیسے ہوا۔ کون کون معاون قوتیں تھیں۔ سارے واویلے کے باوجود ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۱ء تک نئے تہذیبی تصادم کی جو فضا بنائی گئی تھی اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اس نقشہ میں رنگ بھر اجارہاہے۔ اکانومسٹ کے مذکورہ اقتباس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں ایک مثبت پہلو موجود یعنی اسلام کا نظریاتی اعتراف۔ مگر اس سے ایک منفی نتیجہ نکال لیا گیا۔ یعنی یہ کہ مغربی قومیں خاص طورپر امریکا کی ساری پلاننگ اسلام کو مٹانے کے لیے ہو رہی ہے اور یہ کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے ساتھ جو حادثہ ہوا وہ خود امریکا کی سازش کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ اس کو استعمال کر کے اسلام کے خلاف سوچی سمجھی کارروائی شروع کر دی گئی۔ کمیونزم کے بعد اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانا امریکا کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور اسی کے تحت اس کی تمام جارحانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ تجزیہ سراسر بے بنیاد ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ اجودھیا کی بابری مسجد کو خود مسلمانوں نے ڈھایا تھا تا کہ وہ فرقہ پرست ہندوؤں کے خلاف اپنی دفاعی مہم کو تیز تر کر سکیں ۔ سے آج تک مسلم دنیا کے تمام لکھنے اور بولنے والے اسی قسم کی منفی بولیاں بول رہے ہیں۔ نے مسلمانوں کو منفی سوچ کا کارخانہ بنا دیا ہے۔ مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید منفی سوچ کا یہی وہ فتنہ ہے جس کو حدیث میں فتنۃ دھيماء کہا گیا ہے۔
اکانومسٹ کے مذکورہ اقتباس کا سب سے اہم جز اس کا یہ جملہ تھا: ’’البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔ ‘‘ یہ جملہ بتاتا ہے کہ خود مغربی جریدہ کے اعتراف کے مطابق ، جدید دنیا میں اسلام کے حق میں ایک قیمتی امکان موجود ہے۔ یہ دعوت کا امکان آج کی ترقی یافتہ دنیا کے پاس سب کچھ ہے مگر اُس کے پاس وہ چیز نہیں جس کو نظریہ حیات کہا جدید مغربی انسان کے پاس سامان حیات تو ہے مگر اُس کے پاس نظریہ حیات نہیں۔ ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کا جسم تو موجود ہو مگر اُس کی روح اُس سے نکل گئی ہو۔ یہی حال آج کے مغربی
انسان کا ہے۔ یہ صورت حال ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم جدید انسان کو اسلام کے نظریۂ حیات سے گویا پیاسے انسان کو خدا کا پیدا کیا ہوا پانی پہنچادیں۔
یہ بات بے حد غور طلب ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ پچھلے دو سو برس کے اندر پیدا ہونے والے ہزاروں علماء اور مفکرین اسلام کی صحیح فہم سے عاجز رہے۔ وہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش نہ کر میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اسلام اور مسلمان کو الگ الگ کر کے نہ دیکھ وہ دونوں کو ایک سمجھ کر ان کا مطالعہ کرتے رہے۔
مثلاً جب انہوں نے اسلام کو سمجھنا چاہا تو بعد کے زمانہ میں بننے والی مسلم تاریخ کو شامل کر کے اسلام کی تصویر بنائی۔ حالاں کہ یہ دونوں الگ الگ موضوعات تھے۔ اسی طرح جب انہوں نے مسلمانوں کی قومی لڑائیوں کو بیان کیا تو اس کو اسلامی جہاد کا عنوان دیتے رہے۔ اس غلط مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ نہ اسلام کو اس کی اصل صورت میں سمجھ سکے اور نہ مسلمانوں کے معاملات کا صحیح تجزیہ
۱۴ دسمبر کی صبح کو ہوٹل کے مطعم میں ناشتہ کیا۔ یہاں کھانے کے لیے مختلف چیزیں موجود تھیں۔ دودھ کے ایک برتن کے اوپر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے: