محنت ، پلاننگ
Al-Risala, February 2005, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ میابی حاصل کرنے کے لیے سب سے بڑی چیز محنت قدیم عربی مقولہ ہے کہ من جد وجد (جس نے کوشش کی اُس نے پایا)۔ ہر زبان میں اس طرح کے مقولے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ محنت کا کامیابی کا زینہ ہے۔
یہ بات درست ہے اور آج بھی محنت کی اُسی طرح اہمیت ہے جس طرح اُس کی اہمیت پہلے مگر نئی تبدیلیوں کے بعد یہ فارمولا اب دونکا تی فارمولا میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اب محنت کے ساتھ منصوبہ بندی (planning) بھی لازمی طور پر ضروری ہو گئی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید اصول کے مطابق ، منصوبہ بندی کا درجہ پہلے ہے اور محنت کا درجہ اس کے بعد۔
منصوبہ بندی یہ ہے کہ عملی طور پر کام شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے، مواقع اور امکانات کو دریافت کیا جائے ۔ تمام متعلق پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل وہ کام کیا جائے جس کو آج کل کی زبان میں نیٹ ورکنگ کہا جاتا ہے۔ محنت کی حیثیت اگر جسمانی عمل کی ہے تو منصوبہ بندی کی حیثیت دماغی عمل کی۔ پہلے زمانہ میں بھی کامیابی کے لیے دماغی عمل کی ضرورت ہوتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں دماغی عمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کارخانہ کھولنے سے لے کر جنگ لڑنے تک اور اسکول چلانے سے لے کر حکومتی نظام قائم کرنے تک ہر جگہ دماغی عمل نے اولین اہمیت حاصل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی قومیں جو قدیم دور میں آگے تھیں اب وہ پیچھے چلی گئی ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے کام کو منصوبہ بندی کے دور میں نہیں پہنچایا۔ قدیم زمانہ میں کسی کام کو چلانے کے لیے محنت کافی ہوتی تھی۔ مگر جدید منصوبہ بندی نے علم کو بہت زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ کامیاب منصوبہ بندی وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے اندر علم کی صلاحیت پیدا کر لی ہو۔ علم کی صلاحیت کے بغیر کوئی شخص یا گروہ اپنے کام کو منصوبہ بند انداز میں منظم نہیں کر سکتا۔