سیاسی اصطلاحیں
Al-Risala, January 2006, pp. 9–15
By Maulana Wahiduddin Khan
دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں بعد کے زمانے میں اس وقت وضع کی گئیں جب کہ مسلمانوں کا ایک پولیٹیکل امپائر بن چکا تھا۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہو چکا تھا۔ اس سیاسی ماحول میں فقہ کی تشکیل ہوئی۔ اس صورت حال کا نتیجہ قدرتی طور پر یہ ہوا کہ فقہ کی تدوین و تشکیل میں سیاسی نقطہ نظر غالب آ گیا۔ فقہ عملاً مسلمانوں کے دور سلطنت کا اظہار بن گئی۔ اس کی ایک مثال دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں ہیں۔ میں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مفروضہ کام کر رہا تھا کہ مسلمان سیاسی طور پر غالب پوزیشن میں ہیں اور وہ اپنی اس سیاسی پوزیشن کے حوالے سے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متعین کر رہے ہیں۔ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سیاسی اقتدار کسی گروہ کا ایک وقتی مرحلہ (temporary phase) ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں بننے والی فقہ، اسلام کے ابدی تقاضوں کا اظہار نہ تھی، وہ زیادہ تر وقتی ضرورتوں کے تحت مدون کی گئی۔
قرآن وسنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ خدا کے رسول کے ذریعے مسلمانوں کو خدا کا پیغام ملا ہے اور اس پیغام کو انھیں تمام قوموں تک پہنچانا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس عمل کو نسل در نسل جاری رکھیں ۔ دوسری قوموں کی نسبت سے مسلمانوں کا تعلق متعین کرنے کے لیے مرکزی تصور یہی ہے۔ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مدعو فرینڈلی بناتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان ہمیشہ نارمل تعلق قائم ہو، تا کہ دعوت کا عمل مؤثر انداز میں جاری رہے۔
مگر فقہ کی تدوین کے وقت مسلم دنیا میں جو سیاسی ماحول تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی ابواب تو فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ شامل ہو گئے مگر دعوت اور تبلیغ کا باب سرے سے اس میں شامل نہ ہو یہی وجہ ہے کہ فقہ کی تمام تر کتابیں کتاب الدعوة والتبلیغ سے خالی نظر آتی ہیں۔
فقہ کی کتابوں کے ان ابواب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا حاكم اور محکوم میں تقسیم ایک طرف مسلم حکمراں ہیں اور دوسری طرف محکوم غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے مطلوب حالت یہ ہے کہ زمین پر ان کا سیاسی اقتدار قائم ہو، یعنی وہ حالت جس کو فقہ میں دار الاسلام کہا گیا ہے۔ بعد جو بقیہ دنیا ہے وہ یا تو ’’غیر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے جس کو فقہ کی تقسیم میں دار الكفر بتایا گیا ہے۔ یہ کہ مسلمانوں کے لیے وہ خطہ دار الحرب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی مسلمان ان سے برسرِ جنگ ہیں تا کہ وہاں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔
اسلام کا یہ تصور بلاشبہ اسلامی تاریخ کی سیاسی تعبیر کے ہم معنی ہے۔ اقتدار مسلمانوں کی مستقل وراثت نہیں۔ قرآن کے مطابق، اقتدار دوسرے تمام سامانِ حیات کی طرف صرف ایک ٹسٹ پیپر ہے اور وہ ہر قوم کو باری باری دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اصول کو مان لیا جائے تو دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں اپنے آپ غیر متعلق (irrelevant) ہو جاتی ہیں۔
دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحوں کے پیچھے یہ سیاسی مفروضہ شامل ہے کہ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے، مگر یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ سنت میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو قرآن میں شاہد اور مشہور (البروج ٣) کے الفاظ میں بیان کیا
ایک مسلم پروفیسر نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈسٹی کا ماڈل موجود یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ انھوں نے اسلام کا ماڈل بعد کے مسلم دور اقتدار سے اخذ اس سے پہلے اسلام کے نبوی دور میں اسلام کا جو ماڈل تھا وہ تمام تر پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل حالاں کہ اسلام میں اصل ماڈل کی حیثیت دَورِ دعوت کی ہے نہ کہ دَورِ اقتدار کی۔
شرعی عدالتیں ۔ ہندوستانی عدلیہ کے متوازی نظام نہیں ہر قانونی نظام میں قانون کے دو حصے مانے گیے ہیں ۔ ایک، احوال اجتماعی ۔ احوال اجتماعی سے مراد وہ احوال ہیں جو دو یا زیادہ شخصوں کے درمیان پیدا شدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ احوال شخصی سے مراد وہ معاملات ہیں جو کسی فرد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر قانونی نظام میں ایسا ہوتا ہے کہ احوال اجتماعی کا تعلق ریاست یا عدالت سے ہوتا ہے۔ جہاں تک احوال شخصی کا تعلق ہے، اس معاملے میں لوگوں کو یہ رخصت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی دائرے والے معاملات کو بطور خود ثالث یا کسی اور طریقے سے طے کریں۔ اگر یہ فیصلہ سماج کے دوسرے لوگوں کے حقوق پر اثر انداز نہ ہوتا ہو تو اس کو ایک جائز فیصلہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ برصغیر ہند میں یہ نظام ماضی قدیم سے چلا آ رہا تھا۔ مسلم عہد حکومت سے پہلے ہندوستان میں راجاؤں کی حکومت تھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندوستان میں آئے، اور مختلف راجاؤں کے حدود سلطنت میں آباد ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان ہندو راجاؤں نے اپنی مسلم رعایا کی مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مخصوص قانونی عہدہ قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اس مسلم عہدے دار کا نام ’’ہُنر من‘‘ ہوتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے شخصی معاملات میں انھیں شریعت کے مطابق فیصلہ دے۔
ہندوستان میں جب مسلم عہد سلطنت شروع ہوا تو اس روایت کو باقی رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے ذمے دار افراد مقرر کیے گیے ۔ ان کو قاضی کہا جاتا تھا۔ یہ گویا آزاد قانونی ادارہ تھا۔ کام یہ تھا کہ وہ مسلم افراد کے شخصی یا خاندانی معاملات میں شریعت کی رہنمائی میں فیصلے دے۔ احوال اجتماعی میں دخل نہیں دیتے تھے۔ وہ محدود طور پر صرف شخصی احوال میں مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں برٹش راج قائم ہوا تو برٹش حکمرانوں نے قاضی
کے عہدے کو باقی رکھا۔ یہ قاضی ہندوستان کے اکثر شہروں میں موجود ہوتے تھے اور وہ مسلمانوں کے شخصی احوال میں ان کی شرعی رہنمائی کرتے تھے۔
۱۹۴۷ میں ہندوستان آزاد ہوا تو اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد حکومت ہند میں وزیر تعلیم کے عہدے پر تھے۔ مولانا آزاد کے مشورے سے حکومت نے اس مقصد کے لیے دہلی میں ایک مسلم جج ان کا نام محمد شفیع تھا۔ جب تک وہ زندہ رہے یہ نظام چلتا رہا۔ وہ خاص طور پر نکاح و طلاق کے معاملات میں اپنا فیصلہ دیتے تھے۔ مگر محمد شفیع صاحب کے انتقال کے بعد یہ نظام عملاً ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد مختلف مدارس اور مسلم اداروں میں قائم شدہ دار الافتاء اور دار القضاء مسلمانوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ دار الافتاء اور دار القضاء کا یہ نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور اب بھی چل رہا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں ان اداروں نے بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کی ہندوستان کی ریاست یا یہاں کے سیاسی نظام نے اس کو تسلیم کیا۔ کیوں کہ وہ دستور ہند میں دی ہوئی مذہبی آزادی کے مطابق تھا۔
۴ جون ۲۰۰۵ کو مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ایک واقعہ ہوا۔ جس نے غالباً پہلی بار نئی صورت حال پیدا کر دی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (عمرانہ) کے ساتھ خود اس کے خاندان کے ایک ممبر نے زنا بالجبر کا فعل کیا۔ اس پس منظر میں کچھ لوگوں نے ملوث افراد کا نام لیے بغیر بالواسطہ انداز میں ایک استفتاء مرتب کیا، اور اس کو دیوبند کے دار الافتاء میں بھیج دیا۔ دار الافتاء والوں نے اس معاملے میں اپنے فقہی اصول کے مطابق، ایک فتویٰ جاری کر دیا۔ اس فتوے سے اصل مجرم کو تو کوئی سزا نہیں ملی، البتہ اس نے عمرانہ اور اس کے پورے خاندان کے لیے ناقابل بیان مسائل پیدا کر دیے۔ جن کا کوئی حل مفتی صاحبان کے پاس نہ تھا۔ کیوں کہ مفتی صاحبان کے پاس فتویٰ تحریر کرنے کا اختیار ضرور موجود تھا مگر اس فتوے کو نافذ کرنے کا کوئی اختیار انھیں حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ دیوبند کے اس فتوے نے ایک سنگین نوعیت کا قانونی بحران پیدا کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس کی سماعت کر کے مختلف ریاستوں کے نام یہ
نوٹس جاری کر دیے کہ وہ مسلمانوں کے اس نظام فتویٰ پر پابندی لگائیں، کیوں کہ یہ لوگ اپنی حد سے تجاوز کر کے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا یہ اقدام اصولی طور پر درست ہے۔ واقعہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والوں نے غالباً نادانستہ طور پر یہ غلطی کی کہ وہ اپنی جائز حد سے باہر انھوں نے زنا بالجبر کے ایک واقعے میں بالواسطہ طور پر ایک فتویٰ جاری کر دیا۔ حالاں کہ زنا بالجبر مسلمہ طور پر ایک فوجداری کیس ہے، اور فوجداری کیس سرکاری عدالت کی عمل داری میں آتا ہے۔ وہ دار الافتاء یا دار القضاء کے دائرۂ عمل سے باہر کی چیز ہے۔
سپریم کورٹ کے اس اقدام نے ایک سنگین قسم کا قانونی بحران پیدا کر دیا ہے۔ کورٹ کے اس اقدام کا تعلق موجودہ نظام فتویٰ کے وجود سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف ایک، یا بعض غلط فتووں سے ہے۔ اس معاملے کا سادہ حل یہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والے ایک عرضی انڈیا کی سپریم کورٹ میں داخل کریں۔ اس عرضی میں غیر مشروط طور پر یہ کہا گیا ہو کہ زنا بالجبر کا مذکورہ کیس ایک فوج داری کیس تھا۔ ایسے معاملے میں فتویٰ دینا عملاً ملک کے عدالتی نظام میں ایک قسم کی مداخلت اب وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے فتوے کو واپس لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے فتوے کا نظام مسلمانوں کے شخصی امور تک محدود رکھیں گے۔ وہ کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز کوئی فتویٰ نہ دیں گے جس کا تعلق دستور ہند کے مطابق، ملک میں قائم شدہ عدالت میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی عرضی سپریم کورٹ کے لیے یقیناً قابل قبول ہوگی اور وہ اپنا جاری کردہ نوٹس واپس لے لے گی۔
میری اس تجویز پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو پسپائی ہے۔ پسپائی مسلمان کا طریقہ نہیں۔ ہمیں اقدام کر کے سامنے آنا چاہیے اور سپریم کورٹ سے لڑ کر اپنا حق منوانا
میں کہوں گا کہ یہ پسپائی کی بات نہیں، بلکہ یہ اعترافِ خطا کی بات ہے۔ اور اعتراف اور پسپائی
دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ مسلمان انڈیا میں دستورِ ہند کو مان کر رہ رہے ہیں۔ ایک حقیقت ہے کہ فوج داری نوعیت کے کیس میں فتویٰ دینا دستورِ ہند کے مطابق، ملک کے قانونی نظام میں مداخلت ہے۔ اور دستورِ ہند کے مطابق اس قسم کی مداخلت جائز نہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو وہ دستورِ ہند سے بغاوت کا اعلان کر دیں اور پھر اپنے اس عمل کی ہر قیمت کو ادا کریں، یا پھر وہ کھلے طور پر یہ اعتراف کر لیں کہ مفتی صاحبان نے اس معاملے میں ملک کے قانونی نظام کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طور پر ان کے لیے ممکن نہیں۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ مسلمانوں کو دوسری بار وہ غلطی نہیں کرنا چاہیے جو انھوں نے ۱۹۸۶ میں شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں کی تھی۔ شاہ بانو کے کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس کی ذمّے داری واضح طور پر خود مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی۔ اس معاملے میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (شاہ بانو بیگم) اپنے طلاق کے کیس کو ملکی عدالت میں لے گئیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سابقہ شوہر مجھے ماہانہ گزارہ (maintenance) ادا کرے۔ اپنے مطالبے کے حق میں انھوں نے عدالت میں عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ قرآن پیش کیا جس میں قرآن کی ایک متعلق آیت (البقرہ: ۲۴۱) کے تحت، متاع کا ترجمہ گزارہ (maintenance) کیا گیا تھا۔ انگریزی کا یہ ترجمہ قرآن جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ مقبول تھا اس کو لے کر سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے حق میں اپنا فیصلہ
اصولی بات یہ تھی کہ عبداللہ یوسف علی نے آیت کا جو ترجمہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ قرآنی لفظ متاع کا صحیح ترجمہ پراویژن (provision) ہے نہ کہ مینٹیننس (maintenance)۔
اس معاملے میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مطلقہ عورت کے خاوند کو چاہیے کہ وہ بوقت طلاق حسب حیثیت عورت کو کچھ رقم وغیرہ دے دے۔ بعد از طلاق ماہانہ گزارہ ادا کرنے کی ذمے داری سابقہ شوہر پر نہیں ۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ خالص شرعی اعتبار سے درست نہ تھا۔
نادرست فیصلے کی اصل ذمے داری دو مسلمانوں پر تھی ۔ شاہ بانو بیگم (مدعیہ ) اور عبد اللہ یوسف علی (مترجم قرآن) ایسی حالت میں اس معاملے میں مسلمانوں کی تحریک کا رُخ شاہ بانو بیگم اور عبد اللہ یوسف علی یا اُن کے ترجمہ قرآن کے ناشر کی طرف ہونا چاہیے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کی طرف۔ مگر اس معاملے میں مسلم علماء اور رہنماؤں نے یہ کھلی غلطی کی کہ انھوں نے اپنی پوری تحریک سپریم کورٹ اور حکومت ہند کے خلاف چلا دی ۔ شاہ بانو یا عبد اللہ یوسف علی کے مذکورہ غلط ترجمے سے انھوں نے کوئی تعرض نہیں کیا۔
یہ روش بلاشبہ خلاف عدل تھی۔ چناں چہ انڈیا کے مسلمانوں کو اس غیر عادلانہ روش کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ دراصل شاہ بانو تحریک ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ انڈیا میں پہلی بار وہ عناصر سیاسی اقتدار پر قابض ہو گئے ، جن کو مسلمان مسلم دشمن عناصر کہتے ہیں ۔ (واضح ہو کہ مسلم دشمن عناصر کا نظریہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک کوئی بھی ہمارا مستقل دشمن نہیں۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق ، دشمن بھی ہمارے لیے امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت حم السجدہ : ۳۴)
آخری بات یہ کہ غیر عادلانہ تحریک ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے ۔ نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتی ہے۔ مسلمان نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اس قسم کے ناعاقبت اندیشانہ تجربے کر چکے ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ اس قسم کی غلطی کو مزید نہ دہرایا جائے کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : لا يلدغ المؤمن من جُحرٍ واحدِ مرتین، البخاری (مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا)