Al-Risala · March 2006

We have complete faith in the Qur'an.

Al-Risala, March 2006, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

جلسے کی کارروائی کے بعد سائی بابا نے مجھ سے دوبارہ ملاقات کی۔ یہاں اُن کا ایک خاص اس کمرے میں وہ کبھی کبھی کسی خاص آدمی سے ملتے ہیں۔ مجھے اس کمرے میں لے جایا جہاں صرف دو کرسیاں تھیں ۔ ایک سائی بابا کی مخصوص وہیلی چیرا اور دوسری، میرے لیے ایک اس ملاقات میں سائی بابا نے وہی بات کہی جو وہ اپنی تقریر میں کہہ چکے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی اور مزید بات انھوں نے نہیں کہی۔ میرے ساتھی نے ان کو میری کچھ انگریزی کتابیں پیش کیں جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ یہ کتابیں ہماری لائبریری میں رہیں گی۔ سائی بابا نے اسی کے ساتھ اپنی مخصوص انگوٹھی مجھے دی ۔ اس انگوٹھی کو ڈائمنڈ رُنگ کہا جاتا ہے۔ اس انگوٹھی کا یہ نام غالباً اس کی مفروضہ برکت کی وجہ سے ہوگا۔ کیوں کہ بظاہر یہ انگوٹھی عام قسم کی انگوٹھی تھی، وہ کوئی ڈائمنڈ رُنگ نہ تھی۔ مشہور ہے کہ یہ ڈائمنڈ رُنگ کسی کارخانے کی بنی ہوئی نہیں ہوتی، بلکہ وہ سائی بابا کی کرامت سے ان کے ہاتھ میں بن جاتی ہے۔ مگر مجھ کو وہاں ایسی کوئی کرامت دکھائی نہیں مجھ کو تو یہی محسوس ہوا کہ یہ انگوٹھی ایک عام انگوٹھی ہے، وہ کوئی پُر اسرار انگوٹھی نہیں۔ جلسے سے واپس ہو کر اپنے کمرے میں آیا تو یہاں دو صاحبان ملاقات کے لیے موجود تھے۔ دونوں میڈیا کے آدمی تھے۔ انھوں نے مجھ سے مختلف قسم کے سوالات کیے۔ مثلاً ایک سوال یہ تھا کہ آپ یہاں کیسے آئے ۔ کیا آپ سائی بابا کو اپنا گرو مانتے ہیں۔ کیا آپ سائی بابا کی باتوں سے متفق ہیں، میں نے کہا کہ اس میں اختلاف یا اتفاق کی کوئی بات نہیں۔ یہاں ایک انٹر فیتھ کانفرنس ہو رہی اس میں ہر مذہب کے لوگ بلائے گئے ہیں۔ مجھے بھی اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے یہاں بُلایا گیا تھا۔ مجھ کو یہاں بولنے کے لیے جو موضوع دیا گیا وہ ’’اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ میں نے اس موضوع پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں تقریر کی۔ جس طرح دوسرے لوگوں نے اپنے اپنے مذہب پر ہر مقرر کو اپنی بات کہنے کے لیے تیس منٹ دیے گیے تھے۔

تقریر کے بعد کانفرنس کے کئی لوگ مجھ سے ملے۔ ہر ایک نے کہا کہ یہاں پانچ مذہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب پر تقریریں کیں۔ مگر آپ کی تقریر سب سے زیادہ کلیئر تھی، وہ پوری

طرح ہماری سمجھ میں آئی۔ دوسرے لوگوں کی تقریریں زیادہ واضح نہیں تھیں۔

پٹاپر تھی میں کچھ مسلم لوگ بھی آباد ہیں۔ یہاں ان کی ایک چھوٹی مسجد بھی ہے۔ یہ مسجد سائی بابا نے خود اپنی طرف سے بنوا کر مسلمانوں کو دی ہے۔ یہاں کی مسجد کے بارے میں مجھے آخروقت میں اس لیے میں خود اس مسجد کو دیکھنے کے لیے نہ جا سکا۔ یہاں رہنے والے ایک مسلمان سے وہ بظاہر بہت خوش معلوم ہوتے تھے۔

جب سائی بابا سے ملاقات کا وقت طے ہوا تو یہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ سائی بابا ساری باتوں کو جانتے ہیں یہاں تک کہ ان کو آپ کے دل کا حال بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ آپ کو اُن سے خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے آپ، آپ کو ساری بات بتا دیں گے۔ مگر مجھے وہاں اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔ میں سائی بابا کے مخصوص کمرے میں دیر تک اُن کے پاس اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔ مگر انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، جس کا تعلق میری ذات سے ہو۔ انھوں نے صرف یہ کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں۔ مسلم جگت میں آپ کی جو مانیا ہے اس کا ہم کو پتہ ہے۔ انھوں نے کچھ اور باتیں کہیں لیکن ان کی زبان پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئی۔

پٹاپر تھی کے زمانہ قیام میں میں یہ سوچتا رہا کہ ایک شخص کو اتنی زیادہ مقبولیت کیسے حاصل ہوئی۔ کل ہی یورپ سے آنے والے ایک ہندو نے سائی بابا کو تین سو کروڑ روپے کا چیک دیا۔ مسلسل انھیں لوگوں کا تعاون حاصل ہوتا رہتا ہے۔ اس سرمایے سے سائی بابا بہت بڑے بڑے کام کر رہے ہیں، مثلاً اسکول، کالج اور اسپتال کا قیام وغیرہ۔ یہاں انتہائی جدید طرز کا ایک اسپتال ہے جہاں غریبوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہارٹ سرجری بھی مفت ہوتی ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے اندر خدا کا شعور لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی ایک سپریم گاڈ پر یقین سائی بابا یا اس طرح کے دوسرے لوگوں کو جو غیر معمولی ریسپانس ملتا ہے وہ دراصل غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔ لوگ اپنے خدائی جذبات کو اس طرح کے کسی انسان سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی فطرت میں جس برتر طاقت کا شعور چھپا ہوا ہے، یہ انسان اسی کا ظہور ہے۔

یہی غلط انتساب ہے جو موجودہ ساری دھوم کا اصل سبب ہے۔

ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانے کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانے کا فتنہ مادّیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لکلّ امّة فتنة و فتنة امتی المال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ مال یا مادّیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے۔ پٹا پر تھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعداد میں ان کے آشروموں میں آتے ہیں تا کہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرّک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادّی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوں گے جب کہ انھیں اسلام میں مادّی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گر و لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت دراصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصور جنت کو اُن کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادّی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ کو آپ قبل از موت مرحلہ حیات میں تلاش کر رہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلہ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادّی تعبیر نہیں کیوں کہ مادّی تعبیر ہمیشہ مادّی دنیا کے حوالے سے کی جاتے ہیں۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری بعض کتابیں پڑھی تھیں ۔ سامنے میں نے اسلام کی مزید وضاحت کی۔ بظاہر وہ اسلام سے متاثر نظر آئے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد

انھوں نے کہا: کیا کوئی آدمی بیک وقت دو مذہب کو مان سکتا ہے۔ اس جملے سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ ہندو دھرم کو چھوڑے بغیر کیا میں اسلام کو اختیار کر سکتا ہوں۔

میں نے کہا کہ مذہب محض رسم یا کلچر کا نام نہیں، مذہب دراصل سچائی کا نام ہے۔ طور پر یقین (conviction) چاہتی ہے اور یقین کے لیے وحدت ضروری ہے۔ آپ یقین کے ساتھ صرف ایک عورت کو اپنی ماں بنا سکتے ہیں۔ کئی عورتوں کے ساتھ ماں والا تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ معاملہ مذہب کا ہے۔ کسی ایک ہی مذہب کے بارے میں یقین کی نفسیات آپ کے اندر جاگ سکتی کئی مذہب کو یکساں ماننے کی صورت میں آپ کا یقین بکھر جائے گا اور آپ حقیقی یقین کی نعمت سے محروم ہو جائیں گے۔

میں نے کہا کہ اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ ۔ یقین ایک مذہب پر، احترام ہر مذہب آپ کو چاہیے کہ آپ اس فارمولے پر عمل کریں کہ: ایک مذہب پر چلو، اور سارے مذہبوں کا

Printed page