Fallow one and respect all.
Al-Risala, March 2006, pp. 17–22
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ اکثر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی لانے کی بات کی جاتی ہے۔ معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی لائی جائے۔ مذاہب کا تعلق ہے، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان عقیدہ یا تھیالوجی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب کا آدمی اپنے مذہب کی کتاب کو مقدس سمجھتا ہے۔ ٹکراؤ مختلف کتابوں کے درمیان نہیں، بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہے۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ مذاہب کو اپنی حالت پر رکھتے ہوئے ان کا احترام کیا جائے اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام کا مزاج پیدا کیا جائے۔
یہ کانفرنس بہت بڑی کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کرنے والے پنانوے فیصد ہندو لوگ تھے۔ صرف کچھ افراد مسلم یا سکھ یا عیسائی فرقوں سے تعلق رکھنے والے ملے۔ اس معاملے میں ایک صاحب
سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا، یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان انٹریکشن کلچر (culture of interaction) کو رواج دیا جائے۔ ملنے جلنے کے ہر موقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کے درمیان جائیں اور ان کو جاننے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔
میں نے کہا کہ بر وقت یہ صورت حال ہے کہ ہر مذہب کے لوگ شعوری یا غیر شعور طور پر اپنے مذہب کو جامد سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مذہب کچھ لگے بندھے رسوم کا مجموعہ (set of rituals) وہ نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے۔ خود مسلمانوں میں آج بھی یہی عقیدہ بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ: الإيمان لا يزيد ولا ينقص (ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے)
یہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی بات ہے۔ یہ غیر فطری نظریہ مذہب کو جامد رسوم یا آداب (etiquette) سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں (اور خود مسلمانوں کے یہاں) ایسا ہوا ہے کہ جسمانی افعال کو شرعی افعال سمجھ لیا گیا۔ مثلاً نماز کو بدنی عبادت کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ درست نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی عبادت ہے۔ بدنی افعال صرف اس کا ظاہری حصہ ہیں۔ یہی معاملہ ہر مذہب میں ہوا ہے۔ ہر مذہب میں کچھ ظاہری افعال اور رسوم کو مذہب سمجھ لیا گیا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان افعال اور رسوم کو ظاہری طور پر ادا کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں اور ان کو ادا نہ کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ حالاں کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے داخلی اصلاح کا نام ہے نہ کہ کچھ ظاہری حرکات کا نام۔ اس غلط تصور کا ایک بہت بڑا نقصان وہ یہ کہ ہر مذہبی گروہ میں بظاہر کچھ مخصوص افعال اور رسوم کی دھوم تو خوب جاری ہے مگر داخلی حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک کے یہاں مکمل خلا پایا جاتا ہے۔
مذہب کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کو سچائی سے متعارف کرتا ہے۔ اس تعارف یا دریافت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک ہلچل پیدا ہو جاتی ہے، اس کی سوچ میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا ایک عمل جاری ہو جاتا ہے۔
وہ ہر دن سچائی کی دریافت کے نئے مراحل طے کرنے لگتا ہے۔ اُس پر ہر روز حقیقت کے نئے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
مثلاً مسلمانوں میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس ذبح کو اگر آپ محض ایک رسم سمجھیں تو جانور کے ذبح کرتے ہی آپ کا مذہبی عمل پورا ختم ہو جائے گا۔ صورت میں ذبح کا عمل ایک جامد عمل ہوگا۔ اس میں آپ کو نہ کوئی چیز گھٹنے والی دکھائی دے گی اور نہ ذبح کے بعد آپ مطمئن ہو جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ ذبح کے معاملے میں میری جو شرعی ذمے داری تھی وہ میں نے ادا کر دی۔
لیکن اگر ذبح آپ کے نزدیک ایک شعوری معاملہ ہو تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ جانور ذبح کرنے پر معاملہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ وہ تو صرف ایک آغاز تھا۔ آپ کا احساس یہ ہوگا کہ ذبح حیوان کے بعد اب ذبح خویش کی باری ہے۔ اب آپ کو مزید شدت کے ساتھ خدا پرستانہ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ خواہ قربانی کی سطح پر جا کر اس کو کرنا پڑے۔
اپنے ذاتی تجربے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ اختلاط (interaction) بہت ضروری ہے۔ اپنے محدود حلقے، یا اپنے رشتے داروں یا دوستوں میں رہتے ہیں ان کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا، وہ بہت سی باتوں سے بالکل بے خبر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر لوگوں سے ملتے ہیں، اور ڈسکشن کرتے ہیں اُن کا ذہنی ارتقاء دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ معاملے کا ایک تجربہ مجھے خود موجودہ سفر میں بھی ہوا۔
پٹنہ پر تھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اس سفر کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا کہ سائیں بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت در یافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائیں بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے
ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمع کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں صاف طور پر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (God's worshiper) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہر ایک نے اس پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ خود سائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن پڑھاتے ہیں اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً سیکولر ازم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولر ازم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سُن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالاں کہ یہ صرف سمجھنے کا فرق ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولر ازم کو سادہ طور پر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولر ازم کا ترجمہ ’’لادینیت‘‘ کر کے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا ہے۔ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حالاں کہ سیکولر ازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام۔
یہی معاملہ غالباً خدا کے لفظ کا ہے۔ سائی بابا جیسے لوگوں کے حلقے میں خدا کا لفظ غالباً صرف ایک علامتی لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ عملاً وہ گرو یا مرشد کے ہم معنی ہے۔ مگر مسلمان جب اس کو سنتا ہے تو وہ اپنے تصور کے مطابق، خدا کو اللہ کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اور اس طرح وہ ایسے لوگوں کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رد عمل واقعے کے خلاف ہے اور لوگوں کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا کرنے والا ہے۔
۲۳ جولائی ۲۰۰۵ء کو میں پٹاپرتھی سے بنگور گیا۔ ۲۳ جولائی کی ملاقات میں سائی بابا نے پوچھا تھا کہ آپ کب جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں یہاں سے بنگور جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہماری گاڑی آپ کو لے جائے گی۔ میں نے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ مگر میں نے دیکھا کہ سائی بابا کے آدمی بار بار میرے پاس آنے لگے اور سفر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ سنٹر کی خاص گاڑی ٹھیک وقت پر گیسٹ ہاؤس پہنچ گئی۔ اس سے روانہ ہو کر میں مغرب کے وقت بنگور بنگور میں مسٹر اعجاز احمد کے مکان پر تین دن قیام رہا۔
پٹاپرتھی اور بنگور کے درمیان کار کا سفر حسب معمول تھا، سڑک عام طور پر اچھی تھی اور موسم بھی سائی سنٹر کی طرف سے راستے میں کھانے پینے کے لیے بہت سی چیزیں دے دی گئی تھیں مگر سفر میں کھانے پینے کا مجھے زیادہ ذوق نہیں۔ سفر کے دوران جو تجربے ہوتے ہیں وہ ایک صاحب معرفت آدمی کے لیے روحانی غذا بن جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مادی غذا اس کے لیے ایک ثانوی چیز کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔
بنگور ۱۸۳۰ء سے کرناٹک کی راجدھانی ہے۔ پہلے اس پورے علاقے کو میسور اسٹیٹ کہا جاتا تھا۔ بنگور انڈیا کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے قریب دو ندیاں بہتی ہیں_ آرکا وتی اور گنوا۔ یہ دونوں ندیاں کاویری سے ملی ہوئی ہیں۔
برٹش دور سے پہلے بنگور سلطان ٹیپو کی ریاست کا ایک حصہ تھا۔ سلطان ٹیپو کا مقبرہ سرنگا پٹم، یہاں سے قریب واقع ہے۔ بنگور میں ہمارے ایک ساتھی ڈاکٹر احمد سلطان تھے_ وہ سلطان ٹیپو کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ عجیب وغریب خصوصیات کے حامل تھے۔ پہلے وہ نوابی مزاج کے آدمی تھے مگر ماہنامہ الرسالہ پڑھ کر وہ بالکل بدل گئے۔ بنگور میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پھیلانے میں ان کا کافی حصہ تھا۔ وہ سگریٹ بہت زیادہ پینے کے عادی تھے۔ حتی کہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ کھانا کم کھاتے تھے اور سگریٹ زیادہ پیتے تھے۔ تمباکو نوشی کی اس کثرت سے ان کی صحت خراب ہوگئی تھی_ چنانچہ کم عمری میں ہارٹ اٹیک سے اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔
بنگلور میں عرصے سے عبداللہ برمی صاحب الرسالہ مشن کے تحت دعوتی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔ لیکن بنگلور کے اس سفر میں ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ عبداللہ برمی صاحب نہایت مخلص آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے اندر دعوتِ الی اللہ کا جذبہ بھر پور طور پر پایا جاتا ہے۔
بنگلور کی تاریخ سے ایک اہم واقعہ وابستہ ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پچھلے زمانے میں ہندو مسلم تعلقات کتنے زیادہ خوش گوار تھے۔ بنگلور کے قیام میں مجھے ۱۵۶ صفحے کی ایک با تصویر انگریزی کتاب اس کتاب کا نام یہ تھا: