Al-Risala · March 2006

Bangalore: Scenes from an Indian city.

Al-Risala, March 2006, pp. 22–39

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں بنگلور کی تاریخ کے بارے میں جو باتیں درج تھیں اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ قدیم زمانے میں مسلم نواب نے بنگلور کا علاقہ شیواجی کی فیملی کو بطور جاگیر دیا تھا: Around 1637 Bangalore was conquired by the Bijapur Muslim sultans and Shahaji Bhonsle, father of Shivaji, was given Bangalore, along with a few other towns in Karnataka, as jagir. (p. 13)

بنگلور میں ایک بڑا ادارہ ہے جو ’’الامین‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس ادارے کے تحت بہت سے اسکول اور کئی کالج چل رہے ہیں۔ اس ادارے نے تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

الامین کے ایک ذمے دار پروفیسر عطا ءاللہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الامین کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں، پھر انھوں نے الامین کالج میں آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کو وہاں گیا۔ وہاں طلبا اور اساتذہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کے علاوہ، وہاں دو خطابات ہوئے۔ ایک، ادارے کے مسلم اساتذہ کے درمیان، اور دوسرا، ادارے کے غیر مسلم اساتذہ کے درمیان۔ دونوں خطاب کے بعد سوالات کیے گیے، جن کا میں نے جواب دیا۔ دونوں خطابوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے اسلام کے بارے میں غلط

فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دینا چاہیے۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے میں علم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ روایتی دور میں علم کا دائرہ بہت محدود تھا، مگر آج ہر چیز کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔ آج کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں جس کا تعلق علم سے جڑا ہوا نہ ہو۔ میرا احساس یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے علم کی اس جدید اہمیت کو نہیں سمجھا۔ حتی کہ میرے نزدیک، سرسید احمد خاں بھی علم کی اس جدید اہمیت سے صرف جزئی طور پر باخبر تھے۔ مغل دور میں ہندوستان میں فارسی زبان سرکاری زبان تھی۔ فارسی زبان جاننے والوں کو سرکای ملازمتیں ملتی تھیں۔ برطانوی دور میں جب انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا گیا تو مسلمان اچانک سرکاری ملازمتوں سے محروم ہو گئے۔ یہی سرسید کا اصل کنسَرن تھا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان انگریزی زبان پڑھیں تا کہ ان کو سرکاری ملازمتیں ملیں۔ چنانچہ انھوں نے اسی مقصد کے لیے انگریزی تعلیم کے ادارے قائم کیے، مگر یہ جدید تعلیم کا بہت محدود تصور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ماڈرن ایجوکیشن کا تعلق پوری زندگی سے ہو چکا تھا، نہ کہ محدود طور پر صرف سرکاری ملازمت سے۔ مسلم رہنماؤں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور مسلمانوں کو کھچڑے پن کی صورت میں اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔

الامین کالج میں ایک خاتون مسز نگار نے سوال کیا کہ نو جوانوں کو مذہب کی طرف کس طرح لایا جائے ۔ میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ جانیے کہ آج کل کے نو جوان مذہب سے کیوں دور ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک اس کے اصل ذمے دار مذہب کے نمائندے ان لوگوں نے نئی نسل کے سامنے مذہب کو وقت کے اسلوب میں پیش نہیں کیا۔ نئی نسل، کالج اور یونیورسٹی میں سیکولر علوم کو جس اسلوب میں پڑھتی ہے، اُس اسلوب میں اس کو مذہب کی تعلیم نہیں یہی فرق نئی نسل کی مذہب سے دوری کا اصل سبب ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ اس فرق کو ختم کیا مذہب کو بھی اُسی عقلی اسلوب میں پیش کیا جائے جس عقلی اسلوب میں یہ لوگ سیکولر علوم کو

اس کے سوا کوئی اور تدبیر نئی نسل کو مذہب کے قریب لانے والی نہیں۔ بنگلور کے زمانہ قیام میں میرا ایک پروگرام یہاں کے الامین کالج میں تھا۔ اس پروگرام کی تفصیلی رپورٹ بنگلور کے اردو روزنامہ سالار (۳۰ جولائی ۲۰۰۵) میں شائع ہوئی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ: ’’اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بار بار اقلیت میں رکھ کر بھی اکثریت پر حکومت کرنے کا موقع لہٰذا ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے کو غیر محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے اور چیلنجوں کے ساتھ جو مواقع ملتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس رپورٹ میں اخبار کے رپورٹر نے نادانستہ طور پر ایک ایسی بات میری طرف منسوب کردی جو میں نے نہیں کہی تھی ۔ میں نے اپنی تقریر میں قرآن کی آیت (البقرہ ۲۲۹) کا حوالہ دیتے ہوئے آرنلڈ ٹائن بی کا فلسفہ تاریخ بیان کیا تھا۔ اس کے مطابق، خود فطری عمل کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ کسی سماج میں جو گروہ اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو وہ ہمیشہ اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج سے دوچار رہتا ہے۔ چیلنج اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ بنا دیتا ہے۔ اس فطری عمل کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے تئیس سالہ دور نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے— مکی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظم ہو کر جنگی اقدام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تقسیم سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اور مدنی دور

اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔ اسلامی تحریک اصلاً دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پر امن طور پر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے اور اپنے اختتام میں دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ سالوں کے بعد مر جاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجاۓ۔ دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں بلکہ ان کا تعلق مدعو دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم کے واقعات کو ظہور میں لانے کا اصل سبب ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت کے بعد کبھی طوفان نوح جیسا واقعہ پیش آیا، کبھی مدعو کی طرف سے وہ صورت پیش آئی جس کا ایک نمونہ حضرت یونس کی زندگی میں ملتا ہے۔ کبھی وہ واقعہ پیش آیا جس کی ایک مثال حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف نمونے نظر آتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک نمونہ وہ ہے جس کی مثال پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکی دور اور مدنی دَور کی صورت میں پیش آئی۔

اب عالمی افکار کے انقلاب کے بعد دنیا میں بالکل نئی صورتِ حال سامنے آئی ہے۔ دعوت کا طریقہ اور مدعو کا ردِ عمل دونوں بدل چکے ہیں۔ کچھ لوگ دورِ قدیم کے تجربات کو لے کر یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم کو اسی طریقے کو دہرانا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قدیم زمانے کے داعی آگ میں ڈالے گیے اور اُن سے جنگ کی گئی اور ان کو ملک بدر کیا گیا، یہ سب واقعات موجودہ زمانے کے داعیوں کے ساتھ بھی پیش آنے چاہئیں، ورنہ ان کی دعوت پیغمبرانہ دعوت نہیں قرار پائے گی۔ اس قسم کا نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ مدعو کے ردِ عمل سے ہے۔ قرآن میں اہل ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ: ربّنا ولا تحمّل علينا

اصرا كما حملته على الذين من قبلنا (البقرہ: ٢٨٦) یعنی ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میں تدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اورداعیوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل مگر بدقسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہوسکے۔ اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا خودساختہ انقلابی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان و سلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ وجدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہوا۔ چنانچہ انھوں نے خودساختہ طور پر مُند بھیڑ اور مسلح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کیں اور اس کے بعد پر فخر طور پر کہا کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔

انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابی ٔرسول عبداللہ بن عمرؓ کے الفاظ صادق آتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اْس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہرگز جہاد نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑ کر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کر رہے ہو۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ۳۲/۸) ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فیاضی کا مزاج بہت اچھا ہے مگر مطلق فیاضی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ لوگوں کو صحیح ترجیح کا علم ہو۔ وقت یا مقام پر فیاضی کا تقاضا کیا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے فیاضی کے جذبے کو ترجیحی طور پر استعمال کرے ۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اصحابِ مال نہایت فیاضی کے ساتھ سوشل سروس اور کمیونٹی ورک پر اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، مگر یہی اصحاب مال عام انسانوں میں دعوت ورک کے لیے

اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔ میرے نزدیک یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔

۲۴ جولائی کی صبح کو مسٹر اعجاز احمد کے ساتھ لال باغ گیا۔ یہاں ہم لوگ دیر تک ٹہلتے رہے۔ یہ بہت بڑا پارک ہے جو تقریباً ۳۰ ایکڑ کے رقبے میں قائم ہے۔ بنگلور میں مارننگ واک کے لیے لال باغ پارک بہت اچھی جگہ ہے۔ یہ سر سبز درختوں کے درمیان ایک پُرسکون جگہ ہے۔ یہاں کچھ اور لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً مسٹر ضیاء (ٹی پلانٹر) درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ان لوگوں سے دیر تک دینی موضوعات پر بات ہوتی رہی۔

ضیاء صاحب کا ایک سوال یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں آزاد ہے یا مجبور۔ میں نے کہا کہ حقیقت دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی پچاس فیصد آزاد اور پچاس فیصد مجبور۔ مثلاً ہم لوگ اس وقت بات کر رہے ہیں، ہم پوری طرح آزاد ہیں کہ چاہیں تو بات کریں اور چاہیں تو نہ بات کریں۔ مگر یہ بات چیت اُس وقت ممکن ہوتی ہے، جب کہ میرے اور آپ کے بیچ میں، ہوا کا واسطہ موجود ہو۔ یہ ہوا خدا کی دی ہوئی ہے۔ اگر ہوا نہ ہو تو ہم اور آپ بات نہیں کر سکتے۔ بات چیت کرنا ہماری آزادی ہے اور یہاں ہوا کا ہونا ہماری مجبوری۔ خدا کے یہاں ہماری جو پوچھ ہوگی وہ ہوا کے بارے میں نہیں ہوگی بلکہ اپنی آزادیٔ گفتار کے استعمال کے بارے میں ہوگی۔

لال باغ کو حیدر علی نے بنایا تھا۔ حیدر علی ۱۷۲۲ء میں پیدا ہوا، اور ۱۷۸۲ء میں اس کی حیدر علی، میسور اسٹیٹ کا حکمران تھا۔ اس اسٹیٹ میں دوسرے علاقوں کے ساتھ بنگلور حیدر علی فوجی معاملات کا زبردست ماہر تھا۔ اس نے اپنی خصوصی لیاقت کے ذریعے ۱۷۶۱ء میں میسور اسٹیٹ قائم کیا۔

حیدر علی کے زمانے میں انڈیا میں برٹش رول ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ مختلف طاقتیں اپنی سیاسی قسمت کے لیے زور آزمائی کر رہی تھیں۔ چناں چہ حیدر علی کو اپنے دورِ حکومت میں مختلف طاقتوں سے جنگ کرنی پڑی۔ نظام حیدر آباد، مراٹھا، فرانسیسی، انگریز وغیرہ۔ ان جنگوں میں تقریباً پچاس ہزار آدمی آخر میں حیدر علی نے محسوس کیا کہ اس کو جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

چنانچہ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹے ٹیپو سے یہ التماس کیا کہ تم انگریزوں سے صلح کر لینا: In his dying words to Tippu that Hyder implored him to make peace with the british. (V/235) سلطان ٹیپو کی پوری تربیت اپنے باپ کے ساتھ فوجی انداز میں ہوئی تھی۔ وہ پوری طرح فوجی طرز فکر میں رنگ چکا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے جنگ جو یا نہ ذہن کو بدل نہ سکا۔ اور اپنے والد کی نصیحت کے خلاف انگریزوں سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر ۱۷۹۹ء میں مارا گیا۔

حیدر علی اور ٹیپو کی مثال بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں سیاسی مزاج کے لوگ کس طرح جنگ و جدال میں اپنی بہترین صلاحیت کو ضائع کرتے رہے۔ یہ لوگ صرف سیاسی اور فوجی چیزوں کی اہمیت کو جانتے تھے۔ وہ اس سے بے خبر تھے کہ اس دنیا میں اس سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ہے، اور وہ ہے روحانی سکون اور ذہنی ارتقاء۔ یہ لوگ نہایت اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے، مگر اپنی اس صلاحیت سے وہ اپنی شخصیت کی تعمیر میں کوئی کام نہ لے سکے، یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ محترمہ سارہ فاطمہ کے دو بیٹے ہیں۔ یہ دونوں نہایت ذہین ہیں اور بشپ کاٹن اسکول میں پڑھ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح بڑوں سے بات کرتے تھے اسی طرح آپ بچوں سے بات کرتے تھے۔ بچوں سے بات کرتے ہوئے آپ اپنے آپ کو بچوں کی سطح پر لے آتے تھے، تاکہ بچے آپ کی بات سمجھ سکیں۔ مثلاً ایک بچہ جو ایک چڑیا پالے ہوئے تھا، ایک بار اس سے بات کرتے ہوئے آپ نے کہا: یا أبا عمیر، ما فعل النغیر! میں نے سارہ فاطمہ کے بیٹے سے کہا کہ میری بات کو دہرائیے۔ انھوں نے دہراتے ہوئے انگریزی میں اس طرح کہا:

The Prophet could come down to the level of understanding of the children. پروفیسر جعفری سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ عرصے سے میری کتابیں پڑھتے رہے ہیں، وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اس قسم کی باتیں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: آپ کی سب

باتیں ٹھیک ہیں، مگر آپ کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد کسی اور کی تحریر پڑھنا انسان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف اسی بنگور میں ایک اور مسلم بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا تھا، مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ اس کا سبب انھوں نے یہ بتایا کہ آپ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے ان سے اس تنقید کی کوئی متعین مثال پوچھی، مگر وہ کوئی متعین مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی معاملے کا تجزیاتی مطالعہ آپ اپنی حساسیت کی بنا پر اس کو تنقید سمجھ لیتے ہیں۔

بنگلور میں ایک سینئر پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ یہ جناب عطاء اللہ صاحب تھے۔ کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے علم نفسیات کے اعتبار سے کئی قیمتی باتیں بتائیں۔ انھوں نے ایک مغربی اسکالر کا قول نقل کیا۔ بہترین گل دستہ دستیاب پھولوں سے بنتا ہے نہ کہ اپنی پسند کے پھولوں سے : The finest bouquet is not made of the finest flowers, but out of the available flowers. ایک تعلیم یافتہ ہندونے ایک کتاب کا ذکر کیا۔ یہ کتاب امریکہ سے چھپی ہے اور اس وقت مغربی دنیا میں بیسٹ سیلر ہو رہی ہے۔ اس کتاب میں بہت سے’’واقعات‘‘ درج کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات لوگوں کی پچھلی زندگی کے بارے میں ہیں۔ مصنف ایک ڈاکٹر ہے۔ اس کا بیان ہے کہ اس نے ایک مخصوص تھریپی دریافت کی ہے۔ اس تھریپی کو جب کسی مرد یا عورت کے اوپر اپلائی کیا جاتا ہے تو وہ اپنے پچھلے جنم کی باتیں بتانے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب آواگون کے نظریے کا ایک سائنسی پروف ہے۔ ان کی بات پورے دھیان کے ساتھ شروع سے آخر تک سنی۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ اس کتاب کے بارے میں میرا تبصرہ تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے ہیں یا مختصر الفاظ میں۔ انھوں نے کہا کہ مختصر الفاظ میں نے کہا کہ پھر سنیے، یہ کتاب صرف ایک فکشن ہے، وہ کوئی ہسٹری نہیں۔ آپ میرے ساتھ امریکہ چلیے اور میں آپ کے سامنے سروے کر کے بتا دوں گا کہ اس کتاب کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

میں نے کہا کہ یہ بک بزنس کی ایک نئی تکنیک ہے۔ آج کل اس طرح کی کتابیں کثرت سے چھپ رہی ہیں جو بظاہر تاریخ کی زبان میں ہوتی ہیں، حالاں کہ ان کی حیثیت صرف فرضی کہانی کی میں نے کہا کہ اس سے پہلے امریکا میں ایک کتاب چھپی تھی، جس کا نام یہ تھا: A monk who sold his ferrari. یہ کتاب چھپتے ہی مغربی دنیا میں بیسٹ سیلر بن گئی۔ لوگوں نے سیدھے پن میں اس کو واقعہ سمجھ لیا، حالاں کہ وہ صرف ایک فرضی افسانہ تھا۔ پھر میں نے آواگون کے بارے میں کہا کہ آواگون کے نظریے کے مطابق ہر آدمی ایک تجربے سے گزر رہا ہے۔ اس اعتبار سے اس تجربے کا علم ہر شخص کو ہونا یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو تجربہ مجھ پر گذرا اس کو کوئی دوسرا شخص مجھ کو بتائے۔ تجربے کو میں نے خود نہیں جانا، اس کو دوسرے آدمی نے کیسے جان لیا۔

۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو بنگلور میں تعلیم یافتہ مسلم خواتین کا ایک اجتماع ہوا۔ میں نے اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس اجتماع کا اہتمام ”الفلاح‘‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ الفلاح ایک ادارہ ہے۔ جس کو سارہ فاطمہ اور کچھ تعلیم یافتہ خواتین نے قائم کیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک خوبصورت اور منظم ادارہ ہے۔ یہ ادارہ تمام تر الرساله مشن کی اشاعت کے لیے قائم ہوا ہے۔ میں ایک لائبریری ہے، جہاں سے لوگ کتابیں پڑھنے کے لیے لے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مکتبہ بھی ہے، جہاں سے الرساله کی تمام مطبوعات خریدی جاسکتی ہیں۔ یہاں خواتین کا ہفتے وار اجتماع ہوتا نیز روزانہ دعوتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ میری تقریر کے بعد حاضرین کو ادارے کی طرف سے الرساله کی مطبوعات تحفہ دی گئیں۔

میں نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کے حوالے سے مختلف باتیں کہیں ۔ اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں، صنفی برابری (gender equality) کے تصور کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی تصور خود اسلام میں بھی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: النساء شقائق الرّجال (عورتیں مرد کا مساوی حصہ ہیں) یعنی عورت اور مرد دونوں

ایک وحدت کے دو مساوی نصف کی حیثیت رکھتے ہیں:

Man and woman are two equal halves of a single unit. اصولی اعتبار سے عورت اور مرد کی سماجی پوزیشن یہی ہے۔ مگر عملی ضرورت کی بنا پر مرد کو عورت کے اوپر قوّام بنایا گیا ہے۔ قوّام سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو آج کل باس (boss) کہا جاتا ہے۔ باس ازم ہر تنظیم کی ایک عملی ضرورت ہے۔ باس ازم کے اصول کو اپنائے بغیر کوئی تنظیم نہیں چل سکتی۔ عورت اور مرد مل کر جو گھر بناتے ہیں وہ بھی ایک تنظیم ہے۔ باس ازم کے عالمی اصول سے اس تنظیم کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایک ہندو انجینئر مسٹر شلیند ر سے اسلام پر تفصیلی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں اسلام کی عزت کرتا ہوں، مگر میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی ایک ہی مذہب سچا ہے۔ میں ہر مذہب کو سچائی کا الگ الگ اظہار سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ’’ہر مذہب سچا ہے‘‘ کا نظریہ صرف ایک سیاسی نظریہ ہے۔ علمی حقیقت نہیں۔ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہر مذہب سے انتخابی باتیں لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہر مذہب کی تعلیم ایک ہی ہے، اور ہر مذہب سچا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ کسی مذہب کے پورے مجموعے کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ پائیں گے کہ مختلف مذہبوں کی تعلیم یکساں نہیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر سنجیدہ ہے تو اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر مذہب کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو تقابلی انداز سے پڑھے، اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ مختلف مذاہب میں سے کون سا مذہب زیادہ درست اور زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔

۲۵ جولائی کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: لا ضرر ولا ضرار فی الإسلام (اسلام میں نہ نقصان اٹھانا ہے، اور نہ نقصان پہنچانا) یہی بات حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی:

کبوتر کی مانند بے آزار اور سانپ کی مانند ہوشیار بنو:

Be harmless like a pigeon, and be clever like serpent.

اب غور کیجئے کہ کوئی شخص ان صفات کا حامل کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر وہ صفت پیدا ہو جسے ذہنی ارتقاء کہا جاتا ہے۔ ذہنی اعتبار سے ایک ارتقاء یافتہ آدمی ہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ایک قسم کے انسان اور دوسری قسم کے انسان کو جانے۔ اس قسم کا ذہنی ارتقاء کسی کے اندر پیدائشی طور پر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس تشریح کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو مذکورہ پیغمبرانہ قول کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی ارتقاء کے ذریعے اپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ تم ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کر سکو۔

الفلاح کے ادارے میں ۲۵ جولائی ۲۰۰۵ کو دوسرا پروگرام ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مرد اس موقع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کو دو میں سے ایک کام کرنا ہے۔ یا تو آپ اپنا سارا وقت خدا کے کام کے لیے وقف کر دیں۔ معاش کو خدا کے حوالے کر دیں اور خدا کے دین کے جو عصری تقاضے ہیں ان کو پورا کرتے رہیں یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ون مین ٹومشن بنیں۔ یعنی آپ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ اپنی معاشی ضروریات کی فراہمی کے لیے، اور دوسرا حصہ خدا کے دین کی خدمت کے لیے۔ میں نے کہا کہ آپ میں سے ہر شخص کو اُنہیں دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے، تیسرا کوئی انتخاب آپ کے لیے نہیں۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے سیکولرازم کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہنامہ میثاق (جولائی ۲۰۰۵) میں اس کے مدیر مسئول نے لکھا ہے کہ’’ میں نے (اپنے دورے میں) بھارت کے ہر شہر میں ببانگ دہل کہا کہ سیکولرازم کفر اور شرک ہے‘‘ (صفحہ ۱۳) میں نے کہا کہ یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ یہ اُسی قسم کی ایک غلطی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی انتہا (logical end) تک پہنچانا۔ یہ طریقہ بے حد خطر ناک ہے۔ طریقے کو درست مانا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے تمام لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں۔

کیوں کہ وہاں کی بہت بڑی اکثریت درگاہوں پر جاتی ہے، اور وہاں یہ لوگ مرادیں مانگتے ہیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگ براہِ راست اور کچھ لوگ بالواسطہ طور پر غیر اللہ سے استعانَت کی برائی میں مبتلا ہیں۔ کیا مذکورہ نقطۂ نظر کو ماننے والے لوگ اس دوسرے معاملے میں بھی یہی کریں گے کہ وہ منطقی انتہا پر جا کر اس کے بارے میں رائے کسی بات کو اس کی آخری منطقی حد تک پہنچانے ہی کا نام غلو ہے اور غلو اسلام میں نہیں۔ سیکولرازم کے معاملے میں اپنے نقطۂ نظر کے حق میں قرآنی دلیل دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا: قرآن کی رُو سے حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے— إن الحكم إلا الله (صفحہ ۱۲) قرآن کی مذکورہ آیت میں اور اس طرح کی دوسری آیتوں میں حُکْم کا لفظ حُکْم فطری کے معنی میں آیا ہے، وہ حُکْم سیاسی کے معنی میں نہیں آیا۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کو حُکْم سیاسی کے معنی میں لینا، قرآن کی معنوی تحریف کے ہم معنی ہے۔ یہ وہی غلطی ہے جس کو قرآن میں یہود کے تذکرے کے ذیل میں يحرّفون الكلم عن مواضعه (المائدہ: ۱۳) کہا گیا ہے۔

صحیح تعریف کے مطابق، سیکولرازم دراصل یہ ہے کہ ریاست، مذہبی معاملات میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے۔ مختلف مذاہب والے سماج میں یہ گویا ایک بہترین ورکنگ فارمولا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کے مذہبی معاملے میں آزادی دیتے ہوئے مشترک ملکی معاملات کو اسٹیٹ کے حوالے کر دینا۔ سیکولرازم حقیقتاً طرفداری کا نام ہے نہ کہ لاندہبیت کا۔ تقریباً یہی پالیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی دور کے ابتدا میں اختیار فرمائی تھی۔ چناچہ ’’صحيفۂ مدنیہ‘‘ میں جو باتیں لکھی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی: لليهود دينهم وللمسلمين دينهم (یہود کے لیے یہود کا دین، اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین)۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح جہاد کرنے والے علماء کو مہاتما گاندھی کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔ یعنی متشددانہ طریق کار کے بجائے پر امن طریق کار پر عمل کرنا۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو ایک نان مسلم تھے۔ کوئی نان مسلم لیڈر

علماء اسلام کے لیے کس طرح نمونہ بن سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ علماء نے تو خود ہی ایسا کیا۔ میں انھوں نے مسلح طریق کا اختیار کیا، اور ۱۹۱۹ء میں اس کو چھوڑ کر انھوں نے گاندھی کو اپنا سیاسی لیڈر پھر میں نے کہا کہ یہ دین کی بات نہیں ہے بلکہ یہ طریق کار کی بات ہے۔ اس طرح کے معاملے میں طریق کار اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ حالت موجودہ کے اعتبار سے کس حد تک مفید اور نتیجہ خیز ہے۔

کمیونٹی ورک یا سوشل ورک کے بارے میں ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اس کی بہت اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مدر ٹریسا کو اس معاملے میں ماڈل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے جس کام کی سب سے زیادہ اہمیت ہے وہ کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے بلکہ وہ دعوت ورک ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ۶۱۰ عیسوی میں نبوت ملی۔ اس وقت مکہ میں اُس کام کی سخت ضرورت تھی جس کو آج کل سوشل ورک کہا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے نبوت ملنے کے بعد صفا پر کھڑے ہو کر جو اپنی پہلی تقریر کی، اس میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ آؤ، ہم لوگ مکہ میں سوشل ورک اس کے برعکس آپ نے آخرت کو یاد دلاتے ہوئے کہا: واللہ لتموتن كما تنامون ولتحيون كما تستيقظون، وإنها لجنة أبداً أولنار أبداً (خدا کی قسم ! تم اُسی طرح مروگے جس طرح تم سوتے ہو۔ اور تم اُسی طرح سے دوبارہ جیو گے جس طرح تم اٹھتے ہو۔ اور بے شک اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی آگ)

مکہ میں تیرہ سال گزارنے کے بعد پیغمبر اسلام مدینے گیے۔ مدینے میں اُس وقت مختلف مسائل مثلاً یہودی تاجروں کا استحصال، اہل مدینہ کے لیے محنت ومزدوری کے سوا کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہونا، مدینے میں جہالت وغیرہ۔ مگر پیغمبر اسلام نے مدینے پہنچ کر یہ نہیں کہا کہ اہل مدینہ مسائل میں مبتلا ہیں ان کے درمیان سوشل ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس آپ نے فرمایا: ایها الناس! ولو بشق تمرة (اے لوگو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو)۔

ان دونوں حوالوں سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ مکی حالات ہوں یا مدنی حالات، دونوں جگہ کرنے کا اصل کام کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے، بلکہ دعوہ ورک ہے۔ یعنی خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرنا۔

دنیا کے تمام مصلحین سب سے اہم کام یہ بتاتے رہے ہیں کہ دنیوی مسائل کو ختم کرکے آئیڈیل سماج بنانا۔ مگر کبھی دنیا میں اس قسم کا آئیڈیل سماج نہ بن سکا۔ حتیٰ کہ خود مکہ اور مدینہ میں بھی اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ٹیسٹ کے لیے بنایا ہے اور اس بنا پر انسان کو آزادی اس لیے موجودہ دنیا میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں تاکہ انسان کا ٹیسٹ لیا جاسکے۔ تک آئیڈیل سماج کی بات ہے، وہ صرف آخرت میں بن سکتا ہے اور وہ قیامت کے بعد وہیں بنے گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا مطلب ہے، عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابلِ فہم (understandable) بنانا۔ میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں مکہ میں ایک پہلوان تھا جس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ کی پیغمبری سے انکار کرتا تھا۔ اس کو اپنی پہلوانی پر بہت گھمنڈ تھا۔ رسول اللہ نے کہا اگر میں تم کو کشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھ کو مان چنانچہ کشتی ہوئی جس میں رسول اللہ نے رُکانہ کو ہرا دیا (سیرت ابن ہشام، ۱/ ۴۱۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیغمبر وہ ہے جو پہلوان کو کشتی میں ہرادے۔ یہ نبوت کی پہچان نہیں۔ یہ دراصل ایک پہلوان کے لیے اس کے اپنے ذہن کے مطابق پیغمبری کو قابلِ فہم بنانا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب رُکانہ پہلوانی کی اصطلاح میں پیغمبر کی اہمیت کو سمجھ لے گا تو وہ مزید مطالعہ کرکے حقیقی معنوں میں پیغمبر کی معرفت حاصل کر سکے گا۔

بنگلور سے ایک اردو روزنامہ سالار کے نام سے نکلتا ہے۔ سالار کے شمارہ ۲۷ جولائی ۲۰۰۵ ء میں ایک خبر کی سرخی یہ تھی: طالبان جنگ جوؤں سے ملا عمر کی اپیل ــــ اس عنوان کے تحت اسلام آباد آئی) کے حوالے سے یہ خبر دی گئی تھی کہ: ” طالبان لیڈر ملا عمر نے طالبان جنگ جوؤں سے

کہا ہے کہ وہ بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں اور اپنی صفوں میں اتحاد ملا عمر نے یہ پیغام ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام طالبان سے کہتا ہوں کہ وہ عام لوگوں پر رحم کریں اور کسی کو تنگ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین، افغان علماء کی روحانی اولاد ہیں‘‘ (صفحہ ۳)

آج کل مسلم رہنماؤں کی طرف سے کثرت سے امن کی اپیلیں شائع کی جارہی ہیں۔ آف انڈیا، ۲۵ جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵) مگر یہ اپیلیں سراسر بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ یہ نام نہاد مسلم رہنما اس معاملے میں کرنے کا اصل کام نہیں کرتے۔ وہ فرضی اپیلیں شائع کر کے قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں: يحبّون ان يحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران (۱۸۸) اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلم جنگ جوں کو کھلے طور پر کنڈم کیا صرف یہ کہنا کہ، اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، یا مسلمانوں کو امن کی روایات قائم کرنا چاہیے، اس طرح کی باتوں سے نہ علماء اور رہ نماؤں کی ذمے داری ختم ہوتی ہے اور نہ اس سے جنگ جوئی یا دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اس معاملے میں نام نہاد مسلم رہنما ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک طرف قرآن وحدیث سے امن کی تعلیمات لے کر اس کو اس طرح شائع کرتے ہیں جیسے کہ یہی مسلمانوں کا کیریکٹر ہو۔ اسلام کی تعلیم اور مسلمانوں کا عمل دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس معاملے کی ایک مثال خود روزنامہ سالار کے صفحات میں موجود ہے۔

اُس میں ایک طرف اسلامی امن کی اپیلیں ہیں اور دوسری طرف اُس میں مختلف مسلم ذمے داروں کے حوالے سے ایسے تبصرے شائع کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نیویارک (۱۱ ستمبر (۹/۱۱) اور لندن میں ۷ / جولائی (۷ / ۷) کو ہونے والے تشدد کے واقعات کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہ تھا۔ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اس کا الزام مسلمانوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے کا یہی تضاد ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر متشددانہ تحریکیں ختم نہیں ہوتیں۔

طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی غلطی کو مانتے ہوئے کھلے الفاظ میں ان کی مذمت کی جائے۔ نہ یہ کہ دور دراز نکتے تلاش کر کے مسلمانوں کو بری الذمہ ثابت کیا جائے۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کے ناخوش گوار واقعات میڈیا میں آتے ہیں تو سارے مسلمان فی الفور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ میڈیا کا پروپیگنڈا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ میڈیا، خواہ وہ مسلمانوں کا ہو یا غیر مسلمانوں کا، اپنے مزاج کے اعتبار سے سلیکٹیو رپورٹنگ کرتا ہے۔ یعنی وہ مثبت واقعات کو رپورٹ نہیں کرتا۔ وہ انتخابی طور پر صرف منفی واقعات کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ مگر خود مسلم میڈیا کا طریقہ بھی یہی ہے۔ یعنی دوسری قوموں یا دوسرے گروہوں کے مثبت واقعات کو نظر انداز کرنا اور ان کے منفی واقعات کو نمایاں انداز سے اس معاملے میں مسلمانوں پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے:

ایں گناہ است که در شهر شما نیز کنند !

بنگلور کے روز نامہ سالار کے شمارہ ۲۶ جولائی ۲۰۰۵ میں ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر اجے کمار نے کہا کہ: آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں۔ اور کسی طرح کے منفی جذبات ان کے اندر پیدا نہ ہوں‘‘۔ اس خبر کو لے کر محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طور پر مسجد میں ادا کرتا ہوں اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میں نے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے وہ کام بالفعل ہو رہا ہے۔ مسلم علماء برابر مسلم نوجوانوں کے سامنے قرآن وحدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ انھوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہو رہی ہیں۔

میں نے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔ بنگلور میں ایک انجینیر سے ملاقات ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کل تو میں بے کار ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کے پاس تو انجینئرنگ کی ڈگری ہے پھر آپ بے کار کیوں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک امریکن کمپنی میں کام کرتے تھے۔ مگر وہاں انھوں نے دیکھا کہ سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان امتیاز ہوتا ہے۔ سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس امتیازی سلوک پر انھیں غصہ آیا اور انھوں نے کمپنی سے استعفا دے دیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے یہ فیصلہ ایک غلط تقابل کی بنا پر کیا۔ آپ نے اپنی تنخواہ کا مقابلہ امریکی کارکن سے کیا۔ اگر آپ یہ کرتے کہ امریکی کمپنی میں آپ کو جو تنخواہ مل رہی تھی اس کا تقابل آپ انڈین کمپنی میں ملنے والی تنخواہ سے کرتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ کو انڈیا کے مقابلے میں بہت زیادہ تنخواہ مل رہی ہے۔ میں نے کہا کہ بیش تر لوگ غلط تقابل کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے غیر ضروری طور پر مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے انھیں مشورہ دیا کہ اگر امریکی کمپنی والے آپ کو دوبارہ قبول کر لیں تو آپ فورا وہ ہاں چلے جائیے اور سابقہ شرطوں پر دوبارہ وہاں کام شروع کر دیجیے۔ آندھرا پردیش میں مارچ ۲۰۰۵ میں ایک نئی مسلم تنظیم بنی ہے۔ اس کا نام ”مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس“ (MPJ) ہے۔ اس کے سکریٹری جنرل کا انٹرویو ایک مسلم پرچے میں دیکھا۔ اس طرح کی تنظیمیں ساری دنیا میں بنی ہیں۔ جن کا مقصد امن اور انصاف بتایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ وہی چیز ہے جس کو اردو میں ”شُتر گربہ ترکیب“ کہا جاتا ہے۔ یعنی دو غیر متعلق چیزوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا۔ جو مسلمان جہاد کے نام پر تشدد کر رہے ہیں، یا جو مسلمان ایسی تحریکوں کی تائید کرتے ہیں، ان سے بات کی جائے تو ہمیشہ وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کو وہ امن چاہیے جس میں ہم کو ہمارا انصاف بھی دیا گیا ہو۔ یہ صرف ایک نادانی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امن بذات خود اپنے ساتھ انصاف نہیں امن کے قیام سے جو چیز ملتی ہے وہ مواقع کار ہیں۔ نہ کہ انصاف۔ فطرت کے قانون کے مطابق

انسان کو چاہیے کہ وہ پہلے موجودہ صورت حال پر راضی ہو کر امن قائم کرے۔ اور جب امن کے نتیجے میں مواقع کار کھل جائیں تو پھر ان مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرکے کے حکمت کے ساتھ انصاف کے قیام کے لیے کام کرے۔

موجودہ زمانے میں مسلم رہنما تقریباً دو سو سال سے انصاف کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر آج تک اُن کو اپنا مطلوب انصاف نہیں ملا۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر سمجھنا۔ اس طرح کی سوچ سرتا سر فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ جو لوگ یہ کہیں کہ ہم کو صرف وہ امن منظور ہے جس میں امن کے ساتھ انصاف بھی مل رہا ہو، ایسے لوگ دونوں ہی سے محروم رہیں گے — امن سے بھی اور انصاف سے بھی۔

دی ٹری بیون (The Tribune) کے گڑ گائوں ایڈیشن (۲۷ جولائی ۲۰۰۵ء) میں ایک مقامی خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہوئی تھی:

Printed page