Al-Risala · March 2006

Irfan's father loses his job.

Al-Risala, March 2006, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ مشہور کھلاڑی عرفان پٹھان کے والد محمود خان یہاں کی ایک تاریخی جامع مسجد میں مؤذن تھے۔ مگر ان کو اچانک برخاست کر دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ حال میں جب تیز بارش آئی تو مسجد میں رکھا ہوا تاریخی قرآن اس کی وجہ سے بھیگ کر خراب ہو گیا۔ محمود خاں قرآن کو محفوظ رکھنے میں نا کام رہے ۔ محمود خان اس مسجد میں چالیس سال سے مؤذن تھے۔ ان کے بیٹے عرفان پٹھان اسٹار کرکٹر (Star Cricketer) بن گئے ۔ اس کے با وجود انھوں نے مسجد کی خدمت نہیں چھوڑی۔ کی مجلسِ منتظمہ نے ان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ مسجد میں ملا ہوا اپنا کمرہ چھوڑ دیں۔ محمود خاں نے مسجد کی منتظمہ کی اس کارروائی کو غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت تیز بارش تھی جس نے پورے شہر کو اور مسجد کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت میں یہاں موجود نہ تھا۔ اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے لندن چلا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ نسخہ ایک قیمتی نسخہ تھا۔ جس کمرے میں محفوظ تھا اس کی کنجی مؤذن کے پاس ہوتی تھی۔ مؤذن صاحب اپنے بیٹے سے ملنے کے

لیے لندن گئے تو قاعدہ کے مطابق، یہ کنجی اُنھیں مسجد کے انتظامی ذمہ داروں کو دینا چاہیے تھا، مگر وہ یہ کنجی کسی غیر متعلق شخص کو دے کر چلے گئے۔ اس لیے بروقت اس کو بچانے کی کارروائی نہ ہوسکی۔ واقعے میں موذن کا ارادہ شامل نہ تھا۔ لیکن اس قسم کے واقعے میں اگر کسی اعتبار سے ہندو کا نام آجاتا تو غالباً ایک ہنگامہ کھڑا کردیا جاتا۔ اور اس کو قرآن کی بے حرمتی کا نام دے کر ایسی صورت حال پیدا کردی جاتی جس کا نتیجہ مزید جانی اور مالی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتا۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون نے پوچھا کہ شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا فارمولا نہایت سادہ ہے ــــ اپنے شوہر کو اپنا باس بنا لیجیے: Make your husband your home boss. میں نے کہا کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔ ہر تنظیم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک ناظم درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر اجتماعی ادارے میں ایک با اختیار ناظم رکھا جاتا ہے۔ اور اس معاملے میں گھر کوئی استثناء نہیں:

Printed page