And your home is not an exception.
Al-Risala, March 2006, pp. 40–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں بہت پریشان رہتا ہوں۔ میں نے ایک معاشی کام شروع کیا تھا مگر اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ اگر آج آپ بظاہر نا کام ہوگئے ہیں تو کل انشاء اللہ آپ کامیاب ہوجائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ نا کامی کو نا کامی نہ سمجھیں، بلکہ نا کامی کو کامیابی سے پہلے کا مرحلہ سمجھیں:
Don't take your failure as failure, take your failure as pre-succes. زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کو کوئی ناخوش گوار تجربہ نہ ہو۔ ہر کامیاب آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ نا کامیوں سے گذر کر کامیابی تک پہنچتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس میں کوئی استثناء آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی اُس مسئلے سے دوچار نہ ہو جس کو ذہنی تناؤ کہا جاتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے امریکا کے مشہور عیسائی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) کا ذکر کیا۔ اس وقت وہ ٨٦ سال کے ہو چکے ہیں اور صاحب فراش ہیں۔
تقریباً ۴۰ سال تک امریکا کے مشہور کاؤنسلر (counclor) بنے رہے۔ وہ نا امیدوں کو امید دلانے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مگر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر پارکنسن (Parkinson's) کے مریض بن گئے۔ دوبارہ گر پڑے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اب وہ بسترِ مرض پر مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: I sense that people are searching for purpose and meaning in their lives. Many feel lonely and are out of touch with the culture. (Time, December 2004, p. 16)
ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ مذہب کو نہیں مانتے تھے۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ دلائل دیے۔ میرے دلائل کے وزن کا انھوں نے اعتراف کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ آج کے لحاظ سے یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے مگر کل نئی حقیقتیں سامنے آسکتی ہیں، جو ان دلائل کو غیر اہم بنا دیں۔ میں نے کہا کہ آپ زندگی کے دوسرے معاملات تو آج کی بنیاد پر چلاتے ہیں مگر مذہب کے معاملے میں شک کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کا یہ رویہ آپ کو دومملی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اپنے دنیوی معاملات میں ہمیشہ آج کی بنیاد پر منصوبہ بناتے ہیں تو مذہبی معاملے میں بھی آپ کو اپنا منصوبہ آج کی بنیاد پر بنانا چاہیے ۔ دومملی کا طریقہ آدمی کی سنجیدگی کو مشتبہ کر دیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ تاجر سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے آخرت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ نے کہا کہ انسان ہمیشہ سے پر مسرت زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ مگر ایسی زندگی اس کو کبھی حاصل نہیں ہوئی ۔ صنعتی انقلاب کے بعد سامانِ راحت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اب ہر چیز زیادہ نفیس انداز میں حاصل ہونے لگی۔ مثلاً کچے مکانات کے مقابلے میں جدید طرز کے پختہ مکانات، بیل گاڑی کے مقابلے میں موٹر کار کا سفر، سرائے کے مقابلے میں شاندار ہوٹلوں میں قیام، ہاتھ کے کرگھاسے بنے ہوئے معمولی کپڑے کے مقابلے میں مل کے بنے ہوئے شان دار کپڑے، زبانی پیغام رسانی کے بجائے ٹیلی اور موبائل کا طریقہ وغیرہ۔ مگر ان ترقیوں نے انسان کو پُر مسرت زندگی نہیں دی، بلکہ ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا ، جس کو ٹنشن کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال
انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ پُرمسرت زندگی کا گول بجائے خود درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس لیے نہیں بنایا کہ اس میں پر مسرت زندگی کی تعمیر ہو سکے۔ یہ دنیا امتحان کے مقصد کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ موجودہ دنیا میں پُرمسرت زندگی کی تعمیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طالب علم قبل امتحان دور میں وہ کامیابی پانے کی کوشش کرے جو صرف بعد امتحان دور میں کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کہا کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جو طریقے بتا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کو اس کی عارضی زندگی میں اس کو بظاہر کامیاب کر دیں۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مددگار بننے والی نہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میں نے کہا کہ ضمیر کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں۔ اس لیے کہ زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آ جاتا ہے۔ مختلف مادی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ حساسیت یا ختم ہو جاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے آرٹ آف تھنکنگ کا ذکر کیا۔ پوچھا کہ آرٹ آف تھنکنگ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق (difference) کو جانیں۔ وہی آدمی صحیح ڈھنگ پر
سوچ سکتا ہے جس کے اندر فرق کو جاننے کی بصیرت موجود ہو۔ جو لوگ چیزوں کے درمیان فرق کو نہ جانیں وہ ہمیشہ کنفیوزن میں جیتے ہیں۔ وہ معاملات کو صحیح رخ سے دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ درجہ اب دنیا میں مذہب کا دور ختم ہورہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دور آرہا ہے۔ کہا کہ آپ کی یہ بات روایتی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ روحانیت ہے۔ روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ مذہب آدمی کو مادی سطح سے اٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچ دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ روح کی سطح پر جینے لگے۔
مسٹرانس انور کی ڈائری میں میں نے نصیحت کے یہ الفاظ لکھے ـــــ سوچی سمجھی زندگی گزارنا، انسان کی صفت ہے اور بے سوچی سمجھی زندگی گزارنا حیوان کی صفت۔ میرے تجربے کے مطابق بیش تر لوگ بے سوچی سمجھی زندگی گزارتے ہیں۔ دورِ جدید نے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اچھے کپڑے پہنیں، اچھے گھروں میں رہیں اچھی گاڑیوں میں سفر کریں۔ اس طرح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر واقعہ اس کے برعکس ہے۔ بیش تر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے خوش پوش حیوان نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ میری حساسیت ہے یا فی الواقع لوگ ویسے ہی ہوگئے ہیں جیسا کہ وہ مجھ کو نظر آتے ہیں۔
ایک نعت گو اپنا نعتیہ کلام سُنارہے تھے۔ مجھے یہ پورا کلام بہت عجیب معلوم ہوا۔ ہے کہ اکثر نعتیہ کلام محض شاعری ہوتا ہے نہ کہ نعتِ رسول۔ مثلاً مذکورہ نعت گو کا ایک شعر یہ تھا: روضۂ خیر البشر میں اگر جاؤں تو ایک سجدہ کروں ایسا کہ اپنے سے گزر جاؤں یہ شعر بلاشبہ ایک تخیلاتی پرواز ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں میں رسول کی نسبت سے ایک عجیب بدعت پیدا ہوئی جس کو عرفِ عام میں عشقِ رسول کہا جاتا ہے۔ عشق کا لفظ رسول اللہ کے لیے بولنا
بلا شبہ یہ ایک بدعت ہے۔ کیوں کہ یہ لفظ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔ کے لیے ایک مسلمان سے جو چیز مطلوب ہے وہ محبت رسول اور اتباع رسول ہے نہ کہ عاشقانہ وارفتگی۔ ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: أَصْحَابُ الْجَنَّةِ بُلْه ۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ بُلہ عربی زبان میں ضعیف العقل لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ مگر یہاں اس سے مراد ضعیف العقل ہونا نہیں ہے۔ اس سے مراد وہی صفت ہے جس کو دوسری حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَفْدَتُهُم كَأَفْئِدَةِ الطَّيْر (اہل جنت کے دل چڑیوں کے دل جیسے ہوں گے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جن کے ایمان نے ان کو بے ضرر، غیر انتقامی اور ایک طرفہ طور پر شفیق بنا آخرت کی جنت میں وہ خدا پرست داخل کیے جائیں گے جنھوں نے دنیا کے سماج میں یک طرفہ طور پر امن پسند بن کر زندگی گزاری ہو۔ جن کے دل میں لوگوں کے لیے خیر خواہی کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے بے وقوف لوگ ہوں گے۔ جنت اور اہل جنت کی تصغیر ہے۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جنت کے مستحق وہ لوگ قرار پائیں گے جو عقلِ دنیا کے معاملے میں لوگوں کو نادان دکھائی دیں۔ جن کے اوپر مفادِ آخرت کا اتنا زیادہ غلبہ ہو کہ وہ اپنے اس مفادِ آخرت کے غلبے کی وجہ سے مفادِ دنیا کے معاملے میں دوسروں کے ساتھ ہوشیاری کا معاملہ نہ کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے اس حدیث میں بُلہ کا لفظ دوسرے ناظرین کی نسبت سے ہے نہ کہ خود اہل جنت کی نسبت سے۔
سیدہ حنا صاحبہ بنگلور کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر اجتماع اس میں میں نے دعوہ ورک کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے کرنے کا سب سے ضروری کام یہی ہے۔ سیدہ حنا صاحبہ ایک بڑا کاروبار کر رہی ہیں مگر وہ پوری طرح اسلامی طریقے پر رہتی ہیں۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ اسلامی وضع پر قائم رہتے ہوئے ایک عورت کس طرح بڑے بڑے کام کر سکتی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے الرسالہ میں وسیلے کے خلاف لکھا ہے۔ حالاں کہ وسیلہ
صحابہ کے عمل سے ثابت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کے وسیلے سے بارش کی دعا کی۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں۔ حضرت عمر کے عمل سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے بارش کے لیے دعا تو اللہ تعالیٰ سے کی تھی۔ البتہ انھوں نے صرف ایک قریبی حوالے کے طور پر حضرت عباس کا نام لیا تھا۔ یہ نام لینا دراصل پوائنٹ آف ریفرنس کے طور پر تھا، وہ وسیلے کے طور پر نہ تھا۔ یہ دراصل اسلوب دعا کی بات ہے نہ کہ معروف معنوں میں وسیلے کی بات۔ اس لیے کسی صحابی نے اپنی انفرادی دعامیں ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ صرف اجتماع کے موقع پر وقتی نفسیات کے اعتبار سے کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ وسیلے کا معروف تصور نعوذباللہ خدا کی تصغیر ہے۔
۲ جولائی ۲۰۰۵ کو بنگلور سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی ۔ یہ سفر انڈین ایرلائنز کے ذریعے سفر دعوت بھی ہے اور مطالعہ بھی، اور اسی کے ساتھ تفریح اور تجارت بھی۔ یہ مسافر کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ اپنے سفر کو کیسا سفر بنائے۔