Al-Risala · April 2006

عورت اور مرد کا فرق

Al-Risala, April 2006, pp. 7–10

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریز مستشرق ایڈورڈ ولیم لین (Edward William Lance) ۱۸۰۱ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۷۶ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ انگریزی کے علاوہ عربی زبان میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے ایک کتاب منتخب ترجمہ قرآن (Selections From Kuran) تیار کی۔ جو پہلی بار لندن سے ۱۸۲۳ اس کتاب کے دیباچے میں لین نے لکھا تھا کہ اسلام کا تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ

The fatal point in Islam is the degradation of woman. (p. 90)

مستشرق لین نے ۱۸۲۳ میں جو بات کہی تھی ۔ اُس سے اس کی خاص مراد یہ تھی کہ اسلام کے قانون شہادت (evidence) میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر مانا گیا ہے۔ دونوں صنفوں کے درمیان کھلی ہوئی نابرابری ہے۔ اس کے بعد بطور مسلمہ یہ بات مان لی گئی کہ اسلام عہد جاہلیت کا مذہب ہے، وہ سائنسی دور کا مذہب نہیں بن سکتا۔

اسلام کے خلاف یہ نظریہ ڈیڑھ سو سال تک چلتا رہا۔ اس کے بعد مختلف اسباب سے سائنسی حلقوں میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ عورت اور مرد کے دماغ کے بارے میں از سرِ نو تحقیق کی جائے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ کیا دونوں کی دماغی بناوٹ میں کوئی فرق ہے۔ اس تحقیق کا ایک محرک یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان لو میرج (love marriage) ہوتی ہے اور پھر بیشتر واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ دونوں لڑ بھڑ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کے تحت، سائنسی انداز میں مختلف تحقیقات کی گئیں ۔ یہاں تک کہ خالص سائنسی طریق تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک نا قابلِ تغیر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طور پر سنگل ٹریک مائنڈ (single track mind) کا حامل ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں عورت فطری

طور پر ملٹی ٹریک مائنڈ (multi track mind) رکھتی ہے۔

دونوں صنفوں کے درمیان یہ فرق اتنا عام ہے کہ اس کا مشاہدہ ہر گھر میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں عورت اور مرد دونوں رہتے ہوں وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مرد کا ذہن کسی ایک پوائنٹ پر مرتکز جب کہ عورت کا یہ حال ہوگا کہ اس کا ذہن ایک ہی وقت میں کئی چیزوں کی طرف متوجہ رہے مثلاً مرد اگر ایک کتاب پڑھ رہا ہے تو اس کا سارا دھیان کتاب میں لگا رہے گا۔ حتیٰ کہ پاس کے کمرے میں اگر ٹیلی فون کی گھنٹی بجے تو وہ اس کو سننے سے قاصر رہے گا۔ حالاں کہ اسی کمرے میں بیٹھی ہوئی عورت دوسرے کمرے میں بجنے والی ٹیلی فون کی گھنٹی کو بخوبی طور پر سن لے گی۔ عورت کے ذہن اور مرد کے ذہن کا یہ فطری فرق بتاتا ہے کہ گواہی کے قانون میں دونوں کے درمیان فرق رکھنے کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ جس کو عورت اور مرد دونوں دیکھ رہے ہوں اس کو مرد جب دیکھے گا تو وہ اس کو ترکیزی ذہن کے تحت دیکھے گا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہوگا کہ واقعے کے تمام اجزاء اس کے حافظے میں محفوظ ہوسکیں۔ اس کے مقابلے میں عورت اپنے ذہن کی فطری ساخت کی بناپر، غیر ترکیزی انداز میں دیکھے گی۔ اس کے ذہن کا ایک حصہ واقعے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے ذہن کا دوسرا حصہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ اس بنا پر ایک گواہ عورت کے ساتھ دوسری گواہ عورت رکھی گئی تا کہ دونوں مل کر واقعے کی پوری تصویر بناسکیں۔ مذکورہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیت زیادہ قابل فہم بن جاتی ہے۔ قرآن میں اس طرح آئی ہے: واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء أن تضلّ إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى (یعنی تم اپنے مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنالو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، اُن لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تا کہ اگر ایک عورت ( گواہی دینے میں بھول) چوک جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دہانی کرا دے۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں ضلّ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ضل کے معنی عربی زبان میں

ادھر ادھر بھٹکنے (go astray) کے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ اس معاملے میں عین سائنسی ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مذکورہ آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ___ اگر ذہنی بناوٹ کی بنا پر ایک عورت کی توجہ اصل واقعے سے کچھ ہٹ جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا کر پہلی عورت کی کمی پوری کر دے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن عالم الغیب کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ خدائے عالم الغیب نے اپنے علم کلی کی بنا پر دونوں صنفوں کے درمیان فطری فرق کو اُس وقت جانا جب کہ عام انسان اِس فرق سے بالکل ناواقف تھا۔ اِس علم کی بنا پر خدا نے گواہی کا مذکورہ اُصول مقرر کیا۔ مذکورہ آیت اِس بات کا ایک علمی ثبوت ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ابدی صداقت کی حامل ہے۔ قرآن خدائے برتر کی کتاب ہے نہ کہ عام معنوں میں کوئی انسانی کتاب۔ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں بسم الله الرحمن الرحيم

نان وائلنس (عدم تشدد)

Printed page