Al-Risala · April 2006

Non-Violence — A Way of Life

Al-Risala, April 2006, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

نان وائلنس ایک وے آف لائف ہے۔ نان وائلنس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ وائلنس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ناموافق حالات کی اس دنیا میں موافق ذہن کے ساتھ زندگی گزاردی جائے۔ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ کے بجائے مصالحت کا انداز اختیار کیا جائے۔ کا تعلق انفرادی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔

دنیا کی مثال گلاب کے پودے جیسی ہے۔ گلاب کے پودے میں پھول بھی ہوتا ہے اور کانٹا کانٹے گلاب کے پودے کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ نیچر کا قانون ہے۔ ہم اس قانون کو بدل نہیں اس معاملے میں ہمارے لیے صرف ایک آپشن ہے اور وہ یہ کہ کانٹے کو نظر انداز کر کے پھول کو پھول کا خوبصورت رنگ اور اس کی خوشبو صرف اُس انسان کے لیے قابلِ حصول ہے، جو کانٹے کے باوجود اُس کو حاصل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اس حوصلے کے بغیر کوئی بھی اس دنیا میں گلاب کے پھول کا مالک نہیں بن سکتا۔

نیچر کا یہ ظاہر ہ بتاتا ہے کہ انسان کے لیے دنیا میں زندگی گزارنے کا حقیقت پسندانہ طریقہ کیا وہ ہے ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خوش گوار باتوں کو لے لینا ۔ دُنیا ہر انسان کے لیے خوش گوار اور ناخوش گوار دونوں قسم کی چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ صورت حال کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ خود خالق کی بنائی ہوئی ہے۔ اُن کا وجود اُسی طرح حتمی ہے، جس طرح آگ اور پانی کا وجود۔ کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں جو ان دونوں چیزوں کو ایک دوسرے سے جُدا کر سکے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے حقیقی آپشن صرف ایک ہے اور وہ ہے جس کو نان وائلنس کہا جاتا نان وائلنس سادہ معنوں میں صرف عدم تشدد نہیں، نان وائلنس دراصل یہ ہے کہ آدمی وائلنس

کے حالات میں پیس (peace) کے ساتھ رہ سکے۔ پیس فل رویّے کا دوسرا نام نان وائلنس ہے۔ عام طور پر نان وائلنس کو جنگ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ یعنی متشددانہ لڑائی کے مقابلے میں پر امن مقابلے کا طریقہ۔ مگر یہ نان وائلنس کا بہت محدود مفہوم ہے۔ نان وائلنس کا تعلق پوری زندگی سے ہے اور وہ ٹھیک اُسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب کہ انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ وائلنس کا تعلق گھریلو زندگی سے لے کر انٹر نیشنل لائف تک ہے۔

میں پیدائشی طور پر نان وائلنٹ ہوں۔ اس لیے نان وائلنس میرے لیے صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ وہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میں اپنی پوری زندگی شعوری یا غیر شعوری طور پر نان وائلنس کی زندگی گزارتا رہا ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ تقریباً ۱۰ سال تھی ۔ میں اپنے گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں گاؤں کا ایک بچہ میرے سامنے سے حسب عادت اس نے مجھے گالی دی۔ میں نے اسے سُنا تو مجھے غصہ نہیں آیا اور نہ میرے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تم خود! یہ کہہ کر میں اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ رویہ بعد کو میری پوری زندگی میں قائم رہا۔

مثال کے طور پر ۱۹۶۷ء کے بعد انڈیا میں کمیونل رائٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور خون کے واقعات سے بھرے رہنے لگے۔ تمام لوگ احتجاج اور انتقام کی بولی بول رہے تھے۔ کسی منفی ایکشن میں مبتلا نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلے کا یہ سادہ حل پیش کیا کہ مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اعراض (اوائڈنس) کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کمیونل رائٹس ختم ہو جائیں گے— یہ اجتماعی نزاع کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔

اسی طرح جب ۲۰۰۳ میں امریکی صدر جارج بش اور عراقی صدر صدام حسین کے درمیان نزاع پیدا ہوئی اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ امریکا بمباری کر کے عراق کو تباہ کردے گا تو میں نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ صدام حسین جنہوں نے فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر سیاسی قبضہ کیا تھا، وہ صدر کا عہدہ چھوڑ دیں اور پھر امریکا کو عراق کے خلاف تشدد کا موقع نہیں ملے گا—

یہ انٹر نیشنل معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔

اسی طرح جب پاکستان کے صدر ضیاء الحق کے زمانے میں کشمیر اور پنجاب میں آزادی کی تحریکیں زور و شور کے ساتھ اٹھیں تو میں نے ۱۹۹۰ میں ہندوستان ٹائمز میں ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا: Acceptance of reality اس آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب اور کشمیر کے لوگ پولیٹیکل اسٹیٹس کو(status quo) کو اس مسئلے پر ٹکراؤ کرنے کے بجائے وہ یہ کریں کہ پولیٹیکل اسٹیٹس کے باہر دوسرے میدانوں میں پر امن تعمیر و ترقی کے جو مواقع ہیں اُن کو استعمال کریں جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان میری یہ تجویز گویا سیاسی نزاعات کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔ آپ کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ کے اوپر برف پگھلنے سے چشمے جاری ہوتے ہیں وہ بہتے ہوئے میدان تک پہنچتے ہیں۔ آپ غور کریں تو درمیان میں بار بار چشمے کے بہاؤ کو ایک مسئلہ پیش آتا ہے وہ یہ کہ اس کے راستے میں بار بار پتھر کے تودے آتے ہیں یہ گویا چشمے کے بہاؤ کے راستے میں رکاوٹیں ہیں۔ چشمہ یہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش کرے تا کہ وہ اپنے سفر کے لیے سیدھا راستہ پا سکے۔ اس کے برعکس چشمہ یہ کرتا ہے کہ وہ پتھر کو اپنی جگہ چھوڑ کر اس کے دائیں یا بائیں سے گزر کر آگے نکل جاتا ہے یہی نان وائلنس ہے۔

نان وائلنس کا مطلب دوسرے لفظوں میں نان کنفرنٹیشن ہے۔ اس دنیا میں نان کنفرنٹیشن اپروچ ہی واحد صحیح اپروچ ہے۔ نان کنفرنٹیشن کا مطلب پسپائی یا بزدلی نہیں ہے۔ یہ دراصل وہی تدبیر ہے جس کو buying time کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے وقت کو بے فائدہ مشغولیت سے بچا کر اس کو نتیجہ خیز کام میں لگانا۔ نان وائلنس یہ ہے کہ آدمی نا پسندیدہ صورت حال کے مقابلے میں منفی رد عمل میں نہ پڑے بلکہ وہ مثبت رد عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ نان وائلنس دراصل وائز پلاننگ ہے۔ اس دنیا کی تمام کامیابیاں اسی وائز پلاننگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ وائز پلاننگ نہیں تو کوئی کامیابی بھی نہیں۔

Printed page