صحیح تدبیر
Al-Risala, April 2006, pp. 15–17
By Maulana Wahiduddin Khan
۴ نومبر ۲۰۰۴ء کی صبح کو میں نئی دہلی میں اپنے دفتر میں تھا۔ حسب معمول میں نے بی بی سی لندن سے خبریں سننے کے لیے اپنے ریڈیو سیٹ کو کھولا۔ پہلی خبر ان الفاظ میں تھی: امریکا کے صدارتی الیکشن میں جان کیری کے مقابلے میں جارج بش جیت گئے۔ بش کو اتنا زیادہ ووٹ ملے کہ امریکا کی تاریخ میں کسی بھی صدر کو تعداد کے اعتبار سے اتنے زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے۔ یہ خبر سن کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں رو رہا تھا اور میری زبان پر یہ
امریکا کے اس الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اور دانشور آخری حد تک عقلی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ خود بھی بے دانشی میں مبتلا ہیں اور انھوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو بے دانشی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اب لوگوں کے اندر بظاہر یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور صحیح فیصلہ لے سکیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۳ نومبر ۲۰۰۴ نے امریکی تاریخ میں آنے والے اس دن کو فیصلے کا دن (Judgement Day) کہا تھا۔ دن امریکا سے زیادہ موجودہ مسلمانوں کے حق میں فیصلے کا دن بن گیا۔
یہ الیکشن امریکا کے ۲۶ ویں صدر کے انتخاب کے لیے تھا مگر ساری دنیا کے مسلمانوں میں اس کا اتنا چرچا تھا جیسے وہ مسلم ملکوں کا اپنا الیکشن ہو۔ تمام دنیا کے مسلمان، مغرب سے لے کر مشرق تک اور عرب سے لے کر عجم تک بش کے خلاف متحد ہو گئے۔ پوری مسلم دنیا میں شاید میں اکیلا مسلمان تھا جو اس منفی اتحاد میں شریک نہ تھا۔ الیکشن سے صرف ایک دن پہلے ۳ نومبر کی صبح کو بی بی سی لندن پر بولتے ہوئے سعودی عرب کے ایک سینئر صحافی نے کہا تھا کہ اس وقت تمام کے تمام مسلمان یہ سمجھ رہے ہیں کہ جارج بش اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ آج تمام مسلمان بش سے نفرت کرتے ہیں اور الیکشن میں کی ہار کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی اور غیر امریکی مسلمانوں کی یہ پالیسی بلاشبہ عقلی دیوالیہ پن کے ہم معنی تھی۔ کہ امریکا کا صدر کون بنے اس کا فیصلہ امریکی ووٹروں کو کرنا تھا نہ کہ مختلف ملکوں میں بسنے والے ایسی حالت میں اصل اہمیت یہ تھی کہ امریکی ووٹروں کے ذہن کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، اپنی منصوبہ بندی کی جائے۔ جارج بش سے نفرت کرنا یا جارج بش کے خلاف لفظی غوغا کرنا ایک ایسی غیر متعلق بات تھی جس کا امریکی الیکشن کے نتائج سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ذاتی طور پر اس نظریے کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں کہ کوئی فرد اسلام کا دشمن نمبر ایک ہوتا اور اسلام کی حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ اس فرد کو کسی نہ کسی طرح زیر کر دیا جائے۔ تاہم جو لوگ یہ چاہتے تھے کہ اس الیکشن میں جارج بش کو شکست ہو، انھیں صورت حال کا جائزہ لے کر یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جمہوری نظام کے اعتبار سے کسی امیدوار کو شکست دینے کا طریقہ کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ امریکی انتخاب میں فیصلہ کن حیثیت صرف امریکی ووٹروں کی ہے۔ لاگ مطالعے کے ذریعے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ امریکی ووٹروں کی سوچ کیا ہے۔ ایک مبصر نے درست طور پر کہا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک کے ورلڈ ٹاور کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس کے بعد امریکی ووٹروں کی ساری سوچ اس واقعے سے جڑ گئی۔ اب امریکی ووٹر یہ سمجھنے لگے کہ وہ خود اپنے ملک میں غیر محفوظ ہیں اور ان کو اس طرح غیر محفوظ بنانے والے وہ لوگ ہیں جن کو وہ مسلم ٹرر سٹ (Muslim terrorist) کہتے ہیں۔ امریکی ووٹروں کی اس سوچ نے ان کے لیے اقتصادی ایشو کو ثانوی اشو بنا دیا اور قومی تحفظ کے اشو کو ان کے لیے نمبر ایک اشو بنا دیا۔ مبصر کے الفاظ میں، وہ اپنے لیے ایک ایسا صدر چاہتے ہیں جو مضبوط اور فیصلہ کن (strong and decisive) شخصیت کا حامل ہو اور عام طور پر امریکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ اس صفت کے اعتبار سے جارج بش ان کے لیے قابل انتخاب ہیں نہ کہ جان کیری۔
ایسی حالت میں اگر مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جارج بش الیکشن میں ہارے تو انھیں جاننا چاہیے تھا کہ یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ جارج بش کے خلاف براہ راست لفظی غوغا شروع
اس طرح کی غوغا آرائی امریکی ووٹروں کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والی نہیں تھی۔ صورت صرف یہ تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان خود اپنی قوم کے ان لوگوں کو کنڈم کرتے جو امریکہ کے خلاف متشددانہ جہاد چھیڑے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں امریکی ووٹروں کو یہ یقین دلانے کی ضرورت تھی کہ جو مسلم ٹرسٹ ان کے خلاف تشدد کی کارروائیاں کر رہے ہیں ان کو خود مسلمانوں نے کنڈم کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ مسلم سماج میں بے جگہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور آئندہ کے لیے اپنا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اگر ایسا کرتے تو وہ امریکی ووٹروں کی سوچ کو بدل اس کے بعد امریکیوں کا ووٹنگ پیٹرن یقیناً بدل جاتا اور خود امریکی ووٹروں کے ذریعے مسلمانوں کو وہ مطلوب انتخابی مقصد حاصل ہوجاتا جس کو وہ فائدہ جس کو بے فائدہ طور پر جارج بش کے خلاف غوغا آرائی کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔