She is underutilizing her great potential.
Al-Risala, April 2006, pp. 25–31
By Maulana Wahiduddin Khan
دور سے میں آپ کو جتنا پڑھ سکا ہوں اُس کے مطابق، غالباً آپ کا کیس اُس نوعیت کا کیس ہے، جو خالد بن ولید کا اسلام سے پہلے تھا۔ خالد بن ولید ایک سلیم الفطرت انسان تھے۔ خالد بن ولید نے فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ میں اسلام سے پہلے قریش کے ساتھ اُن کی اسلام مخالف سرگرمیوں میں قائدانہ طور پر شریک رہتا تھا۔ مگر اندر سے میں محسوس کرتا تھا کہ میں اپنے آپ کو غلط جگہ پر رکھے ہوئے ہوں (إِنِّي مُوْضِع فِي غَيْرِ شییٔ) میرا احساس ہے کہ آپ مسلسل طور پر عدم اطمینان میں مبتلا رہتی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اس عدم اطمینان کا سبب یہ ہے کہ آپ نے ابھی تک اپنے آپ کو اُس کام میں نہیں لگایا جس کے لیے آپ پیدا کی گئی ہیں، اور یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ غالباً آپ کی ضرورت یہ ہے کہ آپ کو وہ چیز حاصل ہو جائے جس میں مشغول ہو کر آپ کو داخلی طور پر پوری طرح فل فل مینٹ (fulfillment) یعنی آپ کا داخلی جذبہ اور آپ کا خارجی عمل دونوں ایک ہو جائیں۔ آپ کے لیے غالباً وہ کام مقدر رہے جو دورِ اول میں صحابہ اور صحابیات نے کیا تھا۔ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخر عمر میں حجۃ الوداع میں اپنے أصحاب کو خطاب
فرماتے ہوئے کہا تھا: اللہ نے مجھے تمام دنیا کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ تم لوگ میری طرف سے، اس ذمے داری کو ادا کرو۔ آپ نے فرمایا کہ پس جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میرا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں (فليبلغ الشاهد الغائب)
یہ بات آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو مہینے پہلے اپنے ایک خطاب میں فرمائی تھی۔ بعد یہ ہوا کہ اصحابِ رسول کی بیشتر تعداد مکہ اور مدینہ سے باہر چلی گئی۔ یہ لوگ مختلف بیرونی ملکوں میں پھیل گئے ۔ ہر جگہ انھوں نے اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ ان میں صحابہ کے علاوہ صحابیات بھی شامل اس کا تاریخی ریکارڈ یہ ہے کہ قبرص (Cyprus) میں ایک صحابیہ کی قبر اب تک موجود ہے۔ اپنے شوہر کے ساتھ سمندری سفر کر کے وہاں پہنچی تھیں ۔
اس صحابی خاتون کا نام اُمّ حرام بنتِ ملحان ہے۔ یہ واقعہ صحیح البخاری میں تین مقام پر آیا ہے۔ کتاب الجہاد میں باب غزو المرأة في البحر کے تحت، وہ اس طرح نقل ہوا ہے:
” عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ام حرام) بنتِ ملحان کے گھر آئے۔ آپ نے وہاں ٹیک لگائی (اور آپ سو گیے) پھر آپ ہنسے ۔ اُمّ حرام نے کہا: اے خدا کے رسول ! آپ کیوں ہنسے ۔ کہا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کا سفر کریں اُن کا درجہ (جنت میں) ایسا ہوگا جیسے تخت پر بادشاہ۔ ام حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول ! سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ اے اللہ ! ام حرام کو اُن میں سے بنا۔ آپ دوبارہ لیٹ گئے، اور پھر (اُٹھ کر) دوبارہ ہنسے۔ اُمّ حرام نے دوبارہ ویسا ہی سوال کیا۔ دوبارہ ویسا ہی جواب دیا۔ ام حرام نے کہا کہ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ تم پہلے والوں میں سے ہو، اور تم بعد والوں میں سے نہیں ہو ۔ (أنت من الأولين ولست من الآخرين ) ۔ انس نے کہا کہ پھر اُمّ حرام نے عُبادہ بن صامت انصاری سے نکاح کیا۔ انھوں نے (اپنے شوہر اور) بنتِ قَرْظہ (زوجہ معاویہ بن سفیان) کے ساتھ سمندری سفر کیا۔
میں وہ اپنی سواری پر بیٹھیں ۔ پھر وہ سواری سے گر پڑیں اور ان کی وفات ہو گئی ۔ شارح کہتے ہیں کہ: دُفنت في قبرص، و يسمّي قبرها هناك "قبر المرأة الصالحة" یعنی قبرص میں وہ دفن کی گئیں اور وہاں ان کی قبر کو ایک نیک خاتون کی قبر کہا جاتا ہے (حياة الصحابة ۱/ ۵۹۲) اس حدیث میں دو ایسے مسلم قافلوں کا ذکر ہے جو دعوت الی اللہ کے لیے بیرونی سفر کریں میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد، دومسلم ڈائسپورا (Muslim diaspora) ہے۔ پہلا ڈائسپورا وہ ہے جو صحابہ کے زمانے میں پیش آیا، جس کی ایک ممبر ام حرام تھیں۔ اور دوسرا ڈائسپورا ہے جو موجودہ زمانے میں پیش آیا ہے، اور آپ جس کا ایک حصہ ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ اس حدیث میں آپ کے لیے ایک بشارت ہے۔ آپ گویا اسلامی تاریخ کی دوسری اُمّ حرام ہیں۔ آپ رسول اللہ کی اٗس پیشین گوئی کا ایک حصہ ہیں جس میں بعد کے زمانے میں پیش آنے والے دوسرے قافلے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُمّ حرام اگر پہلے قافلے میں شامل تھیں تو آپ دوسرے قافلے میں شامل ہیں۔ مذکورہ حدیث کے مطابق، آپ کا سویڈن میں ہونا آپ کو یہ موقع دے رہا ہے کہ آپ اپنی دعا میں یہ کہہ سکیں کہ خدایا! مجھے اُس دوسرے دعوتی قافلے کا ایک ممبر بنا جو تیرے رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، بیرونی سفر کرے گا اور بیرونی دنیا کے لوگوں کو تیرا پیغام پہنچائے گا۔ ایسی دعا بہت اہم دعا ہے جس میں آدمی کو دعا کرنے کے لیے کوئی ریفرنس مل رہا ہو۔ اور یہ حدیث آپ کو اس قسم کا ایک بہترین ریفرنس دے رہی ہے۔
دعا کے سلسلے میں ریفرنس کے معاملے کو سمجھنے کے لیے میں یہاں دو واقعہ نقل کروں گا۔ واقعہ وہ ہے جو حدیث کی کتاب صحیح البخاری میں آیا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تین اللہ کے بندوں نے اپنے ایک عمل کو بطور ریفرنس استعمال کر کے خدا سے دعا کی۔ یہ دعا اس طرح مقبول ہوئی کہ اس کی وجہ سے ایک پہاڑی پتھر کھسک گیا۔ اور اُن کے لیے راستہ نکل آیا(فتح الباری، کتاب الادب، باب اجابة دعاء من بَرّ والديه، ۱۰ / ۴۱۸)
دوسرا واقعہ خود میری ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی کتاب سفرنامہ اسپین وفلسطین
میں لکھا ہے۔ اس واقعے کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
" ۲۹ اگست ۱۹۹۵ کو میں دوسری بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ اُس وقت اسرائیل کے اعتبار سے ۹ بجے صبح کا وقت تھا اور ہندوستان کے لحاظ سے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ۔ نماز پڑھتے ہوئے میرا دل بھر آیا جب میں نے سجدہ کرتے ہوئے زمین پر سر رکھا تو اُس وقت میری زبان سے دعا کے یہ الفاظ نکلے : خدایا ! زمانے کا فرق تیرے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ تو میرے لیے زمانی دُوری کو ختم کر دے اور مجھ کو اُس مقدس جماعت کی صف میں شریک کر دے جب کہ رسول اللہ یہاں امامت کر رہے تھے اور اُن کے پیچھے انبیاء صف باندھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ " (صفحہ ۱۳۴)
آپ جیسے لوگ جو مغربی ملکوں میں رہتے ہیں وہ وہاں کے بظاہر ناموافق ماحول سے اکثر پریشان رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہم کس اندھیرے میں یہاں آ کر پھنس گئے “، مگر یہ منفی احساس زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے اندر مثبت شعور پیدا ہو۔ آپ یہ سوچیں کہ خدا نے ہم کو یہاں بھیج کر ہمارے ساتھ خصوصی رحمت کا معاملہ فرمایا ہے۔ یہاں بھیج کر اُس نے ہم کو یہ قیمتی موقع دیا ہے کہ ہم خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور خدا کی ابدی جنت کے مستحق بنیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اس قسم کی نیگیٹیو سوچ کو پازیٹیو سوچ میں بدلیں۔ آپ یہ سوچیں کہ یہ وہ خصوصی معاملہ ہے جو خدا نے پیغمبر کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے اپنے پیغمبر کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ انھیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے۔ اس رحمت کے معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لتخرج الناس من الظلمات إلى النور (ابراهیم، ۱) صحابی خاتون ام حرام بنت ملحان کے زمانے میں ڈائسپورا کا جو واقعہ پیش آیا وہ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کا پہلا ڈائسپورا تھا۔ ڈائسپورا کا لفظ عام طور پر اُن یہودیوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے وطن فلسطین سے نکل کر باہر کے ملکوں میں گئے ، اور وہاں غیر یہودیوں کے ساتھ رہنے لگے۔ سے اسلامک ڈائسپورا یہ ہے کہ مسلمان اپنے وطن سے نکل کر باہر کے ملکوں میں جائیں اور وہاں ایسے
مقامات پر رہائش اختیار کریں جہاں اُن کا انٹریکشن (interaction) غیرمسلموں سے ہونے لگے۔ انٹریکشن دعوت کا اصل ذریعہ ہے۔ سویڈن یا دوسرے مغربی ملکوں میں جو مسلمان، تارکین وطن کی حیثیت سے رہتے ہیں، وہ یہی لوگ ہیں۔ یہ لوگ گویا کہ مسلمس ان ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ امکانی طور پر خدا کے سفیر (ambassadors of God) ہیں۔ آپ یقینی طور پر اُن میں سے ایک ہیں۔
آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان عورت اور مرد جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں اُن کو أصحابِ رسول کی یہی نسبت حاصل ہوگئی ہے۔ ان کا معاملہ اس پہلو سے اصحاب رسول جیسا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ آپ جیسے لوگوں سے دوبارہ یہ فرمارہے ہیں کہ اے میری امت کے لوگو! تم میری امت کے’’آخرین‘‘میں سے ہو۔ حالات نے تم کو جن غیر مسلم ملکوں میں پہنچایا ہے، وہاں کے لوگوں کو تم میرا پیغام پہنچا دو تا کہ اُن لوگوں کے سلسلے میں میری جو پیغمبرانہ ذمے داری ہے وہ تمہارے ذریعے ادا ہوجائے۔
تفصیل میں نے اس لیے بیان کی تاکہ آپ پر یہ واضح کروں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کا فریضہ کیا ہے، اور خدا اور رسول کی طرف سے آپ کے اوپر کیا ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ ذمّے داری ایک لفظ میں، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اُس کی بے آمیز صورت میں تمام لوگوں تک پہنچادینا۔
اس وقت آپ جن لوگوں کے درمیان ہیں اُن میں غیر مسلم بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ غیر مسلم کا کیس اسلام سے بے خبری کا کیس ہے، اور مسلمانوں کا کیس اسلام سے غفلت کا کیس۔ سرے سے اس بات کو نہیں جانتے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعے جو دین، انسانیت کے لیے بھیجا ہے وہ کیا ہے۔ اور موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ رسمی طور پر اسلام سے آشنا ہیں مگر زندہ شعور کی حیثیت سے خدا کا دین اُن کے ذہن کا حصہ نہیں۔ اب آپ جیسے لوگوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ دین حق کو غیر مسلموں کے لیے اُن کی ڈسکوری بنائیں اور مسلمانوں کے لیے دین حق کو اس حیثیت سے
متعارَف کریں وہ ان کے لیے ری ڈسکوری (re-discovery) بن جائے۔
میں عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کا فیصلہ کریں کہ آپ کو تاریخِ اسلام کی دوسری’’اُمّ حرام‘‘ بننا ہے، تو آپ کے عمل کا نقطۂ آغاز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے دعا اور مطالعہ۔ ہمارے یہاں جو کتابیں اردو اور انگریزی میں چھپی ہیں وہ سب براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی سے متعلق ہیں کہ موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کا کام کس طرح کیا جائے۔ ان تمام کتابوں کا مشترک موضوع صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modernidiom) میں بیان کرنا۔ آپ اگر سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو اپنی بقیہ زندگی دعوت الی اللہ کے کام میں لگانا ہے تو سب سے پہلے آپ کو اپنے آپ کو پوری طرح تیار کرنا ہوگا۔ دعوت کا کام منصوبہ بندی کا کام منصوبہ بندی کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ اگست ۲۰۰۳ میں سوئزرلینڈ کا سفرنامہ شائع ہوا تھا۔ اس کے ٹائٹل پر میں نے لکھا تھا کہ ’’اپنی زندگی کا پہلا نصف حصہ ہر آدمی کھو چکا ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصے کو نہ کھوئے۔ آپ اگر اس جملے پر غور کریں تو آپ اس میں اپنے تمام سوالات کا جواب پالیں گی۔ میری ایک کتاب خواتین سے متعلق ہے۔ اس کا نام ’’عورت، معمارِ انسانیت‘‘ ہے۔ کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے بہترین ازدواجی زندگی وہ ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔ ہے کہ آپ اس اصول کو اپنی زندگی میں پوری طرح اختیار کر لیں۔ آپ اور آپ کے شوہر دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر بن جائیں۔ ازدواجی زندگی کی بلاشبہ سب سے زیادہ معیاری صورت
میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ ایک خاص احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹلکچول پارٹنر نہیں بنا پاتے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد زیادہ تعلیم یافتہ ہے اور عورت کم تعلیم اب مرد یہ سوچتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ بیوی کو میں کس طرح اپنا انٹلکچول پارٹنر بناؤں۔ اسی طرح کبھی
ایسا ہوتا ہے کہ عورت نے یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور مرد رسمی نوعیت کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ ایسی حالت میں عورت کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنے کم تعلیم یافتہ شوہر کو کیسے اپنا انٹیلکچول پارٹنر بناؤں ۔ اس طرح بہت سے عورت اور مرد ایک عظیم نعمت سے اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔ میں کہوں گا کہ کسی کو انٹیلکچول پارٹنر بنانے کے لیے یونیورسٹی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: علم آدم الاسماء کلھا (البقرہ: ۳۱) قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے۔ جدید تحقیقات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہر فرد کے برین (brain) میں ہزاروں بلین سے بھی زیادہ پارٹکل ہوتے ہیں۔ یہ پارٹکل کیا ہیں۔ یہ دراصل انفارمیشن پارٹکل ہیں، یعنی علم کے پارٹکل۔
اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایک شخص اگر یونیورسٹی آف سویڈن کا سند یافتہ نہیں ہے تب بھی وہ یونیورسٹی آف گاڈ سے سند لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔ ایسی حالت میں ہر انسان یکساں طور پر تعلیم یافتہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے یہ امکان پوری طرح موجود ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹیلکچول پارٹنر بنائے۔ اور ذہنی ارتقاء کے اُن عظیم فائدوں میں حصے دار بنے جو خالق فطرت نے ہر عورت اور مرد کے لیے مقدر کر دیا ہے۔ میں کہوں گا آپ اس معاملے میں میرے مشورے کو مزید غور وفکر کے بغیر فوراً اختیار کر لیں اور آج ہی سے اپنے گھر کو انٹیلکچول پارٹنر شپ کا ایک نمونہ بنا دیں۔ اس سے ایک طرف خود آپ کو غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے اور اس کے ساتھ آپ کا یہ عمل دوسروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن جائے گا۔ انٹیلکچول پارٹنرشپ کے اس اصول کے بہت سے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کا گھر آپ کے لیے ایک جائے سکون (peace haven) بن جاتا ہے۔ نئی دہلی، ۳۰ نومبر ۲۰۰۵