یہ قیادت
Al-Risala, January 2006, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
پانچویں صدی عیسوی میں یونان میں کچھ سیاسی لیڈر ابھرے جنھوں نے لوگوں کے وقتی اور سطحی جذبات کو بھڑکاکر مقبولیت حاصل کی۔ ایسے لیڈر کو اس زمانہ میں ڈیما گاگ (Demagogue) کہا ان میں سے ایک مشہور نام کلیون (Cleon) کا ہے۔ وہ ایک بلند آواز آدمی تھا۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر اس بات کی خصوصی صلاحیت تھی کہ وہ عوام پسند زبان میں کلام کر سکے۔ اس نے وقت کے نظام حکومت کے خلاف پرجوش تقریریں کر کے عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لی۔ موجودہ زمانے میں ڈیما گاگ کا لفظ اس سیاسی لیڈر کے لئے بولا جاتا ہے جو لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مخاطب کرے اور اس طرح ان کے درمیان لیڈری اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش وہ عوامی خواہشات کا نمائندہ بن کر لوگوں کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کرلے (454-55/ 111) ویبسٹر کی ڈکشنری میں ڈیما گاگ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: ایک شخص جو عوام کے جذبات اور ان کے تعصبات وغیرہ کو بھڑکائے اور اس طرح ان کا لیڈر بن کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرے : A person who tries to stir up the people by appeals to emotion, prejudice, etc., in order to become a leader and achieve selfish ends. قیادت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قائد وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے۔ جو عوامی جذبات کی ترجمانی دوسرا قائد وہ ہے جو عوام کو خود اپنے پیچھے چلائے، جو اصولوں کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ کے قائد کو موجودہ زمانے میں ڈیما گاگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے قائد کو ہمیشہ زبردست مقبولیت حاصل ایسا قائد عوام کو اپنا وکیل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس معاملہ دوسری قسم کی قیادت کا ہے۔ ایسا قائد اپنے اعلیٰ ترین اوصاف کے با وجود عوام کے اندر اجنبی بن جاتا ہے۔ اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ وہ برتر اصولوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایسے قائد کو اکثر یہ کام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بولنے والوں کو چپ کرائے اور چلنے والوں کو روکے۔