ایک خط اور اس کا جواب
Al-Risala, April 2006, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ضروری بات یہ عرض کرنا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ نومبر 2005 میں جو مضمون جنت کے دروازے پر کے عنوان سے ہے شاید سہو اس میں کئی باتیں نظر انداز ہو گئی ہیں۔ اس میں جنت کو انسانی تہذیب کا ایک ارتقائی مرحلہ بتایا گیا ہے۔ جو انسانی ہاتھوں سے وجود میں آنے والا ہے۔ اور یہ سب سائنسی کرشموں سے ہوگا۔ گویا جنت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو کبھی بھی سائنسی سہولتوں کے ذریعے زمین کو جنت کی طرح بنا لیں۔ اس خیال کے تحت تو آج بھی بہت سے لوگ جنت ہی کے مالک کہلائیں۔ اور ماضی میں بھی رہے۔ اس مسئلے کا تعلق اللہ کی ہدایات اور قرآن اور رسالت سے قطعاً نہیں رہا۔
برے لوگ الگ کر دیئے جائیں گے یعنی برے لوگ وہ ہوں گے جو اس سائنسی انقلاب میں کوئی رول ادا نہیں کر پائیں گے۔ اس طرح کفر و ایمان کے مسئلے کے بجائے مسئلہ سائنسی سہارے کا
بعث بعد الموت کا مسئلہ سرے سے ختم ہی ہو گیا۔
اس قسم کی سائنسی جنت میں اللہ کے وہ بندے جن میں انبیاء و رسل بھی ہیں وہ کیسے داخل
۵ قرآن کا و ما أمر الساعة الا كلمح البصر کے عقیدے کا کیا ہوگا۔
۶ حشر ونشر نامۂ اعمال حساب و کتاب اور برزوا لله الواحد القهار اور کل يأتيه يوم اور نفخ في الصور وغیرہ ان تمام آیات کا کیا ہوگا۔
زندگی جو موجودہ ہے، اس کا ابتلاء کے لیے عارضی ہونا اور اس دنیا میں اہل جنت کا سلیکشن ہونا جو سب کچھ آپ نے لکھا ہے اس کا کیا ہوگا۔ اور کیا سائنسی جنت جو انسان کے موجودہ تسلسل سے وجود میں آئے گی ۔ اس میں موت و پیدائش کا موجودہ تسلسل رہے گا یا ختم ہو جائے گا۔ یہ سب باتیں اپنے
انداز میں عنایت اللہ خاں مشرقی نے بھی لکھی ہیں۔ اسی الرسالہ کے دوسرے مضامین بھی اس مضمون کی نفی یہ مضمون کیسے تحریر ہو گیا خدا کے لیے فوری طور پر اس پر غور فرمائیں۔ ایک اور مضمون لکھا جائے اور اس میں بات واضح کی جائے اور اس بات کو تمثیل قرار دیا جائے۔ (ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، بھوپال) آپ کے اس خط (۲۶ اکتوبر ۲۰۰۵) میں الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ کے بارے میں منفی تاثر کا اظہار کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اسی پرچے کو پڑھ کر بہت سے لوگوں نے برعکس طور پر نہایت مثبت تاثر قبول کیا ہے۔ کئی ہندوؤں نے اس مضمون کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مزید اسلامی لٹریچر کے مطالعے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں جنت کے دروازے پر پہنچ گیا ہوں، وغیرہ۔
۱۹ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح کو ، دہلی میں میرے دفتر میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو مہتاب احمد صاحب بول رہے تھے۔ ضلع بجنور کے دھام پور میں رہتے ہیں۔
انھوں نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا: مجھے آپ کی تحریروں نے خدا سے ملا دیا۔ (نومبر ۲۰۰۵) کو پڑھ کر آپ کے لیے میرے دل سے بہت زیادہ دعائیں نکلیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جدید ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے آپ کی تحریریں بہت مؤثر ہیں۔ روایتی قسم کے لکھنے والے آج کے ذہن کو مطمئن نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کام صرف آپ کی تحریریں کر رہی ہیں۔ آپ الرسالہ کے مذکورہ مضمون کو دوبارہ پڑھیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کا اشکال اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ آپ یقینی طور پر یہ جان لیں گے کہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی بات اور الرسالہ کی بات ایک دوسرے سے اتنی زیادہ مختلف ہے کہ دونوں کو ایک کہنا، آدمی کو مائنس مارکنگ کا مستحق بناتا ہے۔ نے لکھا ہے کہ اس مضمون کو دوبارہ تمثیل کے طور پر لکھنا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ نومبر ۲۰۰۵ کے الرسالہ میں چھپنے والا یہ مضمون خود ہی ایک تمثیلی مضمون ہے۔ اس میں ایک سے زیادہ بار گویا کہ کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ یہ مضمون بطور تمثیل ہی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی
نہایت واضح ہے کہ اس مضمون کا مقصد منتشلک ذہن کے لیے آخرت کی جنت کو’’ قابل فہم‘‘ بنانا ہے۔ اس مضمون میں کہیں بھی’’ سائنسی جنت‘‘ یا’’ انسان کی تعمیر کردہ جنت‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ کے برعکس، اس میں صاف طور پر یہ بات موجود ہے کہ یہ جنت براہ راست خدا کے حکم سے بنے گی (الزمر : ٦٩) اور خدا کے’’ فرشتے‘‘ اس کو اعلیٰ صورت میں بنائیں گے۔ اس مضمون میں بار بار قرآن کی آیتوں کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مضمون قرآنی آیات کی تفسیر کے طور پر لکھا گیا ہے نہ کہ کسی الگ نظریے کے تحت۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے نہ صرف مضمون کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کی محولہ آیتوں کا از سر نو مطالعہ کیا جائے۔ الرساله ماہ نومبر ٢٠٠٥ میں شائع شدہ مضمون کا مقصد خود جنت کو بتانا نہیں ہے بلکہ ایک معلوم واقعے کو لے کر غیر معلوم واقعے پر استدلال قائم کرنا ہے۔ یعنی مشہود (seen) کے حوالے سے غیر مشہود (unseen) کو قابل فہم بنانا۔ مذہبیات میں یہ ایک معروف استدلالی اسلوب ہے۔
استدلال کا یہ اسلوب خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر بعث بعد الموت کو ثابت کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ زمین پر ہونے والے ایک طبیعی واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خشک زمین پر بارش ہوتی ہے اور پھر وہاں سر سبز درخت اور پودے اُگ خشک زمین پر سبزہ اُگنے کے اس واقعے کو لے کر فرمایا کہ: اسی طرح مردہ انسان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ (كذلك النشور، فاطر : ٩، كذلك الخروج، ق: ١١)
اس طرح کی آیتوں پر غور کیجیے۔ خشک زمین سے پودے کا اُگنا واضح طور پر اسباب طبیعی کے تحت پیش آنے والا واقعہ ہے۔ اس کے برعکس، بعث بعد الموت ایک ایسا واقعہ ہے جو اسباب طبیعی کو توڑ کر براہ راست حکم خداوندی کے تحت پیش آئے گا۔ اس تشبیہہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں واقعے کی نوعیت بالکل ایک ہے۔ یہ تشبیہہ صرف تقریب فہم کے لیے ہے نہ کہ اصل صورت حال کو اس کی حقیقی نوعیت کے اعتبار سے بتانے کے لیے۔ قرآن کی اس مثال سے مذکورہ معاملے کو بخوبی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لفظ میں، یہ اسلوب بیان دعوتی ضرورت کے طور پر ہے نہ کہ بیان حقیقت کے طور پر۔
الرساله نومبر ۲۰۰۵ میں جنت کے بارے میں جو مضمون شائع ہوا ہے وہ جنت کی اصل حقیقت کو بتانے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جدید ذہن کے لیے وقوع جنت کا امکان (probability) ثابت کیا جائے۔ اس مضمون کا مقصد جنت کی واقعی حیثیت کو بتانا نہیں ہے بلکہ منکر اور متشلک لوگوں کے لیے جنت کے تصور کو قابل فہم بنانا ہے۔ اس مضمون کا مقصد جنت پر سائنسی استدلال ہے نہ کہ خود جنت کو سائنسی جنت ثابت کرنا۔ اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ متشلک ذہن، اسلامی نقطہ نظر کو قابل توجہ سمجھے اور پھر مزید مطالعہ کر کے وہ حقیقی تصورِ جنت کو دریافت کر سکے۔ قدیم مکہ میں ایک مشرک پہلوان تھا اُس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتا تھا۔ رسول اللہ نے ایک بار اس سے کہا کہ اے رُکانہ! اگر میں تم کو کشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھے پیغمبر مان لو گے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ (قال رسول الله ﷺ: أفرأيت إن صرعتك أتعلم أنّ ما أقول حق ، قال : نعم ! ) اس کے بعد دو بار کشتی ہوئی اور رسول اللہ نے دونوں بار رُکانہ کو پچھاڑ دیا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۶۱۵)
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جو شخص کسی پہلوان کو کشتی میں پچھاڑ دے وہ پیغمبر ہے۔ تقریب فہم کی بات تھی۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ رُکانہ کے ذہنی سانچے کے مطابق ، اس کو نبوت کے معاملے پر سوچنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ یہ بات مخاطب کی نسبت سے تقریب فہم کے لیے تھی نہ کہ خود اصل واقعے کی نسبت سے حقیقت نبوت کا بیان۔
قدیم روایتی منطق میں استدلال کا مطلب صرف یہ ہوتا تھا کہ انکار کے مقابلے میں اقرار کو اب سائنسی منطق کے مطابق ، استدلال کا مطلب یہ ہو گیا ہے کہ کسی واقعے کے امکان (probability) کو ثابت کیا جائے۔ مذکورہ مضمون کو اسی اعتبار سے دیکھنا چاہیے۔ مذکورہ مضمون کے مخاطب مومنین جنت نہیں ہیں بلکہ اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں جنت کے بارے میں شکوک اور شبہات ہیں۔
جہاں تک جنت کے بارے میں میرے ذاتی نقطہ نظر کی بات ہے۔ اس میں کسی کے لیے شک
کا کوئی موقع نہیں۔ میرے ہزاروں شائع شدہ مضامین سے اور تذکیر القرآن سے دواور دو چار کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ جنت کے بارے میں میرا عقیدہ عین وہی ہے جو تمام صلحاء امت کا ہمیشہ رہا ہے۔ مولانا محمد ذ کوان ندوی مجھ کو بہت عرصے سے نہایت قریب سے جانتے ہیں۔ انھوں نے میری دوسری تحریروں کے علاوہ الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ کے مذکورہ مضمون کو بھی پڑھا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ذاتی معلومات کے ذریعے آپ کو میرا جو تعارف حاصل ہوا ہے اس کے مطابق ، اس پہلو سے میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا ”میرے نزدیک آپ کو جنت کی قرآنی معرفت (محمد : ٦) حاصل ہے۔ یعنی آپ کا تصور قرآنی تصور جنت ہے نہ کہ سائنسی تصور مزید یہ کہ آپ کے اس مضمون نے جدید ذہن کے لیے جنت کو آخری حد تک قابل فہم (understandable) بنا دیا ہے۔