All roads lead to Riyadh.
Al-Risala, January 2006, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
شاہ فہد کا دور حکومت نہایت جاہ وجلال کا دور حکومت تھا۔ مگر ۱۹۹۵ میں اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کی صحت نہایت کمزور ہوگئی۔ اُنھیں کنگ فیصل اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مسلسل زیر علاج رہے۔ دس سال پہلے انھیں حکومت کے کاموں سے عملی طور پر الگ ہو جانا پڑا۔ کے کام ان کی نیابت میں ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ عبداللہ انجام دینے لگے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شہزادہ عبداللہ سعودی عرب کے حکمراں مقرر کیے گئے ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شاہ فہد کے صاحب فراش ہو جانے کے بعد سے، حکومت کا روزمرہ کا کام شاہ عبداللہ ہی سنبھالے ہوئے تھے۔ شاہ فہد کے زمانہ حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی ۔ حرم مکی اور حرم مدنی دونوں میں غیر معمولی توسیع کی گئی۔ ان کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا گیا۔ قرآن کی توسیع واشاعت کے لیے بہت بڑا ادارہ قائم ہوا، جس کے تحت دنیا کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے کر کے کروڑوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلا دیے گیے ۔ دنیا بھر کے مسلم اداروں اور مسلم تنظیموں کو مسلسل مدد ملتی رہی۔ مسلم حکومتوں کو مختلف قسم کی امداد فراہم کی جاتی رہی۔ انھوں نے اپنے لیے
خادم الحرمین الشریفین کا لقب اختیار کیا، اس کی وجہ سے وہ مسلم دنیا کے لیے جذباتی طور پر خلیفۃ المسلمین کا بدل بن گئے۔ عرب شہروں کی نئی منصوبہ بند تعمیر کی گئی۔ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر قائم کیا
شاہ فہد کے انتقال کے بعد ان کے بارے میں جو رپورٹیں اخباروں میں چھپی ہیں، ان میں کئی سبق آموز پہلو موجود ہیں۔ مثلاً رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہ فہد عرب کے ایک سادہ اور بے نشان قبرستان میں دفن کیے گئے :
King Fahad was buried in a simple unmarked grave. (TOI, Agust 3, 2005)
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ سعودی سلطنت کی ایک عظیم تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ عرب کے علاقہ نجد میں مشہور مصلح محمد بن عبد الوہاب نجدی ظاہر ہوئے۔ وہ ۱۷۰۳ میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹۲ میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے مجاہدانہ انداز میں توحید خالص کے احیاء کا عمل شروع کیا۔ میں نجد کے امیر محمد بن سعود (وفات: ۱۷۶۵) تھے۔ اُنھوں نے محمدبن عبد الوہاب کی پوری مدد کی۔ اس کے بعد محمد بن سعود (حاکم) اور محمد بن عبدالوھاب (مصلح) کے تعاون سے عرب میں زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے نتیجے میں یہ ہوا کہ محمد بن سعود کو تقریباً پورے عرب میں اقتدار حاصل ہو گیا۔ اس کے بعد سے جزیرہ نمائے عرب کا نام سعودی عرب یا سعودی مملکت پڑ گیا۔ اسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تحریک عام طور پر وہابی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی ۔ تحریک کا خاص نشانہ یہ تھا کہ شرک کے تمام مظاہر اور علامتوں کو بالکل مٹا دیا جائے ۔ یہ لوگ پختہ قبروں کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ انھوں نے عرب میں قدیم پختہ قبروں کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد عرب میں بڑے بڑے لوگوں کی قبریں بھی سادہ انداز میں بنائی جانے لگیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ شاہ فہد کو عام قبرستان میں بالکل سادہ طور پر دفن کیا گیا۔
شاہ فہد کو عام طور پر امریکا نوا ز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہ فہد کی موت کی خبر کو اخباروں میں اس طرح کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے— امریکا کے دوست، شاہ فہد کا انتقال :