Al-Risala · January 2006

America's friend, King Fahad, dead.

Al-Risala, January 2006, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے نزدیک شاہ فہد کے لیے یہ لقب درست لقب نہیں۔ آج کل عام طور پر یہ مزاج ہے کہ لوگوں کو پروامریکایا اینٹی امریکا کے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ لوگوں کو حقیقت پسند(pro-reality) اور غیر حقیقت پسند (anti-reality) کی اصطلاحوں میں یاد کیا جائے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، شاہ فہد نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھے۔ انھوں نے حالات کے مطالعے سے یہ سمجھا کہ امریکا سے ٹکراؤ کرنا ان کو یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ یقینی طور پر وہ معکوس نتیجہ (counter-productive) کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے انھوں نے یہ پالیسی اختیار کی کہ امریکا سے بے فائدہ ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ امریکا کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کو واحد سپر پاور کہا جاتا ہے۔ ایسی طاقت سے ٹکراؤ کرنا عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال خود قرآن میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان جو اپنے زمانے کے عظیم حکمراں تھے، ان کے مقابلے میں ملکہ سبا نے ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس کو کامیابی حاصل ہوئی (النمل ۳۷)۔ قرآن میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ اصولِ تفسیر کے مطابق قرآنی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ سمجھتا ہوں کہ شاہ فہد نے اسی دانش مندانہ پالیسی کو اختیار کیا۔ یہ منفی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے اس پالیسی کو غلط طور پر امریکا نواز پالیسی کا نام دے دیا۔

عربی زبان کی ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الأشياء بأضدادها (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس تاریخی اصول کی روشنی میں شاہ فہد کے معاملے کو سمجھیے۔ امریکا کے مقابلے میں حکومتی پالیسی کا جو مسئلہ ہے، اس کے بارے میں موجودہ زمانے میں دو متضاد مثالیں ملتی ہیں۔ عرب کے حکمراں شاہ فہد کی مثال، جنھوں نے امریکا کے ساتھ صلح کا طریقہ اختیار کیا۔ عراق کے حکمراں صدام حسین کی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ فہد کی حقیقت پسندانہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف عرب کو بلکہ ساری مسلم دنیا کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ آج مسلم دنیا نیز یورپ اور

امریکا میں ہر جگہ شان دار مسلم ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بنانے والے مسلمان اگر چہ زبان سے کھلے طور پر اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شان دار کامیابی کا راز سعودی حکومت کا عظیم تعاون ہے۔ سعودی حکومت اس عالمی تعاون کے قابل اس لیے بنی کہ اس نے مغربی طاقتوں کے مقابلے میں عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی۔

عراق کے حکمراں صدام حسین کی زندگی اس کے برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ انھوں نے امریکا کو مسلم دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ (أُم المعارک) کا اعلان کر دیا۔ بہت سے جذباتی مسلمان اس معاملے میں صدام حسین کے ہم نوا بن گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا۔ صدام حسین اور عراق دونوں تباہ عراق میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں موجود تھی، مگر اس خدا داد دولت کا فائدہ نہ عراق کو ملا اور نہ عراق کے باہر دوسری مسلم دنیا کو۔

سعودی عرب کے قدیم حکمراں شاہ فیصل (وفات : ۱۹۷۵) اپنی جرأت اور بے باکی کے لیے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ مگر ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ شاہ فہد کی مفاہمت کی پالیسی اس سے بھی زیادہ عرب کے لیے نیز ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی طور پر مفید ثابت ہوئی۔ اس معاملے میں ایک تقابلی مثال لیبیا کے حکمراں کرنل قذافی کی ہے۔ لیبیا کے پاس تیل کی بہت بڑی دولت موجود تھی۔ مگر کرنل قذافی نے امریکا مخالف پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیبیا میں کوئی ترقی نہ ہوسکی، اس کی دولت نہ لیبیا کے کام آئی اور نہ باہر کی مسلم دنیا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا۔ لیبیا، فارسی مقولے کے مطابق ’’ نہ خود خورد نہ کس دہد‘‘ کا مصداق بن گیا۔

کرنل معمّر قذافی کی مخالف امریکا پالیسی کی بنا پر امریکا نے لیبیا کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چند سال یہ معاملہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ کرنل معمر قذافی نے مجبور ہو کر امریکا کے مقابلے میں ہتھیار ڈال گویا کرنل قذافی نے وہی حقیقت پسندانہ پالیسی بعد کو اختیار کی جو حقیقت پسندانہ پالیسی شاہ فہد بہت پہلے اختیار کر چکے تھے :

Printed page