Al-Risala · May 2006

کائنات میں انسان کا مقام

Al-Risala, May 2006, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اور انسان کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے اس کو مصلحین (reformers) اور مفکرین نے درست طور پر دریافت کیا۔ یہ تعلق مختصر طور پر یہ تھا— ہر انسان آزاد ہے، اس وقت تک جب تک کہ ایک انسان کی آزادی دوسرے انسان کی آزادی میں خلل ڈالنے والی نہ ہو۔ اس نظریے کو ایک کہانی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکا جب یورپ کے سیاسی قبضے سے آزاد ہوا، اس وقت ایک امریکی شہری اپنے گھر سے باہر نکلا۔ وہ اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا۔ وہ ایک سڑک پر اپنے دونوں ہاتھ ہلاتا ہوا بے فکری کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس اثنا میں اس کا ایک ہاتھ دوسرے مسافر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ کو غصہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ یہ کیا بیہودگی ہے۔ تم نے کیوں اپنے ہاتھ سے میری ناک پر مارا۔ شہری نے جواب دیا کہ آج امریکا آزاد ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ میں جو چاہوں کروں۔ کہا کہ میرے بھائی، تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: My brother, your freedom ends where my nose begins. یہ قصہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے اصول کو درست طور پر بیان کرتا ہے۔ تک انسان اور خدا کے درمیان تعلق کی بات ہے اس کو انسان درست طور پر دریافت نہ کر سکا۔ اس معاملے میں انسان کی دریافت صرف پچاس فیصد کے بقدر تھی۔

تاہم یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کا اصول ہی یہ بتا رہا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان درست تعلق کا اصول کیا ہے۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس تعلق کا اصول مختصر طور پر یہ ہے— انسان کی آزادی اس حد پر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے خدا کی حد شروع ہوتی ہے:

Printed page