کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے
Al-Risala, May 2006, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے میں پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک انوکھا نمونہ پایا جاتا ہے۔ ابن اسحاق نے ایک روایت میں بتایا ہے کہ قدیم مکہ میں عرب کے مخالفین، پیغمبر اسلام کو مذمّم یعنی مذمت کیا ہوا (Condemned Person) کہتے تھے۔ جب کوئی شخص آپ کے سامنے آکر آپ کو مذمم کہتا تو آپ اس کا کوئی جواب نہ دیتے بلکہ سادہ طور پر یہ فرماتے کہ ان لوگوں کو دیکھو، یہ مجھ کو مذمم بتا کر مجھ کو برا بھلا حالانکہ میرا نام تو محمد (قابل تعریف) ہے۔ یعنی ان کی بری باتیں اس شخص پر پڑیں گی جس کا نام مذمم ہو۔ وہ مجھ پر پڑنے والی نہیں۔ کیوں کہ میرا نام تو محمد ہے، مذمم نہیں۔ موجودہ زمانے کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ اگر آدمی امن کے دائرے میں رہے تو وہ اپنے کسی بھی نظریے کو بلا روک ٹوک پیش کرسکتا ہے۔ البتہ تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہی اس کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تحریک پرامن دائرے میں رہ کر چلائیں تا کہ کوئی شخص ان کے خلاف بولنے کا موقع نہ پاسکے، خواہ کارٹون کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنی جدوجہد کو پرامن طریق کار کا پابند رہتے ہوئے چلائیں۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس اہم اصول کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ وہ اپنی تحریکوں کو اس بین اقوامی اصول کے مطابق چلائیں۔ اس کے بعد ان کی تحریک زیادہ مؤثر ہوگی اور مزید یہ کہ اسلام اور مسلمان دونوں بدنام ہونے سے بھی بچ جائیں گے۔ (۱۷ فروری ۲۰۰۶)
میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: