Al-Risala · May 2006

تعلیم سب کچھ ہے

Al-Risala, May 2006, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

مولا نا الطاف حسین حالی ۱۸۳۷ میں پیدا ہوئے، ، اور ۱۹۱۴ میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ سر سید احمد خاں کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ ان کی کتاب مسدس حالی ایک مشہور کتاب ہے۔ کتاب میں جدید دور میں تعلیم کی اہمیت کو بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں :

بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے یہ بات آج پہلے سے بھی زیادہ درست قرار پا چکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں کسی بھی شعبے میں ترقی کے لیے علم اور تعلیم کی اہمیت بے حد بنیادی ہو چکی ہے، سیکولر شعبوں میں بھی اور مذہبی شعبوں میں بھی۔

تعلیم کی اس اہمیت کا سبب موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹکنالوجی کا فروغ ہے۔ میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں تمام علوم کو از سر نو مدون کیا گیا ہے۔ مثلاً قدیم زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ آسمان کے ستارے اتنے ہی بڑے ہیں جتنے بڑے کہ وہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں دور بینی مطالعے نے بتایا کہ آسمان کے ستارے بہت زیادہ بڑے ہیں، اور تعداد میں بھی وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ بظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح موجودہ زمانے میں بے شمار نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ نئی معلومات کی روشنی میں دنیا کو جاننے کے لیے علم کی ضرورت آج بے علم آدمی صرف ایک ناخواندہ انسان نہیں ہے، بلکہ وہ حقائق کی دنیا سے بے خبر انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح ٹکنالوجی کی ترقی نے قدیم روایتی دور کو بالکل بدل دیا ہے۔ مثلاً قدیم زمانے میں سواری کا ذریعہ یہ تھا کہ جنگل میں خچر، گھوڑے اور اونٹ فطری طور پر بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ان کو پکڑتا اور انھیں سواری اور بار برداری کے لیے استعمال کرتا۔ مگر آج سواری، مشینی سواریوں کا نام ہو گیا ہے، اور مشینی سواریاں علم کے بغیر نہ بنائی جا سکتی ہیں، اور نہ انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ: العلم علمان، علم الأديان وعلم الأبدان۔ یعنی علم کی دو قسمیں ہیں، مذہب کا علم، اور علاج معالجے کا علم۔ مگر آج علم کی بے شمار نئی قسمیں وجود میں آ چکی ان علوم کو جانے بغیر کسی بھی شعبے میں ترقی کرنا ممکن نہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بہت سے وہ شہر جو قدیم زمانے میں دستی صنعت کے لیے مشہور تھے، اب وہاں ایک نیا دور آ چکا ہے۔ وہاں کے جن لوگوں نے جدید تعلیم حاصل کی وہ اپنی دست کاری میں نئے تکنیکل طریقوں کو استعمال کر کے بہت آگے بڑھ گئے، اور جو لوگ روایتی علم پر باقی رہے وہ ترقی کی نئی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے ہو گئے۔ یہ منظر آج بہت سے شہروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سابق صدر امریکا، لنڈن جانسن نے کہا تھا کہ امریکا کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی یہی معاملہ ہر گروہ کا ہے۔ جو گروہ بھی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہے، اس کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنی نسلوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنائے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ موجودہ زمانے میں ترقی کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے: اول تعلیم، دوم تعلیم، سوم تعلیم، اور آخر میں پھر تعلیم۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔ ۱۹۴۶ میں جاپان کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ جاپان کی از سرِ نو تعمیر کے لیے کیا کرے۔ جاپان کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں اپنی نئی نسلوں کو سب سے پہلے اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے جاپان میں تیس سالہ تعلیمی منصوبہ بنایا گیا۔ جب یہ تیس سالہ منصوبہ پورا ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ جاپان دوبارہ ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف جاب حاصل کرنا نہیں ہے۔ بلاشبہ تعلیم کے ذریعے جاب بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن تعلیم ایک اور چیز کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ یہ چیز جاب سے بھی زیادہ اہم ہے، اور وہ فکر و شعور کی ترقی ہے۔ تعلیم، آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حالات کو بخوبی طور پر سمجھے، اور اپنی زندگی کی درست منصوبہ بندی کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گروہ کے لیے تعمیر و ترقی کا سنگل پوائنٹ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو تعلیم یا ایجوکیشن کہا جاتا ہے۔

Printed page