Allon, Israel
Al-Risala, May 2006, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے دونوں صاحبان فی الحال گڑگاؤں میں ہیں، ان لوگوں سے نہایت تفصیل کے ساتھ اسلام کے مختلف پہلوؤں پر ان کا ایک سوال خدا کے تصور کے بارے میں تھا۔ بتایا گیا کہ آرین مذاہب میں خدا کا تصور وحدت وجود (monoism) کے تصور پر مبنی ہے۔ لیکن اسلام میں توحید (monotheism) کا تصور ہے۔ اسی طرح جہاد کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جہاد اصلًا پر امن دعوتی جدوجہد کا نام ہے۔ موجودہ زمانے میں
اسلامی جہاد کے نام پر جو متشددانہ عمل کیا جا رہا ہے اس کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ اِسی طرح اسلام میں عورت کے مقام کے بارے میں ان کے سوالات کا جواب دیا گیا۔
ٹائمس آف انڈیا (بمبئی) کی نمائندہ مسز بیلا جے سنگھانی نے ۱۵ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ڈنمارک کے اخبار Jyllands Posten میں شائع شدہ کارٹون ( ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کے نزاعی مسائل پر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کو پرامن انداز تک محدود رکھا جائے۔ کسی بھی حال میں تشدد کا طریقہ نہ اختیار کیا جائے۔ کارٹون کی حیثیت ایک تفنن آمیز آئٹم (comic item) کی ہے۔ لوگ ایسی چیزوں کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتے۔ بالفرض اگر کچھ لوگوں کے نزدیک کارٹون قابل اعتراض تھا تب بھی اس کے لئے پُر شور احتجاج درست نہیں ہو سکتا۔ موجودہ زمانہ انٹرنیٹ کا زمانہ چنانچہ یہ کارٹون انٹرنیٹ پر آگیا۔ پہلے یہ قابل اعتراض آئٹم اگر ایک ملک کے تھوڑے سے لوگوں نے دیکھا تھا تو اب انٹرنیٹ کے ذریعے وہ تمام دنیا کے لوگوں تک آگیا۔
بی سی لندن نے ۱۶ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لندن اور دہلی کے درمیان ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرویو لینے والے مسٹر راجیش جوشی تھے۔ سوالات کا تعلق مسلمانان ہند کے مسائل جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ تعلیم ہے۔ مسٹر محمد علی جناح نے مسلمانوں کی بہبود کے لئے چودہ نکاتی پروگرام بنایا تھا۔ اب گورنمنٹ نے ۱۵ نکاتی پروگرام بنایا ہے۔ مگر میرے نزدیک اس قسم کے پروگراموں کا کوئی خاص فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملے گا۔ مسلمانوں کی ترقی کا سنگل پوائنٹ پروگرام تعلیم ہے۔ مسلمانوں میں اگر اچھی تعلیم آجائے تو بقیہ تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔
سینئر انڈیا (Senior India) نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر منوج کرشنا (Tel: 9868655357)نے نے ۱۶ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— ہندوستانی مسلمانوں میں تبدیلی کی لہر۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمان بے یقینی کی حالت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ لائن آف ڈائریکشن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ میں نے ۱۹۶۵ سے باقاعدہ طور پر اس معاملے میں مسلمانوں کو رہنمائی دینا لمبی جدوجہد کے بعد اب مسلمانوں میں بہت زیادہ شعوری بیداری آچکی ہے۔ پہلے وہ انڈیا کو ایک پرابلم کنٹری سمجھتے تھے۔ اب وہ اس ملک کو مواقع کی سرزمین سمجھتے ہیں اور تعلیم و ترقی کے ہر میدان میں تیزی سے آگے بڑھ مدارس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ مدارس کے نظام میں بھی بدلاؤ شروع ہو گیا ہے۔ تقسیم کی تحریک کے نتیجے میں مسلمان علیحدگی کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے۔ اب وہ جان رہے ہیں کہ زندگی میں سب سے بڑی چیز انٹرایکشن اور مقابلہ ہے۔
نئی دہلی کے اسٹار نیوز (ٹی وی) نے ۱۷ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا دو انٹرویو لیا۔
ٹیلی کاسٹ کے تحت تھا، اور دوسرا اسلامی مرکز کے دفتر میں ویڈیو ریکارڈنگ کے طور پر۔ انٹرویو رجسٹر ا جیئش کو شک دونوں انٹرویو کا موضوع اُس کارٹون سے متعلق تھا جو ڈنمارک کے ایک اخبار میں ستمبر ۲۰۰۵ میں چھپا تھا۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس معاملے کا ایک پہلو وہ ہے جو نظری حیثیت رکھتا ہے، اور دوسرا پہلو وہ ہے جو طریق کار سے متعلق ہے۔ نظری حیثیت سے ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھے اس کا اظہار کرے۔ ہر فرد اور ہر گروہ کا حق ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کارٹون کے موضوع پر مظاہرہ کرنے والے اپنے حق کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن طریق کار کے معاملے میں کسی بھی فرد یا گروہ کو تشدد تک جانے کی اجازت یں، نہ براہِ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طور پر۔ مثلاً یہ اعلان کرنا کہ جو شخص کارٹونسٹ کو مار ڈالے گا اس کو سونے میں تول دیا جائے یا ایسے حالات پیدا کرنا کہ فائرنگ ہو اور بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ بلڈنگ کو جلانا، اپنی آزادی کے نام پر دوسروں کی آزادی میں خلل ڈالنا وغیرہ۔ یہ سب انتہا پسندی کے طریقے ہیں۔ اور انتہا پسندی درست نہیں، نہ اسلام کے مطابق، اور نہ عقل کے مطابق۔
۱۹ فروری 2006 کو حسبِ معمول 1، نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں ہفتے وار اسپرچول کلاس ہوا۔ میں تقریر کا موضوع ڈنمارک کے اخبار میں شائع شدہ کارٹون کا مسئلہ تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں بتایا گیا کہ کارٹون کے مسئلے پر مشتعل ہونا اور مظاہرے کرنا، اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اس طرح کی چیزوں کو نظر انداز کرنا چاہیے نہ کہ ان کو لے کر پُر تشدد مظاہرے کیے جائیں۔ مسلمان ایک داعی گروہ کا نام ہے، اور داعی گروہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایسے مظاہرے کرے جس کے نتیجے میں داعی اور مدعو کے درمیان دوری پیدا ہو جائے اور اسلام لوگوں کی نظر میں ایک بدنام مذہب بن جائے۔ مزید بتایا گیا کہ ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے بعد جو تاریخی پر اسس جاری ہوا، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دعوہ ورک کے نئے امکانات سامنے آگئے۔ اب ہمارا کام ان امکانات کو استعمال کرنا ہے کہ نہ منفی کارروائیوں سے ماحول کو اتنا خراب کرنا کہ دعوہ ورک مشکل ہو جائے تقریر کے آخر میں آدھ گھنٹہ سوال اور جواب کے لیے دیا گیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر ہم لوگ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے اور ہم کو بز دل سمجھ لیں گے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ سوچ صحیح نہیں ہے۔ صبر و اعراض بے عملی کا نام نہیں بلکہ وہ ایک منصوبہ بند عمل کا نام ہے۔ صبر و اعراض کا مطلب اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل کرنا ہے۔ سوال یہ تھا کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اُس وقت صبر کا طریقہ اپنایا جب کہ وہ تعداد میں بہت کم تھے۔ عددی اعتبار سے ایک بلین ہو گئے ہیں۔ کیا ایسی حالت میں بھی صبر و اعراض کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ مسئلہ تعداد کا نہیں ہے بلکہ اصول کا ہے۔ صبر و اعراض ایک ابدی اصول ہے وہ ہر حال میں اختیار کیا جائے گا خواہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو یا زیادہ۔ جس طرح نماز ہر حال میں پڑھی جائے گی خواہ مسلمان کم ہوں یا زیادہ۔