Al-Risala · June 2006

مہاراشٹر کا سفر

Al-Risala, June 2006, pp. 2–6

By Maulana Wahiduddin Khan

وردھا ایک تاریخی شہر ہے جو مہاراشٹر میں ناگپور کے پاس واقع ہے۔ یہاں گو پوری کے علاقے میں ہائر اسٹڈیز کا ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے: انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز۔ جنوری ۲۰۰۶ کے آخری ہفتے میں ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہر نمائندے کو پورے ایک دن کا وقت دیا گیا تا کہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات سے سامعین کو

اس کی صورت یہ تھی کہ پہلے مقرر اپنے مذہب کی تعلیمات کا تعارف پیش کرتا اور اس کے بعد سامعین کی طرف سے سوالات کیے جاتے۔ اس سیمینار میں مجھ کو مدعو کیا گیا تھا تا کہ میں لوگوں کو اسلام سے متعارف کراوں، خصوصاً اسلام کے روحانیت کے پہلو کے بارے میں۔ اس پروگرام کے تحت، مہاراشٹر کا ایک سفر پیش آیا۔ ۲۴ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ اور ۲۶ جنوری کی رات کو سفر سے واپسی ہوئی۔

جنوری کے نصف ثانی اور فروری کے نصف اول میں قریبی تاریخوں کے لئے کئی دعوت نامے مجھ کو ملے تھے—پونا، بمبئی، پور بندر، بنگلور، وردھا۔ اتنی جلد جلد کئی سفر کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ لیے میں نے صرف وردھا کا انتخاب کیا۔ اس سلسلے میں یہ سفر پیش آیا۔ پونا میں ایک عالمی امن کا نفرنس (World Peace Conference 2006) ہوئی۔ کانفرنس ۳۰ جنوری سے ۳ فروری تک جاری رہی۔ اس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۷۰۰ نمائندے

عالمی امن کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس کا اہتمام حسب ذیل دو بڑی تنظیموں نے کیا تھا: World Peace Centre, Maeer's MIT, Pune India International Multivarsity, Pune

یہ کانفرنس یونسکو (UNESCO) کی ۶۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی۔ میں شرکت کے لئے مجھ کو اس کا دعوت نامہ مورخہ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۵ موصول ہوا جس میں یہ الفاظ لکھے

Vision of UNESCO for the 21st century— Education for Peace and Sustainable Development. اس دعوت نامے کے بعد ان کی طرف سے کئی ٹیلی فون آئے مگر میں اس شرکت کا فیصلہ نہیں کر سکا۔ انھوں نے خود سے ائیر سہارا (Air Sahara) کے دورٹن ٹکٹ بھی بھیج دئے۔ میرے لئے اور ایک میرے ساتھی کے لئے۔ مگر میں بعض وجوہ سے اس میں شرکت کا پروگرام نہ بنا آخر کار ۲۴ جنوری کو ان کا ٹکٹ بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا گیا۔

۲۴ جنوری کو جب میں سفر پر روانہ ہوا تو حج کے موقع پر ۱۲ جنوری ۲۰۰۶ کو پیش آنے والے واقعے کا چرچا بھی تک جاری تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے ۱۲ جنوری کو رمی جمرات (شیطان کو کنکر مارنے) کے موقع پر وہاں بھگڈر ہوئی اور اس میں دب کہ ۳۶۲ آدمی مرگئے۔ شیطان کو علامتی طور پر مارنے کے جوش میں لوگوں نے انسان کو حقیقی طور پر مار ڈالا۔

اس قسم کا حادثہ تقریباً ہر سال پیش آتا ہے۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ رمی جمرات کے موقع پر شیطان کو مارنا صرف علامتی سنگ باری (symbolic stoning) کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔ لیکن فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خود زندہ شیطان کو مار رہے ہیں۔ اسی بے خبری کا نتیجہ جوش و اگر لوگ شعوری طور پر یہ سمجھیں کہ رمی جمرات کا یہ معاملہ ایک علامتی معاملہ ہے نہ کہ حقیقی معاملہ، اگر لوگ اس فرق کو جانیں تو اس عمل کے وقت ان کے اندر وہ غیر معمولی جوش و خروش نہ پیدا ہو جس کے نتیجے میں مذکورہ قسم کا واقعہ پیش آتا ہے۔

میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں بعد کے زمانے کے بارے

میں آیا ہے کہ: لم يبق من الاسلام الا اسمه ۔ یعنی امت مسلمہ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ اس کے اندر اسلام کا صرف نام باقی رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہر جگہ اسلام کا نام استعمال ہو رہا ہے۔ ہر جگہ اسلام کے نام پر دھوم ہو رہی ہے لیکن حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کہیں بھی اسپرٹ والا اسلام موجود نہیں۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ بڑھ رہا ہے کہ اب لوگ بے روح فارم ہی کو اسلام سمجھنے لگے ہیں۔

۲۴ جنوری کی سہ پہر کو گھر سے ائیر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ اس وقت دہلی میں ابھی کافی محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق، دہلی میں اس سال جو سردی پڑی وہ پچھلے ستر سال میں سب سے زیادہ تھی۔ چنانچہ دہلی میں رات کا درجہ حرارت زیرو پوائنٹ تک پہنچ گیا۔ سردی کا موسم انسان کے لئے بے حد سخت ہے چنانچہ سینکڑوں لوگ اس موسم میں ٹھٹھُر کر مر گئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے قومِ عاد کے انکار پر اس کو سخت عذاب میں ہلاک کر دیا۔ سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: إنا أرسلنا عليهم ريحاً صرصراً في يوم نحس مستمر ۱۸) دوسری جگہ ایّام نحسَات (حم السجدہ: ۱۶) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس آیت کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ منحوس دنوں میں انھیں عذاب دیا گیا۔ مگر صحیح یہ ہے کہ انھیں سخت سردی کے موسم میں عذاب دیا گیا۔ ان کے علاقے میں سردی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اس میں گھر کر وہ لوگ ہلاک یومِ نحس کا یہ مفہوم لسان العرب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ (جلد ۶، صفحہ ۲۷۲) روانگی کے دن میری ملاقات مولا نا محمد ذکوان ندوی سے ہوئی۔ انھوں نے اپنے ایک ساتھی کا یہ خط راقم الحروف کے بارے میں تھا۔ اس خط کا پورا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’بندے کو آپ کے توسط سے حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ یہ موقع بندے کے لئے ایک انقلابی موقع ثابت ہوا کیوں کہ میری سوچ یہ ہے کہ اگر خدا سے ملنا ہے تو علماء کی صحبت اختیار کی جائے۔ لہٰذا میں عالیجناب سے ملاقات کر کے بہت خوش ہوا اور میری خوشیوں میں مزید اضافہ جب ہوا کہ جب میں نے

حضرت والا کی عطا کردہ گراں قدر کتاب ”رازِ حیات“ کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے جیسا کہ اپنے نام ہی سے ظاہر ہے میرے قلب کو منور و مجلیٰ کر دیا۔ کیوں کہ میں ابھی تک جس دائرے میں رہ کر زندگی گزار رہا تھا اس میں مجھ کو صرف اور صرف نا امیدیاں ہی نا امیدیاں نظر آ رہی تھیں، بلندیوں کی طرف توجہ ہی نہ ہو پاتی تھی جس سے آئندہ زندگی تاریک نظر آنے لگی تھی لیکن ”رازِ حیات“ کو پڑھ کر میں کچھ اس طرح متاثر ہو رہا ہوں کہ اب مستقبل مجھے آفتاب اور ماہتاب کی طرح روشن نظر آتا ہے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ میری نسبت حضرت والا سے مستقل طور پر جڑ جائے اس کے لیے حضرت والا کی دعاؤں کی (۱۵ جنوری ۲۰۰۶، حافظ شمس الحق، ایم۔

دار العلوم دیوبند (وقف) کے تحت، ۲۲، ۲۵، ۲۶ مئی ۲۰۰۶ کو قاری محمد طیب صاحب کے اوپر ایک عالمی سیمینار ہونے والا ہے۔ اس کی ایک پیشگی رپورٹ نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا ۲۳ جنوری ۲۰۰۶ میں نظر سے گزری۔ دار العلوم کے نائب مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے دیو بند میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ— دار العلوم تحریک امن و سلامتی، انسان دوستی اور عدم تشدد کے فلسفے کی پیام بر ہے۔

یہ ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ دار العلوم دیو بند کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ادارہ انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کی تحریک کے ضمن میں قائم ہوا۔ بوقت قیام، اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے لیے مجاہد تیار کیے جائیں۔ دیو بندی علماء نے اس زمانے میں فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ اس جلو میں دار العلوم دیو بند قائم ہوا۔ چنانچہ اس کے بڑے بڑے علماء مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمود الحسن دیو بندی، مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ با قاعدہ طور پر انگریز مخالف جہاد میں شریک یہ حقیقت سوانح قاسمی (مولانا مناظر احسن گیلانی) اور علماء ہند کا شاندار ماضی (مولانا محمد میاں) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

غیر متشددانہ پالیسی بلاشبہ بہت اچھی چیز ہے۔ مگر مذکورہ بیان تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ اس قسم کا بیان ایک غلط ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ یعنی ماضی کی غلطی کا اعتراف نہ کرتے ہوئے حال کی پسندیدہ بولی بولنا۔ مولانا موصوف کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ صاف طور پر یہ اعلان کریں کہ ماضی کے علماء کا یہ اقدام غلط تھا کہ انہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کا فتوٰی دیا۔ اس اعلان کے بعد وہ کہتے کہ اب ہم اس غلطی کی تصحیح کرتے ہیں، اور از سر نو صحیح پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

غلطی کا اعتراف کیے بغیر اپنے موقف کو بدلنا، ایک سنگین جرم ہے۔ اسی سے کنفیوژن پیدا ہوتا لوگ صحیح انداز میں سوچنے کے قابل نہیں بنتے۔ صحتِ فکر کی لازمی شرط ہے۔ پچھلی غلطی کا غلطی کا اعتراف کیے بغیر خاموشی سے اپنا موقف بدل لینا، یہ موجودہ زمانے میں عام ہو چکا مذہبی لوگ اور سیکولر لوگ دونوں ہی اس روش میں مبتلا ہیں۔ ایسا کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی پوزیشن کو محفوظ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے انعام سے محروم کر رہے ہیں، اور وہ ہے حقیقت واقعہ کا اعتراف، اور ذہنی ارتقاء۔ دہلی ایئر پورٹ پر ٹائم میگزین کا شمارہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان یہ تھا:

Printed page