Al-Risala · June 2006

The Case for Doing One Thing at a Time.

Al-Risala, June 2006, pp. 6–9

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک امریکی خاتون ہیں جن کا نام ہے سوزے آرمین(Suze Orman) یہ خاتون امریکا کی نمبر ایک فنانشل ایڈوائزر سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کو یہ غیر معمولی مقام کیسے ملا۔ اس کا راز مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک کام کرتی ہیں ۔ وہ شدت سے اپنے اس اصول پر کار بند ہیں:

Financial advisor, Suze Orman refuses to be interrupted while on task. وہ تنہا ہیں، انھوں نے شادی نہیں کی۔ حتی کہ ان کا کوئی سروینٹ یا مددگار بھی نہیں۔

بھی قیمت پر (distraction) کو برداشت نہیں کرتے۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے بارے میں کہا:

When I am writing, I don't answer phones. I don't care what else is going on. (p. 37)

دہلی ایئرپورٹ پر ایک صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کا نام نیرج جین تھا۔ کمپیوٹر کمپنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے۔ انھوں نے میرے ساتھی سے میرے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اسپرپچول گرو ہیں۔ انھوں نے دلچسپی ظاہر کی تو انھیں انگریزی کے چند پمفلٹ دئے گئے جو CPS کے تحت چھاپے گئے ہیں۔ ان کتابچوں کے نام یہ ہیں: The Reality of Man Man and God Destination of Man موجودہ زمانے میں دعوت ورک کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سفر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب لوگوں کے درمیان بہت زیادہ انٹریکشن ہونے لگا۔ یہ انٹریکشن دعوت ورک کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔ اگر لوگ اپنے بیگ میں دعوتی موضوعات پر کتابچے رکھ لیں اور ملاقات کے وقت لوگوں کو دیتے رہیں تو موثر دعوتی کام ہو سکتا ہے۔ ایئرپورٹ کے اندر پہنچا تو ونڈو پر بیٹھی ہوئی خاتون نے بتایا کہ جہاز ٹھیک وقت پر دہلی سے مگر عملاً ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے ساتھ جہاز کی روانگی ہوئی۔ سنگاپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ سنگاپور میں ٹائم کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ وہاں جہاز ٹھیک وقت پر روانہ ہوتا ہے اور ٹھیک وقت پر اترتا ہے۔ انڈیا میں لوگ ٹائم کا خش نہیں ۔ مزید یہ کہ انڈیا کے ایئرپورٹ پر ابھی تک ماڈرن سہولتیں موجود نہیں، حتی کہ دہلی ایئرپورٹ میں بھی نہیں۔ ایئرپورٹ کو جب تک عالمی معیار کے مطابق نہ بنایا جائے اس قسم کے مسائل جاری رہیں گے۔

جہاز کے اندر داخل ہوا تو وہاں مطالعے کے لیے اخبارات موجود تھے۔ ۲۴ جنوری ۲۰۰۶ کے ٹائمس آف انڈیا میں کچھ سبق آموز خبریں تھیں ایک خبر یہ تھی کہ فلم اسٹار امیتابھ بچن

بہت بڑی رقم ایک مندر کو نذرانے میں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں خبر کے الفاظ یہ تھے: Bachchan refuses to comment on the news report that he is donating jewellery worth Rs. 10 crore to the Trupati Temple. I don't like my religious activities to be made public. اس خبر پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ہر انسان کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے بڑا ہے۔ اپنے لیے ایک بڑے کو پانے کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر یہ جذبہ حقیقتاً خدائے برتر کے لیے ہے۔ لیکن خدا کو نہ پانے کی صورت میں وہ اپنے ان احساسات کو کسی غیر خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے۔

ہر ایئر پورٹ پر سیکورٹی چیک کا ایک مسئلہ ہوتا ہے، وہ دہلی ایر پورٹ پر بھی پیش آیا۔ میں یہ خبر تھی کہ سیکورٹی چیک ہر مسافر کے لیے ضروری ہے۔ ایئر پورٹ کے کئی مرحلے میں ہر مسافر کی پوری چکلنگ کی جاتی ہے۔ مگر ملکی قانون کے مطابق، کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شہری پرواز کی وزارت کے تحت، سیکورٹی کٹیگری کمیٹی (Security Category Committee) ہے۔ اس نے کچھ شخصیتوں کو سیکورٹی چیک سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ پریسیڈنٹ، پرائم منسٹر، سابق پرائم منسٹر اور سابق پریسیڈنٹ، چیف جسٹس آف انڈیا، اور دلائی لاما۔ یہ طریقہ صرف انڈیا میں ہے۔ باہر کے ترقی یافتہ ملکوں میں اس قسم کے امتیازی طریقے موجود نہیں:

Throughout the world the airport security checks are being tightened. So much so that even former US vice presedent Al Gore had to take off his shoes for a security check, post 9/11. جیٹ ایرویز کا فلائٹ میگزین جیٹ ونگس (Jetwings) کا شمارہ جنوری ۲۰۰۶ جہاز کے اندر برائے مطالعہ موجود تھا۔ ۲۸۸ صفحے کا یہ میگزین آرٹ پیپر پر چھپا ہوا تھا۔ ہر صفحے پر خوب صورت رنگین لیکن پورے میگزین میں کوئی ایسی بامعنی بات نہیں ملی جو سفر نامے میں قابلِ ذکر ہو۔ اکثر فلائٹ میگزین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر صرف دو چیزیں شائع کی جاتی ہیں—اشتہار یا تفریحی مضامین۔

تاہم یہ کوئی استثنائی بات نہیں۔ اکثر لوگ جو جرائد کو خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ان سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس میں کوئی بامعنی بات پڑھی ہو تو بتائیے ۔ لیکن میرے تجربے کے مطابق، ننانوے فیصد لوگ کوئی نصیحت کی بات یا کوئی معنی خیز بات بتا نہیں پاتے۔ تقریبا ہر زبان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک صاحب جو ایک اردو ماہنامہ کے خریدار ہیں اور دس سال سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اس پوری مدت میں کوئی سبق کی بات پڑھی ہو تو وہ بتائیے۔ وہ ایک بات بھی نہ بتا سکے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ صرف رسائل اور جرائد کی اپنی حالت کا بیان نہیں ہے بلکہ وہ ان لکھنے والے دانش وروں کی فکری حالت کا بیان ہے جو ان کو مرتب کرتے ہیں اور انھیں شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ ان حضرات کی اکثریت کا معاملہ ٹھیک وہی ہے جو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

Printed page