Al-Risala · June 2006

او خویشتن گم است کرار ہبری گند

Al-Risala, June 2006, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک ماہ نامہ کے ایڈیٹر تھے۔ ان سے گفتگو شروع ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کوئی مثبت بات نہیں ہے۔ ان کے پاس یا تو اپنے مفروضہ اکابر کی تعریفیں تھیں یا مفروضہ دشمنوں کی شکایتیں ۔ اس قسم کی سوچ میرے نزدیک منفی سوچ ہے، اور منفی سوچ کا آدمی، کوئی بامعنی نصیحت کی بات نہیں سوچ پاتا۔ بامعنی نصیحت ہمیشہ مثبت ذہن سے نکلتی ہے۔ منفی ذہن اور مثبت پیغام دونوں ایک انسان کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ ایڈیٹر صاحب سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ وہ مثبت کلام اور منفی کلام کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً وہ ادبی انداز کی تعریفی تحریروں کو مثبت تحریر سمجھتے تھے، اور تجریاتی تنقید کو منفی تحریر کا درجہ دیتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ کسی مضمون کو پڑھ کر قاری کو اپنے لیے کوئی تعمیری پیغام ملا یا نہیں۔ مثبت انداز در اصل تعمیری انداز ہے، اور منفی انداز وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تخریبی انداز کہا جا سکتا ہے۔

مثلاً اگر آپ اپنی ایک محبوب شخصیت کے بارے میں لکھیں کہ وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔

ان کی تحریروں نے ایک نیا عہد پیدا کیا۔ انھوں نے وقت کے ظالموں کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ زمانے کے تمام اہل قلم میں ایوریسٹ کی چوٹی پر نظر آتے تھے، وغیرہ۔ اس طرح کے الفاظ پڑھ کر کسی قاری کو اپنی زندگی کے لیے کوئی تعمیری پیغام نہیں ملتا۔ اس لیے میں اس کو منفی ادب میں شمار کروں گا۔ اس کے برعکس، اگر ایک شخص تجزیاتی تنقید کا طریقہ اختیار کرے۔ مثلاً وہ اقبال کے اس شعر کا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی جو شاخ نازک پے آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا وہ لکھے کہ اس شعر میں مغربی تہذیب کو خنجر کہا گیا ہے۔ حالاں کہ مغربی تہذیب علومِ فطرت کی تحقیق کا پیغام دیتی ہے۔ یہ بظاہر ایک تنقید ہے لیکن وہ مثبت نتیجے کی حامل ہے۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قاری، مغربی تہذیب سے نفرت کو چھوڑے گا اور اس سے مثبت فائدہ اٹھا کر علومِ فطرت کو حاصل کرے گا جو موجودہ زمانے میں ترقی کے لیے ضروری ہے۔

تنقید کے معاملے میں رائے قائم کرنے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے۔ جو تنقید قاری کو صرف نفرت اور غصّے کا تحفہ دے وہ تخریبی تنقید ہے، اس کے برعکس، جو تنقید قاری کو اصلاحِ حال کا سبق دے وہ تعمیری تنقید ہے۔ اور وہ مطلوب تحریر کا درجہ

دہلی سے ناگپور کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔ ناگپور ایرپورٹ پر مسٹر عبدالسلام اکبانی، قاضی اور مسٹر زبیر احمد اکبانی موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر مسٹر عبدالسلام اکبانی کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ یہاں رات گزار کر صبح سویرے مجھے بذریعہ کار وردھا جانا تھا۔ رات کوناگپور میں قیام رہا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز ناگپور میں پڑھی۔ بعد بذریعہ کارناگپور سے وردھا کے لیے روانگی ہوئی۔ صبح کے سہانے وقت میں سفر کرنا گویا فطرت کی دنیا میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا یہ سفر اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ راستے میں سڑک کے دونوں طرف

فطرت کی دنیا تھی جو صبح کی روشنی میں چمک اٹھی تھی۔ کھلا آسمان، کھلی روشنی، درختوں اور کھیتوں کے مناظر، چڑیوں کی آوازیں، اس طرح کے ماحول میں یہ سفر طے ہوتا رہا۔ سڑک زیادہ اچھی نہ تھی تاہم فطرت کا مشاہدہ اس کمی کے احساس پر غالب آ گیا۔

فطرت اور انسانی تمدن میں فرق پر غور کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فطرت کا خالق کتنا عظیم ہے جس نے ایک عظیم کائنات اس طرح بنائی کہ اس کو دوبارہ اس پر نظرثانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کے مقابلے میں انسان ایک متمدن دنیا کی تعمیر کرتا ہے اور اس میں بار بار نظرثانی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ یہ فرق بلاشبہ قادر مطلق کے وجود کا ایک نا قابل انکار ثبوت ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد واردھا پہنچا۔ یہاں گوپوری کے علاقے میں ایک بڑے رقبے میں ایک ادارہ قائم ہے جس کا نام یہ ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز۔ قیام کے لیے یہ زمین جمنا لال بجاج نے دی تھی جو کہ گاندھی سے بہت متاثر تھے۔ یہاں صبح کی چائے کے ساتھ مقامی منتظمین سے کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد مجھ کو ادارے کے ہال میں لے جایا گیا جہاں سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔

چائے کی اس نشست کے دوران ایک صاحب نے اسلام میں نظر ثانی (revision) کی بات انھوں نے کہا کہ اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا تھا۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اور اسلام کو آج کے لحاظ سے ریلیوینٹ (relevant) بنانے کے لیے اسلام میں نظرثانی اور ریفارم کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ موجودہ زمانے میں بار بار اٹھایا گیا ہے۔ اپنے مطالعے اور غور وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ معاملہ اسلام میں ریفارم یا نظر ثانی کا نہیں ہے بلکہ بعد کے زمانے میں اسلام پر پڑے ہوئے غبار کو ہٹانے کا مسئلہ ہے۔ ایک ماڈرن رائٹر نے کہا ہے کہ قرآن کو پھر سے نازل ہونا چاہیے:

Printed page