Qur'an has to be re-revealed today.
Al-Risala, June 2006, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ قرآن آج بھی پوری طرح ریلیوینٹ (relevant) ہے۔
مسئلہ صرف بعد کو پیدا ہونے والے نظریات کا ہے جو اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ ہم ان پَر دوں کو ہٹائیں اور اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں جان سکیں۔ لیے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن کو پھر سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے: Qur’an has to be re-discovered today. ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ایک، وہ جو روایت پسند ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کو کرانت کاری (انقلابی) کہا جاتا ہے۔ روایت پسند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جس ماحول میں یا جن حالات میں رہتا ہے اس کے لحاظ سے اس کا ایک مزاج بن جاتا ہے۔ اس مزاج کے تحت، وہ اپنی ایک پُر عافیت زندگی بنا لیتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو ایک محفوظ طریقہ سمجھتا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں زیادہ غور و فکر نہ کرے بلکہ حالات کے تحت، اس کا جوڈ ہن بن گیا ہے اس پر مطمئن ہو کر آسودگی کی زندگی گزارتارہے۔ کرانت کاری انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عقلی طور پر سمجھنا چاہتا وہ ہر چیز کی معقولیت کو جاننا چاہتا ہے۔ روایت پرست انسان اگر اپنی عقل کو معطل کر لیتا ہے تو کرانت کاری انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ وہ کسی بات کو اس وقت تک نہیں مانتا جب تک وہ عقلی طور پر اس کے لیے قابل فہم نہ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو معرفت کے اعلیٰ درجے حاصل ہوتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز میں ایک خوبصورت ہال ہے۔ یہ ہال چاروں طرف سے کھلا ہوا ہے۔ اس کے چاروں طرف درختوں کا منظر ہے اور چڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ہال میں سیمینار کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان لوگ تھے۔ کچھ خواتین بھی اس میں شامل پہلے ادارے کے چیرمین نے ابتدائی خطاب کیا۔ اس میں پروگرام کے بارے میں اور میرے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد میرا خطاب شروع ہوا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کا پورا دن مجھے دیا گیا ایک سشن لِنچ سے پہلے ہوا، اور اور دوسرا سشن لِنچ کے بعد۔ دونوں سشن میں پہلے میری تقریر ہوئی،
اور اس کے بعد سوال اور جواب شروع ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ میں نے اپنے خطاب میں پہلے اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی مختصر تاریخ بیان کی۔ اس سلسلے میں میں نے کہا کہ اسلام سپر پر یلیجن نہیں ہے بلکہ وہ محفوظ (preserved) ریلیجن ہے۔ تمام پیغمبروں کا مذہب ایک ہی تھا، لیکن اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے۔ اسی طرح قرآن کی اصل زبان بھی ایک زندہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیمات امن، اور روحانیت اور انسانیت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہیں۔ اسلام مثبت انداز فکر (positive thinking) پیدا کرتا ہے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جنگ کی ایک ہی صورت جائز ہے اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ خارجی حملے کی صورت میں اسلام میں جنگ کو جائز کیا گیا ہے لیکن یہ جنگ بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کا جنگ کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے صرف پر امن جدوجہد ہے۔ اور اگر پر امن جد و جہد کے مواقع نہ ہوں تو ان پر فرض ہے کہ وہ صبر کریں اور خدا سے دعا کرتے رہیں۔
مذہبی اختلافات کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اختلافات کو مٹانا ممکن اس لیے اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد کی راہیں تلاش کی جائیں اور وہ یہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گروہ کا احترام کرے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پر امن انداز میں ڈائیلاگ جاری رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کے حوالوں اور صحابہ کے واقعات سے اس بات کو واضح کیا گیا۔
تقریر کے بعد حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گیے جن کا جواب دیا گیا۔ تعلیم یافتہ ہندو نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقرير میں نے نہایت غور سے میں کہہ سکتا ہوں کہ آج میں نے اسلام کو ری ڈسکور کیا: