Al-Risala · June 2006

Today I have re-discovered Islam.

Al-Risala, June 2006, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اسلام کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں کا شکار تھا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ اسلام نفرت اور تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر آج معلوم ہوا کہ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔ اب میں اسلام کا مزید مطالعہ کروں ایک اور تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ کی تقریر سے مجھے اسلام کے مطالعے کا ایک اہم اصول ملا۔ یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر کے دیکھا جائے ۔ اسلام کے بارے میں جو رائے قائم کی جائے وہ اسلام کی اپنی تعلیمات کی روشنی میں نہ ہو نہ کہ مسلمانوں کو یا مسلم سوسائٹی کو دیکھ کر۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم نے سُنا ہے کہ اسلام حب الوطن کے خلاف ہے۔ سکھاتا ہے کہ مسلمان صرف مکہ مدینہ سے محبت کرے، اور ملک سے نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کرنے کو اسلام میں بُت پرستی کا درجہ دیا گیا ہے۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے اپنے شعر میں اس قسم کی بات کہی ہے مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے۔ طرح ماں سے محبت ایک فطری چیز ہے۔

اسلام دین فطرت ہے اس لیے وطن کی فطری محبت بھی اسلام کے عین مطابق ہے۔ کو معبود سمجھنا اور وطن کو پوجنا، یہ اسلام میں نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ وطن پرستی کا تصور صرف انڈیا میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں حب الوطنی کا تصور موجود ہے لیکن وطن پرستی کا تصور انڈیا کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔

ایک اور صاحب نے سوال کیا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ اسلام میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان چار شادیاں کرے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے۔ میں نے کہا کہ یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت صرف ہنگامی حالات کے لیے ہے وہ کوئی عمومی حکم نہیں۔ کسی حادثے کے موقع پر ایسا ہوتا ہے کہ مردوں کی تعداد گھٹ جاتی ہے اور عورتیں سرپلس ہو جاتی ایسی حالت میں صرف معاشرتی انتظام کے طور پر ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق، عورتوں کی تعداد اور مردوں کی تعداد ہمیشہ تقریباً برابر برابر ہوتی ہے۔ اس لیے ایک شوہر اور ایک بیوی کا فارمولا ہی فطری فارمولا ہے۔

جب کسی بحران کے نتیجے میں عورتیں سرپلس ہو جائیں تو اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنا پڑے گا۔ سے زیادہ شادی اسی مسئلے کے حل کی ایک تدبیر ہے۔ میں نے کہا کہ جب عورتیں سرپلس ہو جائیں تو ایسا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں معاشرے میں جنسی انار کی پھیل

ایک خاتون نے سوال کیا کہ اسلام میں عورتوں کو برابر کے حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔ تعلیم یہ ہے کہ عورتوں کو دبا کر رکھو۔ میں نے کہا کہ یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے۔ یہ غلطی فہمی ایک غلط تقابل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب میں نسوانی آزادی کا مطلب بے قید آزادی سمجھا جاتا جو آخر کار صنفی انار کی تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ اس معیار کو لے کر اسلام کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ معیار بذات خود درست نہیں اگر آزادی کو لے کر تقابل کیا جائے تو اسلام میں مکمل آزادی ملے گی۔ لیکن اگر بے قیدی کے تصور کو لے کر تقابل کیا جائے تو بلا شبہ اس قسم کی بے قید آزادی اسلام میں نہیں ہے۔

ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے۔ عورتوں کا کوئی رول نہیں اس لیے اسلام میں عورتوں کی تعلیم کو بھی پسند نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ عائشہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ آپ ان کی لائف کو پڑھیں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ انھوں نے کتنے بڑے بڑے کام کیے ہیں اور کتنی اعلیٰ سطح پر اسلام کی نمائندگی کی ہے۔

پھر میں نے کہا کہ اس کا ایک عملی ثبوت خود یہاں بھی موجود ہے۔ میں ایک مذہبی مسلمان اسلام میرا مشن ہے۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میری لڑکی فریدہ خانم اور میری پوتی سعدیہ یہاں موجود ہیں۔ دونوں نے یہاں اسلام پر انگریزی میں تقریریں کی ہیں۔ کیا تعلیم کے بغیر یہ دونوں یہاں کے پروگرام میں حصہ لے سکتی تھیں۔ میں نے کہا کہ تعلیم زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اور جو چیز زندگی کا حصہ ہو وہ یقینی طور پر اسلام کا بھی حصہ ہوگا۔

انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز میں مقررہ پروگرام کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کا ان لوگوں سے برابر باتیں ہوتی رہیں۔ ادارے کے ایک رُکن نے میرے ساتھ واردھا اور ناگپور کے درمیان سفر بھی کیا۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو کھلا پن (openness) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ لوگ کھلے طور پر ڈائیلاگ کرتے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ قدیم زمانے میں لوگ صرف بند ذہن کے تحت سوچنا جانتے تھے۔ اس مزاج نے جو نئے مواقع پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کو جاننا چاہتے ہیں۔ اس طرح موجودہ زمانے میں پہلی بار ساری دنیا میں رلجس انڈراسٹینڈنگ (religious understanding) کا ماحول بنا ہے۔

مجھے خدا کے فضل سے مسلسل اس جدید امکان سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ کا پہلا بڑا تجربہ مجھے اب سے ۷۲ سال پہلے پیش آیا۔ آریہ سماج (سیبو بارہ، ضلع بجنور) نے اپنے چونٹھ سالہ جشن جو بلی کے موقع پر آخر نومبر ۱۹۵۹ء میں ایک ہفتہ منایا تھا۔ اس موقع پر ۲۹ نومبر کو ایک بین مذاہب کا نفرنس ہوئی ۔ جس میں مختلف مذاہب کے علما نے شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے میں نے وہاں ایک مقالہ پیش کیا۔ ۴۲ صفحات کا یہ مقالہ اسلام کا تعارف کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

یہ جلسہ اصلاً مذاہب کے درمیان باہمی تعارف کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ یہاں مذہبی مناظرہ ہونے والا ہے۔ لوگوں کو مناظرہ (debate) سے خاص دل چسپی ہوتی چنانچہ یہاں ہندو اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اکٹھا ہوگئی۔ میں نے مقالے کی صورت میں اپنے خیالات پیش کیے۔ اس جلسے کے صدر بریلی کے ایک ہندو وکیل تھے۔ آخر میں اپنی صدارتی تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہاں تقریر کی ان میں صرف ایک تقریر ایسی تھی جو پوری طرح واضح اور ہر ایک کے لیے قابل فہم تھی، اور یہ اسلام کے نمائندے کی تقریر تھی۔

اس قسم کے جلسے آج کل ساری دنیا میں ہو رہے ہیں۔ مجھے بار بار ان جلسوں میں اسلام کی نمائندگی کے لیے بلایا جاتا ہے، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ میں ہر جگہ کسی شرط یا تحفظ ذہنی کے بغیر اسلام کی تعلیمات کو پیش کرتا ہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگ جب اسلام کی فطری تعلیمات کو سنتے ہیں تو وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ہم خود بھی اپنے انتظام کے تحت ، اس قسم کے جلسے منعقد کرتے ہیں۔ اس کی ایک باقاعدہ اور منظم صورت یہ ہے کہ الرساله مشن یا CPS کی طرف سے نئی دہلی میں ہفتے وار اجتماع ہر اتوار کو، اسپیچول کلاس کے نام سے کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے مسلسل طور پر جاری ہے۔ میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز (واردھا) کا موجودہ سفر بھی اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ پہلے بھی میں یہاں دو بار آ چکا ہوں۔ اب یہ تیسری بار یہاں کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں وہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بتانوے فیصد ہندو حضرات تھے۔ سب گاندھیائی خیالات سے متاثر تھے۔ ان میں کوئی ایسا نہ تھا جو غیر ضروری بحثیں کرے یا معاندانہ قسم کے سوالات پیش کرے ۔ یہاں کے سبھی لوگ سنجیدہ اور علمی مزاج رکھنے والے نظر آئے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے تحت، ایک تعلیمی ادارہ چلایا جارہا ہے۔ یہاں ایک اچھی لائبریری بھی قائم یہاں کا ماحول امن اور روحانیت کا ماحول نظر آتا ہے۔ یہاں جن لوگوں سے بھی باتیں ہوئیں انھوں نے بحث وتکرار کا انداز اختیار نہیں کیا بلکہ سنجیدہ انداز میں زیر بحث بات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہاں اس سلسلے میں چند گفتگوئمیں نقل کی جاتی ہیں :

ایک صاحب نے کہا کہ آج کل مسلمان جگہ جگہ خود کش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ آپ خود کش بمباری کے خلاف ایک کتاب لکھیے، جس کا ٹائٹل یہ ہو :

Printed page