Why hate bombing is super haram in Islam.
Al-Risala, June 2006, pp. 18–33
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود کش بمباری کے ذمے دار صرف چند مسلم مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خودکش بمباری کے ذمے دار موجودہ زمانے کے تقریباً سارے ہی مسلمان ہیں۔
اس لیے کہ آج کی دنیا میں ہر جگہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں کے خلاف ظلم کی داستانیں بیان کرنے میں مشغول ہیں، وہ ان قوموں کو اسلام اور مسلمان کا دشمن بتا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اخبار، ان کے اجتماعات، ان کی مجلسیں، ان کی کتابیں اور رسالے، حتیٰ کہ ان کی مسجد اور مدرسے سے ہر جگہ یہی بتایا جا رہا ہے کہ دوسری قومیں ان کی دشمن ہو گئی ہیں۔ ہر ایک ان کے خلاف زیادتی کرنے میں مشغول ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک ہی کام میں مشغول ہیں، وہ ہے غیر مسلم قوموں کی منفی تصویر پیش کرنا، ان کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طور پر نفرتی مہم چلانا۔ عرب سے لے کر عجم تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جگہ یہی نفرتی مہم (hate campaign) جاری ہے۔
مسلم ملت کی یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے مسلم نوجوان دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور غصے میں بھر گیے۔ اسی نفرت اور غصے کا اظہار خود کش بمباری کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسی سے اس بات کی توجیہہ ہو جاتی ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ یہ خود کش بمباری اکثر پڑھے لکھے نوجوان کرتے ہیں نہ کہ جاہل اور غریب مسلمان۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ نفرتی مہم پریس اور میڈیا کی سطح پر چلائی جاتی ہے۔ اور پریس اور میڈیا تک انھیں لوگوں کی پہنچ ہوتی ہے جن کو تعلیم یافتہ مسلمان کہا
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے شیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی۔
(Percy Bysshe Shelley) ایک برٹش شاعر تھا۔ وہ ۱۷۹۲ء میں پیدا ہوا، اور ۱۸۲۲ء میں اس کی اس کا قول ہے کہ— ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ پر درد
Our sweetest songs are those that tell our saddest thoughts. یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو دردِ مند زندگی ملتی ہے اُنھیں کی زبان سے پر سوز کلام جاری ہوتا ہے۔ پر راحت اور پر مسرت زندگی گذرانے والے کبھی پر سوز کلام کی تخلیق نہیں اِسی حقیقت کو فانی بدایونی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:
زمانہ بر سرِ آزار تھا مگر فانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو جب کسی انسان کو خدا پر دردِ زندگی دے تو یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک خاموش پیغام یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا اُس انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگانا چاہتا خدا اس انسان کو انتہائی سنجیدہ انسان بنانا چاہتا ہے۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی ہو اور انسانیت کی تعمیر کی راہ میں اپنا وہ حصہ ادا کرے جو اس سے مطلوب ہے۔ یعنی اپنے سنجیدہ کلام اور پر درد پیغام کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی۔ ایسا انسان گویا کہ خدا کی طرف سے ایک چنا ہوا انسان (chosen person) ہوتا ہے۔ کو خدا کی خصوصی رحمت کا ایک حصہ ملا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ وہ اپنے آپ کو احساسِ محرومی کے منفی جذبے سے بچائے۔ وہ مکمل طور پر مثبت نفسیات والا ایک تاکہ وہ خدا کے بندوں کے درمیان وہ اصلاحی رول ادا کر سکے جو خدا نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک حدیث میں ہے کہ انسان کا دل خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (القلوب بین اصبعی الرحمن) یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں۔ انسان کا دل نہایت نرم ہے، اور وہ نہایت
آسانی سے بدل سکتا ہے۔ بدلنے کا یہ معاملہ خدا کے قائم کردہ فطری قانون کے تحت ہوتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ نزاعی معاملات میں اگر آپ دوسروں کو ذمے دار ثابت کرنے کی کوشش کریں تو اس سے فریق ثانی کے اندر ضد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو برابر بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ نزاع کے وقت یک طرفہ طور پر خود اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں تو فریق ثانی کا دل نرم پڑ جائے گا اور نہایت آسانی کے ساتھ نزاع کا ماحول ختم ہو جائے گا۔ اس سفر کے دوران ایک انوکھا تجربہ ہوا۔ میں رات کو سو کر صبح میں اٹھا تو سورج کی ابتدائی کرنیں فضا کو منور کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ میری زبان پر یہ الفاظ آئے ہر روز جب رات کے بعد سنہری صبح طلوع ہوتی ہے تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اسی طرح ایک اور صبح طلوع ہونے والی ہے جو زیادہ روشن اور زیادہ مبارک ہوگی۔ یہ صبح ابدی طور پر ہر قسم کے اندھیروں کو ختم کر دے گی، یہ صبح ابدی طور پر انسان کو پر مسرت زندگی کا تحفہ عطا کرے گی ۔ اس کے بعد انسان ابدی طور پر غیر معیاری دنیا سے نکل کر معیاری دنیا میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسا دورِ حیات شروع ہو گا جس میں ہر چیز
قرآن میں اس دنیا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن (لا خوف عليهم ولا هم يحزنون) حدیث میں میں آیا ہے کہ جنت میں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف (لا صخب فيها ولا نصب ) ان چار الفاظ میں جنت کی پوری تصویر موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ جنت ہر قسم کی محدودیت سے خالی ہوگی۔ وہاں کسی بھی قسم کے ناموافق حالات موجود نہ ہوں گے۔ اور راحت اپنی اعلیٰ ترین صورت میں مہیا ہوگی۔ اس جنت کی قیمت صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی آخرت کی جنت کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی جنت کی قربانی پر راضی ہو جائے ۔ کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اخباروں اور جلسوں میں اگرچہ ہندوستان کے مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ مگر یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ ہر میدان میں ترقی کر رہے ہیں۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ
1964 میں میں دہلی آیا۔ اُس وقت دہلی کے مسلمانوں کے پاس صرف چند کاریں تھیں۔ جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کوئی کار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اب جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کاروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ دہلی میں آپ جدھر جایئے مسلمانوں کے پاس کار اور موبائل ٹیلی فون جیسی چیزیں کثرت سے نظر آئیں گی۔
انھوں نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کار ہونے کا نام ترقی ہے۔ میں نے کہا کہ موٹر کار اور موبائل ٹیلی فون کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ دراصل کمیونیکیشن اور حرکت (mobility) کا نام ہے۔ کنیکٹ اور انٹریشن کو لامحدود حد تک بڑھاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ساری ترقیات اسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں انسانی تعلقات بہت محدود ہوتے تھے، اس لیے ترقی کے امکانات بھی محدود ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں مشینی ذرائع نے رفتار کو پہیہ اور الیکٹرانک لہریں عطا کر دی اس کے نتیجے میں حرکت و عمل کے مواقع لامحدود حد تک بڑھ گئے ہیں۔
کار اور ٹیلی فون اِسی زمانی تبدیلی کی علامت ہے۔ جب ٹیلی فون پر کسی کال کی گھنٹی بجتی ہے یا جب کار کسی روڈ پر دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ نیاز مانہ تیز رفتار ترقی کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں نے شعوری طور پر تو نہیں لیکن غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو دریافت کر لیا ہے۔ اس دریافت کی طرف ان کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ ہندوستان کے مسلمان پورے برصغیر ہند میں مثالی ترقی کا نمونہ بن جائیں گے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر آدمی کا سب سے بڑا کنسرسن اس کی اولا دب بن گئی ہے۔ انسان کو جو محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے وہ محبت اس کو اپنی اولاد سے ہو گئی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، اس کا سبب موجودہ زمانے میں مال اور دنیوی ترقی کا غیر معمولی اضافہ ہے۔
قدیم زرعی دور میں یہ مزاج صرف بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہ وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس سلطنت کی صورت میں ایک بڑی چیز ہوتی تھی۔ چنانچہ ہر بادشاہ کی یہ
کوشش ہوتی تھی کہ اس کی سلطنت اس کے بعد اس کے بیٹے کو ملے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مال اور مادی ساز و سامان کی بھر مار ہو گئی۔ اب ہر آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مادی ترقی کرے۔
اس چیز نے موجودہ زمانے میں عمومی طور پر اولاد پرستی کا مزاج پیدا کیا۔ اب آدمی محنت کر کے پیسہ کماتا ہے، شان دار گھر بناتا ہے اور شان دار قسم کے مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرتا ہے، اس کے بعد جب وہ سوچتا ہے کہ جلد ہی میں مرجاؤں گا تو اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ یہ دولت جو میں نے کمائی ہے وہ میرے بعد کون لے گا۔ یہی مزاج آدمی کے اندر اولاد پرستی پیدا کرتا ہے۔ ہمارے یہاں ایک صاحب تھے ان کا نام عظیم الدین تھا۔ انھوں نے بزنس میں کافی پیسہ کمایا۔ لیکن ان کے یہاں اولاد نہ تھی۔ ان کی بوڑھی ماں اکثر یہ کہتی رہتی تھیں کہ ہائے! عظیم کی دولت کون پہلے زمانے میں صرف بادشاہ کے اندر یہ مزاج ہو گا کہ ہائے! میری سلطنت کون لے گا، کیوں کہ قدیم زرعی زمانے میں کوئی بڑی چیز صرف بادشاہ کے پاس ہوتی تھی۔ اب ہر آدمی کے پاس کوئی بڑی مادی چیز ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ میرے بعد یہ چیز صرف میرے بیٹے کو ملے۔ نے موجودہ زمانے میں اولاد پرستی کو عام بنا دیا ہے۔
ایک صاحب جو سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پوری تاریخ میں تمام مصلحین اور مفکرین ایک غلط تقسیم (dichotomy) میں مبتلا رہے ہیں۔ نے یہ کیا کہ سماج کو محروم اور غیر محروم (the haves and the have nots) طبقات میں بانٹ ہر ایک یہ کوشش کرتا رہا کہ وہ اس تقسیم کو ختم کر کے معاشی برابری کا سماج قائم کرے، اور جب ایسا نہیں ہوا تو انھوں نے اس کو خلاف عدل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سماجی بُرائی (social evil) ہے۔ اس تصور کو لے کر وہ خدا کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہو گئے ۔ یہ سارا معاملہ غلط فکری کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بظاہر جو تقسیم ہے وہ محروم اور غیر محروم (the haves and the haves-nots) کی نہیں ہے۔ زیادہ درست طور پر وہ تقسیم بالقوہ غیر محروم
اور بالفعل غیر محروم (potential haves and actual haves) کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ آج بظاہر محروم نظر آتے ہیں۔ لیکن کل وہ غیر محروموں کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثالیں آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ خود اپنے خاندان میں بھی۔ سے اس کی ایک مثال ڈاکٹر عبدالکلام ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں وہ ایک محروم شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن آج وہ ہندوستان کے صدر ہیں، اور دہلی کے راشٹرپتی بھون (قدیم وائس ریگل لاج) میں رہتے ہیں۔ ان کی حفاظت پر ہزاروں فوجی جوان مقرر ہیں۔ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، وغیرہ۔
ایک مجلس میں میں نے ایک سبق آموز واقعہ سنایا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میں ایک کار پر سفر کر رہا اچانک بہت زور کی آوازی آئی اور ہماری گاڑی رک گئی۔ میں نے سمجھا کہ کسی نے بھاری پتھر ہماری گاڑی پر پھینک دیا ہے۔ اس وقت ہماری گاڑی ریڈ لائٹ پر رکی ہوئی تھی۔ قصہ یہ ہوا کہ ایک ہندو نو جوان اپنی موٹر سائیکل تیزی کے ساتھ دوڑاتا ہوا ہماری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد موٹر سائیکل بھی گر گئی اور وہ نو جوان بھی سڑک پر گر پڑا۔ ہمارا ڈرائیور نہایت غصے میں گاڑی سے اترا اور ہندو نوجوان کی طرف بڑھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کو مارے گا لیکن معاملہ بالکل مختلف ہوا۔ ہندو نو جوان اُس وقت سڑک پر گرا ہوا تھا اس نے ڈرائیور کو دیکھتے ہی اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے عاجزی کے انداز میں کہا: بھائی صاحب! معاف کر دیجئے میں بہت غریب آدمی ہوں۔ نوجوان کے اس کھلے اعتراف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرائیور کا دل بالکل نرم پڑ گیا۔ اب ڈرائیور کے ذہن میں آیا کہ وہ نو جوان کو مارنے کے بجائے جلد از جلد اس کو اسپتال پہنچائے۔ اس کے بعد ڈرائیور نے یہ کیا کہ اس نے ایک اور گاڑی روکی، اور اس پر ہم کو بٹھا کر آگے کے لیے روانہ کیا اور خود یہ کیا کہ زخمی نوجوان کو اپنی گاڑی پر بیٹھا کر اسپتال لے گیا اور اس کو فرسٹ ایڈ پہنچائی۔ اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ مذکورہ نو جوان اگر ڈرائیور سے لڑ جاتا ، وہ اپنے کو بے قصور ظاہر کرکے ڈرائیور کو بُرا کہتا تو معاملہ مزید بڑھتا۔ اب ڈرائیور نو جوان کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کے
بجائے اس کو پولیس اسٹیشن لے جاتا۔ اس کے برعکس، جب نوجوان نے عاجزی کا اظہار کیا اور فوراً ہی اپنی غلطی مان لی تو ڈرائیور کے دل میں اس کے لیے ہمدردی آگئی۔ اب وہ یہ چاہنے لگا کہ نوجوان کو سزا دینے کے بجائے اس کو طبی مدد پہنچائی جائے۔
یہ واقعہ بظاہر ایک چھوٹا واقعہ ہے لیکن اس کے اندر بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ فریق ثانی کا دل آپ کی مٹھی میں ہے۔ آپ چاہے اس کو بھڑکاکر اس کو اپنا دشمن بنا لیجئے یا ٹھنڈا طریقہ اختیار کر کے اس کو اپنا دوست بنا لیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آپ کو بظاہر دشمن نظر آتا ہے وہ بالقوہ طور پر آپ کا
نزاعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ یہ بحث کرنے لگتے ہیں کہ صحیح کون ہے، اور غلط نزاعی معاملات میں اس قسم کی بحث سرتا سر بے معنی ہے۔ نزاعی معاملات کو ہمیشہ عملی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ یعنی نزاع کو ختم کرنے کی عملی تدبیر کیا ہے۔ نزاعی معاملے میں صحیح اور غلط کی بحث چھیڑنا مسئلے کو بڑھاتا ہے، اور نزاعی معاملے میں عملی حل کا طریقہ اختیار کر نازاع کو فوراً ختم کر دیتا ہے۔ جلد ہی آزادی کے ساٹھ سال پورے ہو جائیں گے۔ مگر ابھی تک ملک میں مطلوب ترقی نہ ہوسکی جب کہ اس سے کم مدت میں سنگاپور اور ساؤتھ کوریا اور جاپان جیسے ملک اعلیٰ ترقی حاصل کر چکے ہیں۔
انسانی ترقی کے اعتبار سے دنیا کے ۷۷ ملکوں میں ہندوستان کا نمبرے ۱۲ واں ملک ۔ اگر کہیں کچھ ترقی دکھائی دیتی ہے تو وہ آزادی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ زمانی اسباب کی بنا پر ہے۔ میں سیاسی آزادی نہ آتی تب بھی یہ ترقیاں یقیناً موجود ہوتیں، ٹھیک اُسی طرح جیسے آزادی کے بغیر ہندوستان میں ریلوے، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور اسٹیم انجن وغیرہ آچکے تھے۔
اس کا سبب میرے تجربے کے مطابق، یہ ہے کہ آزادی کے وقت ملک میں تعمیر و ترقی کا کام صحیح رخ پر شروع نہ ہوسکا۔ مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ سیاسی آزادی اپنے آپ میں ہر قسم کی بھلائیوں کا سر چشمہ ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یہ اندازہ صحیح نہ تھا۔ نہرو حکومت کا تصور یہ تھا کہ اقتصادیات پر حکومت کا
کنٹرول ہرفتم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ تشخیص بھی درست نہ تھی۔ انتہا پسند ہندو لیڈروں کا ماننا یہ تھا کہ بھگوا کرن (saffronisation) ہندوتو کے فارمولے میں ساری بھلائیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر وہ بھی عملی تجربے کے بعد ناکام ثابت ہوا۔
میرا نظریہ اس معاملے میں مختلف ہے۔ اس موضوع پر میں ۱۹۷۲ سے لکھتا رہا ہوں۔ یہ ہے کہ آزادی ملنے کے بعد فوراً ملک میں دو نکاتی پروگرام چلانا چاہیے تھا۔ تعلیم اور انفرااسٹرکچر۔ دوسری چیز کو موخر کر کے پہلا کام یہ کرنا تھا کہ سارے ملک میں تعلیم کا جال بچھا دیا جائے۔ مواقع اتنا زیادہ کیے جائیں کہ کوئی شخص تعلیم کے بغیر نہ رہے۔ اور دوسری چیز اچھا انفرااسٹرکچر یعنی سڑکیں، بجلی، ٹیلی فون، وغیرہ۔ سنگاپور، ساؤتھ کوریا اور جاپان میں جو ترقی ہوئی ہے وہ اسی دو نکاتی فارمولے کا نتیجہ ہے۔
تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کو با شعور بناتی ہے۔ وہ آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح تک پہنچاتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی قوم کے خواص اپنے عوام کو اعلی افکار اور تجربات سے باخبر کر سکیں۔ جس سماج میں تعلیم نہ ہو وہاں خواص اور عوام کے درمیان ایک قسم کا فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے گا۔ عوام اپنے خواص کے تجربات میں حصے دار نہ بن سکیں گے۔ خواص کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے ذہن ساز گروہ (opinion maker group) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس سماج میں لوگ تعلیم یافتہ ہوں تو وہ اتنے باشعور ہوں گے کہ وہ آسانی کے ساتھ اپنے خواص کی باتوں کو سمجھیں گے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں گے۔ مگر جس سماج میں تعلیم عام نہ ہوئی ہو وہاں گویا تعمیر و ترقی کے عمل کا آغاز ہی مشکل ہو جائے گا۔ مثلاً تعمیر و ترقی کے آغاز کے لیے ابتدا میں کچھ سخت فیصلے (hard decisions) لینے پڑتے ہیں۔ سماج کو اتنا باشعور ہونا چاہیے کہ وہ ان فیصلوں کو قبول کر سکے۔ مگر جب سماج کے لوگ باشعور نہ ہوں تو ہر ایسے موقع پر وہ بھڑک کر تعمیر و ترقی کے کام کو روک دیں گے۔
انفرااسٹرکچر کی اہمیت کسی سماج میں وہی ہے جو کسی گاڑی میں اُس کے پہیے کی ہوتی ہے۔
پہیہ ہو تو گاڑی چلے گی اور اگر پہیہ موجود نہ ہو تو گاڑی اپنا سفر ہی شروع نہ کر سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ترقی چاہتا ہے۔ ہر مرد اور عورت کے اندر بے پناہ حد تک یہ جذبہ ہے کہ وہ ترقی کے سفر کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھے۔ ایسی حالت میں ضرورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اچھا انفراسٹرکچر فراہم کر دیا جائے۔ اس کے بعد ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔
جیسا کہ معلوم ہے، مغربی ملکوں میں شہر اور گاؤں کے درمیان وہ فرق نہیں ہے جو انڈیا جیسے ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ سہولیات کے اعتبار سے وہاں کے گاؤں کی حالت تقریباً ویسی ہی ہے جیسا کہ وہاں کے شہر کی حالت ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ شہر میں زیادہ پھیلاؤ ہے۔ جب کہ گاؤں کی حیثیت ایک چھوٹی دنیا کی ہے۔
ان ملکوں میں یہ کیا گیا کہ انھوں نے شہر سے لے کر گاؤں تک ہر جگہ اچھی سڑکیں پھیلا دیں۔ ہر جگہ بجلی کا اعلیٰ انتظام کیا گیا۔ ٹیلی فون کا نظام ہر جگہ بہترین طور پر موجود ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جو ترقیاتی عمل میں ذریعے کی حیثیت رکھتی ہیں وہ ہر جگہ اعلیٰ پیمانے پر موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز یہی انتظام ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ترقی طلب حیوان (progress-seeking animal) ہے۔ وہ خود اپنے اندرونی جذبات کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا اس لیے ترقی کے عمل میں اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے اور اس کے لیے عمدہ انفراسٹرکچر فراہم کر دیا جائے۔ اس کے بعد انسان خود ہی ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔ بدقسمتی سے انڈیا میں اس راز کو سمجھا نہیں گیا۔ ہمارے لیڈر ترقی کے فطری فارمولے سے بے خبر رہے۔ وہ اپنا خود ساختہ فارمولا آزماتے رہے۔ اسی غیر فطری طریقے کا یہ نتیجہ ہے کہ انڈیا میں ترقی کا عمل درست طور پر جاری نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند کے تمام لیڈروں، مسلم اور غیر مسلم دونوں پر وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو میں نے ایک بار ماہنامہ الرسالہ کے صفحۂ اول پر شائع کیے
تھے: خوش فہم آدمی ایسے سفر کے اختتام کا انتظار کرنے لگتا ہے جس کا ابھی اُس نے آغاز بھی نہیں کیا۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اقتصادی ترقی کے کئی ماڈلوں کا تجربہ کیا گیا ہے۔ مثلاً روس کا ماڈل جو مکمل اسٹیٹ کنٹرول کے اصول پر مبنی تھا۔ انڈیا کا ماڈل جو مکسڈ اکانومی (mixed economy) کے اصول پر مبنی تھا۔ امریکہ کا ماڈل جو آزاد کمپیٹیشن کے اصول پر مبنی تجربہ بتاتا ہے کہ روس اور انڈیا کا ماڈل قابلِ بقا (sustainable) ثابت نہ ہو سکا اور ناکام ہو گیا۔ اس کے برعکس، امریکہ کا ماڈل دو سو سال سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ کسی سسٹم کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ قابلِ بقا ثابت ہو۔ جو سسٹم قابلِ بقا ثابت نہ ہو وہ غیر فطری ہے۔ سسٹم کا غیر فطری ہونا ہی اس کو قابلِ ردِ قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
میں نے مزید کہا کہ کسی سسٹم کو آئیڈیل سے جانچا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ اس دنیا میں آئیڈیل سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں۔ اس دنیا میں کسی سسٹم کو لینے کے لیے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ وہ قابلِ عمل ہے یا نہیں۔ کسی سسٹم کو آئیڈیل سے جانچنا تخیل پسند آدمی کا کام ہو سکتا ہے، مگر وہ حقیقت پسندانہ آدمی کا کام نہیں۔
۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو پروگرام ختم ہو گیا۔ انسٹی ٹیُوٹ والوں کا کہنا تھا کہ رات کو میں وار دھا میں ٹھہروں اور اگلی صبح کو یہاں سے روانہ ہو کر ناگپور جاؤں۔ لیکن میں نے یہ طے کیا کہ اس وقت شام کو مجھے ناگپور چلے جانا چاہیے۔ اس طرح واردھا سے روانہ ہو کر ۲۵ جنوری کی شام کو مغرب کے بعد ناگپور پہنچا۔
ناگپور میں میرا قیام مسٹر عبد السلام اکبانی صاحب کے مکان پر تھا۔ یہاں جسٹس ایم۔ (ریٹائرڈ) بھی آگئے۔ ان لوگوں کے ساتھ رات کا کھانا مسٹر عبدالسلام اکبانی کے گھر پر کھایا۔ بعد ہم لوگ دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ حسبِ معمول میں نے جسٹس ایم۔ قاضی سے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے آپ کے بعض خیالات کو ماننے میں تردّد ہوتا تھا۔ مگر اب تجربات کے بعد میں آپ سے متفق ہو گیا ہوں۔
ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کسی قسم کے عملی پروگرام سے نہیں کیا مسلمانوں کی اصلاح کا حقیقی کام صرف اُس فکری جدوجہد سے ہوسکتا ہے جس کو آپ ذہن کی تعمیر نو (re-engineering of mind) کہتے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی کمزوریاں کسی خارجی دشمن کی بنا پر نہیں ہیں وہ صرف مسلمانوں کے اپنے فکری زوال کی بنا پر ہیں۔ اور جب تک فکری کی سطح پر انقلاب نہ لایا جائے خارجی سطح پر کوئی انقلاب نہیں آسکتا۔
بہت پہلے جب کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن ٹرین سے سفر کرتے ہوئے کچھ گاؤں کے لوگ ملے۔ یہ لوگ زمین کے ایک مقدمے کے سلسلے میں اعظم گڑھ جارہے تھے تاکہ وہاں عدالت میں پہنچ سکیں۔ ایک بوڑھے آدمی نے اپنے کیس پر بات کرتے ہوئے کہا: آپن کا گد تو پورا رہو (اپنا کاغذ تو پورا رہے)۔ اس آدمی کا مطلب یہ تھا کہ میں نے کاغذی کارروائی کرکے قانونی شرطوں کو پورا کر لیا ہے۔ اب عدالت میں میرا معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہی معاملہ آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرے میں ”کاغذی کارروائی“ کو پورا کر رکھا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہن کے مطابق اپنے لیے ایک محفوظ دنیا بنائے ہوئے اس طرح ہر ایک فرضی یقین (false conviction) میں جی رہا ہے۔
کوئی روایتی مذہب پر قائم ہے۔ کوئی فارم والی بے روح دین داری پر عامل ہے۔ درگاہ میں حاضری دے رہا ہے۔ کوئی کسی مسجد اور مدرسے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی کسی جماعت کو پکڑے کوئی کسی بزرگ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کمیونٹی ورک میں مشغول ہے۔ تقریر اور تحریر کے میدان میں مصروف جہاد ہے، وغیرہ۔
ان چیزوں نے لوگوں کے اندر اپنے ہدایت یاب ہونے کا فرضی یقین پیدا کر دیا ہے۔ یقین اس میں رُکا وٹ بن گیا ہے کہ وہ نئی باتوں پر سوچیں ، وہ اپنے ذہنی خول کو توڑ کر کوئی نئی رائے بنانے کی کوشش کریں۔
فجر کی نماز کے بعد دوبارہ ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ عبد السلام اکبانی کے صاحب زادے
مسٹر زبیر احمد کمبانی ایک ذہین اور سنجیدہ نوجوان ہیں، اُن سے بھی کافی باتیں ہوئیں۔ مدرسے سے تعلق رکھنے والے دو صاحبان ملے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اکثر لوگ اپنے ذہن میں ایک معیار قائم کرتے ہیں اور اس کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ ہے کہ قرآن اور حدیث کو معیار بنایا جائے اور اس کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔ امام احمد بن حنبل نے اس نقطۂ نظر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ایتونی بشی من کتاب اللہ حتی اقول۔ گفتگو کے دوران میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ آپ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کیجئے۔ سلسلے میں میں نے ان لوگوں سے کہا کہ حدیث میں مؤمن کے بارے میں آیا ہے کہ: ان یکون بصیراً میں نے کہا کہ الرسالہ لوگوں کو ’’بصیر زمانہ‘‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہر بات قرآن اور حدیث سے اخذ کرنا چاہیے پھر قرآن اور حدیث میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ پڑھو۔
میں نے کہا کہ ہمارے علما یہ مانتے ہیں کہ علوم دو قسم کے ہیں— علوم عالیہ اور علوم آلیہ۔ نے کہا کہ اس تقسیم کے مطابق، ماہ نامہ الرسالہ کا تعلق علوم آلیہ سے ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، علوم آلیہ کی اہمیت علمی طور پر اتنی زیادہ ہے کہ ان کی تحصیل کے بغیر آپ لوگوں کو مدارس میں عالم اور فاضل کی سند نہیں ملتی۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔
ایک صاحب سے میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: قل ربی اللہ ثم استقم (کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور پھر اس پر جم جاؤ) اس سے معلوم ہوا کہ معرفتِ خداوندی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی تاحیات اس پر قائم رہے۔ تاحیات قائم رہنا کوئی سادہ بات نہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت کوئی نہ کوئی بات ایسی پیش آتی ہے جو آدمی کو سچائی کے راستے سے ہٹا دے۔ کسی وقت کوئی خواہش جاگتی ہے۔ کبھی کسی بات پر دل کو ٹھیس لگ جاتی ہے۔ کبھی کوئی ایسی خلاف مزاج بات پیش آتی ہے جو آدمی کی انانیت کو جگا دیتی ہے۔ کبھی کوئی انٹریسٹ (مفاد) آدمی کو اصولی روش سے ہٹا دیتا ہے۔ کبھی کسی بڑے فائدے کی امید آدمی کے اوپر غالب آ جاتی ہے۔
طرح کی مختلف چیزیں بار بار سامنے آتی ہیں۔ یہ باتیں آدمی کے ایمان اور استقامت کو ڈگمگادیتی وہ اللہ کی ربوبیت پر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آدمی روزہ اور نماز جیسے اعمال کے ذریعے جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ رہے گناہ تو وہ استغفار کے ذریعے معاف ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اگر جمعہ کی نماز عصر کے بعد ۸۰ مرتبہ یہ درود پڑھے تو اس کے ۸۰ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے:
اللهم صلّ على محمد بن النبی الأمّی وعلى آله وسلّم تسليماً میں نے کہا کہ یہ بلاشبہ دین خداوندی کا غلط تصوّر ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں اَمَانِی (البقرہ: ۱۱۱) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی خوش خیالیوں کو خدا کا دین سمجھ لینا۔ جس چیز کو آپ اعمال کہہ رہے ہیں وہ دراصل ظواہر اعمال یا اعمال کے فارم ہیں۔ جنت کا استحقاق کسی بھی قسم کی ظاہری اعمال کی ادائیگی یا کسی بھی قسم کے الفاظ کی لسانی تکرار پر نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق، وہ سرتا سرجنتی شخصیت کی تعمیر پر منحصر ہے۔
قرآن میں جنت کے بارے میں ہے کہ: ذلک جزاء من تزکّی (طہ: ۷۶)۔ جنت اُس شخص کے لیے جو اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ سے مراد داخلی شخصیت کی تطہیر ہے۔ جنت میں صرف مطہّر روح (purified soul) کو جگہ ملے گی۔ مطہّر روح وہ ہے جس نے افکار کے جنگل میں خدا کی معرفت حاصل کی۔ جس نے فراموشی کی دنیا میں خدا کی گہری یاد کا تجربہ کیا۔ جس کو اجتماعی زندگی میں منفی تجربات ہوئے مگر اس نے ان منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت روحانی غذا میں ڈھال لیا۔ غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا۔ جس نے اپنی خواہشات کو خدا اور رسول کے تابع بنا دیا۔ جو اس طرح جنت کا طالب بنا کہ دوسری تمام محبوب چیزیں اس کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ یہی تزکیہ نفس ہے، اور اس تزکیہ نفس کے بغیر کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف الفاظ کا علم کافی نہیں ہے۔ قرآن کی طرح، حدیث کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے اور دوسرا اس کا باطن ہوتا ہے۔
یہ ہے کہ حدیث کی داخلی معنویت کو سمجھے بغیر حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھا نہیں جاسکتا۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق جنتی انسان کی ایک پہچان یہ ہے کہ: قلبہ معلق بالمساجد۔ یعنی اس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو۔ عام طور پر اس حدیث کو مسجد کی عمارت سے وابستہ کر کے لیا جاتا ہے۔ یعنی مسجد میں آنا، جانا اور مسجد کی خدمت کرنا وغیرہ۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کا مطلب ہے قلبہ معلق باللہ۔ یعنی وہ انسان جس کا دل اللہ میں لگا ہوا ہو۔ وہ اللہ کو یاد کرتا رہے۔ زندگی کے ہر تجربے میں اس کو ربانی غذا ملتی رہے۔ جذبات اللہ سے وابستہ ہو گئے ہوں۔ وہ جہاں بھی ہو اور جس ماحول میں بھی ہو اس کا دل خدا کی یاد میں اس حدیث کا مطلب حقیقتاً خدا سے انسان کے تعلق کو بتانا ہے نہ کہ کسی عمارتی ڈھانچے سے اس کے تعلق کو بیان کرنا۔ مسجد کی اہمیت یہی ہے کہ وہ خدا کی یاد کی علامت ہے۔ مسجد معروف معنوں میں کوئی مقدس عمارتي ڈھانچہ نہیں۔ وہ اللہ میں جینے کی تربیت حاصل کرنے کا مرکز ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ترقیاں کیں۔ وہ علوم اور فنون میں ساری دنیا کے امام بن گئے۔ پھر انھوں نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی علمی پستی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسلم دشمنوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچیں۔ اس لیے وہ ہر پہلو سے ہم کو نیچے دھکیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دشمنی اور رقابت ایک عمومی حالت ہے۔ وہ ہر دور میں باقی رہتی ہے۔ زمانے میں جب مسلمانوں نے ترقی کی، تب بھی ان کے دشمن موجود تھے اور دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں کے باوجود انھوں نے ترقیاتی کام کیا۔ اسی طرح آج بھی مسلمانوں کو منفی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کرنا چاہیے۔ انھوں نے اس نقطۂ نظر کو نہیں مانا اور دیر تک بحث کرتے رہے۔ میں یہ کہہ کر بات ختم کر دیا کہ یہ بھی ایک ڈائمینشن ہے، یعنی یہ بھی سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ غلطی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے۔ وہ خوب صورت الفاظ بول کر اپنی غلطی پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ ایسا کر کے وہ بظاہر ہوشیاری کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ زبردست
کیوں کہ اس بے اعترانی کی انھیں بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کا علمی اور فکری ارتقا رک جاتا ہے۔
حیدر آباد سے ایک مجلہ ’’اقبال ریوِیو‘‘ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ نومبر ۲۰۰۵ میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ اس کا عنوان یہ تھا سید جمال الدین الہ آبادی۔ لکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے:
’’مشہور ہے کہ جب پیرس میں روسی سفیر نے سید جمال الدین افغانی سے ملنا چاہاتو انھوں نے ملاقات کی تاریخ ایسی مقرر کی جو دو ہفتے بعد آنے والی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک کتب فروش کے یہاں گیے اور اس سے کہا۔ مجھے فرانسیسی میڈیم میں، روسی زبان سکھانے والی کتاب چاہیے۔ میں اس کو خرید بشرطیکہ تم اس کا بھی انتظام کر دو کہ آج سے ایک ہفتے بعد کوئی روسی زبان بولنے والا آدمی مجھ سے ملاقات کر سکے۔
کتب فروش نے کتاب بھی دی، اور ایک ایسے شخص کا انتظام بھی کر دیا جو اس کے یہاں ملازم جمال الدین افغانی نے ایک ہفتے تک بطور خود کتاب دیکھی۔ پھر آٹھویں دن سے چودھویں دن تک روز ایک گھنٹہ اس سے روسی زبان میں باتیں کرتے رہے۔ اور پھر پندرہویں دن وہ تیار ہو گیے تھے کہ روسی سفیر سے بغیر کسی مترجم کی وساطت کے ملاقات کریں۔ ‘‘ (صفحہ: ۱۷) میری معلومات کے مطابق، سید جمال الدین افغانی کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ وہ انتہائی غیر معمولی حافظہ رکھتے تھے۔ اسی بنا پر انھوں نے بہت سی زبانیں سیکھ لیں۔ وہ جو کتاب بھی پڑھتے وہ انھیں یاد ہو جاتی۔ اپنی اس خصوصیت کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ مختلف زبانوں میں بات کر سکتے تھے۔ مزید یہ کہ جب وہ بات کرتے تو ان کی بات میں معلومات کا انبار ہوتا تھا۔ اس بنا پر لوگ ان کو بہت زیادہ قابل سمجھنے لگے۔ مگر یہ غیر معمولی قابلیت کی بات نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی حافظے کی
میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر غیر معمولی حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ تجزیہ
(analysis) کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات ہوتی ہے مگر وہ معلومات کا تجزیہ کر کے اس سے کوئی با معنی نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ ان کی گفتگو میں معلومات کا سیلاب ہوتا ہے۔ کو دیکھ کر لوگ غلطی فہمی میں پڑ جاتے ہیں اور ان کو قابل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت کمپیوٹر جیسی کمپیوٹر کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہیں مگر کمپیوٹر ایک قابل انسان کا بدل نہیں ہوتا۔ اس محلے میں ایک جگہ سید جمال افغانی کی تعریف کرتے ہوئے اقبال کے یہ الفاظ چھپے ہیں : ”ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی، اور اس نے ایران، مصر اور ترکی کے ممتاز ترین افراد کو متاثر کیا۔ “ (صفحہ: ۶)
یہ واقعہ ان کی شخصیت کی اصل کمی کو بتاتا ہے۔ ایسا دراصل اس لیے ہوا کہ سید جمال الدین افغانی صاحب معلومات تو تھے مگر وہ صاحب معرفت نہ تھے۔ ان کو سحر بیانی تو آتی تھی مگر وہ معاملہ فہمی کی صلاحیت سے خالی تھی۔
اصل یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی جن مسلم ملکوں میں گئے، ان کی خطابت اور سحر بیانی کی بنا پر انھیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کی رسائی ہر جگہ حکومت کے قریبی حلقوں تک ہوگئی۔ لیکن ہر جگہ یہ ہوا کہ وہ حکومت مخالف کارروائیوں میں مشغول ہوگئے ۔ ہر مسلم حکومت انھیں معیار سے کم نظر آئی ۔ کو معیاری بنانے کے لیے اس کی توڑ پھوڑ کے درپے ہو گئے۔ ایسا صرف ان کی بے دانشی کی بنا پر ہوا۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ کمی خود ان کی سوچ میں ہے نہ کہ حکومتی نظام میں۔ سید جمال الدین افغانی مختلف زبانوں میں اپنی مہارت کے باوجود اس حکمت کو سمجھ نہ سکے جو ایک انگریزی مقولے میں اس طرح بیان کی گئی ہے— معیار قابل حصول نہیں: