Al-Risala · June 2006

Ideal can not be achieved.

Al-Risala, June 2006, pp. 33–41

By Maulana Wahiduddin Khan

سید جمال الدین افغانی کو مسلم حکمرانوں میں جو کمی نظر آئی وہ قانون فطرت کا نتیجہ تھی، وہ مسلم حکمرانوں کی نالا ئقی کا نتیجہ نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی نظام، حتی کہ خود اسلامی نظام بھی، عملاً ہمیشہ اعلیٰ معیار سے کم (less than ideal) ہوتا ہے۔ کسی موجود سیاسی نظام کو غلط بتا کر اس کو توڑنے کی

تحریک چلانا ہمیشہ اس نتیجے پرختم ہوتی ہے کہ اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام قائم ہو جائے۔ ہے کہ تمام پر شعور سیاسی انقلابات کا نتیجہ صرف ایک ہوا ہے — ایک غیر معیاری نظام کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام لانا۔

ایسی حالت میں کسی مُصلحِ یارِ یفارمر کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ سیاسی نظام میں حالتِ موجودہ (statusquo) سے عدم تعرض کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تعمیری میدانوں میں پُر امن جد و جہد کرنا، موجودہ دنیا میں یہی واحد طریقہ ہے جو کسی مثبت نتیجے تک پہنچانے والا ہے۔ ایک مسلم خاتون انڈیا میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کناڈا چلی گئیں۔ اب وہ کناڈا کے ایک شہر میں مسلم بچوں کا ایک اسکول چلاتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے اسکول کا مقصد مسلم بچوں کی اسلامی شناخت (Islamic Identity) کو برقرار رکھنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں مسلمان کافی آباد ہیں۔ ان کی کمائی بھی اچھی ہے، لیکن ان کی نسلوں کو ایک سخت خطرے کا سامنا ہے۔ وہاں مغربی تہذیب کا دباؤ (pressure) اتنا زیادہ ہے کہ مسلم نوجوان بڑی تعداد میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی تہذیب اور کلچر کے اعتبار سے عیسائی طریقہ اختیار کر لیتا ہے اور کوئی اپنے دین کو بدل کر باقاعدہ عیسائی بن جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ دباؤ (pressure) کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل اسلام کی ناقص نمائندگی کا آپ جیسے مصلحین، اسلام کو جس طرح پیش کرتے ہیں وہ مسلم نوجوانوں کو صرف ایک کلچرل شناخت کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ کلچرل شناخت ان کو کوئی بڑی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ ایک طرف ان کے سامنے مغربی تہذیب کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اسلام صرف ایک رسمی شناخت یا بے روح فارم کا معاملہ نظر آتا ہے۔ اس تقابل کی بنا پر اُنھیں اسلام کی لکیر چھوٹی نظر آتی ہے اور مغربی تہذیب کی لکیر زیادہ بڑی۔ اس وجہ سے وہ اسلام کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ لوگ شناخت کی حفاظت کے مقصد کے تحت، اسکول قائم

اس قسم کی کوشش گویا سیلاب کے آگے تنگوں کا بند بنانا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے وہ یہ کہ آپ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے اسلوب اور اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ تا کہ مسلم نو جوانوں کو اسلام زیادہ عظیم، اور زیادہ بامعنی چیز نظر آنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم اسی نہج پر کوشش کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہماری کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔

مزید میں نے کہا کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں کچھ مصلحین اُٹھے۔ مثلاً سید قطب، محمد اقبال اور سید ابو الاعلیٰ مودودی وغیرہ۔ ان لوگوں کو وقتی طور پر کچھ جزئی کامیابی ہوئی۔ مگر اب ان کا پیدا کردہ لٹریچر بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہو کر رہ گیا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں، مسلم دنیا میں مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو مغربی قوموں سے سخت قومی نفرت پیدا ہو گئی۔ اُس دَور کے مسلم مصلحین نے اِسی نفرت کو استعمال کیا۔ اُس وقت اُن کو مسلم نو جوانوں میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اسی منفی نفسیات کے ماحول میں رَدِّ عمل کی بنا پر ہوئی۔ اُن کی مقبولیت منفی بنیاد پر قائم تھی نہ کہ مثبت اور منفی بنیاد پر قائم ہونے والی تحریک کبھی دیر پا ثبت نہیں ہوتی۔ ایک عربی مثل ہے کہ: لا حُبّ علي بل لَبغض مُعاوية (حُبّ علی کی وجہ سے نہیں بلکہ بغض معاویہ کی وجہ سے)۔ اس مثال کا تعلق صرف علی اور معاویہ کے معاملے سے نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے عمومی مزاج کو بتاتی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول کے سیاسی حالات میں مسلمان بغض مغرب کی نفسیات میں مبتلا تھے۔

ایسے ماحول میں جب اکبر الٰہ آبادی اور اقبال نے مغرب کے خلاف اشعار لکھے اور سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی نے مغرب کے خلاف ادبی انداز میں تنقیدیں کیں۔ سید جمال الدین افغانی اور ابو الکلام آزاد نے جب مغرب کے خلاف پُر شور خطاب کا مظاہرہ کیا تو اُس وقت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی طرف مائل ہو گئی۔ یہ مصلحین چوں کہ اپنے منفی کلام کے حق میں قرآن اور حدیث کے حوالے دیتے تھے، اس لیے لوگوں نے سمجھا کہ لوگوں کا یہ رجوع اسلام

کی طرف رجوع ہے۔ حالاں کہ یہ سارا معاملہ ’’بغضِ معاویہ‘‘ کی نفسیات کے تحت تھا نہ کہ ’’حب علی‘‘ کی نفسیات کے تحت۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی منفی تحریکیں کبھی کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ مثبت نفسیات سے منفی کردار کا ابھرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ ببول کے بیج سے انگور کا پھل پیدا ہونا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، مسٹر اور مولوی، دونوں ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر اسلامی بیداری آئی ہے۔ حتیٰ کہ یہ لوگ موجودہ زمانے کے عہد کو اسلامی بیداری کا عہد کہتے ہیں۔ یہ نظریہ صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی پر قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے اسلام سے دوری کا زمانہ ہے نہ کہ اسلام سے قربت کا زمانہ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد جب بہت زیادہ ہو جائے تو ان کے درمیان ہر کام اسلام کے نام پر ہونے لگتا ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارا کام اسلامی کام ہے۔ حالاں کہ یہ سب کام قومی کام ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً اسلامی کام۔

موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد ایک بلین سے زیادہ اپنی قومی روایات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو اس کو اسلام کے نام پر مثلاً اسلامی اسکول، اسلامی کالج، اسلامی یونیورسٹی، اسلامی یتیم خانہ، اسلامی وقف، اسلامی ریڈیو، اسلامی ٹی وی، اسلامی صحافت، اسلامی بینکنگ، اسلامی سیاست، اسلامی اجتماع، اسلامی نقل وحرکت، اسلامی مشن، اسلامی تحریک، اسلامی ملک، اسلامی لٹریچر، اسلامی ادارہ اور اسلامی مدرسہ، وغیرہ۔ گہرائی سے دیکھیے تو یہ سارے کام قومی کام ہوتے ہیں۔ وہ قومی جذبے کے تحت کیے جاتے ہیں، وہ کسی قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اسلام (بمعنی دین خداوندی) سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر اسلام کا لیبل ہونے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارے اسلامی کام ہیں، وہ سب کام ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس معاملے میں غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے غلط کرائٹیرین (معیار) بنا ر کھے ہیں اسلام میں اصل کرائٹیرین رسول اور اصحاب رسول کا ہے۔ کوئی کام اسلامی ہے یا غیر اسلامی، اس کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ اس کو رسول اور اصحاب رسول کے نمونے کی روشنی میں جانچا اگر وہ اس نمونے کے مطابق ہے تو وہ اسلامی ہے اور اگر وہ اس نمونے کے خلاف ہے تو وہ غیر

ایک صاحب نے ایک معروف اسلامی مقرر کی بہت تعریف کی ۔ انھوں نے ان کی تقریروں کو بڑا اسلامی کام قرار دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان اسلامی مقرر کے جلسے میں خوب تالیاں بجتی ہیں انھوں نے کہا کہ خوب تالیاں بجتی ہیں۔

پھر میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ اور مدینہ میں خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں تالیاں بجتی تھیں ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق جیسے اصحاب رسول جب خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں حاضرین کی طرف سے تالیاں بجتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ لوگوں نے اگر چہ ان کا نام اسلامی مقرر رکھا ہے مگر وہ اسلامی مقرر نہیں ہیں بلکہ وہ قومی مقرر ہیں۔

انھوں نے پوچھا کہ اسلامی مقرر اور قومی مقرر کے درمیان کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی مقرر کی باتوں سے دلوں میں خدا کا خوف جاگتا ہے۔ لوگوں کے اندر تقویٰ اور خشیت کی کیفیت پیدا لوگ خدا کی یاد میں تڑپ اٹھتے ہیں۔ جو تقریر اس قسم کی کیفیات پیدا کرے، اس کو سن کر تالیاں نہیں بجیں گی بلکہ آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں گے۔

اس کے برعکس، قومی مقرر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قومی جذبات کو غذا دیتا ہے۔ اس کو سن کر فخر کی نفسیات جاگتی ہے۔ اس میں اپنا قومی جھنڈا اونچا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے ایسے اسلامی مقرر کو قومی شیر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کی تقریروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ قومی کاروبار ہے نہ کہ اسلام کی کوئی حقیقی خدمت ۔

پھر میں نے کہا کہ حدیث کی روشنی میں دیکھیے تو اسلامی کام کے لیے ہمیں ایک واضح معیار ملتا وہ معیار یہ ہے کہ جو کام کیا جائے اس سے لوگوں کے اندر دو چیزیں پیدا ہوں: تقوى الله وحُسْن الخلق (الترمذی) یعنی اللہ کا خوف، اور انسانوں کے ساتھ حُسنِ اخلاق۔ یہی کسی کام کی جانچ کا صحیح اسلامی معیار ہے۔

کسی کام کی حقیقت کو جاننا ہو تو یہ دیکھیے کہ اس سے وابستہ لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج پیدا اگر ان کے اندر خدا سے خوف اور انسانیت عامہ کے ساتھ خیر خواہی کا مزاج بن رہا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ صحیح اسلامی کام ہے۔ اور اگر اس کے ذریعے فخر، نمائش، کبر، اظہار برتری، خود غرضی اور غیر سنجیدگی جیسا مزاج بنتا ہو تو سمجھ لیجیے کہ یہ قومی کام ہے نہ کہ اسلامی کام۔ یہاں ایک سبق آموز واقعہ قابلِ ذکر ہے جو ایک قاری الرسالہ کے ساتھ پیش آیا۔ الرسالہ کی شادی ایک دینی گھرانے میں ہوئی۔ مگر یہاں ایک بہت بڑا مسئلہ موجود تھا۔ بڑے بھائی نے اپنی پسند کے مطابق، ایک ماڈرن لڑکی سے شادی کرلی۔

یہ لڑکی جب گھر میں بہو کی حیثیت سے آئی تو گھر میں سنگین مسائل پیدا ہوگئے۔ کیوں کہ گھر کا رہن سہن روایتی انداز کا تھا، اور یہ لڑکی ماڈرن انداز میں رہنا چاہتی تھی۔ اس اختلاف کے نتیجے میں بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ گھر میں بول چال بند ہوگئی اور مذکورہ بھائی اپنی بیوی کو لے کر الگ رہنے لگے۔

بھائی کو کسی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ یہ سارا جھگڑا میری بہن نے پیدا کیا ہے۔ انھوں نے اپنی بہن سے بولنا چھوڑ دیا۔ اس معاملے میں وہ اتنا زیادہ سخت ہو گئے کہ جب بہن کا نکاح ہوا اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر گئیں تو بھائی رخصتی کے وقت بھی ان سے ملنے کے لیے نہیں آئے۔ تعلقات میں بگاڑ کا یہ ماحول پورے سات سال تک جاری رہا۔

اس اثناء میں بہت سے علماء نے یہ کوشش کی کہ دونوں کے درمیان صلح ہو جائے، اور جھگڑا ختم مگر صلح نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ علماء دو طرفہ بنیاد پر صلح کی کوشش کر رہے تھے۔

فریقین سے کہتے تھے کہ ماضی کو بھلا دیجئے اور اچھے رشتے دار کی طرح باہمی تعلق قائم کرکے زندگی لیکن اس قسم کا وعظ فریقین کے لیے کسی طرح نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا تھا۔ آخر کار الرسالہ کے مذکورہ قاری نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں قرآن کی روشنی میں ، بتایا گیا تھا کہ نزاعی معاملات کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتے۔ ان کو حل کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ایک فریق اپنی غلطی کا اعتراف کرکے دوسرے فریق سے معافی مانگ یہی یک طرفہ اعتراف اس طرح کے معاملے میں واحد مؤثر حل ہے۔

اس کے بعد مذکورہ قاری الرسالہ نے معاملے پر از سرِ نو غور کیا۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اس طریقے کا تجربہ کرو۔ چناں چہ بیوی نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا۔ اس خط میں انھوں نے یک طرفہ طور پر کھلے انداز میں خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اور بھائی سے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ساری صرف غلطی صرف میری تھی۔ اب میں آپ سے معافی مانگتی ہوں ، آپ مجھے معاف فرما دیں۔ میں سارا قصور میرا ہے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ میری ہی بد قسمتی تھی کہ میں رخصتی کے وقت بھی آپ سے مل کر آپ کی دعا نہ لے سکی۔

بہن کا یہ خط جب بھائی کے پاس پہنچا تو اس کو پڑھنے کے بعد اچانک ساری برف پگھل گئی۔ بھائی اور ان کی بیوی دونوں نے اس خط کو پڑھا اور دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ خط میں اگرچہ بہن نے اپنے آپ کو غلط بتایا تھا لیکن جب دل بدلے تو بھائی اور ان کی بیوی دونوں کو محسوس ہوا کہ غلطی در اصل انھیں کی تھیں۔

اس کے بعد بھائی نے نہایت محبت کے انداز میں اپنی بہن کو خط لکھا اور کہا کہ تمہارے خط کے بعد ہمارے دل کا تمام غبار دھل گیا ہے۔ اب میرے دل میں تمھارے لیے وہی محبت ہے جو ایک بھائی کے دل میں اپنی بہن کے لیے ہونا چاہیے۔ اسی کے ساتھ بھائی نے اپنی بہن کے لیے تحفے تحائف بھی انھوں نے اپنی بہن سے فون پر تفصیلی بات چیت کی ، اور رورو کر گہرے جذبات کے ساتھ معافی اور ندامت کا اظہار کیا۔ اب دونوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو گئے ہیں۔

ناگپور میں ایک قابلِ ذکر نام مسٹر عبد السلام چاؤس کا ہے۔ انھوں نے طویل محنت کے بعد ایک بڑا کام کیا ہے۔ وہ یہ ہے مرھی جاننے والوں کے لئے انگریزی زبان میں کتابیں تیار کرنا۔ ان کی کتابیں طلبہ نیز عوام میں کافی مقبول ہیں۔ ان کی کوششوں سے اب ان کا یہ کام انسٹی ٹیوشن کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنی محنت سے بڑے بڑے کام کر سکتا حال میں انھوں نے مراٹھی - انگریزی ڈکشنری تیار کی ہے۔ ۵۰۷ صفحات پر مشتمل اس کتاب کا نام یہ ہے: چاؤس مراٹھی- انگریزی ڈکشنری: (चاؤस मराठी - अंग्रेजी डिक्शनरी) ناگپور، بمبئی کے بعد مہاراشٹر کا دوسرا اہم شہر ہے۔ اس علاقے کو ۱۹۷۲ سے پہلے سنٹرل پراونس (مرکزی صوبہ) کہا جاتا تھا۔ پچھلے دس برسوں میں یہاں ڈیویلپمینٹ کا کام بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس سفر کے دوران مجھے ناگپور میں تقریباً بیس گھنٹے کا وقت گذارنے کا موقع ملا۔ ناگپور میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک مسٹر عبد السلام چاؤس (پیدائش اُن کی زندگی میں مجھے ایک بڑا سبق نظر آیا۔

وہ مہاراشٹر کے ایک گاؤں میں ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ان کی ابتدائی زندگی بظاہر کسی غیر معمولی واقعے سے خالی تھی۔ انھوں نے ناندیڑ کے ایک کالج سے بی۔ ایس سی کیا۔ اس کے بعد کچھ ایسے ناخوشگوار اسباب پیش آئے کہ انھیں اپنے گھر سے الگ ہو جانا پڑا۔ تقریباً آٹھ سال وہ اپنے گھر سے پوری طرح بے تعلق رہے۔ بے تعلقی کی یہ مدت ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی۔ ان کے مشکل حالات نے ان کے اندر عمل کا جذبہ جگایا۔ بظاہر ایک زیرو انسان اپنی کوشش سے ایک ہیرو انسان بن گیا۔

مسٹر عبد السلام چاؤس نے مراٹھی اور انگش زبان میں درسی کتابوں کو اپنا خصوصی میدان بنایا۔ انھوں نے اس سلسلے میں کئی بڑی بڑی کتابیں لکھیں، جو پورے مہاراشٹر میں بے حد مقبول ہوئیں۔ کی تازہ کتاب مراٹھی - انگش ڈکشنری ہے۔ اس کا نام چاؤس ڈکشنری ہے۔

بمبئی کے ایک بڑے گجراتی بک سیلر نے کہا کہ "چاؤس" کا نام اب بک ٹریڈ میں ایک برانڈ

بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی تازہ کتاب (چاؤس ڈکشنری) مارکیٹ میں آئی تو لوگوں نے صرف ٹائٹل دیکھ کر اس کو خرید لیا۔ ان کو یقین تھا کہ جس کتاب کا آتھر چاؤس ہے وہ یقیناً اچھی کتاب ہوگی۔ مسٹر عبد السلام چاؤس کے بھائی عبد الرحمن چاؤس (پیدائش ۱۹۷۵) انٹر نیشنل بک فہر کے تحت دہلی آئے۔ وہ اس بک بزنس میں اپنے بھائی کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ اب ’’چاؤس برادرس‘‘ کے نام سے ہر جگہ مشہور ہو گئے ہیں۔ چاؤس کا نام اب عزت کا ایک نام بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے بتائے ہوئے اصول’’دینے والے بنو‘‘ کا کرشمہ ہے۔ اپنی زندگی میں اس کا عملی تجربہ کیا ہے۔ مراٹھی اسپیکنگ لوگوں کو ہم نے ایسی کتابیں دیں جو اُن کی ضرورت تھیں لیکن وہ مارکیٹ میں موجود نہ تھیں۔ چنانچہ ان کتابوں کی عمومی مقبولیت کی راہ میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب حائل نہیں ہوا۔ ’’چاؤس بردرس‘‘ کو برابر اعتراف کے خطوط ملتے رہتے ہیں۔ میں ایک ہندو نے ان کی ایک کتاب کے بارے میں اپنے خط میں لکھا:

Printed page