Al-Risala · June 2006

This is the thing we wanted most.

Al-Risala, June 2006, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لوگ اپنی کتابوں کے اشتہار انگریزی اور مراٹھی اخبارات میں دیتے ہیں۔ یہ تمام اخبارات ہندو لوگوں کے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا معاملہ حد درجہ کو آپریٹیو ہوتا ہے۔ مثلاً مسٹر بال ٹھاکرے کا مراٹھی اخبار’’سامنا‘‘ ایک ڈیلی اخبار ہے۔ اس میں ان کی کتابوں کے اشتہار چھپے ہیں۔ سامنا والوں نے ان کی اتنی زیادہ قدردانی کی کہ بہت زیادہ رعایتی ریٹ پر اُن کے اشتہارات چھاپنے لگے۔ عام مسلمان بال ٹھاکرے کو بطور خود مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ مگر چاؤس بردرس کے لیے وہ ایک بہترین دوست بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ ہماری اپنی جھوٹی سوچ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لیتی ہے۔ یہ لوگ مہاراشٹر کے انگریزی، مراٹھی اور ہندی اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیتے ان کی بزنس کا بہت بڑا انحصار ان اخبارات پر ہے۔ ان تمام اخبارات کے مالک ہندو ہیں۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ رعایت کا معاملہ کرتے ہیں۔

ناگپور میں میری ملاقات مسٹر عبدالاسلام چاؤس سے ہوئی تو میں سب سے زیادہ متاثر ان کی سادگی سے ہوا۔ میں ان کے گھر پر بھی گیا۔ لیکن میں نے پایا کہ ان کی پوری زندگی حد درجہ سادگی کی مثلاً وہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے بڑی گاڑی رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ابھی تک ماروتی کی چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کی پوری زندگی سادگی پر مبنی ہے۔ آمدنی کی نسبت سے ان کی سادہ زندگی ایک انوکھا نمونہ ہے۔

سادگی کا اصول انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سادگی، آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کی نظر اصل نشانے سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کا وقت اور اس کا پیسہ اور اس کی توجہ سب کا سب صرف ایک چیز پر خرچ ہو، اور وہ اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤس نے اس سلسلے میں کہا— با مقصد انسان ہمیشہ ایک قناعت پسند انسان ہوتا ہے۔ جس آدمی کے سامنے ایک مقصد ہو وہ دنیوی چیزوں کے معاملے میں ضرورت پر قناعت کر لیتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سادگی کسی بھی انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ہے کہ— سادہ زندگی اور اونچی سوچ (Simple living, high thinking)۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کو زیادہ بامعنی طور پر اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ — سادہ زندگی اور بڑی ترقی: Simple living, high success. قدیم زمانے میں سادہ زندگی ایک عام چیز تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں سادہ زندگی کے لیے سخت قسم کی شعوری جدوجہد درکار ہے۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا فتنہ کنزیومرازم قدیم ڈکشنری میں یہ لفظ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ آج کنزیومرازم نے ایک عمومی فتنے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ہر عورت اور مرد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ لوگوں کی آمدنی کا بڑا حصہ کنزیومر گڈس (consumer-goods) کو حاصل کرنے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ کنزیومرازم کے اس فتنے سے اپنے کو بچا لے اس پر فانی بدایونی کا یہ شعر صادق آئے گا: فریب جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذ اللہ! بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھایا پا

اس شعر میں آخری مصرعے کو اگر اس طرح پڑھا جائے تو وہ صورت حال کے عین مطابق ہوگا: بڑی مشکل سے دل کو بزم شامنگ سے اٹھایا پا یا مسٹر عبدالسلام چاؤس کی ایک مراٹھی کتاب انگلش اسپیکنگ کے موضوع پر ہے۔ اس کتاب کا مراٹھی نام یہ ہے: انگریزی مدھیہ بولا پٹکن ، یعنی انگریزی یولو فوراً۔ اس کتاب کے ڈیڈیکشن میں انھوں نے اپنی بیوی کے بارے یہ الفاظ لکھے ہیں:

An uncommon woman, her full support which includes countless sacrifices, has made this book possible. یہ جملہ ایک چشم کشا جملہ ہے۔ اس میں ہر آدمی کے لیے سبق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کا رول کسی انسان کی زندگی میں فیصلہ کن رول کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی انسان کو آپ تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں تو یقین کر لیجیے کہ اس کی تباہی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ اسی طرح آپ کسی انسان کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھیں تو سمجھ لیجیے کہ اس کی کامیابی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ یہ ایک ایسا عمومی اصول ہے جس میں شاید ہی کوئی استثناء ملے گا۔ میرے تجربے کے مطابق، اس اعتبار سے کسی عورت کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ صبر کی حد تک سادہ زندگی کو اختیار کرنے والی ہو۔ اس معاملے میں ایک رہنما مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ مدینے میں تھے تو آپ کی ازواج نے آپ سے مزید نفقے کا مطالبہ اس سلسلے میں بہت سے واقعات کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں، قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:

اپنی بیویوں سے کہو کہ اگرتم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تم کو کچھ مال ومتاع دے کر خوبی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کرداروں کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے (الاحزاب: ۲۸-۲۹) قرآن کی اس آیت میں ایک وقتی واقعے کے حوالے سے ایک عمومی اصول بتایا گیا ہے۔

اصول یہ ہے کہ ــــ ایک با مقصد انسان (man of mission) پر تکلف زندگی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ با مقصد انسان کے لیے سادگی کسی مجبورانۂ روش کا معاملہ نہیں، سادگی اس کے لیے ایک عظیم اصول حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ با مقصد انسان کا سوچا سمجھا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنا سب کچھ مشن کی راہ میں لگانا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ یہی کرے گا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ہر پہلو سے سادگی کو اختیار کرے گا، اور اپنے مال کو صرف مشن کے فروغ میں لگائے گا۔

اس آیت میں پیغمبر اسلام کی ازواج کو یہی حقیقت یاد دلائی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تم جس انسان کی زوجیت میں ہو وہ ایک صاحبِ مشن انسان ہے۔ وہ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے جینے والا انسان ہے نہ کہ صرف اپنی ذات کے لیے جینے والا انسان۔ ایسی حالت میں تم کو جان لینا چاہیے کہ تم اگر رسول کی رفاقت چاہتی ہو تو تم کو سادہ زندگی پر راضی ہونا پڑے گا۔ پر راحت زندگی اور صاحبِ مشْن انسان کی رفاقت، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ کے ذریعے ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ سہارا ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جیسا کہ اخباروں میں آ چکا ہے، سہارا ایر لائنز اب جیٹ ایئر لائنز میں شامل ہو جائے گی۔ اعلان کے مطابق، یہ شئر ایکوزیشن سمجھوتہ ہے۔ ۵۰۰ ملین ڈالر میں حصے داری خرید کا یہ سمجھوتہ ہوا ہے۔

انڈیا میں آج کل پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں بہت بڑھ رہی ہیں۔ مگر انڈیا میں ہوائی سفر اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کو حکومت کے قبضے سے نکال کر مکمل طور پر پرائیویٹ کمپنیوں کو نہ دے دیا جائے۔ بظاہر یہ ایک مشکل کام معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہندوستان میں تین بڑے ہوائی اڈوں کے متعلق، یہ بات عرصے سے چل رہی ہے مگر آج تک اس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے چین ایک کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ سبب یہ ہے کہ انھوں نے اقتصادی معاملات کو پوری طرح پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا ہے۔ ایک علامت یہ ہے کہ انڈیا میں تین بڑے ہوائی اڈوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کی تجویز ابھی تک

واقعہ نہ بن سکی۔ جب کہ چین میں ۸۰ ہوائی اڈوں کو پوری طرح پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا گیا ہے۔ اس بنا پر وہاں بین الاقوامی تجارت کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو ساڑھے آٹھ بجے دہلی ایئر پورٹ پہنچا۔ ایئر پورٹ سے باہر آکر جب میں گاڑی میں بیٹھا تو سعدیہ نے ایک انوکھی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی ہوم سک (homesick) ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ تمام لوگ پیراڈائز سک

ہر عورت اور مرد اپنے دل میں پیراڈائز کی یاد لیے ہوئے ہیں۔ وطن سے دوری کا احساس جس کو لوگ عام طور پر ہوم سک سمجھ لیتے ہیں وہ دراصل زیادہ بڑے پیمانے پر پیراڈائز سک ہونے کا معاملہ جنت کے شعور سے بے خبر ہونے کی بنا پر یہ لوگ اپنے احساس کو اپنے گھر سے جوڑ دیتے ہیں۔ اگر انھیں جنت کا شعور حاصل ہو تو وہ جان لیں گے کہ وہ دراصل پیراڈائز سک تھے، اگر چہ انھوں نے غلطی سے اپنے آپ کو ہوم سک سمجھ لیا۔ یہ بات سعدیہ نے انگریزی میں کہی تھی میں نے اس کو یہاں اردو میں منتقل کر کے لکھا ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی

Printed page