Al-Risala · July 2006

کنزیومر کمیونٹی

Al-Risala, July 2006, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کسی مذہبی کمیونٹی پر سیکڑوں سال گزر جائیں، اور وہ عددی اعتبار سے ایک بڑی کمیونٹی بن جائے تو اس کی حیثیت ایک کنزیومر کمیونٹی کی ہو جاتی ہے۔ ٦١٠ عیسوی میں پیغمبر اسلام اکیلے مومن تھے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ایک گروہ تیار ہوا جو عددی اعتبار سے ایک محدود گروہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت جو گروہ بنا وہ کوئی کنزیومر گروہ نہ تھا۔ لیکن آج مسلمان ساری دنیا میں سات بلین ہو چکے صرف ہندوستان میں ان کی تعداد ہیں کروڑ سے زیادہ ہے۔

اس طرح آج کے مسلمان پورے معنوں میں ایک کنزیومر کمیونٹی بن چکے ہیں۔ درمیان ہر قسم کے تجارتی مواقع کھل گئے ہیں۔ تسبیح اور مصلیٰ ، اسلامی موبائل ، اسلامی ٹی وی ، اسلامی لٹریچر ، اسلامی اجتماع اور اسلامی تحریک، اسلامی ادارہ اور اسلامی سروس، اسلامی سیاست اور اسلامی قیادت، اسلامی میڈیا اور اسلامی دفاع، اسلامی کمپیوٹر اور اسلامی انسائیکلوپیڈیا، اسلامی تقریر اور اسلامی تحریک، اسلامی نظام اور اسلامی بینکنگ حتیٰ کہ زمزم اور کھجور، وغیرہ۔

اس قسم کی تمام چیزوں پر بظاہر اسلام کا لیبل لگا ہوا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک قسم کا سامان تجارت (commodity) ہیں ۔ وہ لوگوں کے لیے اسی طرح مفید ہیں جس طرح عام تجارتی سرگرمیاں مفید ہوتی ہیں۔ اب اسلام کے نام پر وہ سارے مادی فائدے حاصل ہورہے ہیں جو پہلے صرف عام تجارتوں کے ذریعے حاصل ہوتے تھے۔ میڈیا کی شان وشوکت نے ان فوائد میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔

غالباً یہی وہ صورت حال ہے جس کے بارے میں پیغمبر اسلام نے پیشگی طور پر خبر دے دی تھی۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: ویقال للرجل ما أعقله وما أظرفه وما أجلده، وما في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، جلد: ۱۱، صفحه: ۳۲۱) یعنی میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ ایک شخص کی شان دار کارکردگی کو دیکھ کر کہا جائے گا کہ

وہ کتنا زیادہ عقل والا ہے، وہ کتنا زیادہ ظرف والا ہے، وہ کتنا زبردست ہے۔ حالاں کہ اس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔

اس حدیث پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ مذہب ایک پروفیشنل چیز بن جائے گا۔ لوگ اسلام کو پروفیشن یا کیریئر کے طور پر اختیار کریں گے۔ معلوم بات ہے کہ پروفیشنل کلام یا پروفیشنل سلوک ہمیشہ ظاہری طور پر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ پروفیشنل سیلس مَین ہمیشہ عام انسانوں سے زیادہ، خوش گفتاری کا ثبوت دیتا ہے۔ حالاں کہ اس کے دل میں کوئی حقیقی جذبہ نہیں ہوتا۔ یہ کنزیومر ایتھکس ہے۔ جب مسلم کمیونٹی ایک کنزیومر کمیونٹی بن جائے تو اس کے بعد اسی کردار والے لوگ پیدا ہوتے ہیں جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں دین و شریعت دین اسلام کا ایک فکری مطالعہ

Printed page