Al-Risala · July 2006

صلاحیت کا کم تر استعمال

Al-Risala, July 2006, pp. 15–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ غالب کو اپنی زندگی میں کچھ نا خوشگوار تجربات پیش آئے۔ اس پر اپنے ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہُوائے انھوں نے کہا:

زندگی اپنی جب اس طرح سے گذری غالب ! ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے میں نے کہا کہ غالب زندگی کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ زندگی میں مشکلیں کا پیش آنا اس لیے تھا تا کہ غالب خدائے برتر کو یاد کریں۔ وہ خدا سے تعلق قائم کر کے اپنے اندر اعلیٰ روحانی شخصیت کی تعمیر مگر انھوں نے مشکلات کے مقابلے میں صرف منفی تاثر لیا۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ وہ اس کو مثبت تاثر میں ڈھال دیں۔ اسی طرح غالب کا ایک اور شعر اس طرح ہے:

رنج کا خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلات مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں یہ بھی غالب کی ایک سنگین غلطی ہے۔ مشکل کا عادی ہو کر اس کو اپنے لیے قابل برداشت بنا لینا کوئی صحیح بات نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی مشکل کو اپنے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنا سکے۔ وہ مشکل کو چیلنج کے روپ میں لے نہ کہ عادت کے روپ میں۔ غالب کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا کہ ان کو اپنے زمانے میں کوئی رہبر نہیں ملا جو ان کو صحیح سوچ دے، جو ان کی فکری رہنمائی کرے، جو ان کو فکری ارتقاء کا راز بتائے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ غالب اپنی اعلیٰ ذہانت کے با وجود صرف شاعر ہو کر رہ گئے۔ وہ سخن وری میں اپنا کمال حالاں کہ اپنی اعلیٰ ذہانت کی بنا پر وہ اس قابل تھے کہ کوئی بڑا علمی اور فکری کارنامہ انجام وہ شاعر کے بجائے مفکر بن سکیں۔ اور پھر انسان کو فکری رہنمائی عطا کریں مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ اپنی صلاحیت کے صرف کم تر استعمال تک پہنچے، وہ لوگوں کو شاعرانہ اہتزاز سے زیادہ اور کچھ نہ دے سکے۔ کہا جاتا ہے کہ غالب نے الطاف حسین حالی سے کہا تھا کہ تم اگر شاعری نہیں کرو گے تو اپنے آپ پر ظلم کرو گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ غالب خود اپنے بارے میں یہ دریافت کریں کہ میں نے شاعری کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔

میڈیٹیشن ایک مستقل ڈسپلن ہے۔ میڈیٹیشن کا مقصد اسپرچول ڈیویلپمنٹ ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ کا تعلق، فارمل ایجوکیشن سے ہے، اور اس کے مقابلے میں میڈیٹیشن کا تعلق، انفارمل ایجوکیشن سے۔ میڈیٹیشن یا اسپرچول ڈسپلن کے کئی طریقے ہیں اور وہ کسی نہ کسی صورت میں قدیم زمانے سے چلے آ رہے ہیں۔

میرے تجربے کے مطابق، میڈیٹیشن یا اسپرچول ڈسپلن کے دو بڑے اسکول ہیں۔ ایک وہ جو مراقبہ (Meditation) پر مبنی ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ جو تفکر (Contemplation) کی بنیاد پر قائم پہلا اسکول مبنی بر قلب (heart-based) اسکول ہے، اور دوسرا اسکول مبنی بر ذہن میں ذاتی طور پر تفکر والے اسکول سے تعلق رکھتا ہوں۔ اسپرچوئلٹی کا جو اسکول میڈیٹیشن یا مراقبے پر قائم ہے اس کو مسلم تاریخ میں تصوف کہا جاتا ہے۔ تصوف میں بہت سی چیزیں ویدانتاسے لی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف اور ویدانتا میں بہت زیادہ دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اگر چہ ویدانتا کا ریفرنس پوائنٹ (reference point) وید ہے اور تصوف کا ریفرنس پوائنٹ قرآن۔ لیکن اپنے مجموعی اسلوب کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔

مثلاً تصوف میں لطائف ستہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اصطلاح براہ راست طور پر ہندوسسٹم سے لی گئی ہے۔ غالباً یہ تصور پہلے ہندو سسٹم میں آیا اور اس کے بعد مسلم صوفیوں نے اپنے لیے مفید سمجھ کر اس کو اختیار کر لیا۔

لطائف ستہ کا مطلب صوفیا کے نزدیک، یہ ہے کہ انسان کے جسم میں چھ مقامات (points) یہ مقامات روحانی احساسات کے مراکز ہیں۔ دھیان اور توجہ سے ان پر مسلسل زور ڈالا جائے تو یہ روحانی مقامات کھل جاتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں پوری انسانی شخصیت کو روحانی غذا ملنے لگتی ہے۔

اس قسم کی پریکٹس اور بعض دوسری قسم کی پریکٹس ہیں جن پر عمل کر کے آدمی اپنی شخصیت کے مادی پہلو کو دباتا ہے اور اپنی شخصیت کے روحانی پہلو کو بیدار کرتا ہے۔

میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک پیدائشی صوفی ہوں۔ میری پوری زندگی روحانی غور وفکر اور روحانی تجربات میں گزری ہے۔ میں لمبی مدت سے اس مقصد کے لیے ایک ادارہ بھی چلا جس کا نام یہ ہے:

Center for Peace and Spirituality (CPS International)

لیکن میری روحانیت تمام تر ذہنی بیداری پر مبنی ہے۔ میں جس صوفی ازم کو مانتا ہوں اس کو تخلیقی صوفی ازم (creativesufism) کہا جاسکتا ہے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ مبنی بر قلب روحانیت، آدمی کو جس درجے تک پہنچاتی ہے وہ دراصل وجد مخصوص اعمال اور اشغال کے ذریعے آدمی کے اندر ایک خاص اہتزازی کیفیت پیدا اس کو روایتی صوفی، روحانی یافت کا نام دیتے ہیں۔

روحانیت کے جس مسلک کو میں مانتا ہوں اس کا تعلق، تمام تر فکری عمل سے ہے۔ اس طرح آتی ہے کہ آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں کیا ہوں۔ میرے آس پاس کی دنیا کیا ہے۔ جس نے دنیا کو بنایا ہے اس کا وہ تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے جس کے تحت، اس نے انسان کو اور بقیہ کائنات کو بنایا ہے۔

روحانیت کا یہ سفر دراصل تلاش حقیقت کے جذبے کے تحت، شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایک متلاشی حق انسان سچائی کو دریافت کر لیتا ہے اور وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو جان لیتا ہے تو اس کی زندگی ایک نئے دور میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ دور وہ ہے جس کو روحانی اصولوں پر انسانی شخصیت کی تعمیر کا دور کہا جا سکتا ہے۔

یہ سفر مکمل طور پر ایک ذہنی سفر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ دنیا میں ہر عورت اور مرد ایک تجربے سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ منفی حوادث کا تجربہ ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں ہر آدمی آزاد

ہر آدمی کو موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے ۔ اس بنا پر بار بار یہ صورت پیش آتی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے دُکھ پہنچتا ہے ۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کی کسی کارروائی سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ایسا ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے جو اس کو مشتعل کر دیتا ہے ۔

ایک طبقے کے نزدیک ایسے حالات میں روحانیت کو باقی رکھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی انسانی بستی سے دُور کے ماحول میں رہنا شروع کر دے جہاں کوئی چیز اس کو مشتعل کرنے والی نہ ہو ۔ اسیی نقطۂ نظر کی ترجمانی امریکہ سے چھپی ہوئی اسی کتاب میں کی گئی ہے جس کا نام یہ ہے : A monk who sold his ferrari میں جس روحانی مدرسۂ فکر کو مانتا ہوں وہ اِس سے مختلف ہے ۔ اِس دوسرے مدرسۂ فکر کے مطابق ، آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے منفی تجربات کو کنورٹ کر کے ان کو مثبت تجربے کی شکل دے ۔ مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کر سکے ۔ وہ ایک غیر روحانی واقعے کو روحانی واقعے کی صورت دے دے ۔

یہ وہی اصول ہے جس پر انسان کے باہر کی پوری مادی دنیا قائم ہے ۔ اِس اصول کو تبدیلی کا اصول(principle of conversion) کہا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر پانی کیا ہے ، دوگیسیں جو اپنے آپ میں پانی نہیں ہیں وہ مل کر ایک اور چیز کی شکل اختیار کرتی ہیں جس کو ہم سیال پانی کہتے ہیں ۔ درخت کیا ہے ، درخت دراصل غیر نباتاتی چیزوں کے کنورژن کا نتیجہ ہے ۔

اِس کی ایک مثال گائے ہے ۔ گائے اپنے جسم میں دودھ نہیں داخل کرتی ۔ بلکہ وہ اپنے جسم کے اندر گھاس داخل کرتی ہے ۔ پھر مخصوص نظام کے تحت ، یہ گھاس کنورٹ ہو کر دودھ بن جاتی ہے ۔ گائے ایک ایسی انڈسٹری ہے جو نان ملک کو ملک میں تبدیل کرتی ہے ۔ اِس حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اِس طرح بیان کیا ہے :

کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں

کہا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ سے ملا۔ وہ کسی بات پر بزرگ سے غصہ ہو گیا۔ اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی اُٹھا اور اپنے پاؤں سے بزرگ کے سینے پر مار دیا۔ یہ بزرگ کے لیے ایک منفی رد عمل کا واقعہ تھا۔ مگر انھوں نے اس منفی واقعے کو ایک مثبت تجربے میں تبدیل کیا اور اس آدمی سے کہا میرے آہنی سینے سے تمہارے نرم پاؤں کو چوٹ تو نہیں لگی۔ (واضح ہو کہ یہ ایک قصہ ہے نہ کہ ایک واقعہ)۔

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جب کسی بندے کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس پر صبر کرلے تو خدا اس کے گوشت کو ایک اور گوشت اور اس کے خون کو ایک اور خون بنا

یہ تبدیلی فزیکل معنوں میں نہیں ہوتی بلکہ وہ اسپرچول معنوں میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبتوں پر صبر و شکر کا رسپانس پیش کرنا آدمی کے لیے ایک روحانی تربیت بن جاتا ہے۔ یہ اس کو منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دشمنی کرنے والے انسان کے بجائے محبت کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو پست سطح پر جینے والے انسان کے بجائے اونچی سطح پر جینے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دو طرفہ اخلاقیات (bilateral ethics) کے بجائے، یک طرفہ اخلاقیات(unilateral ethics) کا حامل بنا دیتا ہے۔

اس قسم کا روحانی انسان اعلیٰ فکری عمل کے ذریعے بنتا ہے۔ ایسا انسان بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے ذہن کی ری انجینئرنگ پر راضی ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے اپنی شخصیت کی توڑ پھوڑ کرنی پڑتی ہے۔ اپنی شخصیت کو پھر سے مولڈ کرنا پڑتا ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو سماج کے اندر بنتا ہے، دوسرا انسان وہ ہے جو اسپرچولیٹی کے کارخانے میں بن کر تیار ہوتا ہے۔ جرمن فلسفی نِٹشے نے ایک ترقی یافتہ انسان کو وجود میں لانے کا راز سیلف تھنکنگ کو بتایا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ناقص سچائی ہے۔ پوری سچائی کی بات یہ ہے کہ ایک ترقی یافتہ انسان بننے کا راز اینٹی سیلف تھنکنگ میں چھپا ہوا ہے۔ اس کا سب یہ ہے کہ ہر آدمی ایک معاشرے میں جیتا ہے۔

معاشرہ ہر آن اس کے ذہن کی کنڈیشننگ کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ مائنڈ بن جاتا ہے۔ امریکی عالم نفسیات جے۔ واٹسن (J.B.Watson) نے غلطی سے اسی کنڈیشنڈ انسان کو اصل انسان سمجھ لیا۔ حالاں کہ وہ ایک مصنوعی انسان ہوتا ہے نہ کہ اصل انسان۔ اسپرپچول ڈیولپمنٹ کا عمل دراصل اسی کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ سے شروع ہوتا ہے۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اپنے مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ اسپر پچول ڈیولپمنٹ کا مقصد حاصل کرے گا۔ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر روحانی ترقی ممکن ہی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اسپر پچول انسان ہی کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر یا مسٹر اسپر پچول ہوتا ہے۔ لیکن پیدا ہونے کے بعد وہ جس سوسائٹی میں رہتا ہے اس کے مطابق، اس کی کنڈیشننگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس بعد کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اپنے آپ کو دوبارہ اپنی پیدائشی حالت یا فطری حالت کی طرف لے جانے ہی کا دوسرا نام اسپر پچولیٹی اسپر پچول سائنس دراصل مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ ڈی کنڈیشننگ نہیں تو اسپر پچولیٹی

اس اعتبار سے انسانی دماغ کی مثال پیاز جیسی ہے۔ پیاز کے بیچ میں ابتدا ء اس کا ایک چھوٹا سا مغز ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس مغز کے اوپر پرت چڑھنے لگتی ہے۔ ایک کے بعد دوسری پرت دوسری کے بعد تیسری پرت، تیسری کے بعد چوتھی پرت۔ پرت چڑھنے کا یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اندر کا مغز پوری طرح ان خارجی پرتوں کے اندر ڈھک جاتا ہے۔ اب بظاہر صرف پرت دکھائی دیتی اندر کا مغز دکھائی نہیں دیتا۔

پیاز کے اندر کے مغز کو حاصل کرنے کے لیے اس کے اوپر کی تمام پرتیں ہٹانی پڑتی ہیں۔ طرح نیچر والے انسان کو دوبارہ سامنے لانے کے لیے اس کی کنڈیشننگ کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل ویسا ہی ہے جیسا کہ پیاز کے اوپر کی پرت کو ہٹانے کا عمل ۔ اسپر پچول سائنس کا پورا معاملہ پیاز کی اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پیاز گو یا اسپر پچولیٹی کے معاملے کا ایک مادی مظاہرہ

پیاز انسان کو ایک مادی واقعے کے روپ میں بتا رہی ہے کہ اس کو اپنے اندر روحانيت کي تعمير کے لیے کيا کرنا چاہيے۔

خدا نے اس دنيا ميں حصول کمال کے لیے اکتشافي طريقہ (discovery method) رکھا ہے، مادی چيزوں کے لیے بھی اور انسان کے لیے بھی۔ مادی دنيا ميں خدا نے بنايا يا اسٹیل (steel) نہيں رکھا بلکہ خام لوہا (ore) رکھا۔ انسان اس خام لوہے کو زمين سے نکال کر اپنی فیکٹری ميں لاتا ہے اور وہاں مخصوص عمل (process) سے گذار کر اس کو اسٹیل کی صورت ديتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون فطرت کسی کو بھی اسٹیل سپلائی نہيں کرتی۔ وہ صرف خام لوہا ديتي ہے۔ اب اسٹیل کے طالب کا اپنا کام ہے کہ وہ خام لوہے پر عمل کر کے اس کو استيل بنائے۔

يہی معاملہ انسان کا ہے۔ یہاں بھی ایسا نہيں ہوتا کہ انسان کو روحانی پیکر کی صورت میں پیدا کر ديا جائے۔ اس کے بجائے یہ ہوتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ہر قسم کی روحانی صلاحیت لے کر پیدا اب یہ خود انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اندر روحانی تشکیل کا عمل کرے۔ وہ اپنی تربیت کر کے اپنے آپ کو ایک کامل روحانی شخصیت میں ڈھال لے۔

روحانی انسان ایک خود تعمیر کردہ انسان کا نام ہے۔ روحانی انسان کسی پر اسرار کرامت کے ذريعے نہيں بنتا، وہ ایک معلوم تربيتي عمل کے ذریعے بنتا ہے۔ یہ عمل تمام تر ذہنی سطح پر ہوتا ہے۔ پر اسرار طريقہ روحانی انسان بنانے والا نہيں۔

Printed page