Al-Risala · July 2006

Co-existance in Islam.

Al-Risala, July 2006, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موضوع پر تفصیلی خطاب ہوا۔ جامعہ دار الفرقان للبنات (سعید آباد) میں ایک پروگرام ہوا جس کا موضوع

خواتین کا درجہ اسلام میں ایک پروگرام یونیورسٹی آف حیدر آباد میں تھا۔ یونیورسٹی کی ہال میں خطاب ہوا۔ موضوع تھا: امن (Peace) ، وغیرہ۔ اس سفر کی تفصیلی رو داد انشاء اللہ سفر نامے کے تحت، الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۱۹- ۲۲ مارچ ۲۰۰۶ کو اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ امن کے موضوع پر تھی۔ اس میں مسلم اور یہود کے مذہبی پیشواؤں کو بلایا گیا تھا:

Second World Congress of Imams and Rabbis for Peace. Orgnized by the Hommes de Parole Foundation Svelle, Spain اس کانفرنس میں صدر اسلامی مرکز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کا دعوت نامہ مورخہ ۲۳ فروری ۲۰۰۶ مسز نائلہ (Nayla A. Khalek) کے دستخط سے ملا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی طرف سے کئی ٹیلی فون آئے۔ ایک نمائندہ بھی مرکز میں آئے۔ لیکن بعض وجوہ سے اس میں شرکت کے لیے سفر کا پروگرام نہ بن سکا۔ البتہ CPS کے کچھ انگریزی پمفلٹس اور مضامین ان کو بھیج دیے گئے۔ جو کہ امن کے موضوع سے متعلق تھے۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۳ مارچ ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا تعلق موجودہ زمانے کی متشددانہ مسلم تنظیموں سے تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ آج کل جس طرح اسلامی شخصیتوں یا اسلامی ناموں کو لے کر تنظیمیں بنائی جارہی ہیں وہ بدعت ہے۔ صحابہ نے کبھی اس قسم کی تنظیمیں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں مسلح جہاد خالصتاً باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کا حق ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کا حق نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ امریکا نے مسلم ملکوں پر حملہ کیا تو اس سے غیر حکومتی تنظیموں کو یہ جواز نہیں ملتا کہ وہ امریکا کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کر دیں۔ اس طرح کی جارحیت کے مقابلے میں صرف مسلم حکومتوں کو سامنے آنا چاہیے نہ کہ غیر حکومتی تنظیموں کو۔

پرگتی پیٹھ (نئی دہلی) ایک فلاحی تنظیم ہے۔ اس کے زیر اہتمام ۲۵ مارچ ۲۰۰۶ کو ایک سیمینار ہوا۔ چنمئی (Chinmay) مشن کے آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں ڈاکٹر کرن سنگھ اور دوسرے مذہبوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا:

Printed page