Al-Risala · July 2006

What is religion?

Al-Risala, July 2006, pp. 44–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ انھوں نے اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اس موضوع پر آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کے مطابق، مذہب بنیادی طور پر دو قسم کی تعلیمات پر مشتمل ہے— خدا کی عبادت گزاری، اور انسان کے ساتھ امن اور خیر خواہی کے ساتھ رہنا۔ نئی دہلی کے ٹی۔ ون چینل (S-1 Channel) کے تحت، ۲۵ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس پروگرام کا عنوان یہ تھا— ہندو اور مسلم بھائی چارہ

کیسے قائم ہو۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بھائی چارہ عملاً اگر بھائی چارہ نہ ہو تو ملک میں بحران پیدا ہو جائے۔ آپ کسی مسلمان سے اس کے ہندو پڑوسی کے بارے میں پوچھئے تو وہ اس کے بارے میں اچھی رائے دے گا۔ اسی طرح آپ کسی ہندو سے اس کے مسلمان پڑوسی کے متعلق پوچھئے تو وہ اس کے بارے میں اچھی رائے دے گا۔ یہ مسئلہ زیادہ تر میڈیا کا پیدا کردہ ہے۔ میڈیا اپنے مزاج کے مطابق، سنسنی خیز خبروں کو منتخب کر کے ان کو نمایاں کرتا ہے۔ مگر یہ ہندوستانی سماج کی صحیح تصویر نہیں۔ بعض ناخوشگوار واقعات ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ ہر جگہ ہوتے ہیں حتی کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ان کی بنیاد پر کوئی عمومی رائے نہیں بنائی جاسکتی۔ برٹش صحافی سر مارک ٹلی (Mark Tully) نے ۲ اپریل ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی وہ ریلیجس انڈر اسٹینڈنگ پر انگریزی میں ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اس موضوع پر اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔ انھیں تفصیل کے ساتھ قرآن اور حدیث کی تعلیمات بتائی گئیں۔ انھیں بتایا گیا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہر حال میں معتدل تعلقات قائم رکھے جائیں، اور پر امن ماحول کو برقرار رکھا کیوں کہ امن کے بغیر کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک مذہبی اختلاف کی بات ہے، اس معاملے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اپنے مذہب پر پوری طرح قائم رہتے ہوئے دوسروں کے مذہب کا پورا احترام کیا جائے۔ ہمدرد پبلک اسکول (نئی دہلی) میں ۱۵ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس کا انعقاد اسکول کے ہال میں کیا گیا۔ تمام طلبا اور اساتذہ اس میں شریک ہوئے۔ جناب سید حامد صاحب (بانی اسکول) بھی اس میں موجود اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سیرت رسول کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ منتخب احادیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ زندگی کی تعمیر کے لیے پیغمبر اسلام نے کیا رہنما اصول دیے ہیں۔ یہ تقریر چالیس منٹ تک ہوئی ۔ اس موقع پر اسکول کے اساتذہ اور پرنسپل سے ملاقات ہوئی۔ طلبا اور اساتذہ نے خصوصی دل چسپی کا اس پروگرام میں سی پی ایس کی ٹیم کے بھی کچھ افراد شریک ہوئے۔

ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ۱۴؍ اپریل ۲۰۰۶ کو سیرت النبی کے عنوان کے تحت ایک پروگرام ہوا۔ اس میں ڈاکٹر موسی رضا وغیرہ نے تقریر کی۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ بھی اس میں شریک ہوئے اور سیرت رسول کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں بتایا گیا کہ اسلام ہمیشہ امن کے حالات پسند کرتا ہے۔ کیوں کہ اسلام کا جو مشن ہے وہ صرف امن کے حالات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ اسلام کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچایا جائے۔ لوگوں کے اندر جنت اور جہنم کا شعور پیدا کیا جائے۔ لوگوں کو خدا کے تخلیقی نقشے سے باخبر کیا جائے۔ یہ پروگرام یونیورسٹی کے ایک کنونشن سنٹر میں ہوا۔ اس موقع پر دوسرے حضرات کے علاوہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ڈاکٹر اوصاف علی بھی وہاں موجود تھے۔ اس موقع پرسی پی ایس کی ٹیم کے افراد شریک ہوئے۔ انھوں نے حاضرین کے درمیان دعوتی پمفلٹ اور بروشر تقسیم کیے۔ لوگوں نے نہایت شوق کے ساتھ ان کو پڑھا۔

رابعہ گرلس پبلک اسکول (نئی دہلی) میں ۱۹ اپریل ۲۰۰۶ کو سیرت النبی کے موضوع پر ایک جلسہ ہوا۔ اس میں تین مختلف اسکولوں کے ٹیچر اور اسٹوڈنٹ شریک ہوئے۔ شہر کے کچھ ممتاز افراد بھی اس میں شریک ہوئے۔ جلسہ صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے رکھا گیا تھا۔ انھوں نے وہاں موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی ۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ تقریر سننے کے بعد کئی ہندو اور مسلم ٹیچروں نے کہا کہ آج ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کا صحیح تعارف حاصل اسکول کے مینیجر نے کہا کہ آپ کی تقریر عصری اسلوب میں ہونے کے ساتھ ساتھ بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے یکساں طور پر بڑی مفید اور قابل فہم تھی۔

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی (درہم) میں پروفیسر ہیں۔ ان کا تعلق ، ڈپارٹمنٹ آف ریلیجس اسٹڈیز سے ہے۔ وہ ۱۹ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک کیمرہ مین کے ساتھ دفتر میں آئے، اور صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ وہ یونیورسٹی کے ایک پروجیکٹ کے تحت، ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس کا نام یہ ہے : ان کے سوالات کا تعلق مدرسے سے، مسلمانوں کے مسائل سے اور اسلام اور عصر حاضر سے تھا۔ یہ پورا انٹرویو انگریزی گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ مسلم مسائل پر تمام بولنے اور لکھنے والے دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کو ہر حال میں درست ثابت کرنا ۔ یہ طریقہ سخت مہلک ہے۔ اس سے آپ کو یہ فائدہ تو مل سکتا ہے کہ آپ کو مسلمانوں کے درمیان مقبولیت حاصل ہوجائے۔ مگر اس کا یہ عظیم نقصان ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر احتساب کا ذہن نہیں پیدا کرتا۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر re-assesment کی تحریک اُٹھے۔ مگر دفاعی یا وکیلانہ انداز اس عمل کو زندہ کرنے میں مستقل رکاوٹ ہے۔

نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودی روڈ) میں ۲۷ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ میں مختلف سینک اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس شرکت کی۔ یہاں اس موضوع پر بولنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا کہ اسلام میں بیسک ہیومن ویلو ز کا تصور کیا ہے۔ انھوں نے آدھ گھنٹہ اس موضوع پر تقریر کی ۔ اس کے بعد پندرہ منٹ تک سوال اور جواب ہوا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام حسب ذیل ہیومن ویلو ز بتائے:

Peace, Love, Truth, Non-violence, Tolerance, Good conduct. اس پروگرام میں سی پی ایس (انٹرنیشنل) کی ٹیم کے افراد بھی شریک ہوئے۔ تقریر کے بعد انھوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کر کے اُن سے اسلام کے موضوع پر باتیں کیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان اسلامی پمفلٹ اور اسلامی بروشر بھی تقسیم کیے گئے۔

اکتوبر، نومبر، دسمبر ۱۹۷۶ء، جنوری، جون، ستمبر، اکتوبر، نومبر، دسمبر ۱۹۷۷ء، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، جون، جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر ۱۹۷۸ء، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، ستمبر ۱۹۷۹ء، اگست، دسمبر ۱۹۸۰ء، فروری، مارچ، اپریل، مئی، نومبر ۱۹۸۱ء، فروری، مارچ، اپریل، مئی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر، دسمبر ۱۹۸۴، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، مئی، اگست، نومبر، ۱۹۸۳ء، جنوری، مارچ، اپریل، جون، جولائی، ستمبر، اکتوبر ۱۹۸۲ء، اگست، اکتوبر ۱۹۸۵ء، جون، اگست ۱۹۸۶ء، دسمبر ۱۹۸۸ء، اگست ۱۹۹۳ء۔ جن حضرات کے پاس الرسالہ کے مذکورہ شمارے برائے فروخت موجود ہوں وہ مطلوبہ قیمت کی وضاحت کے ساتھ درج ذیل پتے پر مطلع فرمائیں:

Shah Imran Hasan, Mahalla Dilawarpur, Ward No. 19, Kali Tazia Road, Distt. Munger, Bihar—811201 الرسالہ کے قاریوں کی سہولت کی خاطر یہ کیا گیا ہے کہ الرسالہ کی قیمتیں گھٹا دی گئی ہیں۔ اب الرسالہ کی قیمتیں حسب ذیل ہوں گی— اندرون ملک سالانہ زر تعاون صرف ایک سو روپیہ، اور بیرونی ممالک کے لیے سالانہ زر تعاون (ہوائی ڈاک سے) صرف $10۔

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسیج، فی کاپی -/15 روپے، سالانہ -/165 روپےے۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:

302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 28341654/28346079/28218609, Fax: 28236323

Printed page