حیدر آباد کا سفر
Al-Risala, August 2006, pp. 2–5
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد میں حبیب بھائی (پیدائش ۱۹۵۲) ایک تاجر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اور ان کے والد بابو بھائی (وفات ۱۹۷۸) دونوں شروع سے الرساله مشن سے جڑے ہوئے تھے۔ الرساله مشن کے لیے بہت خدمات انجام دیں۔ اب حبیب بھائی نے یہ کیا ہے کہ وہ اپنا سارا وقت دعوت کے کام میں لگا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے حیدر آباد کے ایک خوب صورت علاقے میں ایک سنٹر قائم کیا ہے۔ اس سنٹر کا نام انٹر نیشنل سینٹر فار پیس (International Centre for Peace) ہے۔ اس سنٹر کی دعوت پر حیدر آباد کا سفر ہوا۔ اس سفر میں میرے علاوہ مزید دس افراد شامل تھے۔ ۹ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو شروع ہوا، اور ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو حیدر آباد سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ ۹ مارچ کی صبح کو ہم لوگ فجر کی نماز کے بعد ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا قافلہ تین گاڑیوں پر سوار ہو کر ائیر پورٹ پہنچا۔ ائیر پورٹ مسافروں کی کثرت کے اعتبار سے چھوٹا نظر آیا۔ ائیر پورٹ پر بھیڑ کا یہ منظر ترقی یافتہ ملکوں میں نظر نہیں آتا۔ ائیر پورٹ پر جدید سہولیات بھی کم نظر آئیں۔ حکومت ہند کا یہ منصوبہ ہے کہ ہندوستان کے ائیر پورٹوں کو ماڈرنائز کیا جائے اور ان کو وقت کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے۔ مگر بہت سے نام نہاد ساج وادی لوگ اس کے مخالف ہیں۔ کہتے ہیں کہ حکومت ہند خوش حال طبقہ (haves) کی سہولیات کے لیے اس قسم کے کام کر رہی ہے۔ جب کہ ملک میں محروم طبقہ (have nots) بڑی تعداد میں موجود ہے اور اس کے مفاد کے لیے حکومت کچھ نہیں کرتی۔
اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ ایک ناعاقبت اندیشانہ یہ قانون فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ سماجی فلاح کا کوئی کام اس طرح نہیں ہو سکتا کہ پورا پورا سماج بیک وقت مساوی انداز میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے۔ فلاح یا سماجی خوش حالی کے کام کے لیے ایک نقطۂ آغاز (starting point) درکار ہوتا ہے۔ ترقی کا یہ
عمل ہمیشہ اُن لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو صاحب وسائل ہیں ۔ بے وسائل افراد کسی بھی نتیجہ خیز کام کا آغاز نہیں کرسکتے۔ ترقیاتی عمل میں وسائل رکھنے والے افراد ابتدائی محرّک (prime mover) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی محرّک کے بغیر کبھی کوئی نتیجہ خیز حرکت وجود میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اس حقیقت کا ایک کھلا ہوا نمونہ حیدر آباد (آندھرا پردیش) میں نظر آتا ہے۔ پچھلی حکومت کے زمانے میں یہاں زبردست ترقیاتی کام ہو رہا تھا۔ اس زمانے میں حیدر آباد آیا تو میں نے پایا کہ حیدر آباد شہر میں ہر طرف ترقی کی جھلکیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر ترقی کا یہ عمل فطری طور پر شہروں سے شروع ہوا تھا، اور دھیرے دھیرے وہ گاؤں تک پہنچ رہا تھا۔ مگر اس عمل کی تکمیل سے پہلے الیکشن کا وقت آگیا۔ اب ’’سماج وادی‘‘ طبقے کے لوگ حرکت میں آگئے۔ انھوں نے دھوم کے ساتھ یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ موجودہ حکومت سرمایہ داروں کو خوش کرنے کے لیے شہروں کو ترقی دے جب کہ گاؤں کے لوگ ابھی تک اس ترقی میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ یہ بات اتنی پھیلائی گئی کہ گاؤں میں رہنے والے عوام کا ذہن حکومت کے بارے میں منفی ذہن بن گیا۔ الیکشن میں یہ ہوا کہ شہر کے لوگوں نے تو حکمراں پارٹی کو ووٹ دیا لیکن گاؤں کے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ووٹ کو حکمراں پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکمراں پارٹی ہار گئی۔ اور نتیجہ ترقی کا ہوتا ہوا عمل رُک گیا۔
میں نے کہا کہ حقیقی ترقیاتی عمل کے لیے دو چیزیں ناگُریز طور پر ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اربابِ کار کو یہ معلوم ہو کہ ترقی کا عمل ہمیشہ ایک ابتدائی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ پورے پورے سماج کو بیک وقت اچانک ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ کوئی ایکسپلا نیشن کی بات نہیں ہے، یہ فطرت کا ایک جو لوگ اس اصول کو نہ جانیں وہ اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت، صرف تخریب کاری کریں گے، وہ کسی حقیقی تعمیر کو وجود میں نہیں لاسکتے۔
دوسری ذمے داری اُن لوگوں کی ہے جن کو موجودہ سیاسی اصطلاح میں حزبِ مخالف (opposition group) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ملک کے مفاد کے
لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور ترقی کے عمل میں غیر ضروری رُکاوٹ نہ
یہ سفر ائیر دکن (Air Deccan) کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے حیدر آباد تک یہ دو گھنٹے کا سفر تھا۔ سفر کے دوران مطالعے کے لیے ائیر دکن کا فلائٹ میگزین (Simplifly) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اس میں کئی چیزیں قابلِ مطالعہ تھیں۔ میگزین کے آغاز میں کمپنی کے ڈائریکٹر کی طرف سے ایک میسج تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ائیر دکن ایک پیوپل فرینڈلی ائر لائن (people-friendly airline) ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو اس میں مجھے زندگی کا ایک اصول نظر حقیقت یہ ہے کہ پیوپل فرینڈلی کردار کسی ائر کمپنی کا فارمولا نہیں، وہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ جو شخص بھی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو وہی کردار اپنانا ہوگا جس کو پیوپل فرینڈلی کردار کہا جاتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اس دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، یعنی سب کے لیے اپنے دل میں محبت کا جذبہ ہونا۔
میگزین کے ایک صفحے پر بڑے بڑے لوگوں کے بہت سے اقوال درج تھے۔ یہ اقوال ، وقت کی قدر و قیمت (value of time) کے بارے میں تھے۔ ایک قول یہ تھا کہ — ایک شخص جو اپنے وقت کا ایک گھنٹہ بھی ضائع کرتا ہے اس نے زندگی کی قدر و قیمت کو دریافت نہیں کیا: A man who dares to waste one hour of life has not discovered the value of life. (Charles Darwin)
میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر دو چیزوں کی قدر و قیمت نہیں جانتے۔ ایک، وقت اور حالاں کہ یہ دونوں چیزیں کسی بھی میدان میں حقیقی ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری جو آدمی وقت کی اہمیت کو نہیں جانے گا وہ اپنی عمر کا بڑا حصہ ضائع کر دے گا۔ اسی طرح جو آدمی سادگی کی اہمیت کو نہ جانے وہ اپنے وسائل کا بڑا حصہ بے فائدہ طور پر کھو دے گا۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے اور اسی طرح بہت تھوڑے وسائل۔
حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ آخر میں وہ مایوسی کے ساتھ یہ کہے گا کہ میں نے کتنا قیمتی موقع کھو دیا: