Al-Risala · August 2006

Against the Current.

Al-Risala, August 2006, pp. 5–9

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مضمون ۷ مارچ ۲۰۰۶ کو بنارس میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں تھا۔ تاریخ کو بنارس کے ہنومان مندر میں بم دھماکا ہوا۔ اس سے مندر کو کافی نقصان پہنچا۔ اس طرح کے واقعات پر اس سے پہلے شدید ردعمل ہوتا تھا اور فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھتا تھا۔ مگر اس بار عوامی ردعمل کے اعتبار سے یہ بم دھماکا بالکل مختلف (completely different) ثابت ہوا۔ پچھلی روایت کو دیکھتے ہوئے یہ بم دھماکا سخت اشتعال انگیز ثابت ہوسکتا تھا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ اس واقعے کے بعد نہ بنارس میں کوئی منفی ردعمل ہوا، اور نہ اس کو لے کر کسی دوسرے مقام پر۔ ۷ مارچ کے بم دھماکے کے بعد کچھ انتہا پسند ہندو بنارس کے ہنومان مندر پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ ہم مندر کو پوتر کرنے کے لیے اس کو گنگا جل سے دھوئیں گے۔ لیکن مندر کے مہنت نے سختی کے ساتھ انھیں روکا، اور انھیں اپنا عمل کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ میڈیا میں بھی اس کی رپورٹنگ زیادہ سنسنی خیز انداز میں نہیں ہوئی۔

بنارس ، ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ اس مقدس شہر میں ہندو عقیدے کے مطابق ، ایک مقدس

مندر میں بم بلاسٹ ہوا۔ میڈیا میں یہ خبر بھی آئی کہ لشکر قہر نامی ایک مسلم تنظیم نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ اس کے باوجود امن برقرار رہا اور پچھلی روایات کے خلاف، تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات نہیں ہوئے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ پچاس سالہ تجربے کے بعد اب ہندو کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی دونوں نے بلا اعلان ایک خاموش فیصلہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ اب اشتعال کے باوجود مشتعل نہیں ہوں گے، وہ ہر حال میں امن کو برقرار رکھیں گے۔ کیوں کہ اس میں دونوں فرقوں کا فائدہ اور اس کے خلاف طریقے میں دونوں کا نقصان۔

جو لوگ ماہ نامہ الرسالہ پڑھتے رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ راقم الحروف نے اس سے پہلے بار بار یہ لکھا تھا کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات صرف اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دونوں فرقے امن کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ جیسے ہی وہ جان لیں گے کہ سارا فائدہ امن میں چھپا ہوا ہے اور تشدد میں صرف نقصان ہی نقصان ہے، فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بنارس کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں وہ دور آ چکا ہے۔

کل شام کی ڈاک سے پاکستان کا ماہ نامہ ’’سوئے حرم‘‘ (مارچ ۲۰۰۶) ملا تھا۔ آج صبح کو اسے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون (مولانا وحید الدین خاں کی فکر کا تجریاتی مطالعہ) میرے بارے میں تھا۔ اردو صحافت میں لکھنے کا جو انداز ہے اسی انداز میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ یعنی کسی دلیل کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا۔ مثلاً اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ــــ ’’میں صاحبِ دعوت کی ان عظیم تحریکوں کو مسترد کرتے ہوئے ہر ایرے غیرے کو دعوت کے کام پر اکسا کر اسلامی کی حقیقی تعلیمات سے نا آشنا جدید تعلیم یافتہ افراد کو علماء ربانی ، صوفیا اور تبلیغی جماعت جیسے دعوتی اداروں سے دور کرنے کا بھی فریضہ انجام دے رہا ہوں‘‘۔

اس اقتباس میں جو بات کہی گئی ہے اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ مضمون نگار نے علمی تنقید کو تردید کے ہم معنی سمجھ لیا۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے جو ساری امت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ بھی ہر دینی مدرسے میں درسِ حدیث کے دوران ہر محدث یہی فعل انجام دیتا ہے۔ اسی طرح تمام علماء

ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ابن تیمیہ نے صوفیاء پر تنقید کی۔ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی پر تنقید کی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے تبلیغی جماعت پر تنقید کی۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے جماعت اسلامی پر تنقید کی، وغیرہ۔ تجزیاتی تنقید کبھی تردید کے ہم معنی نہیں ہوتی۔ وہ علمی اظہار خیال کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ ایک صحت مند فعل ہے جو علمی ترقی کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ اقتباس میں اس عمل کو بُرا نام دے کر مطعون کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالاں کہ کسی چیز کو برا نام دینا سرتا سر ایک غیر اسلامی (بئس الاسم الفسوق بعد الایمان، الحجرات 11)

علمی تنقید و تجزیہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اسلاف سے بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے، یہ بلاشبہ ایک صحیح چیز کو غلط نام دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی تنقید مکمل معنوں میں ایک تعمیری سرگرمی وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ علمی تنقید کا خاتمہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے۔ جو بلاشبہ فکری اور روحانی موت کے ہم معنیٰ ہے۔

جہاز کے اندر پینے کے لیے کافی دی گئی۔ کافی کی پیالی پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے_ ہوشیار جس چیز سے آپ محظوظ ہونے جارہے ہیں وہ بہت زیادہ گرم ہے:

Careful, the drink you are about to enjoy is extremly hot!

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ گرم چائے کا جو معاملہ ہے وہی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ جس کے اندر انسان زندگی گزارتا ہے وہ بظاہر بہت پرکشش ہے لیکن اسی کے ساتھ وہ فتنوں سے بھری یہ دنیا گویا ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جس سے بہت زیادہ بچتے ہوئے انسان کو اپنا سفر کرنا اس حقیقت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھے بغیر دنیا کی زندگی میں داخل ہو جائیں وہ یقینی طور پر خطرات میں مبتلا ہو جائیں گے۔

راستے میں ایک موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ موسم خراب ہے۔ آپ لوگ اپنی پٹیاں باندھ اس کے اگلے لمحے جہاز ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے نیچے اور اوپر ہو رہا تھا۔ یہ کیفیت کچھ منٹ باقی رہی اس کے بعد جہاز معتدل طور پر پرواز کرنے لگا۔

جہازوں میں پرواز کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے۔ اس کو موسم کی خرابی یا آپ ڈارفٹ، ڈاؤن ڈرافٹ (up draft, down draft) کہا جاتا ہے۔ جب جہاز تیزی سے ہل رہا تھا تو میں نے سوچا کہ ہماری زمین بھی ایک بہت بڑا جہاز ہے۔ وہ ہم کو لے کر رات دن مسلسل پرواز کی حالت میں رہتی مگر زمین میں کبھی اس طرح کی جنبش نہیں ہوتی۔ وہ کروڑوں سال سے بالکل ہموار انداز میں حرکت کر رہی ہے۔ مگر انسان اس عظیم نعمت کا احساس نہیں کرتا۔ وہ انعام سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن وہ منعم کا اعتراف نہیں کرتا۔

انسان کی اس بے خبری کو توڑنے کے لیے زمین پر بھونچال آتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھونچال انسان کی یاد دہانی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ جب بھونچال آتے ہیں تو وہ وقتی طور پر آہ و واویلا کرتا ہے اور پھر پہلے کی طرح ہو جاتا ہے۔ قیامت کا بڑا بھونچال اس لیے آئے گا کہ وہ آخری طور پر انسان کی بے خبری کو توڑ دے، اگر چہ اُس وقت بے خبری کا یہ ٹوٹنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ ۹ مارچ ۲۰۰۶ کی دوپہر کو ہمارا جہاز ٹھیک وقت پر حیدر آباد ائر پورٹ پر پہنچا۔ بھائی، احمد بھائی، مولانا عبدالرؤف قاسمی وغیرہ کئی لوگ ائر پورٹ پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر حبیب بھائی کی رہائش گاہ (جبلی ہل) پہنچا۔ یہاں شہر کے کچھ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔ دن کا کھانا یہاں کھایا گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ قافلے کی صورت میں حبیب بھائی کے سنٹر پر گئے ۔ یہ سنٹر انھوں نے جبلی ہل کی ایک بلڈنگ میں قائم کیا ہے۔ جبلی ہل کا ایریا حیدر آباد کا سب سے زیادہ ممتاز ایریا سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جن کو جدید سہولیات کہا

سنٹر میں کئی لوگ پہلے سے موجود تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہوئیں، اور ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ یہاں ادا کی گئی۔ نماز کے بعد حبیب بھائی کے سنٹر کا افتتاحی پروگرام تھا۔ اس کی صدارت حیدر آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شیومار نے کی۔ ان کی تمہیدی تقریر کے بعد میں نے سامعین میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو الرسالہ مشن سے فکری طور پر وابستہ ہیں۔ میں نے اپنی تقریر

میں کہا کہ حبیب بھائی نے یہ سنٹر جو حیدر آباد میں قائم کیا ہے وہ بہت اچھا قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سنٹر ترقی کرے گا اور نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کا اعلیٰ پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔ پروفیسر کمار اس سے پہلے انگریزی کے پروفیسر تھے پھر وہ وائس چانسلر بنائے گیے۔ اب ان کی عمر ۸۵ سال ہو چکی ہے لیکن اب بھی وہ روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے سنٹر کی طرف سے انھیں میری کچھ کتابیں (انگریزی، تامل) دی گئیں۔ انھوں نے ان کتابوں کو خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم دو مہینہ مجھے مولانا صاحب کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا۔ اس موقعے پر حاضرین کے درمیان لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، سادگی (simplicity) صرف ایک چیز نہیں ہے، وہ ایک مکمل لائف اسٹائل ہے۔ سادگی کا تعلق تمام چیزوں سے جڑا ہوا ہے۔ مثلاً سادگی ہے تو کفایت شعاری ہے۔ سادگی ہے تو وقت کا صحیح استعمال ہے۔ سادگی ہے تو آدمی وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے۔ سادگی ہے تو تندرستی ہے۔ سادگی ہے تو ساؤنڈ سلیپ ہے۔ ہے تو ہاضمے کی درستگی ہے۔ سادگی ہے تو تعمیری سرگرمیاں ہیں۔ سادگی ہے تو ذہنی سکون ہے۔ ہے تو سب کچھ ہے۔ انگریزی کا مثل ہے کہ۔ سادہ زندگی، اونچی سوچ:

Printed page