Simple living, high thinking.
Al-Risala, August 2006, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
سادہ زندگی اور اونچی سوچ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے جڑی سادہ زندگی ہوگی تو اونچی سوچ ہوگی۔ سادہ زندگی نہیں تو اونچی سوچ بھی نہیں۔ سادہ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ صرف اہم چیز کو اہم سمجھنا، اور تمام غیر اہم چیزوں کو ثانوی درجے کے خانے میں ڈال دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ سادہ زندگی بامقصد انسان کا کلچر ہے۔ با مقصد انسان غیر سادہ زندگی کا متحمل نہیں کر سکتا۔ غیر سادہ زندگی مقصدیت سے انحراف کے ہم معنی ہے۔ زندگی آدمی کو بے مقصد چیزوں میں مشغول کر دیتی ہے۔ جو آدمی با مقصد زندگی گزارنا چاہتا ہو اس کو لازماً معاملے میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ کسی بھی عذر کی بنا پر سادگی کو چھوڑنا، اپنے آپ کو
ہلاکت میں ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، سادگی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیوی، بچے اور رشتے دار ہیں۔ جو آدمی بیوی، بچوں اور رشتے داروں کے فتنے سے اوپر نہ اٹھ سکے وہ کبھی سادہ زندگی اختیار نہیں کر سکتا۔
ایک صاحب سے میں نے کہا کہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی بھی دن اپنی نئی زندگی شروع کر سکے۔ اس معاملے میں کوئی بھی تاخیر حقیقی تاخیر نہیں۔ اس نئی زندگی کا تعلق، جسمانی اعتبار سے بھی ہے اور ذہنی اور روحانی اعتبار البتہ اس کی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی کسی کو یہ درجہ مل سکتا ہے۔ قیمت ہے وسیع تر معنوں میں صبر۔
مثلاً ایک شخص ہے جس کی جسمانی صحت خراب ہو چکی ہے۔ وہ ہر دن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک نئی صحت مند زندگی حاصل کر سکے۔ جسمانی صحت کیوں خراب ہوتی ہے، اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے غلط عادت زیادہ کھانا، لذیذ کھانوں کا استعمال، تمباکو اور شراب جیسی چیزیں استعمال کرنا، غصہ اور نفرت میں جینا، جنسی ہوس کا شکار رہنا، آرام طلب بن جانا، وغیرہ۔ آدمی ایسا کرے کہ وہ اس قسم کی تمام خلاف صحت عادتوں کو چھوڑ دے تو کسی بھی دن وہ اپنے لیے ایک نئی جسمانی صحت حاصل کر سکتا ہے۔
یہی معاملہ ذہنی اور روحانی ترقی کا ہے۔ آدمی ہر دن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کر سکے۔ مگر یہاں بھی اس کو اس کی ضروری قیمت ادا کرنا ہے— وقت کا بھر پور استعمال، غیر ضروری تفریحات سے اپنے آپ کو بچانا، سطحی دل چسپیوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھانا، متعصبانہ طرز فکر سے اپنے آپ کو پاک کرنا، اپنے اندر کامل تواضع کی صفت پیدا کرنا، ہر وقت اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار رہنا، مطالعہ اور غور و فکر کی زندگی اختیار کرنا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے امکانات لامناہی طور پر بہت زیادہ ہیں۔ ہر آدمی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں کو ختم کر کے نئی زندگی شروع کر سکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس کی
ضروری قیمت دینے کے لیے تیار ہو، اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی کسی بھی عذر کو عذر