If you have a good excuse don't use it.
Al-Risala, August 2006, pp. 11–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں ہر چیز قابل حصول ہے۔ بشرطیکہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ قیمت کی ادائیگی کے بعد مطلوب چیز مل کر رہتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا، خواہ وہ کسی اور اعتبار سے اپنی تمناؤں کا پہاڑ کھڑا کر دے۔
۹ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ساڑھے تین بجے حیدر آباد یونیورسٹی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ خطاب کا موضوع امن(peace) مقرر کیا گیا تھا۔ اس موضوع پر بولنے کے لیے مجھے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا، میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ امن کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے امن کو قائم کیا جائے۔ امن کی اصل اہمیت یہ ہے کہ امن حالات کو معتدل بناتا ہے۔ امن کی حالت قائم ہونے کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر قسم کی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری کی جائیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کسی سے بات کریں تو ہر آدمی حتی کہ جنگ جو لوگ بھی یہی کہیں گے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر ہم کو عدل کے ساتھ امن(peace with justice) چاہیے ۔ یہ ایک غیر فطری شرط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل، امن کا نتیجہ نہیں۔ عدل خود اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ مواقع (opportunities) کھل جاتے ہیں، اور ان مواقع کو استعمال کر کے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو عدل کہا جاتا ہے۔
تقریر کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ : رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر - اس میں جہاد اکبر سے کیا مراد ہے۔ بالنفس یا کوئی اور عمل۔ میں نے کہا کہ جہاد اکبر سے مراد دعوت کا عمل ہے، اور یہ خود قرآن سے ثابت قرآن میں ہے کہ : وجاهد هم به جهاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) ۔ اس آیت میں جہاد سے
مراد جہاد بالقرآن ہے۔ یہاں جہاد بالقرآن کو جہاد کبیر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جس چیز کو جہاد اکبر کہا گیا ہے اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے، یعنی
ایک سوال یہ تھا کہ ہندوستان کے حالات دعوت کے لیے سخت مخالف ہیں۔ پھر یہاں دعوت کا عمل کس طرح انجام دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ ہندوستان میں دعوت کے عمل کے لیے حالات سازگار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی اکثریت استثنائی طور پر یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ گویا کہ وہ اسلام کی صداقت کو پہلے ہی سے امکانی طور پر مانے اس لیے اسلام کی دعوت اُن کے لیے کوئی غیر مانوس چیز نہیں۔ پھر بھی میں مانتا ہوں کہ یہاں اس سلسلے میں کچھ رکاوٹیں ہیں مگر اس کا سبب خود مسلمان ہیں۔ انگریزی دور سے لے کر اب تک مناظرہ (debate) کیا جاتا رہا ہے۔ پہلے یہ مناظرہ اردو زبان میں ہوتا تھا۔ اب اردو زبان کے ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی یہ مناظرہ کیا جانے لگا ہے۔
مناظرے کی نفسیات یہ ہے کہ اس سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہیں ہوتا بلکہ دونوں کے درمیان حریفانہ اور رقیبانہ رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح دعوت کے مواقع غیر ضروری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے مناظرہ بازی کی تاریخ سے کئی مثالیں پیش کیں۔
ایک انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان نے سوال کیا کہ ہم خدا کی معرفت کیسے حاصل کریں اور خدا کے پسندیدہ راستے کو کیسے جانیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا طریقہ بالکل آسان ہے۔ آپ یہ کریں کہ پہلے کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کریں۔ کے بعد موجودہ زمانے میں چھپنے والے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ اس مطالعے کے بعد بھی اگر آپ کے سوالات باقی رہتے ہیں تو آپ اہلِ علم سے رجوع کریں، اور ساتھ ساتھ خدا سے دعا
کرتے رہیں ۔ انشاء اللہ آپ کا ذہن کھل جائے گا۔
ایک سوال یہ تھا کہ آپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہمارے لیے مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مواقع موجود ہیں۔ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی تعمیری کام کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پر امن ماحول ہے۔ ہندوستان میں استثنائی طور پر امن کی یہ حالت موجود ہے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں مخصوص اسباب کی بنا پر وہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کو میں جبری امن (compulsive peace) کہتا ہوں ۔ ہندوستان میں دو بڑے فرقے ہیں ۔ ہندو اور مسلمان ۔ اس جبری امن کا تعلق دونوں ہی فرقوں سے ہے۔
ہندو اس لیے پر امن رہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک دولت پرست قوم ہیں۔ بار بار کے تجربے کے بعد انھوں نے دیکھ لیا ہے کہ جب کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور بے امنی کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ان کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ اُن کے اندر وہ ذہن پیدا ہوگیا ہے جس کو ایک ہندو تاجر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا ۔ ہم فرقہ وارانہ فساد کا تحمّل نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ جب بھی کسی مقام پر فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ہمارا کار و بار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمیں اس کی بھاری مالیاتی قیمت دینی پڑتی اس لیے خود اپنے تجارتی مفاد کے لیے ضروری ہے کہ ہم فرقہ وارانہ فساد سے دور رہیں ۔ یہی معاملہ دوسرے انداز میں مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اپنے پر جوش رہنماؤں کی باتوں سے متاثر ہو کر ایسے خیالات میں جی رہے تھے جن کو ایک معروف مسلم شاعر نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے: شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو! ۱۹۴۷ کے بعد مسلمان اٹھیں خیالات کو لے کر نئے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ نے بار بار شعوری یا غیر شعوری طور پر ’باطل کی غارت گری‘ کا عمل کرنا چاہا مگر ہر بار انھیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ آخر کار انھوں نے یہ محسوس کر لیا کہ ہندوستان میں وہ بڑی اکثریت کے مقابلے میں چھوٹی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ’باطل کی غارت گری‘ کا فارمولا یہاں قابل اپنی مجلسوں میں مسلمان اگرچہ اب بھی اس قسم کے اشعار کو پڑھ کر خوش ہوتے ہیں لیکن عملی
زندگی میں انھوں نے اس نظریے کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔ اب مسلمانوں میں وہی حالت قائم ہوگی ہے جس کو میں نے جبری امن سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہندوستان میں دونوں فریقوں کی طرف سے امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ یہ حالت ہم کو موقع دیتی ہے کہ ہم سکون کے ساتھ اپنے تعمیری منصوبے کو بروئے کار لائیں۔
پروگرام کے سلسلے میں اکثر میں نے لوگوں کو اپنی ایک کمزوری بتائی ہے۔ لیکن لوگ اس کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ میں کارسک (car sick) ہوں۔ کار خواہ کتنی ہی اچھی ہو لیکن جب میں کار میں سفر کرتا ہوں تو بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میں معتدل انداز میں بولنے کے قابل نہیں رہتا۔ میں نے بار بار لوگوں کو یہ بات بتائی ہے۔ لیکن چوں کہ دوسرے لوگوں کا یہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ میری اس کمزوری کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی جگہ پروگرام رکھ دیتے ہیں جہاں مجھے قیام گاہ سے دور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر عام طور پر کار کے ذریعے ہوتا ہے۔ بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہو جاتا ہے، اور انشراح ختم ہو جاتا ہے۔ میرے ذوق کی بات یہ ہے کہ پروگرام کسی ایک جگہ ہو، مجھ کو ادھر اُدھر جانا نہ پڑے۔ میری قیام گاہ اور اجتماع گاہ دونوں ایک ہو۔ میں اپنے حالات اور اپنے مزاج کی وجہ سے اسی طریقے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد نشست ہوئی تو بہت سے لوگ یہاں جمع ہو گئے۔ مثلاً محمد خورشید اکرم سوز، ایوت مال (عمر ۴۱ سال) اور ڈاکٹر پی۔ ڈاودڑ، کالی کٹ (عمر ۴۸ سال)۔ میں نے اپنی گفتگو میں کئی دینی مسائل کا ذکر کیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں مجادلہ (النحل ۱۲۵) کی اجازت آئی ہے۔ کیا یہ مجادلہ وہی چیز ہے جس کو عام طور پر مناظرہ یا ڈیبیٹ کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں مجادلہ کا مطلب مناظرہ نہیں، بلکہ پُر امن ڈائیلاگ ہے۔ ایسا ڈائیلاگ جس سے نفرت اور دوری پیدا نہ ہو۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں اس آیت کے اترنے کے بعد رسول اور اصحاب رسول نے کبھی کسی سے مناظرہ نہیں کیا۔
طریق دعوت عام طور پر یہ تھا کہ قرآن کو پڑھ کر سنانا ، اور اگر ضرورت ہو تو معمولی وضاحت کرنا ۔ کا طریق تبلیغ وہی ہے جس کو دوسرے مقام پر قولا بلیغاً (النساء ۶۳) کہا گیا ہے، یعنی دل میں اتر جانے والی بات ۔
ایوت مال سے محمد خورشید اکرم صاحب پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی دعوت حق سرکل کے نام سے ایوت مال میں دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات سے براہ راست مل کر ان سے گفتگو کرتے ہیں، اور پھر انھیں CPS International کے تحت، چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔
اسی طرح مختلف مقامات پر لوگ حلقے قائم کر کے دعوت اور اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ حیدر آباد، بنگلور، کالی کٹ، بمبئی، ناگپور، میرٹھ، سہارن پور، وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی کام کا فطری اسی طرح کام زیادہ نتیجہ خیز طور پر آگے بڑھتا ہے۔
حیدر آباد کے زمانہ قیام میں ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو جناب حسن الدین احمد صاحب ایس) میری قیام گاہ پر تشریف لائے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک کتاب (طلوعِ فکر) زیر طبع ہے۔ اس کتاب کے ایک ٹائپ شدہ باب کی کاپی انھوں نے مجھے یہ دراصل ان کا ایک خطبہ صدارت تھا۔ حیدر آباد میں ۵ جون ۱۹۸۸ کو اسلامی مرکز دہلی کی برانچ کے افتتاح کے طور پر ایک جلسہ ہوا تھا۔ اس جلسے کے صدر جناب حسن الدین احمد صاحب تھے۔ موقع پر میں نے اسلامی مرکز کے مقاصد پر ایک تفصیلی تقریر کی تھی۔ جناب حسن الدین احمد صاحب نے آٹھ صفحے کا ایک خطبہ صدارت پیش کیا۔ اس میں انھوں نے راقم الحروف کی علمی اور دعوتی خدمات کا مکمل اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :
”آج مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ طرزِ عمل یہ ثابت کر رہا ہے کہ مولانا بلند پایہ شخصیت کے حامل ہیں۔ مخالفت کرنے والے اُن پر ایسے الزامات عائد کرتے ہیں جن سے وہ بری ہیں۔
نیت پر شبہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں کی ہر چیز پرچہ امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ بھی آپ کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کی صرف دو ایک یہ کہ آپ اُس پر ایسی تنقید کریں جو مسلمہ علمی معیار کے مطابق، درست قرار پاتی اور اگر آپ کے اندر یہ صلاحیت نہیں تو آپ پر فرض ہے کہ آپ اس کے بارے میں خاموشی کا طریقہ اختیار کریں (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت)۔ اس کے بجائے تیسرا طریقہ اختیار کرنا فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی بے بنیاد تنقید کرنا، حوالے کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا، نیت پر شک کا اظہار کرنا، علمی تجزیہ کے بجائے تنقیص کا طریقہ اختیار کرنا، خود ساختہ معیار پر غلط قرار دینا، یہ سب تنقید کی ناجائز صورتیں ہیں۔ جو آدمی یہ تیسرا طریقہ اختیار کرے وہ اپنے امتحان میں فیل ہو گیا۔
حیدر آباد یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں پر کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے، ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں جو پہلی وحی آئی اس میں کہا گیا تھا کہ پڑھو۔ اس سلسلے میں روایت میں آتا ہے کہ فرشتہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ پڑھو۔ آپ نے فرمایا کہ ما أنا بقاریء ۔ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس کے بعد فرشتے نے دوبارہ کہا کہ پڑھو۔ اسی طرح تیسرا بار بھی یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخر چوتھی بار آپ نے فرشتے کے تلقین کیے ہوئے الفاظ کو پڑھا۔
اس مکالمے میں سوال اور جواب دونوں کو ملا کر دیکھیے تو اس کا مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ پڑھنا نہیں جانتے تب بھی پڑھو، لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس گفتگو کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک بامعنی ڈائیلاگ تھا۔ یہ علم اور تعلیم کی لامحدود اہمیت کا اظہار تھا۔ یہ تعلیمی جدوجہد کا سبق تھا۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ گھر کے ایک بڑے کمرے میں بیٹھ گئے۔
دیر تک دینی مباحث پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں مکی دور ابتدائی پیریڈ کا دور تھا، اور مدنی دور اتما می پیریڈ کا مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اسلام کی اُس حالت کا نمائندہ ہے جو مستقل طور پر ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اور مدنی دور اُس حالت کا نمائندہ ہے جو اسلام میں وقتی طور پر پیش آتی اور پھر مکی دور دوبارہ مستقل حالت کی حیثیت سے لوٹ آتا ہے۔
غالباً یہی نکتہ ہے جو ایک مشہور حدیث میں بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک (۹ھ) سے واپس ہوئے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر (ہم چھوٹے جہاد سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں) دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہم وقتی جہاد سے واپس ہو کر مستقل جہاد کی طرف آگئے ہیں۔
مکی دور میں قرآن میں یہ آیت اتری کہ الدین کو قائم کرو۔ (أن أقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه (الشوریٰ: ۱۳) اس آیت میں الدین سے مراد مکمل دین نہیں ہے بلکہ دین کا وہ حصہ ہے جو ہر حال میں قابل عمل ہوتا ہے۔ یہاں الدین میں شرائع مراد نہیں ہیں۔ یہ الدین جس پر اہل ایمان مکی دور میں قائم تھے وہی اصل دین ہے، اور وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ بقیہ چیزیں حالات پر منحصر ہیں۔ تنظیم معاشرہ، اقامت حدود، سیاسی امارت کا قیام وغیرہ اُس وقت مطلوبِ شرعی بنتے ہیں جب کہ حالات اس کے موافق ہو چکے ہوں۔
مزید یہ کہ ’’مکمل دین کا نفاذ‘‘ اسلامی مشن کا نشانہ نہیں ہے۔ اسلامی مشن کا نشانہ صرف دو چیزیں ہیں — شخصی اصلاح اور پر امن دعوت۔ ان دو کے سوا جو چیزیں ہیں وہ سب حالات پر مبنی ہیں، وہ اسلامی مشن کا براہ راست نشانہ نہیں۔
پیغمبر اسلام کی زندگی مکہ سے شروع ہوئی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو اسلام مدنی دور میں پہنچ چکا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے مدنی دور کو اپنے لیے ماڈل سمجھ لیا۔ مکی دور کی حیثیت ان کے لیے ماڈل کی نہ رہی۔ یہ شدید غلط نہی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ بعد کی مسلم نسلوں میں حاکمانہ
حالاں کہ حاکمانہ دور کی حیثیت ماڈل کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک درمیانی حالت مکی دور ہی اسلام کا ابدی ماڈل ہے۔ مدنی دور، مکی دور کے تابع ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ اسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اہل علم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام میں اقتدار کی حالت (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، لیکن اسلام میں بے اقتدار کی حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکی دور امت کے ذہن سے عملاً حذف ہو گیا ہے۔ اب امت کے ذہن میں صرف مدنی دور، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں عباسی دور اور اموی دور اور مغل دور اور عثمانی دور موجود ہے۔ اسی بعد کے سیاسی دور سے لوگ انسپریشن مکی دور لوگوں کے ذہن میں زندہ شعور کی حیثیت سے موجود نہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ غلو کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ دور زوال کا ظاہر ہ ہے۔ غلو کا تعلق اسپرٹ سے نہیں ہے بلکہ ظواہر سے ہے۔ جب اسپرٹ ختم ہو جائے اور دین صرف ظواهر کی سطح پر باقی رہے، اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ظواہر کا بہت زیادہ اہتمام کرنے لوگ ظواہر کے معاملے میں انتہا پسند بن جاتے ہیں۔ اسی کا نام غلو ہے۔ غلو، دین داری کی علامت نہیں ہے بلکہ وہ اصل دین سے انحراف کی علامت ہے۔ غلو اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے اندر روح اسلام باقی نہیں رہی ہے اس لیے وہ ظواہر دین کا اہتمام کر کے اپنے آپ کو اعلیٰ دین دار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ سادگی (simplicity) کوئی معمولی چیز نہیں۔ کا گہرا تعلق اسلامی کردار سے ہے۔ زندگی کے معاملات میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کا پیسہ، اس کا وقت اور اس کی توجہ غیر ضروری چیزوں میں نہ لگے۔ آدمی اپنے سارے وسائل، اپنی ساری توجہ اور اپنے تمام وقت کو صرف اپنے اعلیٰ مقصد کے راستے میں خرچ کر سکے۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ با مقصد انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سادگی کا طریقہ با مقصد انسان کے لیے سادگی کے طریقے کو چھوڑ نا مقصدی اعتبار سے اپنے آپ کو ہلاک
کرنے کے ہم معنی ہے۔ سادگی اور بامقصد زندگی دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو ناشتے کے بعد ہم لوگ جامعہ دارالفرقنان (للبنات) گئے ۔ حیدرآباد کے سعید آباد علاقے میں واقع ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ ۱۹۸۹ میں قائم ہوا۔ اس کے قیام کا مقصد اس کے تعارف نامے کے مطابق ، یہ ہے— ’’عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کو عام کرنا، تا کہ خواتین میں علمی اور دینی بیداری کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی تعلیم کے ذریعے دینِ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ جامعہ کا نصاب اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ طالبات (انٹرنس مماثل .S.S.C دسویں جماعت) پری ڈگری کورس (مماثل انٹرمیڈیٹ B.A. (L کی ڈگری سندِ فضیلت کے ساتھ ساتھ عثمانیہ یونیورسٹی سے حاصل کر سکیں‘‘۔
اس ادارے کے بانی سید قطب الدین مرحوم تھے۔ اور اس کے موجودہ پرنسپل مولا نا محمد اسحاق کمال صاحب ہیں ۔ جامعہ دارالفرقنان میں میرے خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا عنوان تھا: اسلام میں عورت کا مقام ۔ میں نے اس موضوع پر ایک تفصیلی تقریر کی ۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں عورت کو اعلیٰ انسانی مرتبہ دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں عزت اور احترام کے اعتبار سے برابر ہیں۔ البتہ دونوں کے سماجی کردار میں فرق ہے:
میں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ایک مغربی اسکالر ایڈورڈ ولیم لین (وفات : ۱۸۷۶) نے لکھا تھا کہ اسلام کا تباہ کن پہلو یہ ہے کہ وہ عورت کو ڈی گریڈ (degrade) کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں عورت کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ: النساء شقائق الرّجال ۔ یعنی عورت اور مرد دونوں ایک وحدت کے دونصف حصے ہیں:
لیکن فطرت کی تقسیم کے مطابق ، عورت اور مرد کا رول ایک دوسرے سے کو آپریٹ کرنا ہے نہ کہ ایک دوسرے سے ہمسری کرنا (ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم علی بعض ، النساء ۳۲) قرآن کے مطابق ، مرد کا رول قوامیت کا رول ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کا رول تعاون کا رول جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: زوجة صالحة تعین علی دینہ یعنی زندگی میں مرد کا مددگار بننا۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ والی بال کا کھیل ایک ٹیم کا کھیل ہوتا ہے۔ والی بال میں ایک والرو ہوتا ہے اور دوسرا بوسٹر۔ بوسٹر کا کام گیند والرکودینا ہے اوروالر کا کام گیند کو مارنا۔ اسی طرح زندگی میں عورت کا رول بوسٹر (booster) کا رول ہے ، اور مرد کا رول پرفارمر (performer) کا رول۔ قانونِ فطرت کے مطابق ، یہی صحیح تقسیم ہے۔ اسی تقسیم کو اسلام میں اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سائنس داں مارگریٹ آلوائیڈیسن (وفات: ۱۹۳۱) میٹرک پاس بھی نہ تھا۔ اس کے باوجود اس نے ایک ہزار سے زیادہ چیزیں ایجاد کیں ۔ ٹیوب لائٹ اسی کی ایک ایجاد ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ وہ اس طرح ممکن ہوا کہ ایڈیسن کی ماں (Nancy) اپنے بیٹے کے لیے بوسٹر بن گئی ۔ ماں کا حصہ ایڈیسن کی زندگی میں اتنا زیادہ ہے کہ ایڈیسن نے کہا: The real force behind all of my successes is my mother. ایڈیسن کی ماں جو کہ ایک ٹیچر تھی اس نے اپنی پوری زندگی ایڈیسن کی تعلیم وتربیت کے لیے اس نے ایڈیسن کے اندر علم کا شوق بھی پیدا کیا اور علم کے حصول میں بھی اس کی پوری مدد ایڈیسن نے اپنی ماں کے بارے میں کہا کہ:
She instilled in me the love and the purpose of learning. میں نے کہا کہ اسلام کے مطابق ، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے ذہنی رفیق (intellectual partner) ہیں ۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ایک ذہنی رفیق کا ملنا ہے۔ کی صورت میں مرد کو یہی چیز دی گئی ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس عظیم فطری امکان کے واقعہ نہ بننے کی سب سے بڑی ذمے داری مردوں پر عائد ہوتی ہے۔ مردوں کا یہ حال ہے کہ وہ عورت کو صرف گھر کا
ایک ساتھی سمجھتے ہیں، وہ اس کو ذہنی رفیق کے روپ میں نہیں دیکھتے۔ اس کا نقصان دونوں کو سنگین صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
خطاب کے بعد سوال اور جواب کا وقفہ تھا۔ اساتذہ اور طالبات کی طرف سے بہت سے سوالات ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے النساء شقائق الرجال والی حدیث کا حوالہ عورت اور مرد کے درمیان عمومی برابری کے لیے دیا ہے۔ حالاں کہ یہ روایت کتاب الطہارہ کے تحت آئی ہے۔ میں نے کہا کہ فہم حدیث کا ایک اصول ہے کہ کوئی حدیث قریبی سیاق کے اعتبار سے ایک خاص مفہوم میں ہوسکتی ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کا ایک تو وسیع مفہوم بھی ہوتا ہے۔ یہ حدیث ایک سوال کے جواب میں آئی ہے۔ سوال ہمیشہ کسی مخصوص صورت حال کی نسبت سے ہوتا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس میں ایک کلی مفہوم بھی بیان کر دیا جاتا ہے جو عمومی حکم بتانے کے ساتھ زیرِ سوال مسئلے کے دوسرے پہلوؤں کا بھی احاطہ کر رہا ہو۔ تقریر کے دوران میں نے قرآن کے بارے میں ایک حدیث: لاتنقصی عجائبہ (الترمذی) کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر اساتذہ کی طرف سے ایک سوال یہ آیا کہ اس حدیث کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔ پھر آپ کیوں اس حدیث کو بناء استدلال بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ سند کے اعتبار سے بالفرض یہ روایت ضعیف ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ قوی ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کے بہت سے عجائب (معانی) بعد کے زمانے میں ظاہر ہوئے جو کہ نزول قرآن کے وقت لا مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کی لاش خدا نے محفوظ کر دی ہے۔ یہ بات نزول قرآن کے وقت بالکل لامعلوم تھی۔ نزول قرآن کے بارہ سو سال بعد اس کا انکشاف ہوا، وغیرہ۔ اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب عظمتِ قرآن میں دیکھی
میں نے کہا کہ حدیث کو جانچنے کا اصول صرف وہی نہیں ہے جو عموماً فن حدیث میں مقرر کیا اس کے علاوہ حدیث کی صحت کو جانچنے کا ایک اور اہم تر اصول بھی ہے۔ وہ یہ کہ حدیث اگر
قرآن کے بیان سے مطابقت کر رہی ہو تو اس کو صحیح مانا جائے گا۔ اس حدیث کا معاملہ یہی ہے۔ کہ قرآن میں اس مفہوم کا بیان موجود ہے۔ وہ یہ کہ آئندہ آفاق اور انفس میں خدائی نشانیاں ظاہر ہوں گی (حم السجدہ (۵۳)۔ گویا جو بات قرآن میں ایک قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی وہی حدیث میں دوسرے قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
ایک سوال یہ تھا کہ عورت کے پردے کے بارے میں آپ نے شیخ ناصر الدین البانی کا حوالہ لیکن جو علماء وجہ اور کفین کو حجاب سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں وہ بھی موجودہ زمانے میں اس کے قائل کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ فتنے کا زمانہ ہے، اور جب فتنے کا زمانہ آجائے تو احتیاط کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس رعایت پر عمل نہ کیا جائے۔
میں نے کہا کہ فتنے کا تعلق ، صرف عورت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مرد سے بھی ہے۔ میں مال کو سب کے لیے فتنہ کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: لكل أمة فتنة وفتنة امتی المال (ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے)۔ ظاہر ہے کہ مال کا تعلق ننانوے فیصد مردوں ہی سے ہوتا ہے۔ کیا ایسی حالت میں یہ کہا جائے گا کہ مرد مال کمانا چھوڑ دیں کیوں کہ اب وہ فتنہ بن گیا ہے۔ کسی چیز کا فتنہ بننا ، ہمیشہ صرف احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے نہ کہ ترک کا ، اور احتیاط اور ترک میں بہت زیادہ فرق ہے۔
ایک سوال یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ عورت مرد کے لیے انٹلکچول پارٹنر ہے۔ آپ کی یہ رائے تعلیم یافتہ مردوں کے لیے تو سمجھ میں آتی ہے لیکن غیر تعلیم یافتہ مرد کس طرح اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنا سکتے ہیں۔
یہ سوال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تعلیم یافتہ مرد اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے مگر یہ مفروضہ بذات خود غلط ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کسی ایک مرد کو بھی نہیں دیکھا جو حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کو انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے ہو، خواہ اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں سب سے پہلے عورتوں اور مردوں کو باشعور بنانے کی ضرورت
اِس کے بعد لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو اِس کے لیے تیار کریں۔ مزید یہ کہ اِنٹلیکچول پارٹنر شپ کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ اِس کے بغیر یہ امکان واقعہ نہیں بن سکتا۔ وہ قربانی یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سادگی، صبر، ایثار، تواضع، علمی اور دینی مزاج، وغیرہ پیدا کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ عورت کو اپنا اِنٹلیکچول پارٹنر بنانا ابتدائی طور پر ایک امکان ہے۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے باقاعدہ تیاری کی ضرورت ہے۔ ہر تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ آدمی کو تیاری کے اِس کورس سے گزرنا ہوگا۔ اِس کے بعد ہی وہ اِس امکان کو اپنے لیے واقعہ بنا سکتا ہے۔ تیاری کے اِس عمل میں سب سے زیادہ اہمیت مکمل سادگی کی ہے۔ سادگی ایک لائف اسٹائل کا نام ہے۔ اِس لائف اسٹائل کو اپنائے بغیر کوئی گھر اِنٹلیکچول پارٹنر شپ کا مقام نہیں بن سکتا۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ایک سیمنار کرنے والے ہیں۔ انھوں نے مجھے اِس سیمنار میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ میں نے کہا کہ میں سیمنار کو ایک بے فائدہ کام سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میں نے آج تک کبھی کوئی سیمنار نہیں کیا۔ البتہ دوسرے لوگوں کے سیمنار میں حسب موقع میں شرکت کرتا رہا ہوں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ یہ شرکت صرف تجربے اور مشاہدے کے لیے ہوتی ہے۔ جہاں تک سیمنار کے مقصد کا تعلق ہے، اِس اعتبار سے ہر سیمنار بالکل بے فائدہ ہوتا ہے۔
میں نے کہا کہ سیمنار کیا ہے۔ سیمنار اِنٹلیکچول (intellectuals) لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اعلان کے مطابق، اِس کا مقصد کسی پہلو پر ڈسکشن کرنا ہوتا ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ ہر سیمنار، بظاہر ڈائیلاگ کے لیے ہوتا ہے مگر عملاً وہ مونولاگ (monologue) بن جاتا ہے۔
اِس کا سبب اِنٹلیکچول لوگوں کی ایک کمزوری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ہر اِنٹلیکچول اِیگوئسٹ (egoist) ہوتا ہے۔ اِس کو صرف اپنی بات سنانے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر نہ دوسروں کی بات کھلے ذہن کے ساتھ سنتا ہے اور نہ وہ اس کو ماننے کے لیے تیار ہوتا یہی وجہ ہے کہ ہر سیمنار ایک طرح کا فکری تصادم بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ کسی فکری اتحاد تک نہیں
سیمنار کے مفید بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شرکت کرنے والے کے اندر ماڈسٹی (modesty) کی صفت پائی جاتی ہو، ظاہری ماڈسٹی نہیں بلکہ حقیقی ماڈسٹی۔ بدقسمتی سے یہ صفت آج معدوم کے درجے اس لیے ہزاروں سیمنار ہونے کے باوجود ان کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ دوسروں کے طریقے اور میرے طریقے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بھیڑ کو خطاب کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ بھیڑ ہوتاہی زیادہ وہ اپنے پروگرام کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ اگر بھیڑ کو خطاب کرنا کوئی کام ہو تو لاؤڈ اسپیکر کا زمانے آنے کے بعد لاکھوں بار لوگوں نے بھیڑ کو خطاب کیا ہے مگر یہ سارے خطابات بالکل بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ کے مقابلے میں میرا طریقہ انفرادی ذہن کو خطاب کرنا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ بیوی کے لیے رفیق حیات ایک معروف لفظ ہے جس میں سب کچھ پھر آپ ایک نیا لفظ انٹلیکچول پارٹنر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ لفظی طور پر رفیق حیات میں ساری بات آجاتی ہے، لیکن رفیق حیات استعمال کے اعتبار سے ایک رسمی لفظ بن گیا ہے۔ ہر آدمی رفیق حیات کا لفظ بولتا ہے لیکن کسی کو بھی یہ پتہ نہیں کہ رفیق حیات کے لفظ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی بیوی کو انٹلیکچول پارٹنر بنایا جائے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عورت کے موضوع پر لکھی جانے والی کسی بھی کتاب میں انٹلیکچول پارٹنر کا تصور موجود نہیں اور نہ آپ ایسے کسی مسٹر یا مولوی کا نام بتا سکتے ہیں جس نے شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا ہو اور واقعتا اپنی رفیق حیات کو اپنا انٹلیکچول پارٹنر بنایا ہو۔
یہ ایک عام اصول ہے کہ جب کوئی لفظ ناقص استعمال کی بنا پر اپنی معنویت کھو دے تو ایک نیا لفظ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جو سننے والوں کے لیے زیادہ قابل فہم ہو، اور جس کے ذریعے اصل مفہوم فوراً لوگوں کے ذہن میں آجائے۔ اس لیے میں نے انٹلیکچول پارٹنر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو یہ جانتا ہو کہ رفیق حیات کا مطلب اپنی بیوی کو انٹلیکچول پارٹنر بنانا اس لیے دعوتی اور اصلاحی نقطہ نظر سے ضروری ہوا کہ اس مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ایک نیا
لفظ استعمال کیا جائے جس کو سن کر فوراً اصل مفہوم واضح ہو جائے۔ آپ کو اس معاملے میں شک ہو تو آپ یہ دیکھیے کہ کیا وہ لوگ جورفیق حیات کے لفظ سے واقف ہیں کیا وہ اس بات کو جانتے تھے کہ رفیق حیات کا مطلب اپنی شریکِ زندگی کو انٹلکچول پارٹنر بنانا ہے۔
۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو جامعہ دار الفرقان کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے ایک قریبی مسجد میں گئے۔ ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو وہاں خطبے سے پہلے کی تقریر ہورہی امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر اس قدر زور زور سے بول رہے تھے جیسے کہ کسی دشمن نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں۔ اکثر علماء اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ پر جوش انداز میں تقریر کی جائے گی اتنی ہی زیادہ اصلاح کا کام مؤثر ہو سکے گا۔ شاید اقبال کے اِس شاعرانہ تخیل سے متاثر ہو کر ایسا کر رہے ہیں :
نوارا تلخ ترمی زن، چو ذوق نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چوممل راگراں بینی میرے نزدیک اِس قسم کی شعلہ بیانی سرتا سرا یک بے فائدہ کام ہے۔ لوگوں کی اصلاح کے لیے شعلہ بیانی کی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدہ انداز میں ذہنی تعمیر کی ضرورت ہے، اور ذہنی تعمیر کا کام شعلہ بیانی کے ذریعے نہیں ہوتا۔
نماز جمعہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر واپس آئے۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے بعد اگلے پروگرام کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ پروگرام اُس بلڈنگ میں تھا جس کو حبیب بھائی نے دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے۔ یہاں زیادہ تر وہ لوگ اکٹھا ہوئے تھے جو ماہ نامہ الرسالہ کے پڑھنے والے ہیں اور جنھوں نے الرسالہ کی دوسری کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ لوگ جن کو الرسالہ کی دعوتی تحریک سے اتفاق ہے۔
یہاں میں نے دعوت کی اہمیت کے موضوع پر ایک مفصل تقریر کی۔ اور بتایا کہ دعوت کا عمل ایک مستقل عمل ہے۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے یہ کام مسلسل طور پر پیغمبروں کے ذریعے ہو تار ہا۔ ختم نبوت کے بعد امت محمدی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس کام کو نسل در نسل ساری دنیا میں جاری
دعوہ ورک کوئی قومی ورک نہیں۔ دعوہ ورک کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمام انسانوں کو خدا کے تخلیقی نقشہ (Creation Plan of God) سے باخبر کیا جائے۔
پھر میں نے کہا کہ اکثر لوگ دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ دعوہ ورک کر رہے ہیں ۔ اس طرح کچھ لوگ اصلاح مدرسہ اور اصلاح مسجد کا کام کرتے ہیں اور سمجھتے کہ وہ دعوہ ورک کر رہے ہیں ۔ یہ سب بے خبری کی باتیں ہیں۔ ایسے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ دعوت الی اللہ کیا ہے اور وہ اسلام میں کیوں مطلوب ہے۔ کچھ لوگ موجودہ مسائل کو عذر بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے ہوتے ہوئے دعوہ ورک کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق ، دعوہ ورک ہی ان مسائل کا حل ہے (المائدہ ۷۲)۔ کسی بھی عذر کی بنا پر دعوت کے کام کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنے کے بعد امت محمدی کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ پھر میں نے بتایا کہ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام رک گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں سے قومی اور سیاسی شکائیتیں پیدا ہوئیں ۔ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرنے حتی کہ ان کے خلاف متشددانہ جہاد چھیڑ دیا۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر وہ اسپرٹ ہی ختم ہوگئی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔ یعنی دوسرے انسانوں کے لیے خیر خواہی۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل دوسری قوموں کے خلاف شکایتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ شکایت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں اور دوسری قوموں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں دعوت الی اللہ کا سنجیدہ کام کبھی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اللہ مسلمانوں کی لازمی ذمے داری ہے۔ اور اس ذمے داری کی ادائیگی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ مسلمان، غیر مسلم قوموں کے مقابلے میں صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر غیر مسلموں کی کسی روش سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے بھڑکنا اور ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنا ہرگز جائز نہیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن سے ایسے انداز میں بات کرو جو اُن کے دل میں اتر جانے والی ہو (النساء : ۶۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا اسلوب اختیار کرو جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ اُن پر خدائی پیغام کی صداقت کو اس طرح کھول دے کہ وہ اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت سے پہلے اصلاح ضروری ہے جب تک اپنی اصلاح نہ ہو جائے دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک خود ساختہ شرط ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس قسم کی شرط کہیں مذکور نہیں۔ صحابہ اور تابعین کا گروہ اسلام میں معیاری گروہ مانا جاتا ہے۔ انھیں لوگوں کے دعوتی عمل سے اسلام ہر جگہ پھیلا۔ مگر ان کے حالات پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اُن میں سے کوئی بھی شخص نہیں جو اپنے کو مومن کامل سمجھتا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کامل مومن یا با عمل مومن کی شرط اگر ضرور قرار دی جائے تو کبھی دعوت کا عمل انجام نہیں پائے گا۔ کیوں کہ کوئی مخلص انسان یا اللہ سے ڈرنے والا انسان کبھی اس احساس میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ وہ پورے معنوں میں مومن کامل یا با عمل مسلمان بن گیا ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو ناقص سمجھ کر دعوت کے عمل سے رُکارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی شرط ایک خود ساختہ شرط ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دعوت الی اللہ کا محرک یہ نہیں ہے کہ میں پوری طرح با عمل مسلمان بن گیا ہوں اس لیے اب مجھے دعوت کا عمل کرنا چاہیے ۔ دعوت کا محرک دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ جو لوگ مذکورہ قسم کی شرطیں لگاتے ہیں ان کے دل انسانوں کی خیر خواہی سے بالکل اگر ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی موجود ہو تو وہ کبھی اس قسم کی بے بنیاد بات نہیں کہیں گے۔
مولا نا محمد ذکوان ندوی نے بتایا کہ انھوں نے ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو حیدر آباد کی ایک قدیم جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی۔ مسجد کے اندر جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے جس پر لکھا ہوا تھا۔ براہ کرم مسجد میں اپنا موبائل فون بند کر دیں۔
انھوں نے بتایا کہ خطبے سے پہلے کی تقریر میں امام صاحب نے کہا کہ مسجد میں بڑے بڑے
بورڈ پر لکھ کر یہ لگایا گیا ہے کہ لوگ مسجد میں اپنا موبائل بند رکھیں پھر بھی لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ دراصل یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان، مسجد میں بھی عبادت اور دعا کے لیے یکسو نہ رہ سکیں۔ اس لیے انھوں نے مسلمانوں کے اندر موبائل پھیلا دیئے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے واعظین کی بے شمار تقریروں کے باوجود کیوں مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی ہر داخلی خرابی میں ایک خارجی دشمن کی سازش کو دریافت کر لیتے ہیں اور اس کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر داخلی احتساب کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ خارجی دشمنوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طور پر منفی انداز فکر کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو عصر کی نماز کے بعد ہم لوگ بھارتیہ ودیا بھون کے لیے روانہ ہوئے۔ کے وسیع ہال میں خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ اس خطاب کا انتظام ایک ہندو تنظیم پرگنا بھارتی (آندھرا پردیش) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہاں کے خطاب کا عنوان یہ تھا: