Co-existence in Islam
Al-Risala, August 2006, pp. 28–46
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ پروگرام پورا کا پورا انگریزی زبان میں تھا۔ اس میں حیدر آباد کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان شریک ہوئے۔ مجھے تقریر کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام پرگنا بھارتی والوں نے اصلاً صرف میری تقریر کے لیے کیا تھا۔ کے صدر ڈاکٹر چودھری تھے۔ وہ پرگنا بھارتی کے چیرمین ہیں۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ دنیا میں بقائے باہم (co-existence) ایک فطری اور ہر فارمولا جو فطری ہو وہ اسلام کا فارمولا بھی ہے۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق، اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس فطری فارمولے کی ایک مثال قرآن میں یہ دی گئی ہے کہ وسیع خلا میں ستارے اور سیارے مسلسل حرکت میں ہیں۔ لیکن ہر ایک اپنے مدار میں حرکت کرتا ہے۔ لیے ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ نہیں ہوتا (یس : ۴۰) ستاروں اور سیاروں کے اس نظام کو
یونیورسل ماڈل آف کو اگزسٹنس کہا جاسکتا ہے۔ یہی فطری فارمولا انسان سے بھی مطلوب ہے، اس طرح کہ خلا کے اجرام جس طریقے کو لازمی قانون فطرت کے تحت، مجبورا نہ طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں اس کو انسان اپنی اجتماعی زندگی میں خود اپنے ارادے اور شعور کے تحت اختیار کرے ۔ اسی کا نام بقائے باہم ہے۔
میں نے کہا ہماری دنیا فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر طرف فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ میں نے آر۔ ایس کے سابق چیف گرو گول والکر کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی اس کو مانتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity. ایسی حالت میں کوئی ایسا فارمولا قابل عمل ہی نہیں جو فرق اور اختلاف کو مٹانے کے اصول پر قائم صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ۔ ہم فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں، ہم فرق کے باوجود متحد ہو کر جینا سیکھیں :
We have to learn the art of difference management. میں نے کہا کہ اسلام میں دو قسم کا بقائے باہم پایا جاتا ہے۔ ایک، بلا اعلان بقائے باہم (undeclared co-existence) اور دوسرا، اعلان کے ساتھ بقائے باہم میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں مسلمان اس طرح رہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لیے پرابلم پیدا نہ کریں۔ میں نو پرابلم انسان بن کر رہیں ۔ یہ بلا اعلان بقائے باہم کی مثال ہے۔ اسی طرح میں نے صلح حدیبیہ کی مثال دی۔ میں نے کہا کہ حدیبیہ کا معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فریق ثانی کے درمیان اس بات پر ہوا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں یہ اعلان کے ساتھ بقائے باہم کی مثال ہے۔
پروگرام کے خاتمے پر ڈاکٹر چودھری صدر جلسہ کی حیثیت سے اسٹیج پر آئے۔
کے مقامی لیڈر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں میری باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بتایا کہ اسلام امن اور بقائے باہم کے اصول کو مانتا ہے۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہندوؤں میں گاندھی پیدا ہوئے جنھوں نے امن جیسی مثبت قدروں کی بات کی اور اس کے خلاف چلنے والوں کو کنڈم کیا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں مولا نا صاحب ہی اکیلے اس قسم کی بات کہتے ہیں۔ آخر دوسرے مسلم علماء ایسا کیوں نہیں کہتے۔ اس کے جواب میں میں نے مائیک پر آ کر یہ کہا: Gandhi was one and also Maulana is one. Moreover, Gandhi was shot dead, and Maulana is alive, addressing this mixed gathering. اس موقع پر ہمارے ساتھی CPS International کے دعوتی بروشر اور پمفلٹ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا۔ لوگوں نے بہت شوق کے ساتھ اس کو لیا اور اس کو پڑھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ دوبارہ حبیب بھائی کے گھر واپس آگئے ۔ یہاں اُس وقت باقاعدہ طور پر کوئی پروگرام نہیں تھا۔ البتہ کچھ تعلیم یافتہ افراد وہاں آگئے اور ان سے دیر تک باتیں ہوتی ایک صاحب نے کہا کہ بھارتیہ ودیا بھون کے پروگرام میں ڈاکٹر چودھری نے موجودہ مسلمانوں کے طرزِ عمل کے خلاف کئی باتیں کہی تھیں مگر آپ نے ان کا جواب نہیں دیا۔ ڈاکٹر چودھری نے کہا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر نے ایک بار اپنے بیان میں کہا کہ جہاں تک پالیٹکس کا تعلق ہے مہاتما گاندھی میرے لیڈر ہیں۔ مگر جہاں تک مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کا تعلق ہے میں ایک فاسق وفاجر مسلمان کو مہاتما گاندھی سے اچھا سمجھتا ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ چوں کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک سمجھتے ہیں اس لیے آپ کو یہ چیز مسئلہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک نہیں سمجھتا۔ اس لیے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ میں نے کہا کہ میری پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف بولے تو میں ضرور اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں کے رویے پر تنقید کرے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ میں اسلام
کا ایڈوکیٹ ہوں نہ کہ مسلمانوں کا۔ آپ لوگ مسلمانوں کے طرز عمل کے بارے میں مسلمانوں سے دریافت کر سکتے ہیں۔
حبیب بھائی نے یہ سوال کیا کہ آپ امن (peace) کا جو پیغام دے رہے ہیں کیا ایسی کوئی آئیڈیل سوسائٹی دنیا میں رہی ہے جہاں پوری طرح امن کا ماحول قائم ہو گیا ہو۔ اگر ایسی کوئی سوسائٹی ہو تو اس کے متعلق ، ہم کو بتائیں ۔
میں نے کہا کہ یہ سوال صرف آپ کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ سارے مفکروں اور رہنماؤں کا تمام لوگ یہ تلاش کر رہے ہیں کہ ایسی کوئی سوسائٹی ملے جہاں اس قسم کا پر امن ماحول قائم اور جب وہ ایسی سوسائٹی نہیں پاتے تو وہ توڑ پھوڑ کی پالکس چلانے لگتے ہیں تا کہ اپنے خیال کے مطابق، موجودہ غیر معیاری سماج کو توڑ کروہ مطلوب معیاری سماج بنا ئیں ۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ ایک غلط پیمانہ (yardstick) سے سماج کو نا پتے ہیں۔ میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کوٹنگ گراؤنڈ کے طور پر بنایا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی دی گئی ہے۔ ہر آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کو چاہے تو صحیح طور پر استعمال کرے اور چاہے تو غلط طور پر استعمال کرے۔ صورت حال اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہے کہ یہاں کبھی آئیڈیل معنوں میں پر امن سماج بن سکے۔ کیوں کہ چند آدمی بھی اگر اپنی آزادی کو غلط استعمال کریں تو وہ سماج کے پر امن ماحول کو خراب کر سکتے ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ کسی سماج کو آئیڈیل پیمانے سے نہ نا پا جائے بلکہ اس کو پریکٹیکل پیمانے سے نا پا جائے ۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ انسانی سماج کو آئیڈیل پیمانے سے ناپتے ہیں۔ لیے وہ فوراً منفی رائے بنا لیتے ہیں۔
صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ سماج کو پریکٹیکل پیمانے سے ناپا جائے ۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے وہ سماج جن کو آپ غیر پر امن سماج مانتے ہیں وہ سب پر امن سماج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان، امریکہ، اور یورپ کے اکثر ممالک۔ پریکٹیکل پیمانے کے اعتبار سے
یہ سارے ملک پر امن ملک کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن آئیڈیل پیمانے سے ناپنے کی وجہ سے سارے لوگ ان ملکوں کو غیر پر امن ممالک کہتے ہیں۔
احمد بھائی نے سوال کیا کہ دعوت ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔ کہا کہ دعوت ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کو سیاسی مسائل اور قومی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر قومی شکایتوں میں جیتے ہیں۔ محرومی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کی یہی نفسیات دعوت ورک میں سب سے بڑی رکاوٹ اس منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کو ”غیر قوم‘‘ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ ان کو اپنے حریف یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ حالاں کہ دوسری قوموں کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہی دعوت ورک کا اصل میرے تجربے کے مطابق، خود غیر مسلموں کی طرف سے دعوت ورک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بظاہر اگر کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ صرف اس لیے ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان غیر مسلموں کے بارے میں معتدل نفسیات سے خالی ہو گئے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان انھیں غیر مسلم قوموں سے بزنس کے تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ انھیں کے دفتروں میں جاب کرتے ہیں۔ اس طرح ایسا ہو رہا ہے کہ غیر مسلموں کے پاس مادی مفاد کے جو مواقع ہیں ان کو تو مسلمان خوب خوب حاصل کر رہے ہیں لیکن خود مسلمانوں کے پاس غیر مسلموں کو دینے کے لیے جو سچائی ہے اس کو غیر مسلموں تک پہنچانے کا کوئی جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔
اس معاملے کی ایک انتہائی مجرمانہ صورت یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکا اور یورپ سے نفرت کرتے ہیں۔ امریکا اور یورپ کا نام لیتے ہی وہ اس کے خلاف نفرت کی بولی بولنے لگتے لیکن یہی مسلمان پہلا موقع پاتے ہی اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکا اور یورپ بھیج دیتے ہیں۔ وہاں رہ کر وہاں کے مادی فوائد حاصل کر سکیں۔ یہ تضاد بلا شبہ وہی چیز ہے جس کو اسلام میں منافقت
کہا گیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ قرآن کی اس آیت کو پڑھ کر اس سے ڈرتے نہیں : إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ غصہ ایک فطری چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ غصہ آنا بُرا نہیں ہے۔ بلکہ غصے کا بُری شکل اختیار کرنا بُرا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وإذا مـــــا غضبوبہم یغفرون (الشوریٰ: ۳۷) اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو بھی غصہ آتا ہے۔ لیکن مومن غصے کی آگ کو اندر ہی اندر ڈفیوز کر دیتا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تھا۔ چنانچہ روایات میں آپ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ آتے ہیں: فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرّت وجنتاه، اور أغضب كما تغضبون، وغیرہ۔
میں نے کہا کہ غصے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی ذات پر کوئی شخص تنقید کرے تو آپ غصہ ہو جائیں۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے غصے سے اپنے آپ کو دوسری صورت ہے اصول کے معاملے میں غصہ آنا۔ ایسا غصہ جائز ہے، اور معتدل دائرے میں اس کا اظہار بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غصہ آتا تھا وہ اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو صرف اُس وقت غصہ آتا تھا جب کہ آپ اصول کے معاملے میں کسی کو خلاف ورزی کرتے ہوئے پاتے تھے۔ آپ کا یہ غصہ اصلاح کے لیے ہوتا تھا، وہ کسی کی تحقیر کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک نشست ہوئی۔ اس میں کئی لوگ شریک ہوئے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ الرسالہ میں یہ بات آئی ہے کہ تزکیہ قلب سے مراد حقیقتاً تزکیہ ذہن ہے۔ تزکیہ کا عمل معروف معنوں میں مبنی بر قلب عمل نہیں ہے بلکہ وہ مبنی بر ذہن عمل انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث میں تو اس سلسلے میں قلب کا لفظ آیا ہے پھر آپ اس کو ذہن سے کس طرح وابستہ کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ قرآن میں ایک طرف یہ آیت ہے کہ تبياناً لكل شيئ (النحل: ۸۹) دوسری
طرف یہ آیا ہے کہ: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدہ: ۵۳) پہلی آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوقت نزول، قرآن میں ہر بات کی تبیین ہو چکی ہے۔ جب کہ دوسری آیت بتاتی ہے کہ قرآن کی کچھ حقیقتوں کی تبیین بعد کے زمانے میں ہوگی۔ اس اصول کو سامنے رکھیے تو مذکورہ معاملے کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میں اترا ہے۔ قدیم زمانے میں دل کو فکر اور احساس کا مرکز مان لیا گیا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں یہ تصور اتنا رائج ہوا کہ وہ ادب کا لازمی جزو بن گیا۔ میں مؤثر کلام وہی ہو سکتا تھا جو مروّجہ ادب کی زبان میں ہو۔ مثلاً انگریزی میں کہا جاتا ہے ہول ہرٹڈلی اس جملے کو اگر بدل کر ہول مائنڈلی (whole mindedly) کہا جائے تو ادبی اعتبار سے یہ جملہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام زبانوں میں ادبی اعتبار سے قدیم اسلوب ہی رائج ہے۔ اگر چہ خالص سائنسی اعتبار سے صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ حدیث میں بھی اسی پہلو کی رعایت کی گئی ہے۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے مولانا محمد علی جوہر کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا محمد علی چوں کہ انگریزی جانتے ہیں اس لیے انھیں غیر مسلموں کے انگریزی داں طبقے میں دعوت کا کام کرنا چاہیے میرے نزدیک یہ ایک سادہ لوحی کی بات تھی۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، صرف انگریزی دانی اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ مولانا محمد علی کا ذہن سیاسی ذہن تھا۔ ہی نہیں تھے کہ دعوت کیا ہے اور دعوت کے آداب کیا ہیں۔
میں نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں لکھا ہے کہ محمد علی نے ایک بار مجھ سے کہا کہ آپ کلمہ پڑھ لیجئے۔ پھر جس طرح ہم لوگ دنیا میں ایک ساتھ ہیں مرنے کے بعد بھی جنت میں ایک ساتھ رہیں گے ۔ جواہر لال نہرو نے اس بات کا مذاق اُڑایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تعلیم یافتہ آدمی اس قسم کی بات پر ایسا ہی رد عمل پیش کرے گا۔ دعوتی کلام وہ ہے جو مخاطب کے ذہن کو
ایڈریس کرنے والا ہو۔ مذکورہ قسم کا کلام سادہ لوحی کی مثال تو ہو سکتا ہے مگر وہ دعوتی شعور کی مثال نہیں۔ ایک صاحب کے توسط سے ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ میں ایک سبق آموز بات ملی جو یہاں قابلِ ذکر ہے۔ اس شمارے کا اداریہ (نگاہِ اولین) مسلمانوں کے خلاف مغرب کی جارحیت پر تھا۔ اور اس کا عنوان الطاف حسین حالی کے اس شعر سے لیا گیا تھا: اے خاصۂ خاصانِ رسل، وقتِ دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے پانچ صفحے کے اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ”۹/۱۱ کے حادثے پر صدر بش نے اپنے جوابی فوجی عزائم کے اظہار کے لیے کروسیڈ (crusade) کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ وہ لفظ تھا جو فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف مسیحی یورپ کے دورِ وحشت کی جنگی مہمات کے اُس طویل سلسلے کو یاد دلاتا تھا جو صلیبی جنگوں کے نام سے معروف ہے…… اور اب ڈنمارک سے اٹھنے والے جس کارٹونی فتنے پر عالمِ اسلام اس وقت سراپا احتجاج ہے، اس کے مقابل میں پورے مغرب (بشمول امریکا) نے جس طرح ڈنمارک کے ساتھ بیک آواز یکجہتی کا اظہار کر کے اُسے سہارا دیا ہے کہ پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں۔ پر اگر گمان ایک انداز میں صلیبی مسیحیت کے لوٹ آنے اور ایک نئی کروسیڈ کا بگُل بجادیے جانے کا گذرنے لگے تو کیسے اِسے بیجا کہا جاسکے گا“۔
الفرقان کے اس مضمون کو پڑھ کر قاری کے ذہن میں جو تاثر آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں پر جو ”بُرا وقت“ آیا ہے اس کا اصل سبب مغربی قوموں کی سازش اور اُن کا ظلم ہے۔ طرف اسی الفرقان میں اس کے ایڈیٹر کی طرف سے ایک اور مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: سفرِ حج سے واپسی پر۔
اس دوسرے مضمون کو پڑھ کر قاری کا جو تاثر بنتا ہے وہ پہلے تاثر سے یکسر مختلف ہے۔ مضمون بتاتا ہے کہ رمی جمرات کے موقع پر جو سنگین حادثہ ہوا اس کا سبب خود مسلمان تھے۔ کی اپنی داخلی بد نظمی ہے جس کی بنا پر یہ سنگین حادثہ پیش آیا۔
الفرقان کے مدیرِ محترم اس حج میں موجود تھے۔ انھوں نے رَمِی جمرات کے اِس منظر کو دیکھا تھا
جس میں تقریباً ڈھائی تین سو مسلمان شہید ہو گئے ۔ اس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ ؎ ’’ دنیا کا وہ حصہ جسے مشرقی دنیا یا تیسری دنیا کہا جاتا ہے اس میں بسنے والوں کے مزاج سے قانون اور ضابطے کی پابندی ، جسے ڈسپلن کہا جاتا ہے ، عرصے سے مفقود ہے ۔ بدقسمتی سے اپنے دور انحطاط میں ہم مسلمانوں کا حال بھی اس پہلو سے کچھ مختلف نہیں رہا۔ ‘‘ (صفحہ ۲۸) پہلے اقتباس کے مطابق ، مسلمان خارجی ظلم کا شکار ہیں ۔ اس کے برعکس دوسرے اقتباس کے مطابق ، مسلمان اپنی داخلی اور مزاجی کمزوریوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان کیوں ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ خود بھی ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی وہ ذہنی انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں وہی ہو سکتا ہے جو کہ عملاً ہو رہا ہے۔ موجودہ حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر بے اصولی اور بد نظمی کا جو مزاج بن گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے ۔ دوسروں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجے میں مسئلے کا حل نہیں۔
اس غلط مزاج نے مسلمانوں کے اندر ایک اور شدید تر برائی پیدا کر دی ہے اور وہ ہے دو عملی۔ بار بار ایسا ہو رہا ہے کہ مسلمان مغربی ملکوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں اٹھاتے ہیں ۔ اپنی تقریروں اور تحریروں میں پر جوش طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہو گئی ہے۔ لیکن وقتی مظاہروں کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ یہ تمام مسلمان مغربی ملکوں کے ساتھ عملاً موافقت کر لیتے اور انھیں ملکوں میں بدستور آرام کے ساتھ رہنے لگتے ہیں ۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرتا کہ وہ ’’اسلام دشمن‘‘ ملکوں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس آ جائے ۔ مغربی ملکوں کی مصنوعات سے بائیکاٹ کا شور تو کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مغربی ملکوں سے بائیکاٹ کا اعلان کر کے وہاں رہنا بسنا چھوڑ دے اور وہ اپنے عزیزوں کو وہاں آباد نہ کرے ، حتیٰ کہ خود الفرقان کے مذکورہ ادار یہ نگار بھی۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ نہایت سنگین ہے ، یہاں تک کہ مغربی ملکوں کی مفروضہ سازش سے بھی زیادہ۔
11 مارچ ۲۰۰۶ کو صبح ۱۰ بجے حبیب بھائی کے قائم کردہ مرکز میں پروگرام تھا۔ چنانچہ میں وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا۔ یہ مرکز جبلی ہل میں حیدر آباد کے ایک اہم علاقے میں قائم ہے۔ یہاں الرسالہ کے قارئین اور الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر میں نے ایک تفصیلی تقریر کی۔
اس خطاب میں سب سے پہلے میں نے یہ کہا کہ حیدر آباد میں جو لوگ الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے ہیں ان سب کو حبیب بھائی کے مرکز سے جُڑ جانا چاہیے۔ اس مرکز کو پیس بنا کر دعوتی مہم کو یہاں آپ لوگوں کا ہفتے وار اجتماع ہونا چاہیے۔ جس میں دعوتی عمل کی منصوبہ بندی کی میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت وہ تمام اسباب موجود ہیں جب کہ اس مرکز کو ایک عمومی مرکز بنایا جاسکے، اور یہاں سے نہ صرف حیدر آباد بلکہ بیرونی دنیا کو بھی دعوت کا نشانہ بنایا جا سکے ۔ پھر میں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو غیر تنقیدی انداز میں اپنا مشن چلانا ایسے لوگوں کے بارے میں میں کہوں گا کہ یہ لوگ ہمارے مشن کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو روایتی انداز میں سوچتے ہیں۔ ان کو اسلام سے جوڑے رکھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ان کے سامنے پر جوش تقریر کی جائے یا فضائل کے قصے سنائے جائیں۔ یہ کام پہلے سے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ مگر ہمارا نشانہ اصلاً وہ لوگ ہیں جو ما بعد سائنس افکار سے متاثر ہوئے ہیں اور اسلام کے بارے میں ان کا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائی جائے ۔ اس کام کے لیے روایتی اسلوب کار آمد نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ تقریباً پچاس سال پہلے لاہور سے ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی کتاب چھپی۔ کا نام تھا۔ قرآن اور علم جدید۔ اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس کو انھوں نے ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) سے تعبیر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بہت سے
ایسے لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر سے وہ اسلام میں اپنا یقین کھو چکے ہیں۔ یہ ایک نئے قسم کا ارتداد ہے جس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کتاب کو پڑھ کر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ایک عربی مقالہ لکھا تھا جو اسی زمانے میں پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس کا نام یہ تھا: ردة ولا ابابکر لھا (ایک ارتداد ہے مگر اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں)۔ اس زمانے میں دوسرے کئی لوگوں نے بھی اس قسم کے مضامین شائع کیے تھے۔ لیکن میرے علم کے مطابق، نہ ڈاکٹر رفیع الدین نے، نہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے، نہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اور نہ کسی دوسرے شخص نے اس ذہنی ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ایسا لٹریچر تیار کیا جو وقت کے فکری مستوی کے مطابق، اس فتنے میں مبتلا لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ مسلم دنیا میں غالباً میں پہلا شخص تھا جس نے خدا کی توفیق سے اس مسئلے کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی، اور پھر اس موضوع پر بہت سی کتابیں تیار کیں جو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کے طور پر اردو اور انگریزی اور دوسری کئی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ان کتابوں سے ہزاروں لوگوں کے لیے اسلام ان کی دوبارہ دریافت بنا۔ پر میری کتاب الاسلام يتحدى (God Arises) کو پڑھ کر ایک عرب شیخ نے اس کا ذیلی ٹائٹل یہ تجویز کیا تھا: مدخل علمی للإيمان (ایمان میں داخلے کا علمی دروازہ)
اس خطاب میں میں نے کئی اور باتیں کہیں جن کا تعلق ذاتی عمل سے تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ دعوتی عمل کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم چیز دعا ہے۔ دعا ہی کے ذریعے دعوت کے عملی مراحل طے ہوتے ہیں۔ دعا ایک مکمل عمل ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ ہر چیز کا بدل ہے۔
پروگرام کے بعد جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ہوئی۔ یہاں نماز کے بعد جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ۔ ان میں سے ایک جناب حسن الدین احمد آئی اے ایس تھے۔ ان کی عمر اب ۸۳ سال ہو چکی ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو آپ سروس سے رٹائر ہو چکے ہیں پھر آپ کی مصروفیات کیا رہتی
انھوں نے کہا کہ — میں ریٹائر ملازمت سے ہوا ہوں ، زندگی سے نہیں۔
نماز ظہر کے بعد سینٹر میں ایک نشست ہوئی جس میں شہر کی کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین شریک مرد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ خواتین کی طرف سے یہ سوال آیا کہ آپ کا مشن کیا ہے اور اس میں خواتین کا رول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارا مقصد اور انٹر نیشنل سینٹر فار پیس دونوں کا مقصد ایک وہ یہ کہ عالمی سطح پر امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرنا تاکہ خدا کا پیغام معتدل حالات میں لوگوں تک پہنچایا جا سکے، اور وہ دنیا بنائی جا سکے جہاں لوگ ایک طرف خدا کے پرستار ہوں اور دوسری طرف انسانوں کے خیر خواہ۔ یہی ہماری سرگرمیوں کا نشانہ ہے۔
پھر میں نے کہا کہ خواتین کا مطالعہ عام طور پر پردہ اور حجاب کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔ اس موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان کا نام بھی پردہ اور حجاب جیسا ہوتا ہے۔ مگر یہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے میں عورت کا ایک مثبت رول (positive role) میں نے اس بات کی وضاحت کے لیے ایک پوری کتاب لکھی ہے جو عورت، معمار انسانیت‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ وہ دوسواٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔
میری گفتگو جاری تھی کہ ایک صاحب نے درمیان میں ایک غیر متعلق (irrelevant) سوال کر دیا۔ یہ ایک مسلمان تاجر تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایسی حالت میں وہ لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے۔ ان کا یہ سوال ایک غیر متعلق سوال تھا اور اسی کے ساتھ ایک اچانک اور غیر معقول مداخلت بھی۔ میں ایک بے حد اصول پسند آدمی ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر کوئی بُرا کہے تو مجھ کو غصہ نہیں آتا۔ لیکن بے اصولی کی بات پر مجھے غصہ چنانچہ مجھے سخت غصہ آگیا۔ میں نے سختی کے ساتھ کہا کہ آپ کو سوال کرنے سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سوال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔
سوال کے سلسلے میں پہلا کام چپ رہ کر اُس کے بارے میں سوچنا ہے۔ لوگ اکثر سوچے بغیر سوال کیا کرتے ہیں۔ جو سوال انھیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے اس کو دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔
اسی لیے ایک صحابی نے کہا: نُھیناعن کثرۃ السؤال وعن کثرۃ القیل والقال (ہم کو زیادہ سوال کرنے سے اور زیادہ قیل و قال کرنے سے منع کیا گیا ہے)
میرا انداز سخت تھا۔ چنانچہ مذکورہ مسلمان کافی غصہ ہو گئے۔ اگر چہ اس وقت وہ خاموش ہو گئے مگر ان کے چہرے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ پروگرام ختم ہوا تو میں فورا اٹھ اس کے بعد میرا ایک اور پروگرام تھا وہاں مجھے پہنچنا تھا۔ اس لیے میں تیزی کے ساتھ باہر آیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تا کہ آگے جا سکوں۔ بقیہ لوگ ابھی اندر تھے۔
حاضرین میں مولا نا محمد ذکوان ندوی موجود تھے۔ انھوں نے بعد کو بتایا کہ میرے جانے کے بعد مذکورہ مسلمان غصے کی حالت میں کافی بولنے لگے، اور مجھ کو زور زور سے بُرا بھلا کہنے لگے۔ کے قارئین کا حلقہ اور سی پی ایس ٹیم کے لوگ وہاں موجود تھے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ مذکورہ مسلمان شدید غصے میں مجھے بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اور شکایت کر رہے ہیں تو انھوں نے یک طرفہ طور پر اُن سے کہا کہ آپ بجا فرما رہے ہیں۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم لوگوں نے آپ کو سوال کرنے کا موقع ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں۔ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے ہم کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
اس کے بعد مذکورہ مسلمان بولتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اُس وقت میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا حافظ عبد الغفار صاحب کے بتانے پر میں گاڑی سے باہر آیا اور مذکورہ مسلمان سے کہا کہ اس معاملے میں ساری غلطی میری تھی آپ مجھے معاف فرمائیں۔ وہ اتنا زیادہ غصے میں تھے کہ وہ معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ میں نے بہت زیادہ کہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ میں ان کا پاؤں پکڑ آخر کار وہ نرم پڑے اور کہا کہ کوئی بات نہیں، ایسا تو کبھی ہو جاتا ہے۔ پھر میں ان کو لے کر قریب کی ایک جگہ پر باہر ہی بیٹھ گیا۔ اُس وقت بہت سے لوگ کھڑے ہو کر ساری باتیں سُن رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا تھا، موجودہ واقعہ گویا اسی کا ایک عملی آپ کا سوال قرآن کی اس آیت کے بارے میں تھا: و کان الانسان اکثر شیء جدلاً ۔
(الکہف ۵۲) ان کا کہنا تھا کہ جب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان فطری طور پر ہی جھگڑا لو واقع ہوا پھر وہ صبر کیسے کر سکتا ہے۔
میں نے کہا کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے بارے میں مطلوب معیار یہ نہیں ہے کہ وہ غصہ یا جھگڑا نہ کرے ۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ اپنی فطری ساخت کے مطابق، اس کے اندر غصے کے جذبات پیدا ہوں اور وہ جھگڑنے لگے۔ مگر وہ اس پر قائم نہ رہے۔ بلکہ اس کے بعد وہ توبہ کرے اور معافی مانگے۔ خدائی نقشے کے مطابق، اعلیٰ انسان وہ نہیں ہے جو دوسرے سے کوئی غلطی ہی نہ بلکہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو غلطی کرے اور پھر غلطی کا اعتراف کر کے اس سے معافی مانگے۔ اور غلطی کا اعتراف خود بہت بڑی نیکی ہے۔ اس نیکی کو حاصل کرنے کے قابل آدمی اُسی وقت بن سکتا ہے جب کہ اس کے اندر غلطی کرنے کار رجحان ہو۔ اعتراف ہمیشہ احساس غلطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ غلطی نہیں تو اعتراف بھی نہیں۔
اس گفتگو کے وقت جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سے ایک مسٹر جوئنٹ راؤ پائل بھی تھے وہ ناندیڑ کے رہنے والے ہیں اور شروع ہی سے ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے اس پورے منظر کو دیکھا۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں ہم معافی اور یک طرفہ صبر اور اعتراف کے بارے میں بہت پڑھتے تھے لیکن سمجھتے تھے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ مگر آج اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ الرسالہ مشن اور سی پی ایس سے جڑے ہوئے کئی لوگ وہاں موجود تھے انھوں نے اس پورے واقعے کو دیکھا۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ اس پورے پروگرام کا خلاصہ یہی واقعہ تھا جو گویا ہمارے الرسالہ مشن کا پریکٹیکل نمونہ ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص پہلو یہ ہے کہ منفی واقعے کو مثبت پہلو میں تبدیل یہ واقعہ اس اعتبار سے اس حقیقت کا ایک عملی نمونہ تھا۔
حیدر آباد کے پروگرام کے بارے میں حبیب بھائی نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہر اعتبار سے نہایت کامیاب تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے یہ پروگرام کیا گیا تھا وہ مقصد پورا خاص طور پر مجھے ذاتی اعتبار سے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے اور بہو جو اس سے پہلے
اسلام سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے اب انہوں نے باقاعدہ نماز شروع کردی ہے۔ انگریزی کتابیں مطالعے کے لیے لے گئے ہیں۔
حیدر آباد کے روزنامہ اخبار منصف“ (۱۱ مارچ ۲۰۰۶) میں ایک خبر اس عنوان کے تحت تھی: ” برطانوی باشندوں میں اسلام سے واقفیت کا رُجھان ۔ یہ خبر اسلامی دعوت کے امکان کو بتاتی ہے۔ منصف سے لے کر اس خبر کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
۱۰/ مارچ ( ایجینسیز ) برطانوی باشندوں میں عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ پروفیسر لیسلی میک لاگن نے اپنے دورہ سعودی عرب کے اختتام پر بتایا کہ غیر مسلم دنیا مسلمانوں کے تعلق سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔ پروفیسر میک لاگن نے جنھوں نے ریاض اور جدہ میں عربی اور اسلامی تعلیمات پر لکچر دیے ہیں، عرب نیوز کو بتایا کہ برطانیہ کی ۱۲ یونیورسٹیڑ میں عربی زبان اور اسلامک اسٹڈیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا میں ۱۱ ستمبر کے بعد غیر مسلم دنیا میں اسلام سے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی دلچسپی بڑھ گئی ہے، اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں عربی جاننے والوں کے لیے بڑھتے ہوئے روزگار کے مواقع کے پس منظر میں بھی برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں عربی جاننے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ مزید کہا کہ ۱۹۶۱ میں برطانیہ میں عربی سیکھنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ فی الحال عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ۵۰ فی صد تعداد خواتین کی ہے۔ برطانوی پروفیسر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ میڈیا آرگنائزیشن میں حتیٰ کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ میں بھی عربی جاننے والوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ منصف کے اسی شمارے میں ایک اور خبر تھی، جس کا عنوان یہ تھا۔ ” اٹلی کے کارڈینل اسکولوں میں مسلم طلبا کو قرآن پڑھانے کے حامی“۔ مذکورہ خبر کے الفاظ یہ تھے : ۱۰/ مارچ ( ایجینسیز ) اٹلی کے ایک سرکردہ عیسائی رہنما کارڈینل نے اٹلی کے
سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کے درس و تدریس کی حمایت کی ہے۔ کارڈینل کی یہ اجازت عالم اسلام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ویٹیکن کی خواہش کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔ عیسائی رہنما نے کہا کہ اطالوی مسلم تنظیموں کی اس تجویز سے وہ اتفاق کرتے ہیں جس میں مسلم طلباء کو سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کی تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ دونوں خبریں منصف کے ایک ہی شمارے میں تھیں۔ مغربی دنیا میں، بشمول ڈنمارک، ہر دن اس طرح کی سیکڑوں خبریں وجود میں آتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس قسم کی مثبت خبروں کو نمایاں طور پر مسلم اخباروں میں چھاپا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مغربی ملکوں کے بارے میں مسلمانوں کے منفی جذبات ختم ہوں گے اور دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے لیے مسلمانوں کے اوپر سب سے بڑا فرض دعوت الی اللہ ہے۔ مگر مسلمانوں کے منفی ذہن کی بنا پر یہ کام عملاً تقریباً بیک گیا ہے۔
۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ہم لوگ ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ حیدر آباد کے ایئر پورٹ پر پہنچے تو یہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ حیدر آباد کے لیے میرا پہلا ہوائی سفر جنوری ۱۹۸۳ میں ہوا تھا۔ وقت کے مقابلے میں آج حیدر آباد ایئر پورٹ پر بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ پچھلے برسوں میں حیدر آباد نے کاروباری اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔ اس بنا پر یہاں ہوائی جہاز کی آمد و رفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لیکن جس نسبت سے ہوائی سفر بڑھا ہے اُس نسبت سے ایر پورٹ کی توسیع نہیں ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ حکومت ایک نیا ہوائی اڈہ بنانا چاہتی ہے۔ جو بہت بڑا ہوگا اور وہ انریشنل معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔
واپسی کا یہ سفر ایرکن کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جہاز میں مطالعے کے لیے ویکلی اخبار تہلکہ (Tehelka) کا شمارہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اخبار میں ایک رپورٹ اِس عنوان کے تحت چھپی تھی قتل کی آزادی: Freedom to Kill یہ رپورٹ نئی دہلی کے مسٹر مہیش کمار کے قلم سے تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اظہار خیال
کی آزادی کا مطلب حد کو پار کرنا اور صحافتی ضابطے کو توڑنا نہیں ہے۔ کارٹون کے خلاف احتجاج کرنا واضح طور پر ایک فطری ردّعمل ہے۔ لیکن احتجاج کو مہذب انداز میں ہونا چاہیے، اور مسلمہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ نہ کہ لوگوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچا کر اور لوگوں کو خوف زدہ کر کے: Freedom of expression doesn't mean crossing limits and the code of Journalism. The protests against such cartoons is an obvious and automatic reaction. But the protests, too, should be in a civilised manner and as per the accepted terms of law, and not by damaging public property or by harassing the people. (p.2)
اکثر لوگ اس قسم کی باتیں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ الفاظ گرِیمر کے اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہیں۔ ایسے لوگ جو ایک جوایک کاغذی خاکے پر مشتعل ہو جائیں ان سے یہ امید کرنا کہ جب وہ اپنے مشتعل جذبات کے ساتھ بھیڑ کی صورت میں سڑکوں پر آئیں گے تو وہ پرامن رہیں گے ، اس قسم کا نظریہ ایک ناممکن مفروضے پر قائم ہے۔ اسی ناممکن مفروضے پر تنقید کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا تھا :
در میان قعر دریا تخته بندم کرده بازمی گوئی که دامن تر مکن ہشیار باش اس ناممکن مفروضے کا تجربہ بار بار ہو چکا ہے۔ بار بار یہ واقعہ پیش آیا کہ مشتعل جذبات کے حامل لوگوں کو یہ کہہ کر جلوس کی اجازت دے دی جاتی ہے کہ تم لوگ پرُامن رہنا۔ مگر ایسے جلوس کبھی پرامن نہیں رہتے۔ ایسی حالت میں اس نا کام تجربے کو مزید دہرانا ایک ایسی نادانی ہے جس کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔
تہلکہ کے مذکورہ شمارے میں ایک مفصل رپورٹ بمبئی کے مدرسوں کے بارے میں تھی۔ رپورٹ کے مطابق ، بمبئی میں ان مدرسوں کی تعداد ۸۰ ہے۔ دو صفحے کی اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا: Please leave us to our devices, they work fine اس رپورٹ میں محمد علی روڈ پر واقع ایک مدرسے کی تصویر تھی۔ اس میں تحفیظ القرآن کے ایک کلاس کا منظر دکھایا گیا تھا۔ تقریباً ۲۵ طلبا قرآن کے نسخے لے کر اس کو حفظ کر رہے ہیں۔
ایک تنومند استاد مخصوص انداز سے گاؤ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ منہ میں پان ہے اور سر پر اتنے میں ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں موبائل لے کر نہایت اطمینان کے ساتھ بات کرنے لگتے ہیں۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Wait and watch: a phone call interrupts classes. یہ زمانہ گویا موبائل انفجار (mobile explosion) کا زمانہ ہے۔ موبائل کا استعمال اتنا عام ہو گیا ہے کہ ہر مولوی اور غیر مولوی کے ہاتھ میں موبائل دکھائی دیتا ہے۔ موبائل بلاشبہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ میں نے موبائل استعمال کرنے والوں میں سے کسی میں اس پر حقیقی شکر کا جذبہ نہیں پایا۔ موجودہ زمانے کا یہ عام مزاج ہے۔ استعمال، لیکن منعم کا اعتراف نہیں۔
۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو تاخیر کے ساتھ جہاز دہلی کے ائیر پورٹ پر اترا۔ ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد بھی مزید تقریباً آدھ گھنٹہ تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ جہازوں کی کثرت کی وجہ سے جہاز فوراً آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ تاخیر کا مسئلہ صرف بسوں اور ٹرینوں میں ہے لیکن اب تاخیر کا مسئلہ ہوائی جہازوں تک پہنچ چکا ہے۔ ترقی کے ہجوم کے درمیان عدم ترقی کا یہ ماحول صرف ہندوستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔
آزادی سے پہلے ہمارے لیڈروں نے یہ سہانا خواب دیکھا تھا کہ آزادی کے بعد ہر طرف ترقی کا سیلاب جاری ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ میرے نزدیک اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک نے صحیح رخ پر اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ آزادی کے بعد یہ ہوا کہ ملک کولونیل ایکسپریس سے نکل کر سوشلسٹ ایکسپریس میں بیٹھ گیا۔ عجیب بات ہے کہ سوشلسٹ نظریہ کمیونسٹ ملکوں میں ختم ہو گیا۔ لیکن ہندوستان میں وہ شان دار طور پر جاری رہا۔ میرے نزدیک سوشلسٹ طریقہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ سوشلسٹ طریقے کو اختیار کر کے کوئی ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
مساجد اور مدارس اور دینی اداروں کے لیے مولانا وحید الدین خاں کی دس کتابوں کا ایک منتخب سیٹ تیار کیا گیا ہے۔ خواہشمند حضرات آرڈر روانہ کر کے اس کو خصوصی رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔ نیز جو حضرات کتابوں کا یہ سیٹ مذکورہ اداروں کو اپنی طرف سے ہدیہ کے طور پر دینا چاہتے ہوں، وہ بھی اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کے ساتھ ماہ نامہ الرسالہ ایک سال کے لیے اعزازی طور پر مفت جاری کیا جائے گا۔ کا پتہ درج ذیل ہے:
1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355454,24355729, email: info@goodwordbooks.com انسان کی منزل مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے برصغیر ہند میں پھیل گئی۔ علماء اسلام کی طرف سے اس تحریک پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ کتاب میں اس تحریک کا اور اس کے بانی کی شخصیت کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب ایک جامع مطالعہ کی حیثیت