سب کچھ امتحان
Al-Risala, September 2006, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ولنبلونکم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات وبشّر الصابرين (البقرہ: ۱۵۵)
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر انسان کو خوف، بھوک، جانی و مالی نقصان، اور فوائد میں گھاٹے کے ذریعہ آزماتا ہے۔ ایسی حالت میں اُن لوگوں کے لیے بشارت ہے جو ان نقصانات پر صبر کریں اور یہ کہہ دیں کہ ہم خدا کے لیے ہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ نقصانات براہ راست طور پر آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو امتحان کے مقصد سے بنایا ہے۔ اس بنا پر انسان کو آزادی یہ انسانی آزادی طرح طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایک انسان کو دوسرے انسان سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ ان تجربات کے دوران اپنے آپ کو مومنانہ حالت پر برقرار رکھنا، یہی امتحان پر پورا اترنا ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اس امتحان میں بیشتر لوگ ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیش آنے والا ناخوش گوار تجربہ بظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتا ہے۔ اس ظاہری مشاہدے کی بنا پر آدمی اس کو کسی انسان کی طرف منسوب کر دیتا ہے جس کی طرف سے اس کو یہ تجربہ پیش آیا تھا۔ انتساب کی بنا پر وہ اس تجربے سے صرف غصہ وانتقام اور نفرت کی غذا لیتا ہے۔ وہ ساری عمر منفی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے۔
اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ آدمی پیش آنے والے ناپسندیدہ واقعے کو خدا کی طرف وہ اس کو خدا کے قائم کردہ تخلیقی نظام کا نتیجہ قرار دے۔ ایسا کرنے کی صورت میں آدمی منفی نفسیات کا شکار نہ ہوگا۔ وہ اس کو نظامِ فطرت کا نتیجہ سمجھ کر اس پر راضی رہے گا، اور اسی راضی رہنے کا دوسرا نام صبر ہے۔
کوئی شخص راستہ چل رہا ہو اور اچانک بارش آجائے جس میں اولے ہوں تو وہ کبھی اس پر غصہ نہیں ہوگا بلکہ وہ فوراً کسی قریبی جگہ میں جاکر پناہ لے گا۔ لیکن اسی انسان کو اگر کوئی شخص پتھر مار دے تو وہ فوراً غصہ، انتقام اور نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ آدمی اولے کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے اور پتھر کو انسان کی طرف سے۔ یہی فرق اس طرح کے معاملے میں انسان کی نفسیات کو بدل دیتا ہے۔ وہ اولے کے معاملے میں مثبت رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور پتھر کے معاملے میں منفی رد عمل کا مظاہرہ۔
اس مثال سے زندگی کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کامیاب اسلامی زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی ہر نقصان یا ہر ناخوش گوار تجربے کو خدا کی طرف سے سمجھے۔ ایسا سمجھنا اس کے اندر مثبت احساسات کی تعمیر کرے گا۔ وہ اس کو منفی نفسیات میں مبتلا ہونے سے بچائے گا۔ ایسے ہی لوگ خدا کے نزدیک صبر کرنے والے لوگ ہیں، یعنی خدا کے قائم کردہ نظام پر راضی رہنے والے۔ ایسے ہی انسان کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے، اور جنت انھیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو نفس مطمئن کے ساتھ آخرت تک پہنچیں۔
ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ: أنا عند المنكسرة قلوبهم ۔ میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس رہتا ہوں۔ کون لوگ ہیں جو اس ٹوٹے ہوئے دل کا شکار ہوتے ہیں— یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ جو نقصان اور محرومی کا تجربہ کرتے ہیں۔ جن کی زندگی غم میں گزرتی اس صورت حال کی روشنی میں اس حدیث پر اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مصیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مصیبت نہیں ہے بلکہ وہ ایک رحمت ہے۔ یہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے۔
اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وہ چیز جس کو فلاسفہ اور مفکرین خرابی کا مسئلہ problem (of evil) کہتے ہیں، وہ دراصل غلط تسمیہ (wrong nomenclature) کا معاملہ ہے۔ چیز کو خرابی کہتے ہیں وہ دراصل اس لیے ہے تا کہ انسان سب سے بڑی حقیقت کا تجربہ کرے، یہ سب
سے بڑی حقیقت عجز ہے۔ خدا کے مقابلے میں بندے کی حیثیت ایک عاجز مخلوق کی ہے۔ لیکن ہر آدمی کے چھپی ہوئی انا (ego) اس کو اپنے بارے میں دھوکے میں رکھتی ہے۔ مصیبت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی انا کے فرضی خول سے باہر آئے اور اس حقیقت کی دریافت کرے کہ وہ صرف ایک عاجز مخلوق ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
عجز کا یہی احساس انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ عجز کا احساس آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ پیدا ہوتی ہے۔ وہ مفروضات سے باہر آ کر حقائق کا ادارک کرنے لگتا ہے۔ گویا کہ مصیبت ہی وہ چیز ہے جو اس دنیا میں اعلیٰ انسانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر کا دوسرا کوئی کورس یہاں موجود نہیں۔ انسانی زندگی کو سمجھنے کا اصل سرایہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی پوزیشن موجودہ دنیا میں کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں امتحان کے لیے آباد کیا گیا ہے۔ کی خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، پانا اور کھونا، سب کچھ امتحان کے لیے ہے۔ یہاں طاقت ور آدمی بھی امتحان کی حالت میں ہے، اور کمزور آدمی بھی امتحان کی حالت میں۔
اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرلے۔ یہاں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی کو امتحان کا جو پرچہ دیا گیا ہے اس پرچے کو حل کرنے میں وہ
یہ نظریہ آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ کو صبر و تحمل والا آدمی بنا دیتا ہے۔ زندگی کا یہ نظریہ جس کے دل میں بیٹھ جائے وہ ہر قسم کی منفی نفسیات سے خالی ہو جائے گا۔ اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ دوسروں کے بارے میں سوچنے کے بجائے خود اپنے بارے میں سوچے ۔ وہ دوسروں کی غلطیاں بتانے کے بجائے خود اپنی غلطی پر دھیان دینے لگے۔ غرور کی نفسیات کا اس کے اندر مکمل خاتمہ ہو جائے۔ سچائی کا اعتراف کرنے میں اس کے لیے کوئی چیز روک نہ بن سکے۔ وہ مصنوعی انسان کے بجائے ایک حقیقی انسان بن جائے۔