Al-Risala · September 2006

الرسالۃ

Al-Risala, September 2006, pp. 20–40

By Maulana Wahiduddin Khan

"جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی جاہلیت کی حمیت۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ " (الفتح: ۲۶)

پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائیں کہ وہ دوسروں کے معبودوں یا اُن کے مقدس شعائروں کو بُرا بھلا کہیں اور اس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ وہ ردِ عمل کا شکار ہو جائیں اور جواب میں مسلمانوں کے دین اور شعائر کو بُرا بھلا کہنے لگیں۔ اس آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ اُنھیں اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا ہے۔ انھیں ایسی کوئی بات لکھنا یا بولنا نہیں ہے جو دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ بھڑک اُٹھیں اور مسلمانوں کے دین کے خلاف منفی باتیں بولنے لگیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے روکا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔

دوسری آیت صلح حدیبیہ کے موقع کی ہے۔ اس موقع پر فریقِ مخالف نے سخت اشتعال انگیز باتیں کیں، مثلاً انھوں نے معاہدے کی تحریر میں رسول اللہ کے لفظ پر سخت اعتراض کیا اور رسول اور اصحاب رسول کو معاہدے کی تحریر سے اس کو مٹانے پر مجبور کیا، وغیرہ۔ ان باتوں سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ لیکن خدا کی تعلیم کے مطابق اُنھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔ آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو ایمان اور تقویٰ کی روش پر قائم رکھیں۔ صحیح بات نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں سے یہ مطالبہ کریں کہ تم ہمارے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاؤ۔ اسلام کا اصول ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں ایسی تعلیم کیوں دی گئی ہے جو بظاہر نابرابری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو مشتعل ہونے سے روکنا اور دوسروں کی اشتعال انگیزی پر مسلمانوں

کو صبر اور اعراض کی تلقین کرنا‘ یک طرفہ اخلاقیات کا یہ اصول اسلام میں کیوں رکھا گیا ہے۔ جواب قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔

قرآن میں بار بار یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم صبر کی روش اختیار کرو۔ تم صبر سے مدد لو (استعينوا بالصبر) اسی طرح فرمایا کہ تم ان کی ایذا رسانی سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ (دع اذا هم وتوكل على الله)۔ قرآن میں اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو یہ تعلیم دیتی ہیں کہ اہل اسلام فریق مخالف کے مقابلے میں ردِّ عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر و تحمل کی روش پر قائم رکھیں ۔

اس یک طرفہ اخلاقیات کی معنویت قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ وترجون من الله مالا يرجون (النساء ۱۰۴) یعنی صابرانہ روش کی اہمیت فریق مخالف کو معلوم کیوں کہ وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ اس کے برعکس‘ تمہارا معاملہ یہ ہے کہ تم آخرت پر عقیدہ رکھتے ہو۔ تم کو یقین ہے کہ تمھاری صابرانہ روش کا انعام بے حساب مقدار میں آخرت میں ملے گا (إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب )

یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ اہل اسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عالمی مشن دیا گیا ہے۔ اسی عالمی مشن کی ادائیگی پر اُن سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ مشن‘ دعوت الی اللہ ہے۔ اس دعوتی عمل کے لیے طرفین کے درمیان معتدل تعلقات نا گزیر طور پر ضروری ہیں ۔ دونوں کے درمیان معتدل تعلقات کے بغیر دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری نہیں رہ سکتا۔ یک طرفہ طور پر صابرانہ روش کی حکمت یہی ہے۔ صابرانہ روش کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہوں‘ اور مسلمان وہ دعوتی عمل انجام دے سکیں جس کی انجام دہی پر مسلمانوں کے لیے دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ انجام صرف اہل ایمان کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ اس لیے اہل ایمان ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان نارمل تعلقات کو برقرار رکھنے کی ذمے داری لیں۔ تا کہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق‘ بطور نتیجہ عظیم

خدائی انعامات سے بہرہ ور ہوسکیں۔

یہاں جس دوطرفہ روش کا ذکر کیا گیا وہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ دراصل بامقصد انسان کا طریقہ بامقصد انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی روش کا تعین دوسروں کی روش کو دیکھ کر بطورِ ردِ عمل نہیں کرتا، اس کے بجائے اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی ناپسندیدہ باتوں سے غیر متاثر رہ کر یہ سوچتا ہے کہ اس کے مقصد کے اعتبار سے اس کے لیے صحیح روش کیا ہے۔ وہ کون سی روش ہے جو اس کے مستقبل کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ سوچ بامقصد انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ محض جذباتی اشتعال کے تحت کوئی اقدام نہ کرے بلکہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت اپنے عمل کا تعین کرے ۔ اسی کا نام منصوبہ بند عمل ہے اور منصوبہ بند عمل با مقصد انسان کی ایک لازمی صفت ہے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ جذباتی ردِ عمل ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے اور منصوبہ بند عمل ہمیشہ مفید ثابت جذباتی ردِ عمل میں آدمی کا رہنما اس کے منفی احساسات ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، منصوبہ بند عمل میں اس کا رہنما اس کا مثبت ذہن ہوتا ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میں سے ایک تخریب کاری کا عمل بن جاتا ہے اور دوسرا مکمل معنوں میں تعمیر کاری کا عمل۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں جن سے آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ لیکن حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ آدمی ایسے واقعات کو نظر انداز کرے۔ آپ کو اپنے جذبات کے بجائے اپنی عقل کے تابع بنائے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ جذبات کی پیروی کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اور عقل کی پیروی کرنے والا ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔

ٹیم کی اہمیت اقبال (وفات ۱۹۳۸ء) نے اپنی آخری عمر میں کہا تھا:

سُرودِ رفتہ باز آید کہ ناید نسے از حجاز آید کہ ناید سرآمد روزگار ایں فقیرے دگر دانائے راز آید کہ ناید اقبال اپنے آپ کو دانائے راز سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے مشن کو آئندہ جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہے کہ اقبال کی طرح ایک اور دانائے راز پیدا ہو۔ مگر یہ ایک خیالی بات ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق نہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، کوئی تخلیقی انسان ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں سعودی عرب میں تھا۔ شیوخ کی ایک مجلس تھی۔ اس میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ نے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر اور دعوت کا جو کام شروع کیا ہے وہ بہت قابل لیکن آپ کے بعد اس کام کو کون جاری رکھے گا۔ ایک اور عرب شیخ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: وحیدالدین لا يكون إلا وحيداً (یعنی وحید الدین صرف ایک ہی ہوتا ہے) یہی بات اقبال اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کے لیے درست ہے۔

اس دنیا میں کسی مشن کو جاری رکھنے کا فطری طریقہ یہ نہیں ہے کہ اقبال کے بعد ایک اور اقبال اس قسم کی سوچ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ اس دنیا میں صحیح طریقہ وہ ہے جس کو سورہ صف کی آخری آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی اپنی زندگی میں ایک ایسی ٹیم تیار کرنا جو آدمی کے بعد اس کے مشن کے تسلسل کو جاری رکھ سکے۔ اس ٹیم کو حضرت مسیح کے یہاں حواری کہا گیا ہے اور پیغمبرِ اسلام کے یہاں تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں مثالوں میں دراصل صاحبِ مشن کی تیار کی ہوئی ٹیم تھی جس نے ان کے بعد ان کے مشن کو زندہ رکھا۔

میں خدا کی توفیق سے یہی کام کر رہا ہوں۔ میں نے اس غیر عملی فارمولے کو اختیار نہیں کیا کہ ایک دانائے راز کے بعد دوسرے دانائے رازکا فرضی خواب دیکھوں۔ میں نے مسلسل جدوجہد کے

ذریعے ایک ٹیم تیار کرنے کی کوشش کی۔ جو میرے بعدالرسالہ مشن کو آئندہ جاری رکھے۔ یہ ٹیم اللہ کے فضل سے تقریباً تیار ہو چکی رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم میرے بعد مزید متحرک ہو کر حوار بین اور انصار اللہ کی تاریخ کو زندہ کرے گی اور الرسالہ مشن کو ساری دنیا میں پہنچادے گی۔ انصار اللہ جیسی ٹیم کو بنانا بلا شبہ ممکن ہے۔ البتہ اس کو بنانے کے لیے ایک قیمت درکار ہے۔ قیمت یہ ہے کہ ٹیم کو بنانے والا اپنے آپ کو قربانی کی اعلیٰ سطح پر پہنچائے۔ وہ اس محرومی پر راضی ہو کہ اس کو عوامی مقبولیت نہ ملے۔ اس کی زندگی میں اس کے گرد بھیڑ اکٹھا نہ ہو۔ وہ دنیا میں شہرت اور ترقی کے مواقع کو رد کر کے ٹیم بنانے میں پوری طرح لگا رہے۔

ٹیم بنانے کا یہ کام افراد سازی کا کام ہے۔ یہ کام اس طرح نہیں ہوسکتا کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے اسٹیج سے اس کے سامنے تقریریں کی جائیں۔ یہ طریقہ ٹیم بنانے کے لیے بالکل غیر مفید ہے۔ ٹیم بنانے کا کام فرد فر د کو مخاطب کر کے ہوتا ہے۔ ایک ایک فرد سے محبت کرنا، ایک ایک فرد کے ذہن کی ڈی کنڈ یشننگ کرنا، ایک ایک فرد پر لگا تار ذہنی تعمیر کی کوشش کرنا، ایک ایک فرد کو نشانہ بنا کر خاموش جد و جہد کرنا۔ اس طرح کا کام بلاشبہ ایک مشکل ترین قربانی کا طالب ہے۔ مگر اس قربانی کے ذریعے ہی کوئی ٹیم تیار ہوتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، پھر وہ جوان ہوتے ہیں اور پھر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر وہ مر جاتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس لیے ہے کہ پچھلی نسل کا تجربہ اگلی نسل کے لوگوں تک پہنچتا ہے۔ زیادہ عمر کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اپنی اولاد کے لیے زندہ نہ رہیں بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ انسانیت کے لیے زندہ رہیں ۔ انسانیت کے خیر خواہ بن کر لوگوں کو اپنے علم اور اپنے تجربے کا سرمایہ منتقل کرتے رہیں۔ نئی نسل کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بے جا خود اعتمادی میں مبتلا نہ ہوں بلکہ پچھلے لوگوں سے زندگی کا درس لے کر اپنے سفر حیات کو زیادہ معنی بنائیں۔

رواں دریا میں یہی عمل فطری قانون کے تحت ہوتا ہے۔ رواں دریا میں ہر لمحہ پہاڑیوں کی

بلندی سے نیا پانی آتا ہے۔ پرانا پانی بہہ کر آگے چلا جاتا ہے اور نیا پانی آکر اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ روانی مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس لیے دریا کا پانی ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح خراب نہیں ہوتا۔ عمل شعوری طور پر انسانی نسل کے اندر انجام پاتا ہے۔ دریا میں یہ عمل فطری قانون کے تحت خود بخود انجام پاتا ہے۔ انسانی زندگی میں یہ عمل شعوری منصوبہ بندی کے تحت انجام پائے گا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:

’’اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا، اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا، تا کہ وہ بھی پر ہیز کرنے والے بنتے۔ ‘‘ (التوبہ ۱۲۲) قرآن کی اس آیت سے پیغمبرانہ عمل کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مشن کی ایک کور ٹیم (core team) ہوتی ہے۔ یہی کور ٹیم بعد میں مشن کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ عوام کی بھیڑ یہ کور ٹیم نہیں بناتی۔ کور ٹیم بنانے کی صورت صرف یہ ہے کہ کچھ افراد کو منتخب کر کے ان کے اوپر خصوصی محنت کی جائے۔ ان کی فکری تطہیر کر کے انھیں تیار کیا جائے۔

یہی لوگ ہیں جو بعد کو تربیت یافتہ گروپ کا درجہ حاصل کریں گے اور کام کو آگے بڑھائیں میں اللہ کے فضل سے سی پی ایس کی ٹیم کی صورت میں یہی کام کر رہا ہوں۔ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے بر صغیر ہند میں پھیل گئی۔ علماء اسلام کی طرف سے اس تحریک پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ زیر نظر کتاب میں اس تحریک کا اور اس کے بانی کی شخصیت کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ موضوع پر یہ کتاب ایک جامع مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل (CPS International)

دعوتِ حق کی تاریخ میں دو گروپ کے لیے دو بڑا رول مقدر تھا۔ ایک وہ گروپ جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جس کے لیے حدیث میں اخوانِ رسول کے الفاظ آئے ہیں۔ رسول نے اپنا رول ساتویں صدی عیسوی میں پوری طرح ادا کر دیا، اخوانِ رسول کا رول باقی ہے جس کو بعد کے زمانے میں انجام پانا ہے۔ اصحابِ رسول نے اپنا رول روایتی دور میں انجام دیا تھا۔ رسول اپنا رول سائنسی دور میں انجام دیں گے — سی پی ایس کی ٹیم اسی دوسرے رول کے لیے امیدوار گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ اب وہ وقت پوری طرح آ چکا ہے کہ دوسرے دور کا دعوتی رول عالمی سطح پر انجام دیا جائے ۔ تمام قرائن اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ انسان کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا کچھ بھی مشکل کام نہیں۔

سی پی ایس انٹرنیشنل ایک خالص غیر سیاسی تنظیم ہے۔ کسی بھی مادی یا قومی اشو سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، نہ براہِ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طور پر۔ سی پی ایس کا واحد کنسرن یہ ہے کہ تمام انسانوں کو اُن کے حقیقی مقصدِ حیات سے باخبر کیا جائے۔ سی پی ایس کا نشانہ ہے — سائنسی دور میں خدائی سچائی کا اعلانِ عام :

Proclamation of divine truth in modern scientific age. انسانی تاریخ دو دوروں میں تقسیم ہے۔ ابتدائی زمانے سے لے کر پندرہویں صدی تک ، سولھویں صدی سے لے کر موجودہ زمانے تک۔ (۱) پہلا زمانہ وہ ہے جب کہ دنیا میں توہم پرستی (superstition) کا غلبہ تھا۔ (۲) دوسرے زمانے میں ساری دنیا میں سائنسی فکر کا غلبہ ہو گیا ہے۔ دور کو قبل سائنس دور (pre-scientific age) کہا جا سکتا ہے۔ اور دوسرے دور کو عام طور پر بعد سائنس دور (post-scientific age) کہا جاتا ہے۔

قبل سائنس دور میں انسان کو سب سے زیادہ بڑی چیز وہ دکھائی دیتی تھی جس کو مظاہر فطرت کہا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس زمانے کے انسان نے ہر اُس چیز کو معبود سمجھ کر اس کو پوجنا شروع کر دیا جو بظاہر بڑی اور نمایاں دکھائی دیتی تھی ۔ مثلاً چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریا، وغیرہ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ساری دنیا میں بت پرستی رائج ہوئی۔ اس زمانے میں بُت، انسان کے لیے توحید کا مدّ مقابل بن گئے ۔

ابراہیم بن آزر خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ وہ چار ہزار سال پہلے عراق میں ظاہر ہوئے۔ وہی تھا جس کو توہم پرستی کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں تمام لوگ سورج، چاند اور ستارے جیسی نمایاں چیزوں کو معبود سمجھ کر ان کو پوجنے لگے تھے۔ قرآن (ابراہیم ۴) کے بیان کے مطابق، پیغمبر نے اُس دور کے انسانوں کے بارے میں یہ تبصرہ کیا تھا: ربِ إنهن أضللن كثيراً من الناس (اے میرے رب، انھوں نے بہت سے لوگوں کو بھٹکا دیا) یعنی لوگوں نے ان مظاہر فطرت کی ظاہری چمک کو دیکھ کر اُنھیں معبود سمجھ لیا۔

پچھلے ہزاروں سال کے دوران خدا نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ ان پیغمبروں کا مشترک مشن یہ تھا کہ وہ انسانوں کو مظاہر فطرت کی پرستش سے نکالیں اور اُن کو حقیقی خدا جو صرف ایک ہے، اِس کا پرستار مگر انسان مظاہر پرستی کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا۔ چھٹی صدی عیسوی کے آخر تک یہی صورت حال باقی رہی۔

آخر کار پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ عیسوی میں خدا نے ان کو اپنا پیغمبر بنایا۔ ان کو یہ مشن سپرد کیا گیا کہ وہ خدا کی خصوصی مدد سے قدیم بت پرستی کے دور کا خاتمہ کر دیں۔ اس مشن کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: ”وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے‘‘۔ اس آیت میں جس غلبہ (اظہار) کا ذکر ہے اس سے مراد فکری غلبہ ہے، یعنی دین شرک کو دلیل کی طاقت سے محروم کر دینا اور دینِ توحید کو دلیل کی طاقت سے قائم کر دینا۔ اس کام کو پیغمبرِ اسلام

اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے پوری طرح انجام دے دیا یہاں تک کہ قدیم دور کا خاتمہ ہوگیا اور شرک ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔

مابعد سائنس دور میں حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ سائنس کے بطن سے جدید صنعتی دور پیدا اس صنعتی دور نے بے شمار قسم کے دل کش سامان حیات پیدا کیے۔ ان سامانونکو حاصل کرنے کے لیے مال کی ضرورت تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانے میں پہلی بار مال کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے اس طرح بیان کیا ہے: لكل أمۃ فتنۃ و فتنۃ امتی المال (الترمذی، کتاب الزہد، مسند احمد) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں امت سے مراد امت کا زمانہ ہے۔ یعنی میری امت کے زمانے میں مال سب سے زیادہ فتنے کا سبب بن جائے گا۔

شرک یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو عظیم سمجھ کر اس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا لیا جائے۔ پچھلے زمانے میں مظاہر فطرت سب سے بڑی چیز دکھائی دیتے تھے اس لیے انسان مظاہر فطرت کو سب سے بڑی چیز سمجھ کر ان کو پوجتا رہا۔ اب دور سائنس میں مظاہر فطرت کی الہیاتی عظمت ختم اب نئے حالات نے مال کو سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ بڑی چیز بنا دیا ہے۔ چنانچہ اب بت پرستی (Idol worship) کی جگہ دولت پرستی (money worship) نے لے لی اس نئے دور کو دوسرے الفاظ میں مادیت (materialism) کہا جاتا ہے۔

مذاہب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر مذہب میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک نیا دورِ انقلاب آئے گا جب کہ خدائی سچائی از سر نو ظاہر اور غالب ہو جائے گی۔ یہ اظہار یا غلبہ فکری اعتبار سے ہوگا نہ کہ سیاسی اور معجزاتی اعتبار سے۔

مذاہب میں دورِ آخر کے جس انقلاب کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس سے مراد سائنسی دور کا اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنسی دور میں ایک تحریک اٹھے گی جو خدائی سچائی کو نئے حقائق کی روشنی میں از سر نو مبرہن کر دے گی۔ اس سے مراد کسی قسم کا سیاسی یا مادی غلبہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد

صرف یہ ہے کہ نظری دلائل کا زور دوبارہ خدائی سچائی کے حق میں ہو جائے گا۔ نئے حالات میں خدائی سچائی دوبارہ ایک ثابت شدہ سچائی بن جائے گی۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں اگر مظاہر شرک، توحید کا مدِّ مقابل بنے ہوئے تھے تو اب دورِ حاضر میں مال کو توحید کے مدِ مقابل کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ پچھلے زمانے میں یہ ہوا کہ توحید کے حق میں دلائل فراہم کیے گیے اور مظاہرِ فطرت کی پرستش کو دلائل کے ذریعے رد کر دیا گیا۔ کے زمانے میں یہ ہوگا کہ توحید کو وقت کے دلائل کے ذریعے مدلّل کیا جائے گا اور مال پر مبنی مادی تہذیب وقت کے دلائل کے ذریعے غلط قرار پا جائے گی۔

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنّا قدرأینا إخواننا، قالوا اولسنا اخوانك يا رسول الله قال أنتم أصحابى وأخواننا الذين لم يأتو بعد۔ (صحیح مسلم، کتاب الطہارة، جلد ۳، صفحہ ۱۳۸) یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔

اس حدیث میں دو خاص گروہوں کا ذکر ہے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول۔ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیغمبرِ اسلام کے ہم عصر ساتھی تھے۔ جنھوں نے آپ کے ساتھ مل کر دور اول میں خدائی سچائی کا اعلان اور اظہار کیا۔ اور اخوانِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کے بعد آنے والے زمانے میں اٹھیں گے اور اُس وقت خدائی سچائی کا اعلان اور اظہار کریں گے۔ رسول کا تعلق قبل سائنس دور سے ہے اور اخوانِ رسول کا تعلق بعد سائنس دور سے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک اسی بعد کے زمانے میں انجام پانے والے کام کے لیے اٹھی سی پی ایس کے لوگ گویا کہ اُس گروہ میں شمولیت کے امیدوار ہیں جس کو مذکورہ حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا مشن بعد سائنس دور میں خدائی سچائی کے اُس مطلوب اظہار کے لیے اٹھا ہے جس کا ذکر پچھلی تمام مذہبی کتابوں میں کیا گیا تھا۔

اخوان رسول کی پہچان کیا ہوگی۔ اخوان رسول کی سب سے زیادہ واضح پہچان یہ ہوگی کہ وہ بعد کے زمانے میں ٹھیک وہی کام انجام دیں گے جو اس سے پہلے اصحاب رسول نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔ دونوں گروہوں کے درمیان زمانی فرق تو ضرور ہوگا لیکن دونوں کے درمیان کام کے اعتبار سے کوئی فرق نہ ہوگا۔

یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ اصحاب رسول نے اپنے زمانے میں جو کام انجام دیا وہ دعوہ الی اللہ کا کام ہے۔ اس کام کو قرآن میں خدا کی طرف سے گواہی دینا کہا گیا ہے۔ قرآن میں اصحاب رسول کے لئے شہداء علی الناس (الحج: ۷۸) کے الفاظ آئے ہیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: انتم شهداء الله فى الارض (البخاری، کتاب الجنائز) مطالعہ بتاتا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی سیاسی اور غیر سیاسی تحریکیں اٹھیں لیکن خالص دعوت الی اللہ کے لیے اصحاب رسول کے بعد اُن کے اندر کوئی بھی تحریک نہیں اُٹھی۔ بعد کے زمانے میں ایسے لوگ تو پائے جاتے ہیں جنھوں نے دعوت اور تبلیغ کا لفظ استعمال کیا لیکن ان کے یہاں دعوت کا کوئی حقیقی تصور نہ تھا اور نہ انھوں نے عملی اعتبار سے وہ کام کیا جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں دعوت (غیر مسلموں میں تبلیغ) کا تصور شعوری طور پر حذف ہوگیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی داخلی اصلاح کے کام کو دعوت کا کام سمجھا جانے لگا۔ مسلمانوں میں کئے جانے والے کام کمیونٹی ورک ہیں نہ کہ دعوت ورک۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سی پی ایس کی ٹیم اصحاب رسول کے بعد بننے والی پہلی ٹیم ہے جو خالص دعوت الی اللہ کے لیے اُٹھی ہے۔ سی پی ایس بعد کی تاریخ میں بننے والی پہلی ٹیم ہے جو مکمل طور پر دعوتی لٹریچر کی بنیاد پر اٹھی ہے۔ جس کی ذہنی تربیت یا فکری تشکیل خالص دعوتی لٹریچر کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ پی ایس کی ٹیم ایک ایسی تحریک کے نتیجے میں بنی ہے جس تحریک میں پہلی بار قرآن کی دعوتی تفسیر تیار جس میں پہلی بار حدیث کی دعوتی شرح لکھی گئی۔ جس میں پہلی بار پیغمبر اسلام کی دعوتی سیرت

مرتب ہوئی ۔ جس میں پہلی بار اصحابِ رسول کے دعوتی رول کو نمایاں کیا گیا۔ جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی دعوت ہے۔ جس میں پہلی بار وقت کے فکری مُستویٰ کے مطابق، اسلامی لٹریچر تیار کیا گیا۔ جس میں پہلی بار جدید سائنسی تحقیقات سے مدلل کرتے ہوئے دعوتی اسلوب پر علم کلام تیار کیا گیا۔ جس میں پہلی بار اس حقیقت کا انکشاف کیا گیا کہ جدید دور اپنے تمام اجزاء کے ساتھ موافق دعوت دور ہے۔ جس میں پہلی بار یہ انکشاف کیا گیا کہ غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ دشمن یا حریف کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس میں پہلی بار یہ تصور پیش کیا گیا کہ غیر مسلم ممالک ہمارے لیے دارالدعوۃ کی حیثیت رکھتے رہیں۔ جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ امتِ مسلمہ کی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر قوم اور ہر زبان میں دعوتِ الی اللہ کے کام کو آخری حد تک جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کے تمام ملی مسائل کا حل غیر مسلموں کے اوپر دعوتی ذمے داری کو انجام دینا ہے، کسی بھی دوسری تدبیر سے ان کے ملی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اصحابِ رسول کی حیثیت ایک دعوتی ٹیم کی تھی۔ یہ ٹیم ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں بنی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ ہاجرہ اور اسماعیل کو خدا کے حکم سے صحرا میں بسادیا گیا۔ دراصل اسی ڈھائی ہزار سالہ تاریخی پر اس کا culmination تھے۔ یہ بات قرآن میں اشارے کے طور پر اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ مگر اصحابِ رسول کے بارے میں اس تاریخی منصوبہ بندی سے تمام تحریکیں بے خبر ہیں۔ اسلام کے بعد کی تاریخ میں بننے والے لٹریچر میں کہیں بھی اس کی نشاندہی نہیں ملتی۔ سی پی ایس کی پشت پر پیدا ہونے والا لٹریچر ہی وہ پہلا لٹریچر ہے جس نے اصحابِ رسول کے متعلق، اس تاریخی منصوبہ خداوندی کی حقیقت کو نمایاں کیا اور سی پی ایس کی ٹیم کی ذہنی تشکیل کے لیے پہلی بار ایک تاریخی پس منظر فراہم کیا۔

جس طرح اصحابِ رسول ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بنے تھے۔ سی پی ایس کی ٹیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اصحابِ رسول کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ عمل کا کمینیشن (culmination) سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ اصحابِ رسول کے دعوتی عمل کے نتیجے میں جو

انقلاب آیا اور اس کے نتیجے میں فکری ارتقا کا جو عمل شروع ہوا وہ سب اس لٹریچر میں پایا جاتا ہے جو سی پی ایس کی ٹیم کے وجود میں آنے کی بنیاد بنا۔ گویا اصحابِ رسول اگر قدیم زمانے میں ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کا کلمنیشن (culmination) تھے تو سی پی ایس کی ٹیم بعد کے تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کا اصحابِ رسول کے بعد بننے والی طویل تاریخ کے تمام مثبت عناصر سی پی ایس کی ٹیم میں جمع ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اس کو یہ حیثیت ملی ہے کہ وہ دورِ حاضر میں اخوانِ رسول کا رول کر سکے۔

ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کا جو گروہ بنا تھا وہ کسی قسم کے کرشمے کے ذریعے نہیں اصحابِ رسول در اصل اعلیٰ ذہنی ارتقا کا نتیجہ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن پر پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ وہ قبل سائنس دور کی تمام بہترین روایات کے امین تھے۔ وہ اس اعلیٰ خدائی منصوبے کا اظہار تھے جو حضرت ابراہیم سے شروع ہوا اور حضرت محمد پر ختم ہوا۔ یہی معاملہ اخوانِ رسول کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر ظہور محمدی کے بعد بننے والی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جن کی شخصیت کی تعمیر دورِ سائنس کے تمام بہترین اجزاء کے ذریعے ہوئی جو دینِ حق کے سائنسی اظہار کے نمائندہ بن گئے ہوں۔ ایسے ہی لوگ اخوانِ رسول کا درجہ پانے کے مستحق ٹھیریں گے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ اور وہ معرفت اصحابِ رسول کا دین گہرے شعورِ معرفت کے اوپر قائم تھا۔ اسی طرح اخوانِ رسول کا دین بھی گہرے شعورِ معرفت کے اوپر قائم ہوگا۔ گہرے شعورِ معرفت سے مراد ہے سچائی کی ذاتی دریافت، وہ دریافت جو آدمی پر تمام حقیقتوں کے دروازے کھول دے۔ کائنات کا ہر جز جس کے لیے اس کی معرفت کی تصدیق بن جائے۔

خدا کو یہ مطلوب ہے کہ معرفت کی سطح پر خدا کے دین کا اظہار کیا جائے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اظہارِ حق کے دو دور ہیں۔ پہلا دور وہ تھا جب کہ حق کا اظہار سادہ فطری منطق

(natural logic) کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس کا بیان قرآن میں اس طرح ملتا ہے : ”آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا“۔ (آل عمران ۹۲-۹۵)

یہ معرفتِ حق کی وہ سطح ہے جب کہ آدمی تخلیق کی سادہ سطح پر مطالعہ کر کے خالق کو پالیتا ہے۔ کائنات کے سادہ مطالعے کے ذریعے خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کو دریافت وہ فطرت کی سادہ سطح پر تخلیق کی معنویت کو جان لیتا ہے۔ اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر کے زندگی گزارنے لگتا ہے۔

معرفتِ حق کی دوسری سطح وہ ہے جو قرآن کے مطابق، بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والی اس لیے اس کو استقبال کے صیغے میں بیان کیا گیا۔ زمانہ نزول قرآن کے لحاظ سے یہ ایک مستقبل کی بات تھی لیکن اب وہ حال کی بات ہو چکی ہے۔ یہ تاریخی حقیقت قرآن کے درج ذیل بیان سے واضح ہوتی ہے :

”عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ “ (حم السجدہ ۵۳)

قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اس کو دوسرے لفظوں میں تاریخِ دعوت کا دوسرا مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوسرا مرحلہ وہی ہے جس کو عام طور پر سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہا جاتا ہے۔ پہلے دور میں فطری مشاہدے کی سطح پر انسان نے تخلیقِ خداوندی کو دیکھا تھا اور اس سے معرفت کی روشنی حاصل کی تھی۔ دوسرے مرحلے میں دور بینی اور خورد بینی مشاہدے کے ذریعے وہ تخلیقِ خداوندی کے گہرے رازوں کو دریافت کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پہلے دور میں فطرت کے فریم ورک (natural framework) میں خدا کی

معرفت حاصل کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ سائنسی فریم ورک (scientific framework) کے ذریعے خدا کی گہری اور برتر معرفت حاصل کر سکے۔ حق کے ان دو أدوار کو حدیث میں ایک تمثیل کی صورت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر لايدرى اوله خير ام آخره (الترمذي، كتاب الأدب، مسند احمد، جلد ۳، صفحه ۱۳۰)

یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ اچھا ہوگا یا اس کا اس حدیث میں دراصل تاریخِ معرفت کے مذکورہ دونوں دوروں کو بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصحابِ ایمان پہلے دور میں فطرت کے فریم ورک میں حق کی معرفت حاصل کریں گے اور دوسرے دور کے اہلِ ایمان کو یہ موقع حاصل ہو جائے گا کہ وہ سائنس کے فریم ورک یا علمِ انسانی کے فریم ورک میں حق کی معرفت حاصل کریں اور دوسروں کے سامنے اس کو پیش کریں۔ دوروں میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو اپنے زمانے کے اعتبار سے حق کا اظہار کریں گے۔ پہلے زمانے کے لوگ فطری فریم ورک کے ذریعے یہ کام انجام دیں گے اور دوسرے زمانے کے لوگ انسانی علم کے فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے اظہارِ حق کے اس کام کو انجام دیں گے، یعنی جدید اصطلاح کے مطابق، سائنٹفک فریم ورک کے ذریعے حدیث میں پہلے دور کے گروہ کو اصحابِ رسول کہا گیا ہے اور دوسرے دور کے گروہ کے لیے اخوانِ رسول کے الفاظ آئے ہیں۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا زمانہ اگرچہ دو مختلف زمانہ ہوگا لیکن دونوں کا رول پوری طرح یکساں ہوگا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اصحابِ رسول نے اپنا رول روایتی دور میں انجام دیا تھا اور اخوانِ رسول اپنا رول سائنسی دور میں انجام دیں گے۔

اصحابِ رسول کا خصوصی رول کیا تھا، اس کو بتانے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وكذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم (البقرہ ۱۴۳) یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے

لوگوں پر اور رسول تم پر بتانے والا۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: أنتم شهداء الله في الأرض (البخاری، کتاب الجنائز) یعنی تم زمین پر خدا کے گواہ ہو۔

اس کے مطابق، اصحاب رسول کی حیثیت ایک درمیانی گروہ (middle group) کی ہے۔

انھوں نے یہ کیا کہ انسانیت کے نام خدا کا پیغام رسول سے لیا اور اس کو دوسرے انسانوں تک بے کم و کاست اب اخوانِ رسول کی حیثیت بھی ایک درمیانی گروہ کی ہوگی۔ رسول کے ذریعے ملنے والا پیغام جو قرآن اور سنت کی شکل میں محفوظ ہے، اس کو بے کم و کاست لینا اور بعد کے زمانے کی انسانی نسلوں تک اس کو پہنچانا۔ اس معاملے میں اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کے درمیان اصلاً لسان (ابراہیم ۴) کا اصحابِ رسول نے اپنے زمانے کے اسلوب اور زبان میں یہ دعوتی کام انجام دیا تھا۔ طرح اخوانِ رسول اپنے زمانے کے عصری اسلوب میں اس دعوتی کام کو انجام دیں گے۔ بعد کے زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکوں میں صرف سی پی ایس انٹرنیشنل وہ تحریک یا گروپ ہے جو استثنائی طور پر اس معیار پر پوری اترتی ہے۔ قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اصحاب رسول کی امتیازی صفت یہ تھی کہ وہ پورے معنوں میں ایک داعی گروہ بنے۔ مگر بعد کو بننے والے گروہوں میں کسی بھی گروہ کو حقیقی معنوں میں داعی گروہ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

دعوت کیا ہے۔ دعوت سے مراد وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں شہادت اور انذار و تبشیر کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی خدا کے تخلیقی نقشے سے لوگوں کو باخبر کرنا۔ دعوت کا لفظ قرآن میں صرف غیر مسلموں میں خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آیا ہے۔ کوئی شخص مسلمانوں میں کام کرے تو اس کو اصلاح اور تذکیر کہا جائے گا۔ ایسے کام کو دعوت اور تبلیغ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ بعد کے زمانے میں جب اسلامی علوم کی تدوین ہوئی تو اس میں دعوت اور تبلیغ کا باب حذف ہو گیا۔ چنانچہ پچھلے ہزار سال میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں غیر مسلموں میں دعوتی ذمے داری ادا کرنے کے پہلو سے اس کا ذکر موجود نہیں۔ ایسا کیوں ہوا۔

غالباً اس کا سبب یہ تھا کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان اپنے دور حکمرانی میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد سیاست اور حکومت یا اس سے متعلق ابواب ہی ان کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔ یہاں تک کہ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ اب دوسرے ملی مقاصد پر تحریکیں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کو دعوت و تبلیغ کی تحریک سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ بعد کے زمانے میں تیار ہونے والے اسلامی لٹریچر میں دعوت کا تصور حذف ہو گیا۔ تاہم یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے پیچھے ایک معلوم سبب کام کر رہا ہے۔ ہے کہ عباسی دور میں جب فقہ کی تدوین عمل میں آئی، اُس وقت مسلمان دنیا کے بڑے حصے میں سیاسی حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کا سیاسی امپائر قائم تھا۔ جب بھی اس قسم کا کوئی سیاسی امپائر قائم ہوتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ دوسری قوموں سے اس کی رقابت (rivalry) قائم ہو جاتی ہے۔ بار بار دونوں کے درمیان چھوٹی یا بڑی لڑائیاں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس سیاسی پس منظر میں حالات کے تقاضے کے تحت، ایسا ہوا کہ فقہاء کے ذہن میں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تقسیم قائم ہوگئی کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے وہ علاقہ دارالاسلام ہے، اور جس علاقے میں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں وہ علاقہ دارالحرب ہے۔ فقہ کی کتابوں میں بالکل محدد انداز میں دارالحرب کی تعریف نہیں ملتی۔ تاہم عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دارالحرب سے مراد وہ ملک ہے جس سے مسلمان یا تو عملاً برسرِ جنگ ہوں یا وہ اُس ملک سے امکانی طور پر برسرِ جنگ (potentially at war) ہوں۔ یہی وہ ذہن ہے جس نے مسلمانوں کے عوام اور خواص کے ذہن سے دعوت کا تصور حذف کر دیا۔ اب وہ غیر مسلموں کو حریف اور رقیب کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلم اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا اس تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشهود (البروج (۳) کے الفاظ میں بیان کیا گیا لیکن غیر مسلم علاقے کو دارالحرب قرار دینے کا یہ فطری نتیجہ تھا کہ اُن علاقوں میں بسنے والے لوگ، مدعو کا درجہ نہ پاسکے۔

پچھلے ہزار سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت تیار ہونے والے لٹریچر میں

بتایا گیا کہ غیر مسلم ہمارے لیے مدعو اور تمام غیر مسلم علاقے اسلامی نقطہ نظر سے دار الدعوۃ کی حیثیت پچھلے ہزار سال کے دوران مختلف زبانوں میں جو اسلامی کتابیں لکھی گئیں وہ اس تصور سے پوری طرح خالی ہیں۔

تاہم جہاں تک دعوتی عمل (Dawah Process) کا تعلق ہے، وہ ہر زمانے میں خاموش طور پر جاری رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر طالب حق پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر حق کا متلاشی ہے۔ دوسری طرف قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ خدائی کلام کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے، چنانچہ فطرت اور کلام الہی کے باہمی تعامل کی بنا پر دعوت کا عمل خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہا، اور اسی طرح وہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کا پہلا خطاب ہمیشہ اپنے ہم عصر خواص سے ہوتا ہے۔ ان خواص کے لیے قرآن میں ملأء قوم (الاعراف ۶۰)کا کا لفظ آیا ہے۔ اس پیغمبرانہ نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کا عمل کس طرح کیا جائے۔ اس کا طریقہ ہمیشہ یہ ہوگا کہ غیر مسلم قوم کے خواص کو اپنا اولین مخاطب بنایا جائے گا۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ بالواسطہ طور پر اس کے مخاطب بنتے چلے جائیں گے۔ یہی پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس کے بجائے عوام سے دعوت کے کام کا آغاز کرنا پیغمبرانہ نمونے سے انحراف کے ہم معنی ہے۔

اس ترتیب کی ایک خاص حکمت ہے۔ وہ یہ کہ خواص اپنے علم اور اپنے ذہنی مرتبے کے اعتبار سے اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ اعلیٰ حقائق کو سمجھ سکیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب داعی، خواص کی نسبت سے اسلام کو پیش کرتا ہے تو اپنے آپ اسلام کی ترجمانی اعلیٰ سطح پر ہونے لگتی ہے۔ اب اسلام اپنی برتر سطح پر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور لوگوں کے لیے اعلیٰ سطح کے ایمان اور معرفت کے حصول کا سبب بنتا ہے۔

اس کے برعکس، جب داعی نچلی سطح کے لوگوں کو اپنا مخاطب بنائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ داعی کا طرزِ خطاب بدل جاتا ہے۔ اب اسلام کی نمائندگی نچلی سطح پر ہونے لگتی ہے۔ مثلاً اگر خواص

آپ کے مخاطب ہوں تو آپ کہیں گے کہ اسلام کا آغاز سچائی کی دریافت (discovery) سے ہوتا اس کے برعکس، اگر آپ نچلی سطح کے لوگوں کو اپنا مخاطب بنائیں تو وہاں آپ کا طرزِ خطاب بدل اب آپ یہ کریں گے کہ ان کو کلمہ پڑھوائیں گے اور کلمہ کے الفاظ کی صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی کے بعد یہ سمجھ لیں گے کہ آپ نے دعوت کا کام انجام دے دیا۔

وہ چیز جس کو بدعت کہا جاتا ہے وہ زیادہ تراسی کا نتیجہ ہے۔ بدعت دراصل کم تر سطح پر اسلام کے اظہار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ عرب اور برصغیر ہند میں فرق کا یہی سبب ہے۔ عرب میں دعوت کا آغاز خواص قوم سے کیا گیا۔ چنانچہ وہاں بدعات کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، برصغیر ہند میں صوفیاء نے عوام کو اپنا نشانہ بنایا۔ اسی کا براہِ راست نتیجہ وہ دینی خرابی ہے جس کو بدعت کہا جاتا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ بعد کے زمانے میں دعوت الی اللہ کا تصور ہی لوگوں کے ذہن سے حذف ہو گیا چنانچہ قرآن کی کوئی بھی تفسیر دعوتی انداز پر نہیں لکھی گئی۔ حدیث کی شرحوں میں سے کوئی بھی شرح دعوتی انداز پر لکھی جانے والی شرح نہیں ہے۔ فقہ کو دیکھیے تو وہ بھی مکمل طور پر دعوت کے ابواب سے خالی ہے۔ علم کلام کی تدوین بھی دعوت کے انداز پر نہ کی جاسکی۔ پچھلی صدیوں میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئیں مثلاً الغزالی کی احیاء علوم الدین، ابن قیم کی اعلام الموقعین ، شاہ ولی اللہ کی حجة اللہ البالغة ، اقبال کی تشکیل جدید الہیات اسلامیہ (Reconstruction of Religious Thought in Islam) وغیرہ، کسی بھی کتاب کا موضوع بحث دعوت الی اللہ نہیں ہے۔

اسلامی لٹریچر کی تاریخ کا یہ منفی پہلو بتاتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر وہ دعوتی فکر ہی نہیں بنا جس کی زمین پر حقیقی معنوں میں کوئی دعوتی تحریک اٹھے اور اس کے ذریعے کوئی دعوتی گروپ بنے۔ بعد کی تاریخ میں سی پی ایس انٹرنیشنل واحد تحریک ہے جو خالص دعوت الی اللہ کے اصول پر اٹھی اور پھر اس کی زمین پر خالص دعوتی مقاصد کے لیے ایک گروپ بن کر تیار ہوا جس کو سی پی ایس کی ٹیم کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول اور اخوان رسول کا معاملہ ایک تقابلی مثال سے بخوبی طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ ایک تاریخی واقعہ ہے جس کا تعلق افریقہ میں مسلم فتوحات سے ہے۔

عقبہ بن نافع تابعی ٦۲۱ عیسوی میں پیدا ہوئے اور ٦٨۳ میں ان کی وفات ہوئی۔ اسلام کے آخری زمانے میں پیدا ہوئے لیکن آپ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔

عقبہ بن نافع تابعی یزید بن معاویہ کے دورِ خلافت میں افریقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار وہ مغربی افریقہ کے ملکوں کو فتح کرتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے ۔ شہرِ اسفی ان کی آخری منزل تھی۔ وہاں انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اس کے پانی میں کھڑے ہو کر کہا: اللهم إني لو أعلم وراء هذا البحر بلداً لخضته إليه حتى لا يعبد أحد دونك (خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا۔ یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے ۔

جیسا کہ معلوم ہے، افریقی ساحل کے دوسری طرف امریکا ہے۔ دونوں کے درمیان اٹلانٹک کا وسیع سمندر حال ہے۔ عقبہ بن نافع کے زمانے میں امریکا دریافت نہیں ہوا تھا۔ وہ بعد کو دریافت ہوا چنانچہ اس کو نئی دنیا کہا جاتا ہے۔

اس واقعے کو علامتی طور پر لے کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے گروہ نے ”قدیم دنیا“ میں اپنا دعوتی رول ادا کیا تھا، اب کمیونیکیشن کے نئے دور میں دوسرے گروہ کو ”نئی دنیا“ کے درمیان اپنا دعوتی رول ادا پہلے گروہ نے روایتی دور میں اپنا دعوتی رول ادا کیا تھا اب دوسرا گروہ سائنسی دور میں اپنا دعوتی رول ادا کرے گا۔ پہلے گروہ نے زمین کے مخصوص حصے میں اپنا دعوتی رول انجام دیا تھا۔ دوسرا گروہ زمین کے پورے حصے میں اپنا دعوتی رول انجام دے گا۔ پہلے گروہ نے قدیم اسلوب میں اپنا دعوتی رول انجام دیا تھا، اب دوسرا گروہ جدید اسلوب میں اپنا دعوتی رول انجام دے گا، وغیرہ۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کے نام سے موجودہ دعوتی کام جنوری ۲۰۰۱ کو دہلی میں شروع ہوا۔ اس تنظیم کے صدر نے اس دعوتی کام کو اس سے بہت پہلے ۱۹۵۰ میں اعظم گڑھ (یو۔ پی) میں ادارۂ اشاعتِ اسلام کے نام سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ کام مسلسل بلا انقطاع جاری رہا۔ میں اسی مقصد کے لیے اسلامی مرکز (نئی دہلی) کا قیام عمل میں آیا۔ ۱۹۷۶ میں اس نے الرسالہ مشن کی

صورت اختیار کی۔ سی پی ایس انٹرنیشنل (2001) اسی کام کی تکمیلی صورت ہے۔ لمبی مدت کے بعد اب خدا کے فضل سے ساری دنیا میں یہ آواز پہنچ چکی ہے۔ اور اسی کے ساتھ اس کی ایک طاقت ور ٹیم بن چکی ہے جس کو ہم سی پی ایس ٹیم کہتے ہیں۔

ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ سی پی ایس کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے اس کو اخوانِ رسول کا لقب دیا تھا۔ اصحابِ رسول کوئی عجیب الخِلقت لوگ نہ تھے بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح انسان تھے۔ اسی طرح اخوانِ رسول بھی کوئی عجیب الخِلقت لوگ نہ ہوں گے بلکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوتِ حق کے اُس ربانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے جس پر رسول اور اصحابِ رسول کھڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی تحریکیں اٹھیں ہیں مگر وہ اخوانِ رسول کا درجہ نہیں پاسکتیں۔ اس لیے کہ اخوانِ رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پا سکتے ہیں جو ما أنا عليہ وأصحابی کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اُٹھنے والی تمام تحریکیں ردِ عمل کی تحریکیں تھیں، ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے ردِ عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو کر قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا، اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ صرف سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک میں پائی جاتی ہے۔

تاریخ میں اہلِ حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گئے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیح کا حواری بننا، پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب میں شامل اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوانِ رسول کے گروپ کا حصہ بننا ہے۔ بعد جو چیز ہے وہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تاریخ کا آخری مبارک موقع ہے۔ جس نے اس موقع کو پالیا اس نے سب کچھ پالیا۔ اور جس نے اس موقع کو کھودیا اس نے سب کچھ کھودیا۔

Printed page