ذہنی تناؤ کا مسئلہ
Al-Risala, September 2006, pp. 41–42
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کل ساری دنیا میں ایک نئی انڈسٹری وجود میں آئی ہے۔ اس کو ڈی ایسرسنگ (de-stressing) کہا جاتا ہے۔ مشرق سے مغرب تک ہر ملک میں ایسے ادارے قائم ہوئے ہیں، اور ایسے ماہرین پیدا ہوئے ہیں جو لوگوں کے ذہنی تناؤ یا اسٹریس کو ختم کرنے کا کام بطور پروفیشن کر رہے ہیں۔ دورِ جدید کا ایک کامیاب پروفیشن بن چکا ہے، اور ساری دنیا میں کروڑوں لوگ اس سے وابستہ ہیں۔ ذہنی تناؤ یا اسٹریس کیا ہے، یہ دراصل خواہش اور واقعے کے درمیان پیدا ہونے والے بُعد (gap) کے نتیجے کا نام ہے۔ یعنی آدمی جو کچھ چاہتا ہے، اور جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے دونوں کے درمیان یکسانیت نہ ہونا۔ آدمی چاہتا ہے کہ اس کو اپنی خواہش کے مطابق ، تمام چیزیں مل جائیں۔ لیکن عملاً ایسا ہوتا ہے کہ اس کو جو چیز ملتی ہے وہ اس کی خواہش سے بہت کم ہوتی ہے۔ اس سے آدمی کے اندر محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی احساس محرومی کا دوسرا نام ذہنی تناؤ یا اسٹریس ہے۔ یہ تناؤ یا اسٹریس موجودہ زمانے کا ایک ظاہر ہ ہے۔ قدیم زمانے میں انسان عام طور پر خوش رہتا تھا پھر کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانے میں وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو گیا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب سائنس کا ظہور ہوا اور جدید صنعت اور ٹکنالوجی کے ذریعے بہت سی ایسی نئی چیزیں ظہور میں آئیں جن کا انسان نے پہلے تصور نہیں کیا تھا۔ مثلاً قدیم کہانیوں میں اُڑن کھٹولہ ایک خیالی سواری کے طور پر بتایا جاتا تھا۔ اب ہوائی جہاز کی صورت میں ہر آدمی کے لیے مشینی اُڑن کھٹولے پر بیٹھنا ممکن ہو گیا، وغیرہ۔
جدید صنعتی دور کے ظہور کے بعد انسان یہ سمجھنے لگا کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب کہ وہ اپنی تمام خواہشوں کو مکمل طور پر پورا کر سکے۔ چنانچہ ہر آدمی زیادہ سے زیادہ کمانے کے لیے دوڑنے لگا۔ زیادہ سے زیادہ سامانِ حیات اکٹھا کرنے میں لگ گیا۔ مگر سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی اس کی خواہشیں پوری نہ ہو سکیں۔ اب بھی اس کے لیے بورڈم کا سوال باقی تھا۔ بیماری، حادثہ اور موت جیسے
مسائل بدستور اس کی پریشانی کے لیے موجود تھے۔ یہ احساس اب بھی اس کو ستارہا تھا کہ واقعات اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ اس کی ہر خواہش صرف جُوتی طور پر پوری ہو رہی تھی، کُلّی طورپر نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان فطری طور پر لامحدود خواہشیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن وہ دنیا جس کے اندر وہ اپنی زندگی گزارتا ہے وہ صرف ایک محدود دنیا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر ایک معیار پسند (perfectionist) مخلوق ہے، لیکن یہ دنیا جس کے اندر وہ اپنی زندگی گزارتا ہے وہ ایک غیر معیاری طلب اور واقعے کے درمیان یہی فرق ہے جو ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقت کا اعتراف۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو صرف مقام امتحان کے طور پر بنایا ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا کی ہر چیز محدود ہے، وہ اعلیٰ معیار سے کم ہے۔ کوئی بھی صنعتی ترقی محدود خواہشوں کو پورا نہیں کر سکتی۔ اب صورتِ ہال یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کے اعتبار سے کامل ہے، لیکن موجودہ دنیا ایک غیر کامل انسان سب کچھ چاہتا ہے لیکن اس کو صرف کچھ ملتا ہے۔ محرومی کی یہی صورتِ حال، ذہنی تناؤ کا اصل سبب ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان اس بات کو جانے کہ کوئی بھی ترقی یا کوئی بھی کامیابی اپنی محدودیت کی بنا پر اس کو وہ سب کچھ نہیں دے سکتی جس کو وہ پانا چاہتا ہے۔ غیر کامل دنیا میں کامل یافت ممکن ہی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اگلی دنیا کو اپنی طلب کی منزل بنائے۔ وہ یہ جانے کہ جو کچھ وہ آج کی دنیا میں پانا چاہتا ہے وہ صرف گل کی دنیا میں ملنے والی ہے۔ کسی طالبِ علم کو امتحان حال میں جاب نہیں مل اسی طرح کسی انسان کو موجودہ امتحانی دنیا میں اس کا تمام مطلوب حاصل نہیں ہو سکتا۔ ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی ہو جائے۔ خواہش کے مطابق جینے کے بجائے خدا کے منصوبے کے مطابق جینے لگے۔ وہ اپنی سوچ کو خدا کی سوچ کے تابع کر دے۔ یہی ڈی اسٹریسنگ کا واحد کامیاب فارمولا ہے۔ یہی وہ واحد تصور ہے جو ذہنی تناؤ کو مکمل طور پر ختم کرنے والا ہے۔