بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
Al-Risala, October 2006, pp. 12–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ ایک کنفیوژن کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان کے اندر اپنی شناخت کے حوالے سے جو بحران (crisis) پایا جاتا رہا ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ اپنے سمندر کی تلاش میں ہے، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو پہچاننا چاہتی ہے۔ اسی فرق کو نہ سمجھنے
کی وجہ سے وہ نظریات پیدا ہوئے جن کو مانزم یا اس طرح کے دوسرے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس معاملے پر قرآن کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان ربط اپنے آپ میں ایک فطری حقیقت ہے۔ لیکن اس ربط کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ سمندر میں مل کر ایک ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب صرف قربت (nearness) ہے۔ انسان فطری طور پر اپنے اُس خدا کی قربت چاہتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا، اور جو اس کو سب کچھ دینے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہے۔ اس قربت کو ماں اور بیٹے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بیٹا اپنی ماں سے قریب ہونا چاہتا یہ بلا شبہ اس کی سب سے بڑی خواہش ہے۔ لیکن اس خواہش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ماں اور بیٹا دونوں کی ذات ایک دوسرے میں مدغم ہو جائے، یہاں تک کہ بیٹے کا کوئی الگ وجود باقی نہ بیٹے کے اندر یہ خواہش سادہ طور پر صرف قربت کے معنی میں ہے نہ کہ انضمام (merger) کے
قرآن میں خدا اور بندے کی دنیوی قربت کے معنی میں یہ آیت آئی ہے: واسجد واقترب (العلق)، اور آخرت میں خدا اور بندے کی قربت کا تصور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: رب ابن لی عندك بيتاً في الجنّة (التحريم اا)
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان روحانی ہم سائگی (spiritual neighbourhood) کا معاملہ پیش آتا ہے اور آخرت کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان مادی ہم سائگی (physical neighbourhood) کا تجربہ ہوگا۔ جو کہ انسان کے لیے تمام لذتوں سے زیادہ لذيذ ثابت ہوگا۔ اس معاملے پر مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے جس دنیا میں اس کو رکھا ہے وہ دنیا پورے معنوں میں اپنے خالق کا تعارف ہے۔ یہاں وسیع خلا ہے جو خالق کی ناقابلِ احاطہ ہستی کا گویا ایک تعارف ہے۔ یہاں روشن سورج اور روشن ستارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خالق کس طرح تمام موجودات کے لیے روشنی کا منبع ہے۔ یہاں اونچے پہاڑ ہیں جو خدا کی عظمت کا
ایک علامتی اظہار ہیں۔ یہاں پانی کے اتھاہ سمندر ہیں جو خدا کی بے پایا ں رحمت کی داستان سنا رہے یہاں سرسبز درخت ہیں جو یہ بتا رہے ہیں کہ خدا نے کس طرح ہماری زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا حیرت انگیز نظام قائم کر رکھا ہے، وغیرہ۔
انسان پیدائشی طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے اپنے سے بڑی کسی ہستی کو پانا چاہتا ہے۔ اسی فطری احساس کی توجیہہ کرنے کی کوشش میں وحدتِ وجود کی قسم کے فلسفے مگر اس احساس کا صحیح جواب یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرے۔ وہ خدا کی تخلیق میں غور و فکر کر کے خدا کی جھلکیاں دیکھے۔ وہ خدا کو دریافت کرنے کی سعادت حاصل کرے۔ قرآن کے مطابق، انسان کی زندگی کا ایک مختصر حصہ قبل از موت دورِ حیات میں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت دور میں رکھا گیا ہے۔ ان دونوں دوروں میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ مخلوق کو اپنے خالق کی قربت حاصل ہو جائے۔ یہ قربت، دنیا کی زندگی میں تصوّراتی قربت کی صورت میں حاصل ہوگی، اور آخرت کی زندگی میں حقیقی قربت کی صورت میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی زندگی میں آدمی کو خدا رُخی زندگی حاصل ہو جائے اور آخرت میں اس کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی سعادت ملے۔
ممبئی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں :
ICRA (Islamic Centre for Research & Awareness)
3, Shantaram Patil Bldg. behind Firdaus Mithaiwala, Near Andheri Station (W), Mumbai-400058 Tel. 26285223, Mob. 9821197534
لائف بیائنڈ لائف Life Beyond Life کیا موت کے بعد آدمی دوبارہ زندہ رہتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہاں۔ موجودہ دنیا میں کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس طرز استدلال کو معتبر سمجھا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرز استدلال سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موت کسی کے لیے زندگی کا خاتمہ نہیں۔ ہر عورت اور مرد کی زندگی ابدی ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی ایک دور حیات سے نکل کر دوسرے دور حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ علماءِ طب پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ موت کا مطلب دل کی حرکت کا بند ہو جانا ہے۔ اب یہ نظریہ رد کیا جا چکا ہے۔ اب یہ مانا جاتا ہے کہ کوئی آدمی اُس وقت مرتا ہے جب کہ اس کے برین کا فنکشن رُک جائے۔ اس واقعہ کو بتانے کے لیے فنکشن کا لفظ درست نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ برین کسی انسان کے لیے موجودہ دنیا میں اس کے سفر کا آخری اسٹیشن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جب انسان کے ساتھ وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو کلنکل موت (clinical death) کہا جاتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے جسم سے روح نکل جاتی ہے، لیکن جہاں تک برین کا تعلق ہے، وہ بدستور ویسا ہی باقی رہتا ہے جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا۔ موت کے بعد برین کا ایک سیل (cell) بھی کم نہیں ہوتا۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ روح یا انسان کی شخصیت (personality) برین سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے برین کا حصہ نہیں۔ اس سلسلے میں دوسری قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ مرنے والا انسان مر کر بظاہر ہمارے پاس سے چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے وجود کا کم از کم ایک حصہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ یہ اس شخص کی آواز اس کے مرنے کے بعد جب ہم کیسیت پر اس کی آواز سنتے ہیں تو ہم کسی شبہہ کے بغیر یہ جان لیتے ہیں کہ یہ آواز اُسی مرنے والے انسان کی آواز ہے۔
موت کے بعد کسی آدمی کی آواز کا ٹھیک اُسی طرح موجود رہنا، اِس بات کا کم از کم ایک جزئی ثبوت ہے کہ انسان کی ہستی ایک غیر فانی ہستی ہے۔ انسان کی شخصیت کا اگر ایک جز ثابت شدہ طور پر موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے تو اِسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کی پوری ہستی بھی قابلِ اعادہ (repeatable) حالت میں باقی اور موجود ہو۔
اگر یہ کہا جائے کہ موت کے بعد کسی انسان کی آواز جو باقی رہتی ہے وہ صوتی لہروں (sound waves) کی شکل میں باقی رہتی ہے۔ جب کہ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں۔ اِس لیے کہ اِس دنیا میں ہر چیز لہروں ہی کا ایک مجموعہ ہے۔ اِس دنیا میں جو چیزیں ہیں اُن کی آخری ہیئت لہروں پر میٹریل ورلڈ کی ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں الیکٹران ہے، اور الیکٹران کے بارے میں سائنس داں یہ کہتے ہیں کہ وہ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اَمواجِ امکان (waves of probability) ہیں، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ پھر اگر اِس دنیا کی تمام چیزیں اَمواجِ امکان ہیں تو انسان کی شخصیت بھی اگر امواجِ امکان کی ایک صورت ہو تو اِس کے وجود سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ حیاتیاتی سائنس بتاتی ہے کہ انسان کا وجود بے شمار چھوٹے چھوٹے سیل (cell) کا مجموعہ یہ سیل ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں، اور نیا سیل پرانے سیل کی جگہ لیتا رہتا ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری یہاں تک کہ پورے جسم کے تمام سیل بدل جاتے ہیں۔ گویا کہ معروف موت سے پہلے بھی انسان کا جسم برابر مرتا رہتا ہے۔
جسم میں سیل کے بدلنے (replacement) کا یہ عمل برابر جاری رہتا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی انسان کا سابقہ جسم مکمل طور پر مر جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی کا حافظہ (memory) مستقل طور پر ایک حالت میں باقی رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب جسم پر بار بار موت واقع ہوتی ہے تو انسان کا حافظہ کہاں باقی رہتا اگر وہ جسم کے سیل پر موجود رہا ہو تو حافظے کو ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن سیل کے فنا ہونے کے باوجود حافظے کا باقی رہنا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی شخصیت، جسم سے ماورا ایک مستقل وجود ہے۔
معروف موت کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں آخری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لیے جو طرزِ استدلال رائج ہے، اور جس معیار پر وضاحت کے بعد چیزیں ثابت شدہ مان لی جاتی ہیں، اسی معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسی اور معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا کرنا غیر علمی بات ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زندگی بعد موت بھی اسی طرح ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس طرح زندگی قبل موت ایک ثابت شدہ واقعہ سمجھی جاتی ہے۔ منطقی اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ آیات قرآنی کا تذکیری مطالعہ بسم الله الرحمن الرحیم مولانا وحید الدین خاں دین و شریعت تاریخ دعوتِ حق دین اسلام کا ایک فکری مطالعہ کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے گائیڈ بک اہمیت ، ضرورت اور تقاضے مولانالوحید الدین خاں مولاناوحید الدین خاں