Al-Risala · October 2006

ڈائیلاگ اسلام میں

Al-Risala, October 2006, pp. 18–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈائیلاگ (dialogue) یا مکالمہ دو شخصیتوں یا دو پارٹیوں کے درمیان بات چیت (conversation) کا نام ہے۔ ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے کہ کسی اختلافی مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا قدیم بادشاہی دور میں آزادانہ ڈائیلاگ کا رواج نہ تھا۔ جب دنیا میں ڈیموکریسی آئی تو فطری طور پر لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ ہونے لگا۔ یہ ڈائیلاگ سیاسی سطح پر بھی جاری ہوا، اور غیر سیاسی سطح پر بھی۔

ڈائیلاگ دراصل انسانیت کو حیوانی دور سے اٹھا کر انسانی دور میں لانے کا نام ہے۔ کے درمیان اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اختلاف کی باتوں پر لڑ جاتے تھے۔ اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے، اور وہ لڑائی تھی۔ لیکن ڈیموکریسی نے اس طریقے کو ختم کر دیا، اور انسان کو جنگ کلچر کے دور سے نکال کر امن کلچر کے دور میں پہنچایا۔ ڈائیلاگ یا پر امن مکالمے کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت کے اصول پر قائم ہے، اور دعوت پر امن گفت و شنید کا دوسرا نام ہے۔ اسلام میں تشدد مکمل طور پر ایک ممنوع فعل اس ممانعت میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ دفاع کا ہے۔ یہ دفاع ، خارجی حملے کے وقت ہوتا اور دفاع کا یہ کام بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیم، دفاع یا انصاف کے نام پر تشددانہ لڑائی لڑنے کا حق نہیں رکھتی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۱۰ عیسوی میں عرب میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ مشن کیا تھا۔ وہ مشن یہ تھا کہ آپ اپنی آئیڈیالوجی کو لے کر لوگوں میں جائیں اور لوگوں سے اس کے بارے میں بات ان کے اعتراضات کو سنیں اور دلیل کے ذریعے اپنے نقطہ نظر پر انھیں مطمئن کرنے کی پیغمبر اسلام پر جب وحی اترنا شروع ہوئی تو اس کے آغاز ہی میں آپ پر یہ آیت اتری: وأما بنعمة ربك فحدث (الضحیٰ : (۱۱) یعنی خدا کی طرف سے آپ کو جو نظریہ حیات دیا گیا ہے،

لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کریں۔ آپ کا نظریۂ حیات توحید پر مبنی تھا، جب کہ اُس وقت عرب کے لوگ شرک پر عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے فطری طور پر آپ کا مشن دو طرفہ گفت و شنید کا موضوع بن گیا۔ آپ لوگوں سے اپنی بات کہتے اور لوگوں کا رد عمل سنتے اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے۔ آپ کا مشن عملاً وہی چیز بن گیا جس کو موجودہ زمانے میں ڈائیلاگ کہا جاتا ہے۔ اس ڈائیلاگ کو مفید بنانے کے لیے قرآن میں کچھ بامعنی اصول بتائے گئے ہیں۔ میں سے کچھ اصولوں کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔

اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت وہ ہے جس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے:”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بُلاؤ، اور اُن سے اچھے طریقے سے بحث “ (النحل: ۱۲۵)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں سے تم جو گفتگو کرو وہ جُدال احسن کے طریقے پر ہو۔ فریق ثانی سے تکرار نہ کرنا، بلکہ اس کے اختلاف کو سُن کر سنجیدگی کے ساتھ ایسی بات کہنا جو اس کے مائنڈ کو ایڈیریس کرنے والی ہو۔ گفتگو محض بحث و مباحثے پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ایک نتیجہ خیز انجام پر ختم ہو۔ بات چیت کے دوران حریفانہ اور رقیبانہ انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ علمی انداز اختیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے:

”اور بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ “ (حم السجدہ: ۳۴) قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی مسٹر دشمن نہیں۔ ہر آدمی امکانی طور پر مسٹر اس لیے کہ ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، کئی فطرت پر نہیں۔ اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائیلاگ کا آغاز اس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے ہی سے دونوں فریق ایک دوسرے کے بارے میں ناامید بنے ہوئے ہوں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈائیلاگ کا عمل پر اُمید ذہن کے ساتھ کیا جائے نہ کہ ناامیدی اور مایوسی کے ذہن کے ساتھ۔

اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے :

’’ کہو، اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مسلم ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں‘‘۔ (آل عمران : ۶۴)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریق کے درمیان بات چیت ہو تو اُس وقت موضوع گفتگو کا انتخاب کس طرح کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ گفتگو کا آغاز کنٹرول ورشل پہلو کو لے کر نہ کیا جائے بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان کامن گراؤنڈ (کلمۂ سوا ء) کی تلاش کی جائے، اور اس کامن گراؤنڈ سے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔ یعنی گفتگو کا طریقہ اختلاف سے اتفاق کی طرف نہ ہو بلکہ اتفاق سے اختلاف کی

اس سلسلے میں ایک اور قابل حوالہ آیت کا ترجمہ یہ ہے :

’’اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو تم بُرا بھلا نہ کہو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر، جہالت کی بناپر ، خدا کو بُرا بھلا کہنے لگیں گے‘‘۔ (الانعام : ۱۰۹)

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیان ایک اختلافی موضوع پر ڈائیلاگ ہو تو ضروری ہے کہ ڈائیلاگ کے باہر موافق ڈائیلاگ فضا کو باقی رکھا جائے۔ اگر ایسا ہو کہ دونوں فریقوں کا میڈیا یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہو۔ دونوں طرف کے لوگ ایسی باتوں کا چرچا کرنے میں مصروف ہوں جس سے ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں تو ایسی غیر موافق فضا میں مفید ڈائیلاگ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈائیلاگ کے نتیجہ خیز ہونے کا تعلق، صرف کمرۂ ڈائیلاگ کی بات چیت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کمرۂ ڈائیلاگ کے باہر جو فضا بنائی گئی ہے وہ ڈائیلاگ کے حق میں ہے یا اس کے خلاف ہے۔ ڈائیلاگ کا ایک اور اصول وہ ہے جو سنتِ رسول سے ثابت ہوتا ہے، یہ اصول حد یہ کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد طے جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاہدہ اس طرح ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام نے قریش کی کئی

شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ پیغمبر کی اس سنت سے ڈائیلاگ کا یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نقطۂ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ دونوں اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ڈائیلاگ ہمیشہ لینے اور دینے (give and take) کے اصول کو اختیار کر کے کامیاب ہوتا ہے نہ کہ صرف لینے کے اصول پر اصرار کرنے سے۔ عملی معاملات میں اسلام آخری حد تک لچک کے اصول کو پسند کرتا ہے۔

اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائیلاگ کے اصول نہیں بتائے گئے ہیں بلکہ ڈائیلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے مکی دور میں بار بار ڈائیلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبر اسلام کے پاس بھیجا۔ تا کہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کر کے صلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جا کر انھیں اس سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکھٹا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پر امن انداز میں بات چیت ہوئی۔

اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ پر امن ڈائیلاگ کی ایک کامیاب مثال ہے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کی موجودگی میں تین مذہب اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے نمائندوں کے درمیان ڈائیلاگ ہوا۔ یہ ٹرائیلاگ (trilogue) مدینہ کی مسجد نبوی میں ہوا۔ مصنفین نے اس کو مؤتمر الادیان الثلاثہ کا نام دیا ہے۔ یعنی تین مذہبوں کے درمیان ٹرائیلاگ۔ غالباً یہ تاریخ کا پہلا ٹرائیلاگ تھا جو مقدس عبادت خانے کے اندر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ

اسلام میں پُر امن گفت و شنید کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

اسلام کی تاریخ میں اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اُس عہدِ زرّیں سے تعلق رکھتی ہیں جس کو عہدِ نبوت اور عہدِ صحابہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ڈائیلاگ یا باہمی گفت و شنید کے اصول کو اسلام میں ایک مستند اصول کی حیثیت حاصل ہے۔

Printed page