خلاصہ کلام
Al-Risala, October 2006, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا طریقہ پُر امن ڈائیلاگ کا طریقہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صلح کا طریقہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔ (النساء: ۱۲۸) اس طرح ایک اور آیت میں آیا ہے کہ اختلاف کے موقع پر باہمی گفت و شنید اور ثالثی کا طریقہ اختیار کرنا (النساء: ۳۵) حدیث میں آیا ہے کہ دشمن سے مڈبھیڑ نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لا تتمنوا لقاء العدو و سئلوا الله العافية)۔
اسلام کا مقصد ربانی انقلاب لانا ہے۔ لوگوں کو خدا پرستانہ زندگی کی طرف بلانا ہے۔ سماج بنانا ہے جہاں روحانی اور اخلاقی اور انسانی قدروں کا رواج ہو۔ اسلام ایک ایسے ماحول کا داعی ہے جہاں امن اور ٹالرنس اور محبت اور خیر خواہانہ تعلقات کا مزاج لوگوں کے اندر پایا جائے ۔ نزاعات کو تشدد کے بغیر حل کیا جائے ۔ یہی اسلام کی مطلوب دنیا ہے۔ ایسی دنیا صرف پُر امن ڈائیلاگ کے ذریعے ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقیدے کے اعتبار سے توحید پر قائم ہے، اور طریق کار کے اعتبار سے پُر امن ڈائیلاگ پر۔ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے اس کو اسلام کا طریقہ نہیں کہا جا سکتا۔ (۲ جون ۲۰۰۶ء)