Al-Risala · October 2006

توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک

Al-Risala, October 2006, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ وہ عراق میں پیدا ہوئے۔ پھر مصر اور فلسطین سے سفر کرتے ہوئے وہ عرب کے اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اُس وقت یہ مقام ایک غیر آباد مقام تھا۔ رتیلے میدان اور خشک پہاڑوں کے سوا یہاں اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔

یہ چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ایک نیا دور تاریخ شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ منصوبہ اب مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ چار ہزار سال پہلے کی دنیا میں ہر طرف شرک کا غلبہ تھا۔ شرک در اصل فطرت پرستی کا نام ہے۔ انسان، سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ اور حیوانات، ہر چیز کو پوجتا تھا۔ (nature) کو پرستش کی چیز بنائے ہوئے تھا۔

یہ صورتِ حال ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ خالق نے فطرت (nature) کے اندر ہر قسم کی طاقتیں چھپا دی تھیں ۔ ضرورت تھی کہ انسان ان کو دریافت کر کے انھیں استعمال کرے۔ نے فطرت کو پرستش کی چیز بنا لیا۔ حتیٰ کہ فطرت کی پرستش (nature worship) یا شرک، انسانی کلچر کا غالب حصہ بن گیا۔ پرستشِ فطرت کے اِس مزاج نے انسان کے اندر سے تسخیرِ فطرت کا ذہن ختم اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فطرت کی طاقتوں کو دریافت کر کے، اس کو انسانی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا ذہن عملاً ختم ہو گیا۔ اس ماحول میں عابدِ فطرت پیدا ہونے لگے نہ کہ وہ لوگ جو کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کر سکیں۔

ان حالات میں ضرورت تھی کہ ایک ایسی نسل پیدا کی جائے جو فطرت پرستی کے ذہن یا مشرکانہ تہذیب کے اثر سے خالی ہو۔ یہ کام کسی متمدن شہر میں نہیں ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں ہر متمدن شہر، شرک (فطرت پرستی) کا مرکز بن چکا تھا۔ اس بنا پر حضرت ابراہیم نے مکہ کے غیر آباد

علاقے کو منتخب کیا تاکہ یہاں کے کھلے ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جو مشرک کا نہ تہذیب کے اثرات سے خالی ہو، اور اپنے بے آمیز ذہن کی بنا پر نئی تاریخ بنانے کا کام کر سکے۔ پیغمبر اسلام اسی علاقے میں ۵۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ عیسوی میں آپ کو نبوت ملی۔ یہاں کی زندہ نسل جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے، اس میں کام کر کے آپ نے ایک طاقت ور ٹیم تیار کی۔ یہ ٹیم جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے اس نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے قدیم دور کے فطرت پرستانہ نظام (مشرکانہ نظام) کو توڑا، اور دوسرے دورِ تاریخ کا آغاز کیا۔ یعنی وہ دور جب کہ فطرت (nature) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے۔ یہ عمل ہزار سال تک جاری رہا۔ کہ موجودہ دور پیدا ہوا، جب کہ فطرت کا آزادانہ مطالعہ کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ دور آ گیا جس کو سائنسی دور یا جدید صنعتی دور کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں اب دنیا اپنی تاریخ کے تیسرے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں بیک وقت دو چیزیں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہیں۔ ایک ہے، جدید مشینی سامانوں کے ذریعے نئے تمدنی اسباب کا پیدا ہونا۔ ان نئے تمدنی اسباب میں سب سے زیادہ اہم چیز جدید مواصلات (ماڈرن کمیونیکیشن ) ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر اور پیغام رسانی اتنی ہی آسان بن چکا ہے جتنا کہ پہلے ایک محلے کے اندر ممکن ہوتا تھا۔

جدید انقلاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدائی سچائی آخری سچائی حد تک مبرہن ہو چکی ہے۔ کے حق میں پہلے روایتی دلائل ہوا کرتے تھے۔ اب خدائی سچائی کو ثابت شدہ بنانے کے لیے سائنسی دلائل ظاہر ہو چکے ہیں۔ خدائی سچائی اب صرف ایک عقیدہ نہیں رہی بلکہ وہ سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکی ہے۔

یہ تیسرا دور لوگوں کو ایک نئے عمل کی دعوت دے رہا ہے۔ پہلے دور کا مطلوب کام نئی نسل بنانا تھا، وہ بنواسماعیل کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا مطلوب کام ایک انقلاب لانا تھا، جس میں فطرت

(نیچر) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بن جائے۔ یہ کام اصحابِ رسول کے ذریعہ واقعہ بنے۔ دور کا مطلوب کام یہ ہے کہ اب اکیسویں صدی میں عزم و یقین سے بھر پور ایک گروہ اٹھے۔ وسائل اور جدید دلائل کو استعمال کر کے خدائی سچائی کو عالمی سطح پر آشکارا کر دے، تاکہ خدا کے بندے خدا کی رحمت کے سائے میں جینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔

شاید انسانی تاریخ کا یہی وہ آخری دَور ہے جس میں دعوتِ نبوت کو انجام دینے والوں کے لیے حدیث میں اخوانِ رسول کا لفظ آیا ہے۔ اصحابِ رسول نے روایتی دَور میں اظہارِ دین کا کام انجام دیا تھا، اب اخوانِ رسول سائنسی دَور میں اظہارِ دین کے اسی کام کو انجام دیں گے۔ حدیث میں اخوانِ رسول کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔

روایتی دَور میں اظہارِ دین، اور سائنسی دَور میں اظہارِ دین کے درمیان کیا فرق ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم روایتی دور میں انسان کا جو فریم ورک تھا اس کے مطابق، گرہن کے بارے میں قابل فہم طور پر صرف یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کی روشنی میں اس واقعے کو اور بھی زیادہ ایمان افروز انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ زمین اور سورج اور چاند تین مختلف سائز کے متحرک اجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں ان کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے:

Printed page