نئی منصوبہ بندی کی ضرورت
Al-Risala, October 2006, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
انیسویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ ہوا کہ مغربی قو میں نئی قوتوں سے مسلح ہو کر ابھریں، اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر چھا گئیں ۔ یہ علاقہ وہی تھا جہاں مسلمان سیکڑوں سال سے حالت اقتدار میں رہ رہے تھے۔ مسلم دنیا کے رہنمائوں کے اندر اس صورت حال کے خلاف ردّ عمل پیدا ہوا۔ جگہ کسی نہ کسی صورت میں اس ردّ عمل کا اظہار ہونے لگا۔
یہ بات بے حد اہم ہے کہ اسی زمانے میں اس سوال کو لے کر دو تحریکیں اٹھیں۔ ۱۸۵۷ میں اٹھی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ یہ تحریک مسلح انقلاب پر یقین رکھتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے یہ کوشش کی کہ اسلحے کی مدد سے انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دیں۔ اس جنگ میں ہندو اور مسلمان، دونوں کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ لیکن یہ تحریک اپنے مقصد میں مکمل طور پر
اس مسلح تحریک کے تقریباً ساٹھ سال بعد مہاتما گاندھی ، سیاسی آزادی کی جدوجہد میں شریک ۱۹۱۹ء کے بعد وہ کانگریس کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے۔
مہاتما گاندھی نے ۱۹۱۹ میں یہ اعلان کیا کہ وہ ہنسا (تشدد) میں یقین نہیں رکھتے۔ آزادی کی تحریک کو مکمل طور پر اہنسا (عدم تشدد) کے اصول پر چلائیں گے ۔ یعنی وائلنٹ متھڈ (violent method) کے بجائے پیس فل متھڈ (peaceful method) کے ذریعے ۔
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، انگریزی حکومت ۱۸۵۷ سے لے کر ۱۹۱۹ تک تحریک آزادی سے وابستہ لوگوں کو تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتی رہی۔ تحریک آزادی کے کارکنوں کا تشدد، انگریزوں کو یہ موقع دیتا رہا کہ وہ جوابی تشدد کے ذریعے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کرتے رہیں ۔ لیکن جب مہاتما گاندھی نے تشدد کا طریقہ ترک کر دیا تو گویا کہ انھوں نے انگریزی حکومت سے تشدد کا جواز چھین لیا۔
مہاتما گاندھی کی امن پالیسی کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے اس کا ایک اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ اُس زمانے کے ایک انگریز کلکٹر نے اپنے برٹش سیکریٹریٹ کو یہ میسج بھیجا کہ ـــ براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے: Kindly, wire instructions how to kill a tiger non-violently. جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، متشددانہ طریق کار کے مقابلے میں پرُ امن طریق کار اتنا زیادہ کامیاب رہا کہ صرف ۲۵ سال کے بعد ۱۹۴۷ میں انڈیا آزاد ہو گیا۔ ساٹھ سال کی پُر تشدد جدوجہد، آزادی کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی۔ مگر بیس سال کی پرُ امن جدوجہد، آزادی کے حصول میں پوری طرح کامیاب رہی۔
برِّ صغیر ہند میں پیش آنے والے یہ دونوں واقعات، مسلم نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ واقعات بتا رہے تھے کہ نو آبادیاتی دور صرف سیاسی استیلاء کے ہم معنی نہیں ہے، اسی کے ساتھ وہ نئے عظیم تر امکانات بھی لے کر آیا ہے۔ ان امکانات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب نئے وسائل نے قدیم پر تشدد طریق کار کے مقابلے میں پرُ امن طریق کار کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جو جنگ ہتھیاروں کی مدد سے جیتی نہیں جاسکتی تھی، اس کو امن کے ذرائع کی مدد سے شان دار طور پر جیت لیا جائے۔
یہ واقعہ ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک چشم کشا واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ میرے علم کے مطابق ، ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر مسلم رہنما نہیں تھا جو اس واقعے سے سبق لے اور اس کی روشنی میں اپنی ملّی جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ ہر جگہ کی مسلم تحریکیں بدستور اُسی متشددانہ طریق کار پر چلتی رہیں جس پر وہ پہلے چلتی تھیں ۔ اس تاریخ پر اب ڈیڑھ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن کسی بھی علاقے کے مسلمانوں میں کوئی حقیقی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ مزید اندوہ ناک بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے ذاتی معاملات کو تو مصالحت اور ایڈ جسٹ مینٹ کے اصول پر چلاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک قومی پالیسی کی بات ہے، ہر جگہ وہ تشدد اور انتہا پسندی کا
طریقہ استعمال کر رہے ہیں—یہ دو عملی بلاشبہ اُن کے لیے پہلے سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اپنی تحریکوں پر نظرِ ثانی کریں۔ اعتبار سے اپنی سوچ کو بدلیں، اور عملی اعتبار سے اپنی تحریکوں کو متشددانہ طریقہ کار کے بجائے پر امن طریقہ کار کے اصول پر چلائیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب یہاں میں مختصر طور پر بتاؤں گا کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کو اپنی نئی پالیسی کن خطوط پر بنانا
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ واضح انداز میں اس بات کا کھلا اعلان کیا جائے کہ انڈیا میں، اور دوسرے ملکوں میں مسلمانوں نے جو مسلح تحریکیں شروع کیں، وہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اعتراف کے بعد یہ اعلان کیا جائے کہ تمام مسلح تحریکوں کو بلا شرط یک طرفہ طور پر ختم کیا جاتا ہے۔ قسم کا اعلان لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر مسلمانوں کو کوئی نیا نقطۂ آغاز ہی نہیں ملے گا۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں برعکس طریقہ اختیار کیا گیا۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک، پچھلے دو سو سال کے اندر جو نا کام لڑائیاں لڑی گئیں، اب تک ہمارے لکھنے اور بولنے والے ان کو گلوری فائی کرتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تباہی کے واقعات مسلمانوں کی نظر میں فخر کے واقعات بن گیے۔ اس کی ایک مثال "علماءِ ہند کا شان دار ماضی نامی کتاب ہے۔ اس طرح کی تحریریں ساری دنیا میں شائع کی گئیں۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان اپنی معکوس نتیجہ پیدا کرنے والی لڑائیوں پر نظرثانی نہ کر سکے۔ کیوں کہ فخر اور نظرثانی، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ ضرورت ہے کہ ہر جگہ تمام متشددانہ کارروائیوں کو یک لخت بند کر کے تعلیم کا کام شروع خاص طور پر ماڈرن ایجوکیشن بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں میں جب تک ماڈرن ایجوکیشن نہ آئے، وہ جدید مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور جب مسائل کی نوعیت ہی معلوم نہ ہو تو ان کے حل کی کامیاب منصوبہ بندی کس طرح کی جاسکتی ہے۔
مسلمان ساری دنیا میں جہاں جہاں زمین کے لیے لڑ رہے ہیں، اب وہ اس معاملے
میں اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کی پالیسی اختیار کر لیں۔ یعنی حالتِ موجودہ کو علیٰ حالہ تسلیم کرنا، اور غیر نزاعی دائرے میں موجود مواقع کو پرامن طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرنا۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان اُس کام کو کریں جس کو اسلام میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یعنی اسلام کے پیغام کو پر امن طور پر غیر مسلم قوموں تک پہنچانا۔ دعوت کا کام کوئی محدود کام نہیں، دعوت کا کام پوری زندگی کے لیے ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوت کا کام زندہ ہو جائے تو اس کے بعد دوسرے بہت سے مثبت واقعات وجود میں آئیں گے۔ مسلمانوں کے اندر عالمی نقطہ نظر پیدا ہوگا۔ ان کے روابط دوسری قوموں سے بہت زیادہ بڑھ جائیں ان کے اندر تعلیم کا گہرا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ ایک متحرک قوم بن جائیں گے۔ ان کے اندر مثبت ہوئے اس کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا کہ "۔ اس کی باہمی سوچ تعمیری ذہن ، تحمل ، رواداری اور انسانی احترام جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوں گی ۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
دی اسپرچول میسیج ، فی کاپی 15/- روپے ، سالانہ 165/- روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323