mahrastra...
Al-Risala, October 2006, pp. 30–32
By Maulana Wahiduddin Khan
1947ء میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو مسلم سیاست کی نسبت سے جو سب سے بڑی غلطی ہوئی وہ یہ کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی شخصیت یا تحریک نہیں اٹھی جو مسلمانوں میں اپنی ملی تعمیر کے لیے صحت مند رجحان (healthy trend) قائم کرے۔ فوری ردّ عمل کے تحت، ہر بارش اور بے ریش رہنما نے مسلم حقوق کے نام پر مطالبات کی مہم شروع کردی۔ یہ ان لوگوں نے کیا جو ایک ایسے مذہب پر فخر کرتے تھے جس کی تعلیم یہ ہے کہ۔ دوسروں سے سوال نہ کرو بلکہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن جاؤ، اس کے بعد تمہارے حقوق تم کو اپنے آپ مل جائیں گے۔
حال میں اس قسم کے لوگوں کو اپنی بے نتیجہ مطالبا تی مہم کو چلانے کے لیے ایک نیا خوب صورت لفظ مل گیا ہے، اور وہ مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim Empowerment) ہے۔ ایمپاور یا ایمپاورمنٹ کا مطلب ہے اختیار دینا۔ کہا جاتا ہے:
Science empowers men to control natural forces more effectively. مسلم ایمپاورمنٹ کا مطلب دوسرے لفظوں میں مسلم آپ لفٹ (uplift) ہے، یعنی مسلمان جو مفروضہ طور پر ایک کچڑی ہوئی کمیونٹی بن گئے ہیں، ان کو ایسے مواقع بہم پہنچانا کہ وہ اوپر اٹھیں اور دوسرے گروہوں کے برابر ہو جائیں۔ اسی قسم کی تحریک عورتوں کے حوالے سے ویمن ایمپاورمنٹ (Women Empowerment) کے نام سے چل رہی ہے۔ وہاں بھی یہی تصور ہے کہ عورتیں سماجی زندگی میں مردوں سے پیچھے ہوگئی ہیں۔ اب عورتوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن کے ذریعہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے برابر ہوجائیں۔
میرے نزدیک مسلم ایمپاورمنٹ کی تحریک ایک لفظی کھیل کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلم حقوق کے لیے مطالبات کی مہم پچھلی نصف صدی کے دوران مسلسل چلائی گئی ہے۔ یہ مہم اس سے پہلے مسلمانوں کے اکابر کے ذریعے چلائی گئی۔ لیکن وہ مکمل طور پر ناکام رہی۔ اب یہ مہم مسلمانوں کے اصاغر کے
ذریعے چلائی جارہی ہے۔ ایسی حالت میں کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اب وہ نتیجہ خیز ہو جائے گی۔ اس معاملے میں ناکامی کسی اتفاقی سبب سے نہیں ہوئی۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ یہ کہ یہ مطالبا تی مہم، قانونِ فطرت کے خلاف تھی۔ اس دنیا کے لیے فطرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ ـــــ جو دے وہ پائے، اور جو نہ دے وہ پانے سے محروم رہے۔ فطرت کا یہی اصول قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: وأما ما ينفع الناس فيمكث في الأرض (الرعد: ۱۷) یعنی جو دوسروں کے لیے نفع بخش بنتا ہے اُسی کو اس دنیا میں قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: ولا تسئلن أحداً شيئاً وإن سقط سوسطك (مسند احمد، جلد ۵، صفحہ ۱۸۱) اس حدیث کو عام طور پر فضائل صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے حالاں کہ اس میں زندگی کا ایک قانون بتایا گیا وہ یہ کہ خدا کی اس دنیا میں اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو مانگنے کا مزاج اپنے اندر سے ختم کردو، اپنی ذاتی محنت کے بل پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔
مسلم ایمپاورمنٹ کی بات کرنے والے لوگ دستور ہند کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری مطالبا تی مہم جائز ہے۔ کیوں کہ دستور ہند میں ملک کے شہریوں اور اقلیتوں کو جو حقوق دیے گیے ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان حقوق کو عملاً ہمیں دے دیا جائے۔
یہ بات گریمر کے اعتبار سے صحیح ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ سرا سر غلط ہے۔ کا ہر آدمی جانتا ہے کہ دستور ہند، صرف ایک لفظی گل دستہ ہے۔ بعض تکنکل دفعات کے سوا، اس میں لکھی ہوئی کوئی بات اب تک واقع نہیں بنی ـــــ دستور ہند کے مطابق ، ملک کو فیر الکشن ملنا چاہیے، لیکن اب تک ملک اس سے محروم ہے۔ دستور کے مطابق، ملک کو دیانت دار ایڈ منسٹریشن ملنا چاہیے، لیکن ملک کو صرف ایک کرپٹ ایڈ منسٹریشن ملا ہے۔ دستور ہند کے مطابق ، دستور کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر سارے ملک کو تعلیم یافتہ ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اب تک یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ دستور نے ہندی زبان کو ملک کی قومی زبان کا درجہ دیا تھا لیکن عملاً ملک کے اوپر انگریزی زبان کا راج ہے، وغیرہ۔
دستور ہند کی یہ ناکامی ایک معلوم اور مسلّم واقعہ ہے۔ ایسی حالت میں کس طرح ممکن ہے کہ دستور ہند ایک استثنائی معجزہ کے طور پر مسلمانوں کی خواہش کے مطابق ، ان کے تمام حقوق کا پارسل انھیں رجسٹر ڈ ڈاک کے ذریعہ روانہ کر دے۔
جیسا کہ معلوم ہے ، ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ اور کئی اقلیتیں بستھی ہیں ۔ پارسی ، سکھ اور جین وغیرہ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں کے حقوق پوری طرح محفوظ ہیں۔ عیسائی اس ملک کے تعلیمی نظام پر چھائے ہوئے ہیں۔ پارسیوں نے اس ملک میں اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنا لیا ہے۔ سکھوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے لیکن عملاً وہ ملک کی تقریباً بس فیصد اقتصادیات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ جینی فرقہ اتنا زیادہ خوش حال فرقہ ہے کہ اس کو کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ان اقلیتوں نے یہ کامیابی خود اپنی جدوجہد کے ذریعہ حاصل کی ہے، وہ انھیں دستور کے عطیہ کے طور پر نہیں ملی۔
ان مثالوں میں ایک اور مثال شامل کر لیجیے، اور وہ خود مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جو مسلمانوں کی محرومی کو لے کر اپنی تحریک چلا رہا ہے، اور مسلمانوں کو ایمپاور کرنا چاہتا ہے۔ قریب سے دیکھیے تو یہ لوگ اپنی ذات کے اعتبار سے خود پوری طرح ایمپاور ہو چکے ہیں۔ ان کو وہ تمام مادی چیزیں حاصل ہیں جن کو دوسروں کے لیے فراہم کرنے کے نام پر وہ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔
ایسی حالت میں مسلم ایمپاورمنٹ کا نعرہ لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ اس ملک کی دوسری اقلیتوں اور خود مسلم ایمپاورمنٹ کے لیڈروں نے کس طرح اسی ملک میں اپنے تمام مطلوب مفادات حاصل کر لیے۔ انھیں چاہیے کہ مسلمانوں کو کامیابی کا یہ راز بتائیں تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو کامیاب بنا سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ایمپاورمنٹ کا ایشو، سیلف ایمپاورمنٹ کا ایشو ہے۔ یعنی خود اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنے آپ کو محرومی سے نکالنا اور اپنے آپ کو ترقی کے مقام تک پہنچانا۔ یہ سارا معاملہ داخلی جدوجہد کا ہے، نہ کہ خارجی مطالبات کا۔