Al-Risala · October 2006

سی پی ایس انٹرنیشنل

Al-Risala, October 2006, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

سروے بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد آئی ڈینٹی کرائسس کا کیس بنے اس دنیا میں پیدا ہونے والے ہر چھوٹے اور بڑے انسان کا یہ حال ہوا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک کامیڈی کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا مگر موت نے بتایا کہ ہر ایک کے لیے صرف ٹریجڈی کا انجام مقدر تھا، ہر آدمی غیر حاصل شدہ تمناؤں (unfulfilled desires) کا کیس بن کر رہ گیا۔ شبہ انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ دردناک سوال ہے جس کا جواب شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام عورت اور مرد تلاش کر رہے ہیں، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیر شعوری طور پر کچھ سوالات سے دوچار رہتے ہیں۔ میں کون ہوں۔ میری پیدائش کا مقصد یہ دنیا کس منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے۔ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ اس دنیا کے بارے میں خدا کا کریشن پلان کیا ہے۔ یہ سوالات آئڈیا لوجی آف لائف سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایس انٹرنیشنل کا مقصد انھیں سوالات کا جواب فراہم کرنا ہے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل (Centre for Peace and Spirituality) گویا ایک اسٹڈی فورم سی پی ایس، لٹریچر، میڈیا، آڈیو اور ویڈیو کیسٹ اور ویب سائٹ کے ذریعے یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ پرامن انداز میں سچائی کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل گویا عالمی ڈائلاگ کا ایک وہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ لوگ اعلی فکری سطح پر زندگی اور کائنات کے بارے میں ڈسکس کریں اور اس معاملے میں وہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ سی پی ایس انٹرنیشنل ایک خالص دعوتی تحریک ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا تعلق، سیاست سے نہ براہ راست طور پر ہے اور نہ بالواسطہ

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سیاست ایک ثانوی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ اب سیاست کا تعلق صرف ایڈمنسٹریشن سے ہے۔ زندگی کے دوسرے تمام شعبے سیاست کے دائرہ عمل سے باہر ہو چکے

ہیں، جب کہ قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔

زندگی میں دو اہم شعبے ہیں۔ ایک ہے انتظامِ ملکی، اور دوسرا ہے انسان سازی۔ دور میں یہ دونوں شعبے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ موجودہ صنعتی اور سائنسی دور میں یہ دونوں شعبے عملاً ایک دوسرے سے الگ ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت کو انتظامیہ (administration) کہا جاتا ہے۔ اب اگر کسی کو حکومتی عہدہ مطلوب ہو تو اس کو سیاست میں جانا لیکن جو لوگ انسانی ترقی سے دلچسپی رکھتے ہوں اُن کے لیے صحیح اور مفید طریقہ یہی ہے کہ وہ اقتدار سے باہر غیر سیاسی شعبوں کو اپنی جد و جہد کا نشانہ بنائیں۔

سی پی ایس انٹرنیشنل انسانی ترقی سے دل چسپی رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے صرف غیر سیاسی شعبے کو اپنا میدان کار بنایا ہے۔ مثلاً ایجوکیشن، فارمل اور انفارمل دونوں، سپر بچول ڈویلپ مینٹ، تعمیر شعور، امن کا فروغ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا، ویب سائٹ، میٹنگ اور ڈائیلاگ، فکری رہنمائی اور ذہنی انقلاب، وغیرہ۔ یہی سی پی ایس کا اساسی مقصد ہے۔ ہمارا اصل کام فکری انقلاب لانا عملی انقلاب اِس فکری انقلاب کا نتیجہ ہے۔ فکری انقلاب کے بغیر عملی نتائج پانا کسی بھی حال میں

سی پی ایس انٹرنیشنل امن اور روحانیت کے ربانی اصولوں پر قائم کیا گیا ہے۔ سی پی ایس کا پیغام یہ ہے کہ آؤ ہم امن اور روحانیت کے اصولوں میں اپنی مطلوب آئیڈیالوجی آف لائف کو تلاش سی پی ایس کو یقین ہے کہ انسان، امن اور روحانیت کے ربانی اصولوں میں اپنے اُن سوالات کا جواب پاسکتا ہے جن کا جواب پانے کے لیے وہ لمبی مدت سے ناکام طور پر سرگرداں ہے، اور پھر زیادہ بہتر بنیادوں پر وہ اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل کر سکتا ہے۔

امن کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے وہ عدم جنگ (absence of war) کا نام ہے۔ یہ امن کی ایک ناقص تعبیر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ امن ایک مکمل کلچر کا نام ہے۔ امن ایک اصولِ حیات ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے زندگی کی تعمیر و تشکیل کی جائے۔

جنگ کے محدود دائرے سے باہر کی پوری زندگی امن کے دائرے میں داخل ہے۔

روحانیت کو عام طور پر ایک پر اسرار ڈسپلن سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روحانیت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ روحانیت دراصل، ربانیت (divine cultrue) کا نام ہے۔ روحانیت کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ روحانیت، دوسرے لفظوں میں، خدا رُخی زندگی (God-oriented life) کا نام ہے۔ روحانیت یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ شعوری سطح پر سچائی کی معرفت حاصل کرے۔ فکری عمل کے ذریعے وہ اپنے اندر ربانی شخصیت پیدا کرے۔ وہ سچائی کو ابدی حقیقت کی صورت میں دریافت وہ محدود مادی دنیا سے اوپر اٹھ کر سچائی کو اس کی آفاقی صورت میں پالے ۔ وہ زندگی کی معنویت کو دریافت کرکے پوری طرح ایک بامقصد انسان بن جائے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل اپنے فکر کے اعتبار سے ایک آفاقی تحریک ہے اور اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ انسان فرینڈلی مزاج رکھتی ہے۔ سی پی ایس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے محدود دائرے سے اٹھ کر کُلناتی کلچر کا حصہ بن جائے۔ وہ امن اور روحانیت اور حقیقت شناسی کی لامحدود دنیا میں جینے لگے۔ مونگیر (بہار) میں مولانا وحیدالدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں، ماہنامہ الرسالہ اُردو اور The Spiritual Message حسب ذیل پتے پر

Printed page